Qazi Faez Isa

چیف جسٹس کے 404 دن

سپریم کورٹ آف پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس،جناب قاضی فائز عیسیٰ انتہائی سخت آزمائشوں اور امتحانات سے گزر کر عد ل و انصاف کی کرسی تک پہنچے ہیں۔مگر یہاں پہنچ کر وہ اطمینان اور سکون کی گہری سانس اِس لیئے نہیں لے سکتے کہ قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد اُنہیں اَب پہلے سے بھی زیادہ سخت امتحانات اور مشکل آزمائشوں کاسامنا ہوگا۔ قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری ایک ایسے نازک وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کو سنگین آئینی، قانونی، سیاسی اور معاشی بحرانوں کا سامنا ہے۔ لہٰذا، ان کے سامنے اَن گنت چیلنجز کا ایک انبارہے۔ جنہیں اُنہیں انتہائی استقامت، صبر و تحمل اور برد باری سے حل کرنا ہوگا۔ نئے چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے سب سے بڑا کام عدالت عظمیٰ کے وقار اور غیر جانبداری کو بحال کرنا ہو سکتا ہے۔نیز اُنہیں سپریم کورٹ آف پاکستان میں ججوں کے درمیان تقسیم کا تاثر بھی ختم کرنا ہوگا۔ جبکہ اُنہیں سیاسی مقدمات میں اُلجھی ہوئی عدالتِ عظمیٰ کو بازیاب کروانے کے لیئے بھی غیر معمولی اقدامات اور فیصلے لینا ہوں گے۔ یادرہے گزشتہ چند برسوں سے سپریم کورٹ آف پاکستان سیاسی مقدمات کی آماج گاہ بن کر رہ گئی تھی اور ہر سیاسی جماعت نے اپنی سیاسی لڑائی اور عداوت کو بہ وسیلہ عدالت نمٹانا اپنی عادتِ ثانیہ بنالیا تھا۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا تھا کہ شاید سپریم کورٹ آف پاکستان کا قیام ہی صرف سیاسی مقدمات کے لیئے کیا گیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں آپ نے اکثر ایک جملے کی بازگشت تواتر کے ساتھ سنی ہی ہوگی کہ ”انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیئے“۔سیاسی مقدمات کی حد تک تو عدالت عظمیٰ بلاشبہ مذکورہ جملے کی عملی تفسیر بنی ہوئی تھی اور عدل و انصاف کی فراہمی سیاسی سائلین کو دن رات 24 گھنٹے بلاتعطل فراہم کی جارہی تھی۔ مگر جہاں تک سپریم کورٹ میں زیرالتوا 56 ہزار سے زائد عام مقدمات اور اُن کے مجبور و مقہور سائلین کا تعلق ہے تو اِس باب میں عدالتِ عظمیٰ نے گزشتہ کئی برسوں سے ایک لمبی سے چُپ سادھ رکھی تھی۔ شاید اَب وہ وقت آگیا ہے کہ نئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ کچھ عرصے کے لیئے سیاسی قائدین پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے دروازے بند کر کے، اُن سائلین پر کھول دیں جو ایک طویل مدت سے عدالتِ عظمیٰ کے رجسٹرار آفس میں رکھی ہوئی فائلوں میں زندہ در گور،عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں کے منتظر ہیں۔ یقینا نئے چیف جسٹس نے اپنے حلف اُٹھانے سے لے کر اَب تک ماضی کی کئی روایات توڑ کر کئی نئی خوش گوار،منفرد اور قابل تقلید روایات قائم ہیں۔

مثال کے طو رپر انہوں نے صدر مملکت کی اجازت سے اپنی شریک حیات محترمہ سیرینا عیسیٰ کو سٹیج پر بلا کر اپنے ساتھ کھڑا کرتمام گھریلو خواتین کا سر فخر سے بلند کردیا۔دوسری اچھی روایت انہوں نے یہ قائم کی کہ حلف نامہ انگریزی کے علاوہ قومی زبان اردو میں بھی پڑھا اور صدر مملکت دونوں زبانوں میں حلف کے الفاظ پڑھتے رہے اور قاضی صاحب دہراتے رہے۔ تیسری خوش گوار، روایت انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں سینئر ججوں کو نامزد کرنے کے علاوہ پہلی بار ایک خاتون جج کو عدالت عظمیٰ کا رجسٹرار مقرر کرکے قائم کی۔چوتھی روایت قومی اسمبلی اور سینٹ کا منظور شدہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے زیرالتوا مقدمہ کی سماعت کے لئے پندرہ ججوں پر مشتمل فل بینچ مقرر کرکے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی اجازت دے کر قائم کی اور یوں تاریخ میں پہلی بار پاکستانی عوام کو ٹی وی چینلوں پر براہ راست عدالت عظمیٰ کے اندر کا ماحول دیکھنے اور وہاں موجود،وکیلوں کی جرح، ججوں کے سوالات اور ریمارکس سننے کا موقع ملا۔

یقینا نئے چیف جسٹس آف پاکستان، جناب قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اُٹھائے گئے یہ سارے اقدامات بہت اچھے اور اُن کی قائم کردہ تمام روایتیں سب کے لیئے قابلِ تقلید ہیں۔ مگر اُ ن کا اصل کام ایسے لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے،جو گزشتہ کئی برسوں سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ارد گرد چکر در چکر کاٹ رہے ہیں اور اُن کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی۔ کیونکہ کسی دن عدالتِ عظمی سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل کرنے میں مصروف ہوتی ہے تو کسی روز قیدی نمبر 804 کو ”گُڈ ٹو سی یو“ کا نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے چشم براہ ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سیاسی مقدمات کے بوجھ کی وجہ سے وہ دن آہی نہیں پاتا،جس روزصرف عام سائلین کے مقدمات سماعت کے لیئے مقرر ہوں۔ مانا چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ کے عہدہ قاضی القضاۃ کی مدت فقط 404 دن ہے۔مگر یہ عرصہ اتنا مختصر بھی نہیں ہے کہ عدالتِ عظمیٰ میں عام سائلین کے زیرالتوا 56 ہزار سے زائد مقدمات میں سے 8 سے 10 فیصد انتہائی سرعت کے ساتھ نمٹائے نہ جاسکتے ہوں۔

سچی بات تو یہ ہے کہ بس! ایک اچھی ابتداء کی ضرورت ہے اور یہ ابتداء تب ہی ہوسکتی ہے، جب تمام سیاست دانوں اور اِن کے کارکنان نما، وفادار وکیلوں کو سپریم کورٹ پاکستان کی راہ داریوں سے کچھ عرصہ کے لیئے باہر نکال کر اُنہیں اُن کی اصل جگہ یعنی پارلیمنٹ ہاؤس کا راستہ دکھا دیا جائے۔ اگر چیف جسٹس آف پاکستان،جناب قاضی فائز عیسیٰ یہ نیکی کا کام کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ انہوں نے اپنے حصے کو وہ فریضہ انجام دے دیا،جس کے لیئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اُنہیں امتحانات اور آزمائشوں سے نکال کر چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر بٹھایا ہے۔ لیکن اگر خداانخواستہ! سب کچھ اچھا اچھا ہونے،نئی نئی روایات بننے اور پرانی روایتوں کے ٹوٹنے کے باوجود بھی عوام کے 56 ہزار مقدمات میں نمایاں کمی آنے کے بجائے مزید اضافہ ہو جاتاہے تو پھر مورخ چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ کو بھی اُن ہی گراں قدر الفاظ سے یاد کرے گا، جن سے اُن کے پیش رو، عمرعطابندیال کو آج کل یاد کررہاہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 23 ستمبر 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں