Ramzan Ul Mubarik And Roza Kushai

ماہ صیام اور روزہ کشائی

”امی جان! کل صبح مجھے سحری میں اُٹھادیجئے گا، میں نے بھی روزہ رکھنا ہے“۔تاشفہ نے جب تیسری بار یہ جملہ دہرایا تو حنا انیس کو احساس ہوا کہ واقعی اُن کی راج دلاری روزہ رکھنے کے لیئے پوری طرح سے سنجیدہ ہے۔لیکن حنا یہ بات بھی بخوبی جانتی تھی کہ ابھی تاشفہ کی عمر صرف 7 برس ہے اور اس چھوٹی سی عمر میں سخت گرمی کے روزہ کو سحر سے افطار تک مکمل کرپانا، بچوں کا کام تو ہرگز نہیں ہے۔ اس لیئے حنا انیس نے تاشفہ کے رخسار کو پیار سے سہلاتے ہوئے کہا ”ابھی تم بہت چھوٹی ہو اور اپریل کا مہینہ بھی کافی گرم ہوچکا ہے۔بس! دو،تین سال رُک جاؤ، تب تک رمضان بھی معتدل موسم میں آنا شروع ہوجائے گا اور اُس وقت تک ماشاء اللہ سے تم بڑی بھی ہو جاو ئ گی۔پھر ہم تمہاری روزہ کشائی کریں گے“۔
مگر تاشفہ بھلا کہاں بات ماننے والی تھی، مچل گئی اور روتے ہوئے بولی ”نہیں کچھ بھی ہوجائے، میں نے ہر صورت میں کل روزہ رکھنا ہے“۔
حنا انیس نے تاشفہ کو سمجھانے کی بہت کوشش لیکن جب کوئی بہلاوااور لالچ کارگر نہ ہوا تو حنانے دل ہی دل میں یہ سوچ کر تاشفہ سے اگلی صبح روزہ رکھوانے کا وعدہ کرلیا کہ اُسے سحری کروا کر سُلادوں گی اور جب صاحبزدی صبح اُٹھے گی تو یہ کہہ کر ناشتہ کروادوں گی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ چھوٹے بچوں کا سخت گرمی میں رکھا ہوا،اتنا سا روزہ بھی قبول فرمالیتے ہیں۔
اپنے طے کردہ پروگرام کے عین مطابق حنا انیس نے تاشفہ کے لیئے صبح سحری میں خوب اہتمام کیا اور اُس کی پسند کی تمام چیزیں اُس کے سامنے دسترخوان پر رکھ دیں، جنہیں تاشفہ نے خوب مزے لے لے کر کھایا،جب سحری کا وقت ختم ہوگیا تو حنا نے بڑے پیار سے تاشفہ کو کہا کہ”وعدہ کے مطابق تمہاری سحری مکمل ہوگئی،اَب تم اپنے بستر جاکر سو جاؤ، میں بھی نماز پڑھ کر کمرے میں آتی ہوں“۔
”امی جان! میں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی ہے،کیونکہ جب سب روزہ دار سحری کے بعد نماز پڑھ رہے ہیں تو میں کیوں نہ پڑھوں“۔ تاشفہ کے اصرار پر حنا انیس نے اُسے اپنے ساتھ کھڑا کروا کر نماز پڑھوائی اور پھر اُسے اپنے بستر میں جاکر سونے کی تاکید کرکے خود معمول کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔
حنا انیس نے 10 بجے تاشفہ کو ناشتہ کے لیئے اُٹھا یا تو اُس نے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کہ ”امی جان! کیا آپ بھول گئی ہیں کہ میرا تو آج روزہ ہے“۔
دوپہر ایک بجے تک تاشفہ سے کئی بار بھوک اور پیاس لگنے کے بارے میں پوچھا گیا،لیکن اُس نے ہربار صاف منع کردیا۔ دوپہر تین بجے تک جب تاشفہ نے کھانے اور پینے کے لیئے کچھ نہ مانگا تو پہلی بار حنا انیس کو موہوم سی اُمید ہوئی کہ شاید اُس کی بیٹی اپنا پہلا روزہ مکمل کرلے گی۔یہ سوچ کر اُس نے تاشفہ کی روزہ کشائی کے لیئے زور و شور کے ساتھ تیاریاں کرنا شروع کردی۔ عصر کے بعد بھوک اور پیاس کی شدت تاشفہ کے چہرے سے صاف چھلکنے لگی تھی مگر اَب سب گھروالے اُسے بہلارہے کہ تھوڑی ہی دیر میں روزہ کھلنے والا ہے جہاں سارا دن گزار لیا، بس تھوڑی سی دیر بھوک پیاس اور برداشت کرلو۔اس وقت سب سے زیادہ بدحواس تو خود حناانیس تھی اور پریشانی میں اُس کی نظریں تاشفہ کے زرد چہرے پر اور کان مغرب کی اذان کی آواز پر لگے ہوئے تھے۔ جیسے ہی روزہ کھلنے کا سائرن بجا، حناانیس نے اپنی گود میں بیٹھی ہوئی تاشفہ کو افطاری کرواکر رب کریم کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔

روزہ کشائی کی شرعی حیثیت
دین اسلام میں روزہ کا شمار فرض عبادت کی ذیل میں آتاہے اور شریعت مطہرہ میں دیگر تمام فرض عبادات کی طرح روزہ رکھنابھی بچوں پر فرض نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود بچوں میں صوم و صلوۃکا شوق و ذوق پیداکرنے کے لیئے احادیث میں ایسے احکامات جا بجا د ملاحظہ کے لیئے دستیاب ہیں جن میں تمام مسلمان گھرانوں کو خصوصی تاکید آئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی نماز اور روزے کی ترغیب دیں۔ تاکہ جب وہ بچے فرضیت کی عمر میں جاپہنچیں تو انہیں صوم و صلوۃ کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنے پڑے۔ اس متعلق ایک حدیث رسول مقبول ﷺ ارشاد ہوا ہے کہ ”اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں (پھر بھی نماز نہ پڑھیں) تو انھیں سرزنش کرو“۔(ابوداؤد:594)
دلچسپ بات یہ ہے کہ کتب احادیث میں نماز کی مانند بچوں کو ماہِ صیام کے فرض روزے رکھوانے کے بارے میں صراحت کے ساتھ احکامات پر مبنی کوئی حدیث تو نہیں ملتی لیکن بعض مستند روایات اور آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی ﷺ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بچوں کو روزہ رکھنے کی جانب مائل کیا کرتی تھیں۔ صحیح بخاری اور مسلم شریف میں درج ایک روایت کے مطابق حضرت رُبیع بنت معوذؓ عاشوراء کے نفلی روزے کے بارے میں بیان فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے عاشور کے دن کی فضیلت بیان کی تو ہم یہ روزہ رکھتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔ نیز جب ہم اپنے ساتھ بچوں کو مسجد لے جاتے تو ان کے لیے اون کے کھلونے بنالیتے تھے اور جب کوئی بچہ بھوک کی وجہ سے رونے لگتا تو ہم اسے بہلانے کے لیے کھلونا دے دیتے تھے اور اسے مشغول رکھتے تھے، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجائے“۔(بخاری:1960، مسلم:1136)

مذکورہ بالا احادیث سے استنباط کرتے ہوئے ہم باآسانی یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ بچوں کی روزہ کشائی کروانا اگرچہ دین اسلام میں فرض یا واجب تو نہیں ہے لیکن اسے فلسفہ اسلام کی رو سے ممنوع بھی ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا۔بلکہ اگر بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو منکشف ہوگا کہ روزہ کشائی کو اسلامی معاشرے میں رواج دینے سے بچوں کی آئندہ زندگی پر انتہائی دور رس اور مثبت نتائج مرتب ہونے کے واضح امکانات پائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہمارے گھرانوں میں چھوٹے بچوں کو روزہ رکھوانے کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ آج کل اِسے ”روزہ کشائی“ کا نام دے دیا گیا ہے۔ جبکہ ماضی میں اس مستحسن عمل کو دیگر مختلف ناموں سے پکار ا جاتاتھا۔مثلاً ہماری مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو ایک داڑھ کا روزہ رکھواتی تھیں۔ جس میں بچے ایک داڑھ سے کھاتے پیتے تھے اور دوسری کو خشک رکھتے تھے۔ نیز ”چڑی روزہ“ اور ”آدھا روزہ“ بھی ماں باپ اپنے بچوں کو شوق سے رکھوادیتے تھے، جن میں بچوں پر چند گھنٹوں کے لیئے کھانے پینے کی مکمل پابندی عائد کر کے، بعدازں اُن کا روزہ کھلوا دیا جاتا تھا۔جبکہ بعض اوقات بچوں کو صرف سحری کروا کر ہی اُنہیں باور کروادیا جاتا تھا کہ تمہارا روز مکمل ہوگیا۔بچوں کو اس طرح روزے رکھوانے کا بنیادی مقصد وحید یہ ہوتا تھا کہ ان میں بڑے ہوکر روزے رکھنے کا عزم و حوصلہ پیدا ہو اور ماہِ صیام کی حکمتیں، برکتیں اور فلسفے کو جاننے،پرکھنے اور سمجھنے کا کچھ نہ کچھ عملی احساس اُن کے نوخیز ذہنوں پربھی ثبت ہوسکے۔

روزہ کشائی کی اہمیت و افادیت
بلاشبہ کسی بھی بچہ کو پہلا روزہ رکھوانا اور پھر اُسے افطار تک مکمل کروانا ایک مشکل کام ہے۔خاص طور والدین کے لیے جب کہ وہ خود بھی روزے کی حالت میں ہوں اور سحری اور افطاری کی تیاری کے ساتھ ساتھ اُنہیں ہر لمحہ اپنے روزے دار بچے کی دل جوئی کرنی کی مہم بھی درپیش ہو۔ یعنی پہلا روزہ تو بے شک بچہ ہی رکھتا ہے لیکن افطاری کے فیصلہ کن لمحات آنے تک جس امتحان سے ماں باپ کو گزرناپڑنا اُس کا اندازہ صرف وہی والدین بہتر طور پر لگاسکتے ہیں، جو کبھی اپنے بچے کو پہلا روزہ رکھوا چکے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ آج کل ماں باپ کی اکثریت اس جھمیلے میں پڑنا ہی نہیں چاہتی اور بچہ پہلا روزہ رکھنے کے لیئے اُن کے سامنے چاہے جتنی مرضی خواہش کا اظہار یا ضد کرتا رہے، لیکن وہ روزے کی طوالت،گرم موسم اور اُن کی کم عمری کا بہانہ بنا کر اُنہیں روزہ رکھنے کی اجازت سرے سے دیتے ہی نہیں۔ نتیجتاً اکثر بچے بڑے ہو کر بھی روزہ نہیں رکھ پاتے، یاروزے رکھنے کی جانب بڑی مشکل سے ہی مائل ہوپاتے ہیں۔

حالانکہ دورِ جدید میں ہر گھر میں در آنے والی پرآسائش سہولیات نے روزہ کی ادائیگی کو ماضی کے مشکل ادوار کے مقابلے میں بہت سہل اور آسان بنا دیا ہے۔ اس لیئے آج کے والدین کی اوّلین کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ اگر بچے روزے رکھنے کی خواہش نہیں بھی رکھتے ہوں،تب بھی اُنہیں مختلف حیلے،بہانہ اور ترغیبات کا لالچ دے کر اپنے ساتھ روزے رکھنے کی تلقین کی جائے۔اس ضمن میں ”روزہ کشائی“ کی سادہ سی تقریب جس میں بعض قریبی رشتہ دار،یا دوست احباب یا پھرصرف اپنے گھر کے ہی افراد شامل ہوں منعقد کرنے میں قطعی کوئی قباحت نہیں ہے۔مگر ساتھ ہی اس بات کا خیال رکھنا بھی ازحد ضرور ی ہے،روزہ کشائی کی تقریب جتنی مختصر،سادہ اور پروقار ہو،اُتنا ہی اچھا ہے۔کیونکہ روزہ کشائی کو جشن کے انداز میں منانا ماہِ صیام کی روحانی تقدیس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔اس لیئے روزہ کشائی کے نام پر پیسے کی بے جا نمود و نمائش کرنے سے بہرصورت اجتناب ہی برتنا چاہیئے۔

روزہ کشائی کے چند رہنما اُصول
یاد رہے کہ بچوں کی روزہ کشائی کروانے کا بنیادی مقصد بھوکا،پیاسا رکھنے کے بجائے بلکہ اُنہیں روزے کی حقیقی روح سے متعارف کروانا ہے۔ اس لیے جہاں پہلا روزہ رکھنے والے بچے کی حوصلہ افزائی اور ہمت بندھانے کے لیئے تحائف دینا بہت ضروری ہے، وہیں اُسے ماہِ رمضان المبارک کے جملہ فضائل اور نعمتوں سے آگاہی فراہم کرنا بھی تمام گھر والوں کی اوّلین ذمہ داری بنتی ہے۔ما ہِ رمضان المبارک کو بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ یادگار اور مفید بنانے کے لیئے چند رہنما نکات ذیل میں درج کیئے جارہے ہیں۔
1۔ ماہ صیام کی پرکیف ساعتوں میں جب موقع دستیاب ہو بچوں کو باتوں باتوں میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے واقعات سنائیں اور اُنہیں سمجھائیں کہ غصہ کرنا، جھوٹ بولنا، چغلی کرنے جیسے کسی بھی فعل سے خود کو باز رکھنا اگر عام دنوں میں ایک نیکی شمار ہوتی ہے تو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کا ثواب ستر گنا تک بڑھاد یتے ہیں۔
2۔ پنج وقتہ نماز کی ادائیگی کے وقت اپنے ساتھ بچوں کو بھی شامل کریں اور اگر ممکن ہوسکے تو انہیں نماز میں پڑھی جانے والی چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کروائیں۔ نیز بچوں کو تحائف بھی ماہِ صیام کی مناسبت سے دیں، جیسے بیٹیوں کو جائے نماز، دوپٹہ یا اسکارف اور بیٹوں کوتسبیح اور ٹوپی وغیرہ کسی بھی اچھے کام کے کرنے کے بعد بطور انعام دی جاسکتی ہے۔
3۔ رمضان المبارک میں بچوں میں قرآن پاک کی تلاوت کا ذوق پیداکرنے کے لیئے، ماں باپ میں سے کوئی ایک دن میں کم از کم ایک بار تلاوت کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ ضرور بٹھائے اور وہ بچے جو کسی مدرسے،قاری یا قاریہ کے پاس قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہوں،اُن سے ان کے اسباق باآواز بلند ترتیل کے ساتھ تلاوت کروائے جائیں۔اگر گھر میں بچے ایک سے زیادہ ہوں تو اِن کے درمیان لحن کے ساتھ تلاوت کلام پاک کرنے کا مقابلہ بھی کروایا جا سکتاہے۔
4۔بچوں کو چھوٹی چھوٹی دعائیں یاد کروائیں جیسے روزہ رکھنے اور کھولنے کی دُعا کے ساتھ ساتھ درود شریف اور دیگر مختصر قرآنی سورتیں بھی حفظ کروائیں۔جبکہ انہیں سونے، جاگنے، سیڑھیاں چڑھنے، اترنے، بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے کی مسنون دعائیں مناسب مواقع پر پابندی کے ساتھ پڑھنے کی تلقین بھی کریں۔
5۔ سحری و افطار کی تیاری کرتے وقت بچوں کو بھی اپنا ہاتھ بٹانے کے لیئے کہیں۔ جیسے افطاری کی تیار ی میں ان سے کوئی پھل چھیلنے کے لئے کہیں اور کسی روزبچے کو سحری یا افطاری کا دسترخوان سجانے کی ذمہ داری دے دیں۔نیز کبھی کبھار بعد از افطاری و سحری بچے سے دسترخوان سمیٹنے کے لئے بھی ضرور کہیں۔ جبکہ افطاری کا سامان خریدنے کے لیئے بھی انہیں اپنے ہمراہ بازار ضرور لے کر جائیں۔ عام مشاہدہ یہ ہی ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں اس طرح کے چھوٹے موٹے کام بچے بھاگ بھاگ کر اور بڑی خوشی دلی سے انجام دے لیتے ہیں۔

6۔روزہ کشائی یعنی پہلا روزہ رکھنے کے بعد بچے کو مزید روزے بھی رکھوائے جائیں،خاص طور پر وہ بڑے بچے،جن پر اگلے ایک دوبرسوں میں روزے فرض ہونے والے ہوں۔ایسے بچوں کو ماہِ رمضان میں کم ازکم ہر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی تاکید ضرور کریں۔ لیکن اس اُصول کا اطلاق ہر عمر کے بچے پر بالکل نہ کریں۔یعنی بہت کم عمر بچوں کے لیئے ماہِ صیام میں ایک یا دو روزے رکھنا بھی کافی سمجھیں۔

7۔ماہِ صیام میں مستحق لوگوں کو خیرات، صدقات اور زکوۃ دیتے وقت آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کے بچے بھی ہمراہ ہوں۔تاکہ دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ اُن کے نوخیز اذہان میں بھی پختہ ہوسکے۔اگر سہولت کے ساتھ ممکن ہوسکے تو اُنہیں باقاعدگی سے جیب خرچ کے علاوہ کچھ اضائی رقم بھی فقرا ء میں خیرات کرنے کے لیئے دی جائے۔تاکہ بچوں میں اپنے ذاتی جیب خرچ میں سے راہ خدا میں مال خرچ کرنے اور ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا ہوسکے۔علاوہ ازیں بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ غربا و مساکین کی مدد کرتے وقت نمائش نہیں کرنا چاہئے بلکہ خیرات، صدقات اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح دینے چاہئے کہ آپ کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوسکے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 03 اپریل 2022 کے خصوصی شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں