PTI

پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن یا سلیکشن؟

جس طرح کاروبارِ زیست میں غلط وقت پر غلط کام کرنا باعثِ ننگ و عار سمجھا جاتا ہے، بالکل اِسی مصداق سیاست کی لغت میں غلط وقت پر صحیح کام کرنا بھی غلط کام ہی کی ذیل میں شمار کیا جاتا ہے اوراِس کے سیاسی نتائج و عواقب بھی کبھی بہت اچھے برآمد نہیں ہوتے۔ پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات میں بیرسٹر گوہر خان کا بطور پارٹی چیئرمین بلامقابلہ منتخب ہونے کو بھی یقینا کچھ اسی قسم کا اچھا کام کہا جاسکتا ہے جسے انتہائی بُرے وقت پر انجام دیا گیا ہے۔ اگر یہ ہی کارِ خیر سانحہ 9 مئی کے فوراً بعد انجام دے دیا جاتاتو شاید اُس وقت اِس نوعیت کا کیا گیا کوئی بھی غیر معمولی اقدام پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کے لیئے نہ صرف انتہائی مثبت نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا تھا بلکہ عین ممکن ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان تحریک انصاف بطو رایک سیاسی جماعت شکست و ریخت کی جس الم ناک بحرانی کیفیت سے گزری ہے اُس سے بھی کافی حد بچ سکتی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سانحہ 9 مئی کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت کی جانب سے عمران خان کو یہ صائب تجویز، ایک بار نہیں بلکہ باربار دی جار ہی تھی کہ”حالات و واقعات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اُنہیں رضاکارانہ طور پر خود کو پارٹی کے جملہ معاملات سے مکمل طور پر علحیدہ کرلینا چاہیے اور اپنی جماعت کی قیادت کچھ مدت کے لیئے کسی دوسرے رہنما کے حوالے کر کے پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی وجود کو بچالینا چاہیے“۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض سینئر رہنما بھی یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر عمران خان وقتی طور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کسی دوسرے رہنما کو تفویض کر دیتے ہیں تو بگڑے ہوئے معاملات کو سنبھالا جاسکتاہے۔ نیز شاہ محمود قریشی سمیت کئی رہنماؤں نے اپنی دانست میں اِس تجویز پر عمران خان کو قائل کرنے کے لیئے بھرپور کوشش بھی کی تھی۔مگر اُس وقت یہ کہہ کر سب ناصحین کی زبان بندی کروادی گئی کہ ”عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے اور اُن کے بغیر پی ٹی آئی کا سرے سے تصور ہی نہیں کیا جاسکتا“۔لطیفہ ملاحظہ فرمائیں کہ عمران خان سے جو بات پی ٹی آئی کے بڑے بڑے رہنما نہ منوا سکے تھے، آج وہی بات چند ذہین وکیلوں نے اپنی قانونی موشگافیوں کے بل بوتے پر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ ملنے کا ڈراوا، دے کر عمران خان سے اتنی آسانی سے منوالی ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان بھی انگشت بدنداں حیرت سے سوچ رہے ہی کہ وہ اَب پارٹی چیئرمین کے عہدہ پر عمران خان کے بجائے بیرسٹر گوہر خان کو کیسے اور کیونکر گوارا کریں گے؟۔نیز پی ٹی آئی کے وہ پرانے اور مخلص رہنما جو ہر قسم کے نامساعد حالات میں پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اُن کے لیئے بھی بیرسٹر گوہر خان کو بطور پارٹی چیئرمین قبول کرنا ناممکن ہوگا۔جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی اپنی صفوں میں سے سوشل میڈیا پر پارٹی کے نئے چیئرمین کے خلاف عثمان بزدار پلس کی آوازے کَسے جارہے ہیں۔

جبکہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن کو لے کر ملکی ذرائع ابلاغ پر یہ نئی بحث بھی پورے شد و مد کے ساتھ شروع ہوچکی ہے کہ جس انداز میں مذکورہ انٹرا پارٹی الیکشن کروائے گئے ہیں کیا اِسے الیکشن کمیشن آف پاکستان قبول کرلے گا؟۔ کیونکہ کہا جارہاہے کہ الیکٹورل کالج مکمل نہیں تھا، PTI انٹرا پارٹی الیکشن کا تمام پراسیس مشکوک تھااور انٹرا پارٹی الیکشن کے لیئے نہ کا غذات نامزدگی چھپوائے گئے، نہ ووٹرز لسٹ تیار کی گئی۔نہ پر یزائیڈنگ افسر کا تقرر کیا گیا۔ نہ پولنگ ایجنٹ بنا نے کا کسی کو موقع دیا اور نہ ہی نامزد امیدواروں کے علاوہ کسی دوسرے اُمیدوار کو انتخاب لڑنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اپنے آئین کے تحت ایک منتخب نیشنل کونسل نے انٹراپارٹی الیکشن کروانا تھا مگر اس کا کوئی با ضابطہ اجلاس ہی سر ے سے منعقد نہیں ہوا۔نیز کا غذات نامزدگی نہ ویب سائٹ پر دستیاب تھے نہ ہی پارٹی کے مرکزی سیکر ٹریٹ میں موجود تھے۔پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابرکاغذات نامزدگی لینے اور ووٹرز لسٹ کیلئے پارٹی سیکر ٹیریٹ گئے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس نہ کاغذات نامزدگی ہیں اور نہ دیگر معلو مات ہیں۔ٹیکسلا کے بانی رکن رانا بلال‘ میا نوالی کے سعید اللہ نیازی اور صوابی کے یوسف علی بھی الیکشن لڑنے کے خو اہش مند تھے۔مگر اِن سب کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

حالانکہ پارٹی آئین میں درج مروجہ طریقہ کار کے مطابق سب سے پہلے امیدوار اپنے کا غذ ات نامز دگی جمع کرواتے ہیں۔پھر الیکشن کمشنر انہیں مسترد یا منظو ر کرتا ہے۔ بعد ازاں اعتراضات وصول کئے جاتے ہیں جس کے بعد حتمی فہرست جاری کی جا تی ہے اور آخر میں امیدوار وں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے یا کوئی امیدوار کسی دوسرے اُمیدوار کے حق میں مقابلہ سے دستبر دار ہوجاتا ہے۔ لیکن مذکورہ انٹراپارٹی الیکشن میں پارٹی آئین میں درج کسی ضابطہ پر عمل نہیں کیاگیااور نہ صرف بیرسٹر گوہر علی خان کو بلامقابلہ چیئر مین منتخب ہوگئے بلکہ دیگر تمام عہد یدار بھی بلا مقا بلہ منتخب قرار دیدیے گئے۔یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا ازحد ضروری ہے کہ ویسے تو پاکستان کی ہر سیاسی جماعت سوائے ایک جماعت اسلامی کے استثنا کے کچھ اِسی طرح کے بھونڈے انداز میں انٹرا پارٹی الیکشن کرواتی ہے، جیسے پی ٹی آئی نے کروائے ہیں۔مگر پاکستان تحریک انصاف کے لیئے سب سے بڑی مصیبت یا پریشانی کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے انٹراپارٹی الیکشن کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ اَب پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں صرف انٹراپارٹی الیکشن کروانے کی رپورٹ ہی پیش نہیں کرنا ہوگی۔ بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ یہ الیکشن جمہوری اور منصفانہ انداز میں انعقاد پذیر ہوئے تھے۔ اگر پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کی شفافیت کو ثابت نہ کرپائی تو پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان بیرسٹر گوہر علی خان کے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انٹراپارٹی الیکشن کروانے سمیت پارٹی سے بلے کا انتخابی نشان بھی واپس لے سکتاہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 دسمبر 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں