لائسنس ٹو احتساب

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب عمر عطا بندیال نے انصاف کی کرسی پر متمکن ہوکر اپنے کیرئیر کے آخری چند ماہ میں جتنے بھی متنازعہ فیہ فیصلے دیئے ہیں۔یقینا اُن میں سے کوئی ایک بھی فیصلہ ایسا نہیں ہے جسے آسانی کے ساتھ طاقِ نسیاں پر رکھ کر فراموش کر دیا جائے۔ مگر نئی نیب ترامیم کے قانون کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دینے کا اُن کا آخری فیصلہ جسے بعض حلقوں میں ”آخری گیند پر سکسر“ یا ”آخری الوداعی طمانچہ“سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اِسے فراموش کرپانا تو شاید پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کے لیئے ممکن نہ ہوگا۔ خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف اور اُس کے جملہ کارکنان اِس فیصلے کو اپنی ایک بہت بڑی اور فاش ”قانونی غلطی“ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے بحیثیت چیف جسٹس پاکستان اپنے آخری فیصلے میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے نے دو بمقابلہ ایک کی اکثریت سے نیب (ترمیمی) ایکٹ مجریہ 2022 کے خلاف دائر کی گئی چیئرمین پی ٹی آئی کی آ ئینی درخواست پر مختصر فیصلے میں درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نیب (ترمیمی) ایکٹ مجریہ 2022 کے ذریعے کی گئی10 ترامیم میں سے9 کو منسوخ کرنے کے فیصلہ سُنا کر گویا قومی احتساب بیورو(نیب)کے تنِ مردہ میں اپنے آخری فیصلے سے عمر عطا بندیال نے آئینی و قانونی روح پھونک دی ہے۔شنید یہ ہی ہے کہ اَب یہ نیب ایک بار پھر سے زندہ ہوجانے کے بعد سب سے پہلے اپنی لامحدود احتسابی طاقت کا نشانہ صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بنائے گا۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ عمرعطابندیال جاتے جاتے عمران خان کے مخالفین کے ہاتھوں میں ”لائسنس ٹو احتساب“ کا انتہائی مہلک ہتھیار دے گئے ہیں۔

مثال کے طور پر نیب ترامیم کالعدم قرار دیئے جانے کے فیصلے کا سب سے زیادہ منفی اثر عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بیگم کے خلاف جاری القادر ٹرسٹ کیس پر پڑے گا۔یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلہ سے جہاں دیگر سیاستدانوں کیلئے مشکلات پیدا ہونے کا صرف موہوم سے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔وہاں آنے والے دنوں میں نیب ترامیم کو چیلنج کرنیوالے درخواست گزار چیئرمین پی ٹی آئی بذاتِ خود سب سے زیادہ اِس فیصلے سے متاثر ہونے جارہے ہیں۔کیونکہ جب نیب میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر القادر ٹرسٹ کی انوسٹی گیشن کا آغاز ہوا تھا تو اُس وقت چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے دفاع میں موقف اپنایا تھا کہ القادر ٹرسٹ کا فیصلہ کابینہ کا تھا اور نئی نیب ترامیم کے تحت کابینہ کے فیصلوں کو تحفظ حاصل ہے۔اَب جب کہ نئی نیب ترامیم کا قانون کالعدم قرار دیا جاچکا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ القادر ٹرسٹ کیس اَب دوبارہ سے نیب کے دائرہ اختیار میں آگیا ہے۔

نیز نیب قوانین میں متنازع ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 50 کروڑ روپے سے کم کے وائٹ کالر جرائم میں ملوث سیاستدانوں اور بااثر شخصیات پر ہاتھ ڈالنے کا دوبارہ اختیار دے دیا ہے۔جس کے بعد اَب نیب عمران خان کے خلاف بے شمار ایسے مقدمے بنانے کے بھی قابل ہوگیا ہے،جو وہ نیب ترمیمی قانون کی موجودگی میں نہیں بناسکتا تھے۔حدتو یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے نے نیب کو وہ اختیارات دے دیے ہیں جن سے وہ ترامیم کی وجہ سے محروم ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ نئی نیب ترامیم کے تحت نیب ملزم کو صرف 14 روزتک ہی بغیر کسی عدالت میں پیش کیے اپنے پاس حراست میں رکھ سکتی تھی۔ لیکن مذکورہ قانون کالعدم قرار ہوجانے سے ایک بار پھر سے نیب 90 دنوں تک کسی بھی ملزم کو حراست میں رکھنے کا قانونی جواز حاصل ہوگیا۔ یعنی نیب نے اگر کسی بھی مقدمے میں عمران خان کو گرفتار کرلیا تو اُن کے ضمانت کے لئے کسی بھی عدالت سے رجوع نہیں کیا جاسکے گا۔سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا نئی نیب ترامیم کے خاتمہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے جملہ کارکنان اپنے محبوب قائد کو حاصل ہونے والے اِسی طرح کے متوقع فوائد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں؟۔

دراصل چیئرمین تحریک انصاف نے جس وقت نئی نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا، اس وقت ملکی سیاست کے حالات کافی حد تک اُن کے موافق تھے، مگر اَب ملک کی سیاسی فضا یکسر اُن کے خلاف ہوچکی ہے۔ جبکہ نیب کے بارے میں تو ہم جانتے ہی ہیں کہ اِس کے دانت زیرِ عتاب سیاسی جماعت کو چبانے کے لیئے اور،صاحبِ اقتدار جماعت کو مسکرامسکرا کر دکھانے کے لیئے اور ہوتے ہیں۔ ویسے بھی باخبر نیب ذرائع نے اپنے پرانے بہی مقدمے داروں کے دلی اطمینان کے لیئے آگاہ کیا ہے کہ نیب کی جانب سے پہلے ہی سے بند یا عدالتوں کی جانب سے نمٹائے گئے مقدمات کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔جبکہ کم و بیش 1800 کے قریب جن بند مقدمات کے کھلنے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے۔ اُنہیں بھی فی الحال نہیں چلایا جائے گا۔اِس کا جواز یہ بتایا جارہا ہے کہ جب تک نیب میں ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی 2 اہم آسامیوں پر تعیناتیاں نہیں ہوجاتیں،اُس وقت پرانے مقدمات کی باقاعدہ پیروی سے سے حتی المقدور فرار کی راہ ہی اختیار کی جائے گی۔

دوسری جانب سب سے اہم بات یہ کہ اگر سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ چند ماہ میں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے کیے گئے تمام مقدمات کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیتی ہے تونیب قانون میں پارلیمان کی جانب سے کی گئی تمام ترامیم اپنی اصل شکل میں بحال ہوجائیں گی اورسابق چیف جسٹس عطاعمر بندیال کا آخری فیصلہ صرف ایک ایسا سنسنی خیز پٹاخہ سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوگا، جس کے پھٹنے کا پوری پاکستانی قوم شدت کے ساتھ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر انتظار کررہی ہوگی اور وہ صرف پھس پھسی سی ایک آواز نکال کر رہ جائے۔”لائسنس ٹو احتساب“ کا پٹاخہ پھٹتا بھی ہے یا نہیں، پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 16 ستمبر 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں