electricity rates spark

بُرے احتجاج کا بُرا نتیجہ

مارٹن لوتھر نے ایک بار کہا تھا کہ ”ہروقت ہتھوڑی ہاتھ میں ہوتو ہر مسئلہ کیل نظر آتاہے“۔سچ پوچھیئے تو یہ جملہ پاکستانی قوم پر پوری طرح سے صادق آتاہے۔ کیونکہ پاکستانی عوام ہو ں یاپھر خواص،اُن کے ہاتھ میں ہر وقت احتجاج کی ہتھوڑی نہیں بلکہ ایک بھاری بھرکم ہتھوڑا رہتاہے اور وہ ملک میں رونما ہونے والی ہر خرابی کو احتجاج کا ہتھوڑا مار کر ہی ٹھونکنا یعنی اپنی دانست میں ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج تک احتجاج کا ہتھوڑامارکر ہم کسی بھی خرابی یا نقص کو کبھی درست نہیں کرسکیں ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ احتجاج کا ہتھوڑا ہر خرابی کو مزید خراب کرنے کا سبب بن جاتا ہے تو ایسا کہنا عین قرین قیاس ہوگا۔ آج ہمارا ملک جس نوعیت کے بھی سنگین سیاسی، مذہبی،تہذیبی، ثقافتی اور معاشی بحرانوں کی زد میں گھرا ہوا ہے تو اِس کا بنیادی سبب احتجاجی ہتھوڑے کا بلاوجہ،بے دریغ اور مسلسل استعمال ہی تو ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ساری دنیا ایمان کی آخری حد تک مانتی ہے کہ کسی بھی ملک، خطہ یا علاقہ کے سیاسی و معاشی مسائل کو اُس وقت تک حل ہی نہیں کیا جاسکتا، جب تک وہاں کامل استحکام نہ پایاجاتا ہو۔جبکہ من حیث القوم ہم اِس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ صرف احتجاج کے بطن سے ہی استحکام جنم لیتاہے اور یوں ہم ہر احتجاج کا آغاز ہی یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ اگر ہمارا یہ احتجاج ایک بار کامیابی سے ہمکنار ہوگیا تو وطنِ عزیز پاکستان میں ہر سمت اور ہر شعبے میں استحکام آجائے گا۔ لیکن ہر بار ہر قسم کے معمولی یا غیر معمولی احتجاج کی کامیابی سے ہمارا ملک مزید عدم استحکام کی گہری گھائی میں جاگرتاہے۔ یعنی سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ ہم گزشتہ 76 سال سے تخریب کی دلدل میں تعمیر کے قیمتی موتی تلاش کررہے ہیں اور تشدد کی بنجر زمین پر محبت ویگانگت کی فصل کاشت کرنے میں جُتے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے ہمارے ہاں سیاسی،مذہبی، کاروباری اور فلاحی جماعتیں بنائی ہی فقط اِس نیت سے جاتی ہیں کہ اِن کے ذریعے عام سادہ لوح لوگوں میں احتجاج کے تخریبی جذبہ کوپرورش کیا جاسکے۔ کیا ساری دنیا میں سیاسی جماعتوں، کاروباری تنظیموں اور مذہبی اداروں کی یہ ہی کوشش،خواہش اور بنیادی وظیفہ ہوتا ہے کہ اُن کے روز بروز کے احتجاج سے حکومت عضو ِ معطل بنی رہے اور اَمن وامان کی صورت حال اَبتر رہنے کی وجہ سے اُن کا ملک مسلسل عدم استحکام کا شکار رہے؟۔

ملک بھر کی تاجرتنظیموں کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف اگر صرف ایک دن کے لیئے ملک گیر ہڑتال کرنے کا اسٹیج ڈرامہ اِس لیئے رچایاگیا تھا کہ نگران حکومت پر دباؤ ڈال کر بجلی کے بھاری بھرکم نرخ کم کروائے جائیں گے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ماضی میں مہنگائی کے خلاف کیئے جانے والے تاجر برادری کے ہر ناکام و نامراد احتجاج کی طرح مذکورہ احتجاجی تحریک بھی بس رائیگاں ہی گئی۔ کیونکہ نگراں حکومت نے اُن کی ایک روزہ ہڑتال سے متاثر ہوکر بجلی کی قیمت کو کم کرنے کے بجائے اُلٹا مزید بڑھانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ نیز تاجر برادری نے فیس بُک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام کی پوسٹوں پر لگانے کے لیئے بجلی کے جو بل نذرِ آتش کیئے تھے، اُن کے بقایا جات بھی معاف کرنے سے یکسر انکار کرتے ہوئے نگران حکومت کے ترجمان نے حکم صادر فرمایا ہے کہ ”بجلی کے تمام واجب الادا بجلی کے بل بشمول لیٹ پیمنٹ چارجز کے وصول کیئے جائیں گے“۔ہاں!نگراں حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ اِس حوالے سے سلسلہ جنبانی ضرور جاری ہے کہ کسی طرح بجلی صارفین کے لیئے اتنی رعایت بہرکیف ضرور حاصل کرلی جائے کہ وہ اپنے بجلی کے بھاری بھرکم بل یکمشت ادارئیگی کے بجائے تین، چار اقساط میں جمع کروا سکیں۔لیکن اگر آئی ایم ایف نے انکار کردیا تو پھر یہ رعایت بھی کسی کو نہیں دی جائے گی۔

دراصل احتجاج ہے ہی ایسی منحوس اور ناقابل اعتبار شئے کہ جس کا نقصان صرف اِسے کرنے والوں کو پہنچتا ہے اور فائدہ وہ اُٹھالیتے ہیں،جن کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر تازہ ترین مثال ہی لے لیں کہ سوشل میڈیا پر واپڈا ملازمین کو ملنے والے مفت بجلی یونٹس کی سہولت کے خلاف احتجاجی مہم چلانے کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ نگراں حکومت کی جانب سے واپڈا کے ملازمین کیلئے خصوصی واپڈا الاؤنس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔جس کے بعد اَب واپڈا کے گریڈ ون کے ملازم کو 8ہزار گریڈ دو کو 8500 گریڈ 16 کو25000گریڈ17 کو 32000 گریڈ18 کو 40000گریڈ19 کو 53000 اور گریڈ20 کو60000روپے ماہانہ مفت بجلی یونٹس کی مد میں سکہ رائج الوقت نقد میں ملیں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ واپڈا کے 18 ہزار ملازمین کو یہ مفت بجلی الاؤنس یکم جولائی 2023 سے دیا جائے گا۔ نیز ملک بھر میں بجلی کی ترسیل کی ذمہ دار دس ڈسکوزکے علاوہ نیشنل ٹرانسمیشن ڈسپیچ کمپنی، پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی اورجینکوز کے ایک لاکھ 69ہزار ملازمین کو بھی مذکورہ فارمولا کے مطابق مفت بجلی یونٹس کے متبادل کے طور پر یہ خاص الاؤنس مہیا کیا جائے گا۔ یعنی پہلے جنہیں مفت بجلی کے یونٹس ملتے تھے،اَب اُنہیں نقد رقم ملا کرے گی۔ قوی امکان ہے کہ واپڈا ملازمین اپنے خلاف احتجاجی مہم چلانے والوں کو جھولیاں جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر دعائیں دے رہے ہوں گے کہ جن کی وجہ سے اُن کو ملنے والے مفت بجلی کے یونٹس پیسوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر یہ احتجاجی مہم بھی چلائی گئی تھی کہ بجلی کی ریڈنگ لینے والا میٹر ریڈر اگر مقررہ تاریخ کے بعد ریڈنگ لینے آتا ہے تو اُس کے ساتھ علاقہ مکین انتہائی سختی کے ساتھ نپٹیں گے۔ مذکورہ تخریبی مہم سے ہلہ شیری پا کر چند عاقبت نااندیش صارفین نے میٹر ریڈنگ لینے کے لیئے آنے والے میٹر ریڈر تشدد کا نشانہ بنا کر اپنا احتجاج سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ویڈیوز کی صورت میں پوسٹ کردیا۔ سوشل میڈیا پروائرل ہونے والے اِس پرتشدد احتجاج کا حتمی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ میٹرریڈر ز کو تشدد کا نشانہ بنانے والے تمام صارفین کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے اُنہیں طویل عرصہ کے لیئے حوالہ زنداں کردیا گیا ہے۔ جبکہ حفاظتی نکتہ نگاہ کے پیش نظر ہر میٹر ریڈر کے ساتھ پولیس اہلکار کو تعینات کرنے کی تجویز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جارہا ہے۔ یعنی اَب میٹر ریڈرز پولیس کے حفاظتی دستے کے جلو میں پورے پروٹوکول کے ساتھ بجلی کی ریڈنگ لینے کے لیئے علاقوں کا وزٹ کرنے آیا کریں گے۔ ذرا ایک لمحہ کے لیئے تسلی کے ساتھ سوچئے کہ اِس احتجاج نے واپڈا ملازمین کو زیادہ فائدہ پہنچایا یا پھر بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو؟۔کاش! احتجاج کرنے والے کبھی یہ بھی سوچنے کی زحمت گوارا کریں کہ اُن کے کامیاب احتجاج آخر کیوں ہر مرتبہ ملک و قوم کے لیئے بُرے نتیجے کا ہی سبب بنتے ہیں؟۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 09 ستمبر 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں