Imran Khan in Jail

کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے

ویسے تو من حیث القوم ہم نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار مختلف اسیر رہنماؤں کی جانب سے لگائے گئے انقلابی،مذہبی،لسانی اور سیاسی نعروں کا شکار ہوکر اَن گنت سیاسی دھوکے کھائے ہیں مگر جتنا بڑا سیاسی فراڈبے چاری عوام نے 2018 کے انتخابات میں عمران خان کے تبدیلی کے نعرہ پر یقین کر کے کھایا ہے۔ یقینا پاکستان کی سادہ لوح عوام اِتنے بھیانک سیاسی فریب میں گزشتہ 76 برسوں میں شاید ہی کبھی مبتلا ہوئی ہوگی۔عمران خان جو پرانے پاکستان کو نئے پاکستان میں تبدیل کرنے کے مسحور کن اور دل فریب نعرہ کے ساتھ اقتدار کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہوئے تھے۔ شومئی قسمت کہ عمران خان نے اپنی پریشان خیالی سے آڑھا ترچھا، نیا پاکستان بناتے بناتے عوام سے وہ بنیادی سہولیات اورمعاشی آسانیاں بھی چھین لیں جو عام لوگوں کو پرانے پاکستان میں کسی نہ کسی درجے میں کسی نہ کسی صورت میں حاصل ہوجاتی تھیں۔عمران خان کے ساڑھے تین سالہ تاریک ترین دورِ قتدار میں پے درپے رونما ہونے والے بدانتظامی کے شرم ناک واقعات، بدعنوانی کے انہونے سانحات اور تیر تُکے کی بنیاد پر بنائی جانے والی بے ربط معاشی پالیسیوں نے پہلے سے زبوں حال معیشت کو سہارا دینے کے بجائے اُلٹا ملکی معیشت کے پورے ڈھانچہ کو ہی زمین بوس کردیا۔جس کی وجہ سے اُن کے اپنے دورِ اقتدار میں ہی لفظ ”تبدیلی“ ایک طنزیہ طعنے اور گالی کے طور پر ملک کے گلی کوچوں میں گونجنے لگاتھا۔

آج آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی کی جن منہ زور لہر وں نے ملک کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے دل و دماغ کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ ہوش رُبا گرانی کے اِس طوفانِ بلا خیز کو خوف ناک سونامی میں بدلنے کی تمام تر ذمہ داری عمران خان کی ناقص معاشی پالیسیوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ چونکہ بیرونی ایجنڈے کے تحت عمران خان کو اقتدار کی راہ داریوں تک پہنچایا ہی صرف اِس لیئے گیا تھا کہ وہ پاکستانی سماج میں سیاسی،سماجی اور طبقاتی نفرت کے بیج بو کر معاشرے کو انارکی اور افراتفریح کی نذر کرسکے۔ لہٰذا، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بڑی بے آبروئی کے ساتھ بے دخل کیئے جانے کے بعد بھی موصوف کا اصل مطمع نظر صرف یہ ہی رہا کہ کسی بھی طرح پاکستان کو دیوالیہ معیشت قرار دلوایا جاسکے۔ مگر جب تمام تر جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد احتجاجی لانگ مارچ،جلسے جلوسوں کے باوجود بھی عمران خان کی یہ مذموم تمنا پوری نہ ہوسکی تو انہوں نے 9 مئی کو انتہائی منظم اور سوچے سمجھے منصوبہ کے مطابق ریاستی اداروں پر حملہ آور ہوکر عالمی برادری کی نگاہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے متعارف کروانے کے لیئے اپنے فدائیوں سے بڑا ہی کاری وار کروایا۔ جسے ملکی سالمیت کے ذمہ دار ریاستی اداروں نے نہ صرف انتہائی صبرو تحمل کے ساتھ بروقت اور ضروری کارروائی کرکے ناکام بنایا بلکہ اِس منصوبہ کے حقیقی ماسٹر مائنڈ اور اُس کے بیرونی آقاؤں کو بھی اپنے ہی زخم چاٹنے پر مجبور بھی کردیا۔

بظاہر عمران خان اپنی تخریبی اور فتنہ پرور سیاست کی پاداش میں اٹک جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاپہنچے ہیں اور اُن کی معاشرہ میں نفرت پھیلانے کی صلاحیت کو بھی کافی حد تک کمزور اوربے اثر ضرور کیا جاچکاہے،لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اُن کی تخریبی قوت کا ابھی تک مکمل طور پر خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے۔جس کا سب سے بڑا ثبوت بٹگرام چیئر لفٹ حادثہ کے الم ناک موقع پر اُن کے پیروکاروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم انداز میں منفی پروپیگنڈا مہم چلانا ہے۔ دراصل عمران خان کو ضرور جیل کے اندر عضو معطل بنادیے گیا ہے مگر اُن کا22 برسوں میں بڑی محنت سے تشکیل دیا گیا تخریبی نیٹ ورک ابھی بھی پوری طرح سے فعال ہے اوربہت سی اندرونی اور بیرونی قوتیں اُنہیں جیل سے رہائی دلواکر ایک بار پھر سے ملک کو عدم استحکام اور افراتفریح کی راہ پر ڈالنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان کی رہائی توشہ خانہ بدعنوانی کیس میں ملوث فقط ایک سزایافتہ قیدی کی رہائی کا سیدھا سادامعاملہ نہیں ہے۔ بلکہ قیدی نمبر 804 کوجلد از جلد رہا کروانا ملک دشمن بیرونی قوتوں کی فتح اور یاستِ پاکستان کی شکست کی جانب بڑھنے والا وہ پہلا قدم ہوگا۔جسے بروئے کار لاکر ایک بار پھر سے وطن ِ عزیز کی سیاسی فضا کو نفرت آمیز کیا جائے گا۔ یہاں مسئلہ فقط یہ ہی نہیں ہے کہ توشہ خانہ کیس میں سنائی گئی سزا پر عدالت عالیہ سے عارضی ضمانت کاایک قانونی پروانہ حاصل کرکے توشہ خانہ مقدمہ کے فیصلہ کے خلاف بھرپور قانونی جنگ کا آغاز کیا جائے۔بلکہ عمران خان کی رہائی سے اُن کے اندرونی و بیرونی سہولت کاروں کا اصل مطمع نظر عمران خان کو جیل سے باہرنکلوا کر اُن کے دستِ نامبارک سے ملک میں تخریبی سیاست کے اگلے خطرناک مرحلے کا آغاز کروانا ہے۔ لہٰذا، ہماری دانست میں توشہ خانہ کیس میں ضمانت کاآئینی حکم نامہ ملنے کے بعد کسی دوسرے مقدمہ میں عمران خان کو گرفتار کرکے رکھنا نگران حکومت کے لیئے ناممکن تو نہیں مگر بہر حال مشکل ترین ہدف ضرور ہوگا۔ کیونکہ ”گُڈ تو سی یو“کا ٹریڈ مارک کے جملہ حقوق رکھنے والوں کی بھرپور کوشش ہوگی کہ وہ عمران خان کو توشہ خانہ مقدمہ میں ایک ایسی ”بلینک رہائی“ سے سرفراز فرمائیں،جس کے بعد اُنہیں جیل کے سلاخوں کے پیچھے رکھنا حکومت ِ وقت کے لیئے ناممکن ہوجائے۔

دوسری جانب ریاست کے عزائم بھی اظہر من الشمس ہیں اور ملکی سالمیت کے ذمہ دار طاقت ور حلقے کسی بھی قیمت پر قیدی نمبر 804 کو جیل سے آزاد ہونے کے بعد پرانے گُل کھلانے کا کوئی ادنی سا بھی موقع نہیں دینا چاہتے۔ بظاہر عمران خان کے اندرونی و بیرونی سہولت کاروں کے پاس 16 دنوں کا سنہری موقع دستیاب ہے۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مقررہ ایام میں عمران خان اسیری کو مستقل رہائی میں تبدیل کروا پاتے ہیں یا نہیں؟۔ یعنی اسیری اور رہائی کے جاری کھیل کا حتمی نتیجہ ہی وطن ِ عزیز پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 29 اگست 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں