عالمی رہنماؤں کی توہم پرستی

”17،اگست 2018 کی رات وزیراعظم کی حلف برداری کے کارڈز تقسیم کر رہا تھا لیکن پھررات ڈیڑھ بجے مجھے عمران خان کا فون آیا اور کپتان نے مجھے بتایا کہ بشریٰ بی بی نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر تم حلف برداری کے دوران ایوان صدر یا وزیراعظم ہاؤس میں نظر آئے تو نحوست ہو جائے گی اور میں وزیراعظم نہیں بن سکوں گا چناں چہ تم کل کے فنکشن میں نہیں جاؤ گے اور یوں میں دودھ سے مکھی کی طرح باہر نکال دیاگیا“۔یہ انکشاف سابق وزیراعظم پاکستان کے سب سے قریبی ساتھی عون چوہدری نے ایک معروف کالم نگار کے ساتھ دورانِ گفتگو کیا تھا۔صرف یہ ہی نہیں عون چوہدری نے تو یہ دعوی بھی کیا تھا کہ عمران خان نے اپنی سابقہ اہلیہ ریحام خان کو طلاق بھی بشری بی بی کے حکم پر بھی ہی دی تھی۔دراصل عمران خان کے بارے میں اَب یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ وہ سیاست میں اپنی ہر چھوٹی،بڑی چال چلنے سے پہلے ماورائی علوم سے نیک شگون اور رہنمائی ضرور طلب کرتے ہیں۔یعنی گزشتہ کئی برس سے جہاں ملکی سیاست کا مرکز و محور سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان بنے ہوئے ہیں تو وہیں عمران خان کی اپنی سیاست علم نجوم اور ستاروں کی چالوں کے گردا گرد ہی گھوم رہی ہے۔ویسے تو ماضی میں پاکستانی سیاست کے کئی نامور سیاسی رہنماؤں کے بارے میں یہ دعوے کیئے جاتے رہے ہیں انہوں نے اقتدار کی مشکل راہوں کو سہل بنانے کے لیئے امدادِ غیبی اور پیش گوئیوں پر انحصار کیا تھا۔

جیسے سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ایک روشن خیال خاتون سیاست دان ہونے کے باوجود پیری فقیری میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور وہ اکثر بری امام حاضری دیا کرتی تھیں۔جبکہ وہ کبھی کبھار دھنکا شریف میں ایک پیر صاحب کے پاس بھی جاتی تھیں۔یاد رہے کہ مذکورہ پیر صاحب کا تعلق مانسہرہ کے دور افتادہ نو احی گاؤں دھنکا سے تھا اور وہ سائلین کو چھڑیاں مارنے کی نسبت سے ”چھڑیاں والی سرکار“ کے نام سے مشہور تھے۔نیز ایک دوسری مصدقہ روایت کے مطابق جب ضیا ء الحق کے دورآمریت میں بے نظیر بھٹو شہید حزب اختلاف میں تھیں تو وہ بنگلہ دیش، چٹا گانگ کے ایک نجومی کی شہرت سن کر ان کے پاس بھی گئیں۔محترمہ نے نجومی سے پوچھا تھا کہ وہ کب اقتدار میں آئیں گی؟ تو نجومی نے عجیب جواب دیا کہ جب آم پھٹیں گے آپ اقتدار میں آ جائیں گی۔حیران کن طور پر ایسا ہی ہوا، 17 اگست 1988 کوجنرل ضیا ء الحق جس سی 130 طیارے حادثے میں جاں بحق ہوئے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آموں کی پیٹیوں میں دھماکہ خیز مواد رکھا تھا جو بہاولپور سے طیارہ اڑنے کے تھوڑی دیر بعد ہی پھٹ گیا۔

نیزسابق صدر پاکستان آصف زرداری کے بھی قریب کبھی کبھار ایک پیر نما شخصیت دکھائی دیا کرتی تھی، جن سے وہ اکثر روحانی رہنمائی حاصل کیا کرتے تھے، جو پیر اعجاز کے نام سے معروف تھیں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستانی سیاست میں کئی نام گنوائے جاسکتے ہیں جنہوں نے ایک آدھ بار ماورائی علوم کی جانب رہنمائی کے لیئے رجوع کیا۔مگر شاید عمران خان پاکستانی سیاست کے وہ واحد رہنما ہیں جو اپنے ہر اقدام سے قبل روحانی رہنمائی حاصل کرنا لازم سمجھتے ہیں اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان نے روحانی و کواکبی معاملات میں اپنی دلچسپی کو کبھی چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کبھی اِس بات کی کوئی خاص پرواہ کی ہے کہ اُن کے سیاسی مخالفین غیرمرئی علوم سے استعانت و رہنمائی حاصل کرنے کی عادت کو کس قدر تنقیدی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان دنیا کے وہ انوکھے سیاسی رہنما ہرگز نہیں ہیں۔جنہوں نے ستاروں کے سعد و نحس یا کواکبی رجعت و ہبوط کا لحاظ رکھتے ہوئے بساطِ سیاست پر اپنی سیاسی چالیں چلنے کا اہتمام کیا ہو یا کررہے ہیں۔ بلکہ کئی صدیوں سے بے شمار سیاسی رہنمااور حکم ران اقتدار کی سرکش دیوی کو رام کرنے یا اپنی سلطنت کو دوام بخشنے کے لیئے علم نجوم، دست شناسی، رمل و جفر سمیت دیگر ماورائی علوم سے رجوع کرتے رہے ہیں۔ نیز بعض مطلق العنان حکمران تو دربارمیں اُس وقت تک قدم بھی نہ رکھتے تھے۔ جب تک شاہی نجومی اُنہیں شبھ گھڑی سے آگاہ نہیں کردیا کرتے تھے۔ جبکہ کئی بادشاہ تو جنگیں کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے بھی عسکری صلاحیت کے بجائے ستاروں کی قوت کو پیش نظر رکھ کر کرتے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ توہم پرستی میں قدیم تہذیبوں اور جدید حکومتوں کے رہنمااور حکم ران کم و بیش یکساں نظریات اور عقائد کے حامل نظر آتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں چند ایسے عالمی سیاسی رہنماؤں اور حکمرانوں کا ایک اجمالی سا تذکرہ پیش خدمت ہے۔جنہوں نے اپنی سیاست و سیادت کے تمام فیصلے زیرک،معاملہ فہم اور بالغ نظر مشیروں کے بجائے ستاروں کے مشورہ سے کیئے اور اُن کے فیصلوں نے کبھی تو اُن کی سیاست کا نقشہ اور کبھی پوری دنیا کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔

رونالڈریگن اور نینسی ریگن کا ماورائی حصار
آپ مانیں یا نہ مانیں مگر سچ یہ ہی ہے کہ عالمی طاقت ریاست ہائے متحدہ امریکاکے معروف ایوانِ اقتدار، وائٹ ہاؤس کے اکثر مکین بھی علم نجوم کے غیرمعمولی سحری اثرات کے معتقد رہے ہیں۔خاص طور پر سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن اور اُن کی اہلیہ و خاتونِ اوّل نینسی ریگن دونوں ہی ستاروں کی چالوں کی روشنی میں اپنے روزمرہ اُمور انجام دینے کے لیئے مشہور ومعروف تھے۔سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے ایک بار اخباری نمائندوں سے دورانِ گفتگو علم نجوم سے اپنے لگاؤ کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”جب میں کیلی فورنیا کا گورنر تھا تو میں مشہور نجومی کیرول رائٹر سے کئی طرح کے معاملات میں باقاعدگی کے ساتھ مشورہ کرتا تھا۔نیز میں سیاروں کے ترتیب کے مطابق اپنی مصروفیات کی منصوبہ بندی کرنے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتا۔لیکن میں نے وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد علم نجوم کو کبھی بھی اپنے پالیسی ساز فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دیا“۔

دراصل 1981 میں ایک دن نینسی ریگن کو کسی نامعلوم نجومی کی جانب سے ایک انتباہی خط موصول ہوا،جس میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ فلاں دن، فلاں مقام اور اور فلاں وقت پر اُن کے شوہر رونالڈ ریگن کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آسکتاہے۔سوئے اتفاق خط میں بتائے گئے دن واقعی ایک اجنبی شخص نے رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ مذکورہ واقعہ میں رونالڈ ریگن مکمل طور پر محفوظ و مامون رہے تھے۔ بہرحال اِس حادثہ کے بعد نینسی ریگن نے کئی ماہرین علم نجوم سے مستحکم روابط استوار کرلیئے اور وہ اپنے شوہر کے ایک ایک لمحہ کی سرگرمی کو ستاروں کے سعد و نحس کے پیمانے پر جانچنے لگیں۔ نینسی ریگن کے نقطہ نظر سے ہم اِسے ہم علم نجوم کا فیضان ہی قرار دیں گے کہ رونالڈ ریگن نے اپنا بقیہ دورِ صدارت ہی نہیں بلکہ زندگی بھی ہر طرح کے حادثات سے بحفاظت بسر کی۔

ازابیل پیرون کا ڈوبتاستارہ
عام طور پر صدر یا وزیراعظم کے منصب جلیلہ پر فائز ہونے والی شخصیات کی بیگمات خاتون اوّل کے طور پر ضرور اقتدار سے لطف اندوز ہوتی ہیں، لیکن ایسا تاریخ میں بہت کم یا کبھی شاذو نادر ہی ہوا ہوگا کہ کسی صدر یا وزیراعظم نے اپنی اہلیہ کو شریک اقتدار کر کے اپنی حکومت کی مکمل باگ دوڑ ہی خاتون ِ اوّل کے ہاتھوں میں تھمادی ہو۔ ایک ایسی ہی خوش قسمت خاتونِ اوّل، ازبیل پیرون بھی ہیں جنہیں ان کے شوہر جوآن پیرون نے ارجنٹائن کا نائب صدر بنا دیا تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ جب 1973 میں جوآن پیرون، ارجنٹائن کے کمانڈر انچیف منتخب ہوئے تو اُن کے خاندانی جادوگر، جوزلوپیزریگا نے اُنہیں بتایا کہ اگر جلد ازجلد خاتون اوّل ازابیل پیرون کو ملک کا نائب صدر بنا کر تمام انتظامی اختیارات اُن کے سپرد نہیں کئے گئے تو عن قریب اُن کی حکومت کو ختم کردیا جائے گا۔ چونکہ جوآن پیرون سحری علوم پر بہت زیادہ اعتقاد رکھتے تھے۔ لہٰذا، انہوں نے فوری طور پر اپنی اہلیہ ازابیل پیرون کو نائب صدر مقرر کر کے پورے ملک کے انتظامی معاملات اُن کے حوالے کردیئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ازابیل پیرون نے نائب صدر بننے کے بعد سماجی بہبود کے وزیر کا عہدہ جادوگر جوزلوپیزریگا،کے حوالے کردیا۔ بظاہر ریگا ایک وزیر تھا لیکن حقیقت میں ملک کا اصل اقتدار اعلیٰ اُس کے ”دستِ نجوم“ میں ہی تھا۔ کیونکہ ازابیل پیرون معمولی سے معمولی انتظامی اقدام بھی ریگا کی مشاورت اور مرضی کے برخلاف نہیں کرتی تھی۔ جبکہ جادوگر جوزلوپیز ریگا،جسے حکومتی و سیاسی معاملات کا ذرہ برابر بھی ادراک نہیں تھا،وہ انتظامی احکامات کو ستاروں اور زائچہ سے ہم آہنگ کرنے میں کئی کئی دن ضائع کر دیتاہے۔ جس کا بدیہی نتیجہ یہ نکلا کہ تمام کاروبارِ حکومت مکمل طور پر معطل ہوکر رہ گیا، حکومتی وزرا ء میں بددلی پھیلنے لگی اور بروقت حکومتی فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے ارجنٹائن میں ہر روز نت نئے معاشی بحران سر اُٹھانے لگے۔ جبکہ سیاسی بدامنی اور انارکی وجہ سے عوام بھی حکومت سے سخت متنفر ہوگئے۔ اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیئے ازبیل پیرون نے ریگا کی مشاورت سے ارجنٹائن اینٹی کمیونسٹ الائنس تشکیل دیا، جودراصل ایک ڈیتھ اسکواڈ تھا۔ بہرکیف سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے کچھ خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا اور 1976 یعنی صرف تین سال کی مختصر مدت میں ازابیل پیرون کی حکومت کا خاتمہ کر کے اُنہیں اور اُن کے شوہر کو گرفتار کرلیا گیا۔جبکہ جادوگر جوزلوپیزریگا، سپین فرار ہوگیا۔ آج تک ارجنٹائن میں مذکورہ واقعہ کو علم نجوم کی بدنام زمانہ ناکامیوں میں سے ایک سمجھا جاتاہے اور ازابیل پیرون کو ملکی تاریخ کی سب سے نااہل حکمران کے طور یاد کیا جاتاہے۔

ایڈولف ہٹلر کے دوست ستارے
ابتداء میں ایڈولف ہٹلر کو تو علم فلکیات کے سحری خواص جاننے یا اِس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، لیکن اُس کے کچھ انتہائی قریبی ساتھی جادواور ستاروں کی غیر معمولی طاقت پر پختہ اعتقاد رکھتے تھے۔ اِس فہرست میں جوزف گوئبلز، مارشل ہینرک ہملر اور ڈپٹی فوہررروڈ ولف ہیس شامل تھے۔جو سیاسی و انتظامی فیصلے کرنے سے قبل علم نجوم سے رہنمائی طلب کرنے کے زبردست حامی تھے۔کہا جاتاہے کہ پروپیگنڈہ کے وزیر جوزف گوئبلز نے ملک بھر میں جنگ کا بیانیہ بنانے اور ہٹلر کو خدائی خدمت گار ثابت کرنے کے لیئے نجومیوں کی ایک پوری فوج کو ملازمت پر رکھا ہوا تھا۔ تاہم گوئبلز نے ماہرین علم نجوم کو نازی حکومت کے عروج کی من مانی تشریح یا ہٹلر کے متعلق مرضی کی پیش گوئیاں کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔ یعنی ماہرین علم نجوم زائچہ بناکر استخراج شدہ پیش گوئیوں کو نازی حکومت کے سامنے پیش کردیتے تھے۔بعدازاں اِن پیش گوئیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد پیش گوئیاں کا عوام میں پرچار کرنے کی اجازت دی جاتی تھی اور صرف حکام بالا کی طرف سے منظور شدہ پیش گوئیاں ہی ملک بھر میں پھیلائی جاتی تھیں۔ ایک بار ہٹلر کا انتہائی قریبی مصاحب، بینیٹو مسولینی دوسری جنگ عظیم کے دوران لاپتہ ہوگیا تھا۔ مسولینی کی تلاش کے لیئے جادوگر اور نجومیوں سے رابطہ کیا گیا اور جب مسولینی کا سراغ لیا گیا تو اِس کا تمام تر سہرا نجومیوں کے سر پر باندھ دیا گیا۔ حالانکہ مسولینی کو تلاش کرنے میں کلیدی کردار اُن نازی سپاہیوں کا تھا،جنہوں نے ریڈیو کوڈ ز، کو ڈی کوڈ کرکے مسولینی کے جائے مقام کا سراغ لگایا تھا۔

مذکوہ واقعہ کے بعد ایڈولف ہٹلر بھی علم نجوم کی حقانیت پر ایمان لے آئے،مگر افسوس اُن کی یہ خوش اعتقادی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔دراصل 1941 میں ہٹلر کے انتہائی قریبی ساتھ ہیس نے نجومیوں کے مشورے کے مطابق ستارہ یورنس اور نیپچون کی ایک سیدھ میں آنے کے وقت کو سعد ساعت قرار دیتے ہوئے ہٹلر کو قائل کیا کہ یہ برطانیہ کے ساتھ اَمن مذاکرات کرنے کے لیئے انتہائی موزوں ترین وقت ہوگا۔ ہٹلر نے ہیس کو مذاکرات کے لیئے برطانیہ جانے کی اجازت دی دے۔ مگر بدقسمتی سے سفر کے دوران ہیس کا طیارہ سکاٹ لینڈ میں گر کر تباہ ہوگیا،جبکہ ہیس کو برطانیہ میں بغیر اجازت داخل ہونے پر گرفتار کر کے زندان میں ڈال دیا گیا۔ اِس حادثہ نے ہٹلر کو سخت صدمہ پہنچایا اور علم نجوم پر اس کے اعتقاد متزلزل ہوگیااور 1944 میں فوہرر نے ہٹلر کے ایک حکم پر ملک کے تمام نجومیوں کو گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بھیج دیا،جہاں اُن میں سے اکثر کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔علاوہ ازیں ہٹلر نے علم نجوم پر لکھی ہوئی تمام کتابوں کا سرعام نذرِ آتش بھی کروادیا تھا۔ جرمنی میں بعض لوگ آج بھی ایڈولف ہٹلر کی جنگی ناکامیابی کا حقیقی ذمہ دار جادوگروں اور نجومیوں کو قرار دیتے ہیں۔

اندرا گاندھی کا علم نجوم پریقین
ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں ضعیف الاعتقادی اور اوہام پرستی کو مذہب کا درجہ حاصل ہے اور وہاں شاید ہی کسی سیاسی رہنما یا حکم ران کے بارے میں ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں وہ اپنی سیاسی کامیابیوں کے لیئے جھاڑ پھونک، جادو ٹونااور جنم پتری سے استعانت طلب نہ کرتاہوگا۔ مگر توہم پرستی میں جو عالمگیر شہرت ہندوستان کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کی حصہ میں آئی،وہ حقیقی معنوں میں ضرب المثل ہے۔ اندرا گاندھی اپنی زندگی کا کوئی بھی اہم ترین فیصلہ کرنے سے قبل نجومیوں سے مشورہ لازمی کرتی تھیں اوروہ ایسا خفیہ طور پر نہیں بلکہ کھلے عام کیا کرتی تھیں۔ شاید اُن کی اِسی بے احتیاطی نے اُنہیں توہم پرست حکم ران کے طور پر دنیا بھر میں مشہور کردیا تھا۔

یاد رہے کہ اندرا گاندھی معمولی سے معمولی کام کرنے لیئے بھی سعد و نحس ساعتوں کو مدنظر رکھتی تھیں۔ مثال کے طور پر اندراگاندھی نے انتخابات کے لیئے اپنے کاغذات نامزدگی بھی عین 12 بج کر 30 منٹ پر جمع کروائے تھے۔جبکہ انہوں نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنی حلف برداری کی تقریب کو ساز گار وقت کے انتظار میں کئی دنوں تک ملتوی کردیا تھا۔ بہر حال ایک بات جس کا اکثر لوگ اعتراف کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اندرا گاندھی کے اردگرد رہنے والے نجومیوں کی اکثر پیش گوئیاں بالکل درست ثابت ہوئیں۔ مثلاً نجومیوں نے 1980 میں اُن کے بیٹے کی موت کی بالکل درست پیش گوئی کی تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 1981 میں ایک غیر معروف ہندو اخبار نے اندراگاندھی کے قتل کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کو سرِ عام قتل کردیا جائے گا۔ مذکورہ پیش گوئی کی اشاعت کے بعد ہندوستان کی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی کو نجومی سے پوچھ گچھ کے احکامات جاری کردیئے گئے تھے۔ جس کے بعد نجومی کو گرفتار کرکے کئی دنوں تک تحقیقات کی جاتی رہی تھیں۔ اندرا گاندھی کے حوالے اُن کے سوانح نگاروں نے یہ لکھا ہے کہ اُنہیں اپنے قتل کیئے جانے کی پیش گوئی پر زندگی کے آخری وقت تک کامل یقین تھا۔ بہرحال اندراگاندھی کا ندیشہ اور نجومی کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور اُنہیں اکتوبر 1984 میں اُن کے اپنے ہی محافظوں نے قتل کردیا تھا۔

فرانکوئس میٹرینڈ،کے سیاسی زائچے
چند برس قبل فرانس کے سابق صدر،فرانکوئس میٹرینڈ کی معروف ستارہ شناس ایلزبتھ ٹیسیئر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی ٹیپ ریکارڈنگ جاری کی گئی تھی۔جس میں سابق فرانسیسی صدر خلیجی جنگ اور اقتدار کی کشمکش جیسے مختلف مسائل پر ستاروں سے رہنمائی طلب کرتے سنائی دے رہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ گفتگو فرانسیسی ماہر علم نجوم ایلزبتھ ٹیسیئر نے نے اس دعوی کے ساتھ فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں جاری کی تھی کہ فرانکوئس میٹرینڈ،نے نہ صرف یہ گفتگو اپنی مرضی و منشا سے ریکارڈ کروائی تھی بلکہ اُنہیں اجازت دی تھی کہ اُن کی موت کے بعد وہ یہ گفتگو جب چاہیں وہ عام بھی کرسکتی ہیں۔ نیز ایلزبتھ ٹیسیئر کا یہ بھی کہنا تھا کہ”سابق فرانسیسی صدر 1989 سے لے کر تادم مرگ ہر اہم کام کرنے سے پہلے اُن سے سعد و نحس اوقات کے بارے میں ضرور دریافت کرتے تھے۔نیز انہوں نے مجھے 1991 کے بعد سے ہمارے درمیان ہونے ہر گفتگو کو ریکارڈ کرنے کی خصوصی تاکید کی تھی“۔منظر عام پر آنے والی ایک بات چیت میں، 9 جنوری 1991 کو فرانکوئس میٹرینڈ، ٹیسیئر کو فون پر کہہ رہے ہیں کہ ”امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر اور عراقی وزیر خارجہ طارق عزیز خلیجی جنگ کے بارے میں مجھ سے رابطہ میں اور میں نے انہیں ہولڈ کروایا ہوا ہے، جلد ی سے تم مجھے رواں ماہ کی سعد تاریخیں بتاؤ تاکہ میں خلیجی جنگ کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ لے سکوں“۔

ایک اور گفتگو میں 23 جنوری 1991 کو، ٹیسیئر سابق فرانسیسی صدر کو مشورہ دے رہی ہیں کہ سمندر سے منسوب ہر شئے سے دور رہیں۔یعنی نہ تو سمندری خوراک کھائیں اور نہ سمندر کے پاس جائیں۔حتی کہ ایسا سفر بھی نہ کریں جس میں آپ کے جہاز کو سمندر کے اُوپر سے پرواز کرنا پڑے۔جواب میں فرانکوئس میٹرینڈ، یقین دلاتے ہیں کہ وہ تما م ہدایات پر سختی سے عمل کریں گے۔جبکہ ایک دوسری گفتگو میں فرانسیسی صدر،ٹیسیئر سے کہہ رہے ہیں کہ ”مجھے جلد ہی خلیجی جنگ کی پیش رفت کے بارے میں ایک تقریر کرنی ہے۔میری رہنمائی کرو کہ مجھے یہ تقریر کس تاریخ،دن یا وقت پر کرنا بہتر ہوگی؟۔اور تم نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ کسی بھی مہینے کی 7 تاریخ کو گاڑی استعمال نہ کروں۔ کیا اس بات کی پابندی اَب بھی کرنا ہوگی؟ یا وہ بُرا وقت گزرچکا ہے؟“۔ یاد رہے کہ فرانکوئس میٹرینڈ،عہدہ صدارت چھوڑنے کے صرف چند ماہ بعد ہی 8 جنوری 1996 کو کینسر کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 28 مئی 2023 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں