Football

فیفا فٹبال ورلڈکپ 2022

دنیا کے سب سے مقبول ترین کھیل فٹبال کا 22 واں عالمی میلہ اپنے پورے جوش و خروش کے ساتھ قطر میں جاری ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فیفا کی تاریخ کا یہ پہلا فٹبال ورلڈکپ ہے جو موسم سرما میں کھیلا جارہاہے۔ورنہ ماضی میں فٹبال ورلڈ کپ مقابلے ہمیشہ سے ماہ مئی،جون یاجولائی میں ہی منعقد ہوتے رہے ہیں۔ جبکہ ارجنٹائن میں منعقدہ 1978 کے فٹبال ورلڈکپ کے بعد یہ سب سے مختصر عالمی مقابلہ بھی ہے،جس کا کُل دورانیہ صرف 29 دن پر محیط ہے۔خلیج فارس کے چھوٹے سے جزیرہ نما ملک قطر میں جہاں لاکھوں شائقین فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے سنسنی خیز میچوں سے براہ راست لطف اندوز ہورہے ہیں، وہیں دنیا بھر کے کروڑوں سامعین اپنے اپنے ٹی وی اسکرین، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز پر اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھیلتے ہوئے بھی ملاحظہ کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ قطر فیفا فٹبال عالمی کپ کی میزبانی کرنے والا پہلا عرب اور مسلم ملک ہے۔ قطر نے 2010 میں امریکا اور جاپان کے مقابل فیفا کے 22 ایگزیکٹیو، اراکین کی بولی جیت کر ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کے حقوق حاصل کیئے تھے۔حیران کن بات یہ ہے کہ قطر فیفا ورلڈکپ کی میزبانی کا تاج اپنے سَر پر سجانے کے شوق میں اَب تک تقریباً 220،ارب امریکی ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جو کہ روس میں منعقد ہونے والے پچھلے فٹبال ورلڈکپ کی لاگت سے کم و بیش 20 گنا زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ 2018میں روس میں منعقد ہونے والے عالمی کپ میں 11 ارب 60 کروڑ ڈالر کے اخراجات آئے تھے۔ اس لیئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قطر میں منعقدہ حالیہ فٹبال ورلڈ کپ، اَب تک کا سب سے مہنگا عالمی ایونٹ ہے۔

حالیہ فیفا فٹبال ورلڈکپ ٹورنامنٹ پر غیر معمولی اخراجات ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قطر کے پاس نامزدگی سے قبل ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کی میزبانی کرنے کے لائق عالمی معیار کا ایک بھی اسٹیڈیم موجود نہیں تھا۔لہٰذا فیفا فٹبال ورلڈکپ کا انعقاد یقینی بنانے کے لیئے قطری حکومت کو عالمی کپ کے 64 میچوں کے لیے 9 سٹیڈیمزتعمیر کرنے پڑے۔جبکہ مذکورہ عالمی مقابلہ میں شرکت کرنے والی32 ٹیموں کے کھلاڑیوں، آفیشلز اور دنیا بھر سے براہ راست میچز کو دیکھنے کے لیئے آنے والے لاکھوں شائقین فٹبال کے لیئے جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک پورا نیا شہر بھی بسانا پڑاہے۔ جس میں عالمی معیار کے 100 سے زائد نئے ہوٹلز، ایک نئی میٹرو،تھیم پارکس،جدید ترین سب وے نیٹ ورک اور اَن گنت تفریحی مقامات شامل ہیں اور خاص بات تو یہ ہے کہ سب کچھ دارالحکومت دوحہ کے 55 کلومیٹر کی حدود کے دائرے میں واقع ہے۔

قطر ی حکومت نے اپنی میزبانی کو یادگار اور منفرد بنانے کے لیئے فیفا فٹبال عالمی کپ کے میچوں کے لیے ایک عارضی ا سٹیڈیم بھی تعمیر کیا ہے اور اس انتہائی انوکھے اور عجیب و غریب فٹبال ا سٹیڈیم کو’’اسٹیڈیم 974“ کا نام دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ 974 کا ہندسہ قطر کا بین الاقومی ٹیلی فون ڈائلنگ کوڈ بھی ہے۔”ا سٹیڈیم974“ بنیادی طور پر ری سائیکل شدہ مواد سے بنایا گیا ہے اور اس کی تعمیر میں زیادہ تعداد شپنگ کنٹینروں کو استعمال میں لایا گیا ہے۔ بلاشبہ ”اسٹیڈیم 947“ جدید تعمیراتی انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ قطری حکومت کا کہنا ہے کہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد جب اس منفرد ا سٹیڈیم کی ضرورت نہیں رہے گی تب اس عارضی اسٹیڈیم کو ختم کردیا جائے گا اور اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے تمام کنٹینرز جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے،اُنہیں ترقی پذیر ممالک کو عطیہ کردیا جائے گا۔یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کے اس پہلے عارضی سٹیڈیم میں تقریباً 40ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور یہاں عالمی ایونٹس کے 7 میچز کھیلے جائیں گے۔

فیفا فٹبال ورلڈکپ کی بیش قیمت ٹرافی
64 میچوں میں 32 ٹیموں کے 352 کھلاڑی جس ایک شئے کو اپنے ہاتھ میں تھامنے کے لئے ایک دوسرے سے کھیل کے میدان میں نبرد آزما نظر آرہے ہیں، وہ فیفا کی بیش قیمت ٹرافی ہے اور ایونٹ کے فائنل میچ میں کامیاب و کامران رہنے والے ملک کی ٹیم کو ورلڈ کپ ٹرافی ہی بطور انعام دی جائے گی۔یا درہے کہ فٹبال کی کہانی کی مانند فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کی داستان بھی انتہائی سحرانگیز اور دلچسپی سے بھرپور ہے۔ 1930 سے 1938 کے ورلڈکپ جیتنے والی ٹیموں کو جو ٹرافی دی گئی تھی اسے فرانس کے ڈیزائنر Abel Lafleurنے ڈیزائن کیا تھا جسے چاندی سے تیار کرکے اُس پر سونے کا پانی چڑھادیا گیا تھا۔ ابتداء میں فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی کو ایک دیومالا کردار، یونانی دیوی کے نام پر ”وکڑی“ کہا جاتاتھا۔مگر بعد ازاں اس ورلڈ کپ ٹرافی کا نام فیفا کے تیسرے صدر Jules Rimetسے موسوم کر دیا گیا۔ کیونکہ یہ ہی وہ موصوف ہیں جنہوں نے فٹبال ورلڈ کپ کروانے کا خیال سب سے پہلے دنیا بھر کے سامنے پیش کیا تھا۔حالیہ عالمی مقابلہ میں دی جانے والی ٹرافی 1974 کے ورلڈ کپ کے لیئے ڈیزائن کردہ فیفا ٹرافی کے ہو بہو عین مطابق ہے، جسے اٹلی کے مشہور و معروف ڈیزائنر Silvio Gazzanigaنے تیار کیا تھا۔یہ فیفا ٹرافی 2038 کے ٹورنامنٹ تک فاتح ٹیموں کو دی جائے گی اور اس کے بعد فیفا ٹرافی کے لیئے کوئی دوسرا نیا ڈیزائن متعارف کرایا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتداء میں فٹبال ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو اصلی فیفا ٹرافی دی جاتی تھی اور ٹورنامنٹ جیتنے والی ٹیم اصلی ٹرافی کو اپنے ساتھ اپنے ملک بھی لے جاتی تھی۔ مگر اب فیفا کی جانب سے فاتح ٹیم کو نقلی ٹرافی،جو کانسی سے بنی اورجس پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے، دی جاتی ہے۔ جبکہ اصلی ٹرافی فیفا کے ورلڈکپ فٹبال میوزیم میں یادگار کے طور پر ر کھ دی جاتی ہے اور اِسے صرف کسی خصوصی موقع پرہی میوزیم سے باہر نکالا جاتا ہے۔فاتح ٹیم کو اصل ٹرافی کی جگہ نقل ٹرافی دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فیٖفا ورلڈکپ ٹرافی ماضی میں کئی بار چوری یا گم ہوچکی ہے۔ مثلاً برطانیہ میں ہونے والے 1966 کے ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا ٹرافی کو ایک عوامی نمائش کے دوران چوری کرلیا گیا جس کو بعد میں اِسے ڈھونڈ لیا گیاتھا۔جبکہ1970 میں ایک بار پھر اصلی Jules Rimet ٹرافی کو چرا لیا گیا تھا جو پھر کبھی نہ مل سکی۔ جس کے باعث اس وقت ورلڈکپ کی فاتح ٹیم برازیل کو ٹرافی کی نقل دے دی گئی تھی۔ بہر کیف فیفا کی اصل ٹرافی فاتح ٹیم کو بھلے ہی نہ ملے مگر ایک بات طے ہے کہ فیفا ٹرافی ہوتی بہت بیش قیمت ہے۔ فیفا ٹرافی 18 قیراط سونے سے تیار کی جاتی ہے۔ جس کا وزن 6 کلوگرام ہوتا ہے اور اس کا 75 فیصد حصہ سونے پر مشتمل ہوتا ہے۔اس ٹرافی کی شبیہ میں 2 انسان دنیا کو اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جب 1974 میں فیٖفا ٹرافی پہلی بار تیار کی گئی تھی تو اس کی لاگت 50 ہزار ڈالرز کے قریب آئی تھی مگر موجودہ ورلڈ کپ ایونٹ کی ٹرافی 2 کروڑ ڈالرز (4 ارب 44 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) مالیت کی ہے۔فیفا ٹرافی دنیائے کھیل کی سب سے مہنگی ٹرافی ہے اور اَب تک 8 ممالک کی فٹبال ٹیمیں اِسے نام کرچکی ہیں۔ جن میں برازیل (5 بار)، جرمنی (4 بار)، اٹلی (4 بار)، ارجنٹینا (2 بار)، فرانس (2 بار)، یورو گوئے (2 بار)، انگلینڈ (ایک بار) اور اسپین (ایک بار) شامل ہیں۔

فٹبال اس بار بھی پاکستانی ہی ہے
ایشیئن فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کا واحد رکن پاکستان ہی ایسا ملک ہے، جس نے آج تک کبھی بھی فیفا فٹبال ورلڈکپ کھیلنے کے لیئے کوالیفائی نہیں کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب پاکستانیوں کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ فیفا فٹبال ورلڈکپ میں مسلسل تیسری بار پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کی گئی فٹبال بطور آفیشل فٹبال کھیلنے کے لیئے استعمال کی جاررہی ہے۔یعنی اِس وقت ساری دنیا کے شائقینِ فٹبال، اپنی نظریں جس اچھلتی،کودتی،ہوا میں گھومتی ہوئی فٹبال پرجماکر بیٹھے ہوئے ہیں، وہ فیفا فٹبال سیالکوٹ شہر میں تیار ہونے والی ”الریحلہ“ ہے۔ واضح رہے ”الریحلہ“ جس کے عربی زبان میں معنی ”سفر“ کے ہیں۔فیفا فٹبال کا آفیشل نام ہے اور یہ خوب صورت فٹبال قطری ثقافت کے رنگوں سے مزین 20 دلکش پینلز یا ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فیفا فٹبال ”الریحلہ“ کو مکمل ماحول دوست بنانے کے لیئے اس کی تیاری میں پہلی بار ری سائیکل اور بائیو بیس نیچرل میٹریل استعمال کیا گیا ہے۔ تاکہ ”الریحلہ“ فٹبال بعد از استعمال کسی بھی قسم کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث نہ بن سکے۔

فیفا فٹبال ورلڈکپ،پاک فوج کے حفاظتی حصار میں ہے
قطر میں جاری فیفا فٹبال ورلڈ کپ اِس لحاظ سے بھی دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ ہے کہ اس میں 20 نومبر سے 18 دسمبر تک ہونے والے مقابلوں میں 10 لاکھ سے زائد بیرونی دنیاکے شائقین فٹبال کے شرکت کرنے کا تخمینہ لگا یا گیا ہے۔لہٰذا، قطر جیسے کم آبادی والے خلیجی ملک کے لیئے عوامی شرکت کے اعتبار سے اتنے غیر معمولی ایونٹ کی حفاظت کے لیئے ایک انتہائی غیر معمولی اور پیشہ وارانہ فوج کی خدمات حاصل کرنا بالکل ایک لازمی اَمر تھا۔ یقینا قطری حکومت اور فیفا سیکورٹی ٹیم نے اپنے تئیں 22 ویں عالمی مقابلہ کی فول پروف سیکورٹی کے لیئے ہر ملک کی پیشہ ورانہ فوج کی صلاحیتوں کا بغور ناقدانہ جائزہ ضرور لیا ہوگا۔ مگر آخر کار، اس بھاری ذمہ داری کا کوہ گراں اُٹھانے کے لیئے جس ملک کی بہادر سپاہ کو منتخب کرنے پر سب متفق پائے گئے، وہ ہماری پاک فوج تھی اور یوں قطر میں منعقد ہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ کوفول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کا قرعہ فال عساکر پاکستان کے نام نکل آیا۔ بظاہر فرانس، اردن، ترکی، برطانیہ اور امریکا سمیت 13 دیگر ممالک کی پولیس فورسز اور سیکورٹی کنٹریکٹرز بھی فٹبال ورلڈکپ کے مقابلوں کو محفوظ بنانے کے لیئے قطری حکومت کو اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے 4500 سے زیادہ فوجی قطر میں فیفا فٹبال ورلڈکپ کے تما م تر حفاظتی انتظامات کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ جبکہ بقایا ممالک کا سیکورٹی عملہ صرف قطری حکومت کی تیکنیکی معاونت پر مامور ہے یاپھر اُنہیں فیفا ورلڈکپ کے دوران مخصوص اہداف کی ادائی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر فیفا ورلڈ کپ کے دوران فسادات سے نمٹنے کے لیئے خصوصی ترک پولیس کی تقریباً 3 ہزار ترک پولیس پر مشتمل نفری کو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔

جُوا، ورلڈکپ اور جواری
بدقسمتی سے دنیا بھر میں فیفا فٹبال ورلڈ کپ پر جواریوں، سٹہ بازوں کا عالمی ایونٹ ہونے کی پھبتی بھی کَسی جاتی ہے۔ کیونکہ ہمیشہ سے ہی فٹبال ورلڈکپ کے ہرایونٹ میں ہر میچ پر سٹہ باز اور جواری لاکھوں،کروڑوں ڈالرز کا سٹہ لگاتے رہے ہیں۔ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ جواری اور سٹہ باز مافیا، فیفا فٹبال ورلڈکپ کے اہم ترین میچوں کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی بھی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ سٹہ بازی اور جوا،فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے دلکش چہرہ پر ایک ایسے بدنما داغ کی مانند ہے،جس کے باعث اکثر اِس عالمی ایونٹ کی نیک نامی متنازعہ بن جاتی ہے۔ ماہرین کی جانب سے قطر میں منعقدہ حالیہ ورلڈ کپ میچز پر مجموعی طور پر 100 ملین ڈالرز کا جُوا کھیلنے اور اہم میچز پر فکسنگ کر کے غیر متوقع نتائج حاصل کرنے کے امکانات ظاہر کیئے جارہے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ فیفا نے عالمی ایونٹ کی دل کشی کوسٹہ بازی کے الزام سے گہنانے اور میچز میں فکسنگ کے بروقت انسداد کے لیئے اپنے خزانے کے منہ کھول دیے ہیں۔

فیفا کی تاریخ میں پہلی بار میچ فکسنگ کو روکنے کے لیئے اسپورٹس ریڈار، انٹرپول، ایف بی آئی اور انٹرنیشنل بیٹنگ اینٹیگریٹی ایسوی ایشن کے باہمی اشتراک سے ورلڈ کپ کے ہر میچ اور سٹہ مارکیٹ پر نظر رکھنے کے لیئے ایک غیر معمولی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔ مذکورہ ٹاسک فورس پورے ایونٹ کا کرپشن فری انعقاد یقینی بنانے کے لیئے فیفا حکام کو فکسنگ کے ممکنہ خدشات سے پیشگی چوکنا کرنے کے لیئے اطلاعات و معلومات فراہم کرے گی۔ جبکہ ایونٹ کے دوران فیفا کو عالمی شہرت یافتہ اسپورٹس ڈیٹا اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی ”اسپورٹس ریڈار“کی معاونت بھی حاصل ہے۔یہ کمپنی دنیائے انٹرنیٹ پر سٹہ بازی اور جوئے میں سرگرم 600 بک میکرز کے 30 بلین ڈیٹا پر نگاہیں رکھے گی۔ تاکہ انٹرنیٹ پر ہونے والی سٹہ بازی ایونٹ کے کسی میچ کے نتیجہ کو متاثر نہ کرسکے۔

علاوہ ازیں ورلڈکپ کے ہر میچ میں ہونے والے گول ہونے سے لے کر یلو کارڈز دکھانے تک کسی بھی خلاف معمول سرگرمی کی فوری نشاندہی کرنے کے لیئے اسپورٹس ریڈار نے انسداد دہشت گردی، فراڈ، ملٹری ڈیفنس کا تجربہ رکھنے والے 35اینٹیلی جنس آفیسرز بھی بھرتی کیے ہیں۔دوسری جانب فٹبال ورلڈکپ میں شریک تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں اور ریفریز کو فیفا نے خصوصی ورکشاپس میں فکسنگ کے خطرات سے آگاہی فراہم کرنے کے لیئے تربیت بھی فراہم کردی گئی ہے کہ ایک کھلاڑی،ریفری یا میچ آفیشل کسی بھی مشکوک رابطے پر فوری طور پر متعلقہ حکام کو کس طرح آگاہ کرسکتاہے۔غالب امکان یہ ہے کہ اتنی زیادہ تیاریوں کے بعد فیفا ورلڈکپ کا ایونٹ سٹہ بازی اور جوئے کے بد اثرات سے 100 فیصد نہیں تو کم ازکم 80 فیصد تک ضرور محفوظ و مامون رہے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 04 دسمبر 2022 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں