ICC-t20-Cricket-World-Cup-India-vs-Pakistan

ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا عالمی ایونٹ بھی بھارتی انتہاپسندی کی زد میں

حالیہ دنوں متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والاآئی سی سی، ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ کے ایونٹ کو اُس نوعیت کا عالمی مقابلہ تو ہرگز نہیں قرار دیا جاسکتا،جیسی غیر معمولی نوعیت فٹبال ورلڈکپ کے بین الاقوامی ایونٹ کی ہوتی ہے۔ کیونکہ فٹبال ورلڈکپ میں دنیا کے سات براعظموں کی 50 سے زائد ممالک کی فٹبال ٹیمیں بیک وقت ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے کے لیئے میدان میں اُترتی ہیں۔ نیز فٹبال کے تاریخ ساز عالمی ایونٹ میں امریکا،چین، روس، جاپان جیسی ماضی، حال اور مستقبل کی عالمی طاقتیں بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتی ہیں۔

لہٰذا اگر ساری دنیا کے نزدیک فقط فٹبال ورلڈ کپ ہی کھیل کے عالمی مقابلے کی تعریف پر پورا اُترتاہے تو یہ عین قرین قیاس ہے۔ دوسری جانب فٹبال ورلڈ کپ کے برعکس کرکٹ کا ورلڈ کپ ایک دو براعظموں کی فقط ایک درجن ممالک کی کرکٹ ٹیموں پر ہی مشتمل ہوتاہے۔ لیکن اِن سب حقائق کے باوجود چونکہ بھارت اور پاکستان کی تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی کے نزدیک کرکٹ ورلڈ کپ ہی حقیقی کھیل کے عالمی مقابلہ کی تعریف پر اُترتاہے۔ اس لیئے آج کل کرکٹ بخار کی جو حدت اور تپش ایشیا بھر میں محسوس کی جارہی ہے،اُس کی کچھ نہ کچھ گرمی عالمی ذرائع ابلاغ کی پیشانی پر بھی ہلکے،ہلکے پسینے کی صورت میں صاف ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔جس کا اوّلین اور واضح ثبوت کرکٹ ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی میں ہونے والے پاک بھارت میچ کی غیر معمولی میڈیا کوریج سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے۔

کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ متحدہ عرب امارات میں آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد کی خبر تو عالمی ذرائع ابلاغ میں کہیں جگہ نہ بناسکی لیکن جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے کرکٹ میچ کا آخری نتیجہ پاکستان کی حیران کن اور غیر متوقع جیت پر جا کر منتج ہوا تو اس غیر معمولی خبر کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے شہ سرخیوں اور بریکنگ نیوز کے طو رپر اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا۔ دراصل بھارتی کرکٹ ٹیم کی شکست کے بعد جس طرح سے بھارتیوں نے اپنے ملک میں صفت ماتم بچھا کر اپنی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ کھیل سے زیادہ اس”کھیل دشمن“رویے نے عالمی ذرائع کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔ کیونکہ مغربی ممالک کے نزدیک کھیل میں شکست کے بعد رونا،دھونا، ہنگامہ آرئی اور جلاؤ گھیراؤ کرنا ایک ایسا تماشہ ہے،جو اگر دیکھنے کو مل جائے تو مغربی ممالک کی عوام خوب محظوظ ہوتی ہے۔ شاید یہ ہی وجہ کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے بھارتی کرکٹ ٹیم شکست کے بعد بھارت بھر میں ہونے والے واقعات کو بھرپور انداز میں اپنی عوام کو دکھایا۔یعنی بھارت کی دبئی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں تو جگ ہنسائی،جو ہوئی سو ہوئی تھی لیکن مغربی ذرائع ابلاغ میں بھارتی قوم کی اُڑائی جانے والی بھدبھی کم شرمناک نہیں تھی۔

خاص طور پر ہندوتوا اور بجرنگ دل کے حامیوں نے جس طرح اپنے ملک میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوشیاں منانے والے معصوم اور غریب مسلمانوں کو جان لیوا تشدد اور دیگر معاندانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا،اس طرح کے پے درپے واقعات نے عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے بھارتی کی مذہبی تنگ نظری کے بھیانک چہرے کو پوری طرح سے بے نقاب کردیا ہے۔ اگرچہ میچ میں تاریخی شکست کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے تسلیم کیا ہے کہ ”پاکستان نے اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت بھارت کو شکست دی ہے“۔مگر اس کے باوجود بھارتی انتہا پسند اپنی شکست کا پورا نزلہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے واحد مسلمان کھلاڑی 31 سالہ محمد شامی پر گرانے کی کوشش کررہے ہیں۔میچ ختم ہوے ہی سوشل میڈیا پر ان کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور انہیں تادمِ تحریر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ محمد شامی کے خلاف مغلظات بکی جارہی ہیں اور ان پر غداری، دشمن کا ایجنٹ ہونے اور پاکستان سے پیسہ لینے سمیت نہ جانے کیا کچھ الزامات لگائے جارہے ہیں۔ انہیں ٹیم سے نکال باہر کرنے کے مطالبات تک کیے جارہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی ٹیم سے کہا ہے کہ”آپ کے اپنے ساتھی کھلاڑی کے خلاف سوشل میڈیا پر خوفناک زہر اگلا جارہا ہے، اگر آپ اپنے ساتھی کھلاڑی کی حمایت میں نہیں کھڑے ہوسکتے، تو آپ کا دوسروں کے حقوق کے لیے گھٹنے ٹیکنے کا کوئی فائدہ نہیں“۔ادھر بھارتی فوجی مظالم کا شکار مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بھائی بھی پاکستان کی فتح اور بھارتی شکست پر خوشی سے سرشار ہیں۔ ان کی پاکستان کی فتح کا جشن منانے کی ویڈیوز بھی وائرل ہوگئی ہیں۔ کہیں سڑکوں پر آتش بازی کی جارہی ہے۔ تو سری نگر میڈیکل کالج کی لڑکیاں جھوم جھوم کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہی ہیں۔ ہندو انتہا پسندی کے رنگ میں رنگے گوتم گمبھیر اس پر کیوں خاموش رہتے۔ بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب رکن اسمبلی گمبھیر نے جھٹ سے ٹوئٹ داغ دیا کہ”پاکستان کی فتح کا جشن منانا شرم ناک ہے“۔ ادھر بھارتی پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بھی کشمیری طلبہ کو مارا پیٹا گیا۔ انجینئرنگ کالج میں لاٹھیوں سے ڈنڈوں سے مسلح درجنوں افراد کشمیری طلبہ پر پل پڑے اور انہیں بری طرح زدوکوب کیا۔ ان کے سامان کو نقصان پہنچایا، ان کے لیپ ٹاپس توڑ دیے۔

المیہ ملاحظہ ہو کہ بھارتی ریاست راجھستان میں ایک مسلمان خاتون اسکول ٹیچر نفیسہ عطاری نے بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست پر واٹس ایپ پر اسٹیٹس اپ لوڈ کیا جس میں انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور پاکستانی کھلاڑیوں کی تصاویر کو شئیر کیا تھا۔خاتون ٹیچر کا اسٹیٹس دیکھنے کے بعد ایک طالب علم کے والد نے خاتون ٹیچر سے پوچھا کہ”آپ پاکستان کو سپورٹ کرتی ہیں یا بھارت کو؟“ جس پر ٹیچر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کو“ خاتون کے جواب کے بعد طالب علم کے والدنے ان کے اسٹیٹس کا اسکرین شارٹ اسکول انتظامیہ کو بھیجا جس پر خاتون ٹیچر کو نوکری سے نکال دیا گیا۔یہ تو صرف وہ اندوہناک واقعات اور حادثات ہیں جو کسی نہ کسی طرح پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی زینت بن گئے۔ وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ جب سے بھارتی کرکٹ ٹیم،پاکستان کے ہاتھوں میچ میں شکست سے دوچار ہوئی ہے، اُس وقت سے لے کر اَب تک ہزاروں کی تعداد میں بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کی جاچکی ہیں اور اِن پرتشدد واقعات کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے اور کب تک جاری رہے گا؟۔کوئی کچھ نہیں جانتا۔ کیونکہ ہندو انتہاپسندوں کو آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ کے میچ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی کرکٹ ٹیم کی10 وکٹوں سے شکست کا جو زخم لگا ہے،وہ بہت جلد اور آسانی سے بھر تا ہوا نظر نہیں آتا۔

عام خیال پایا جاتاہے کہ دنیا بھر میں کھیل کے عالمی مقابلے شروع کرنے کے پیچھے یہ حکمت کارفرما تھی کہ جو جارح اقوام اپنی حریف اور حلیف قوموں کے خلاف کسی بھی قسم کے جارحانہ جذبات و احساسات رکھتی ہیں۔ وہ کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ معرکہ آرائی کرکے اپنے بھڑکتے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرلیں۔کیونکہ کھیل کے میدان چوکے، چھکے لگتے ہیں،ایک دوسرے کے خلاف گول کیے جاتے ہیں۔لیکن کھیل کے میدان میں بپا ہونی والی چند گھنٹوں کی جنگ میں کوئی زخمی نہیں ہوتا اور کوئی معصوم اپنی زندگی کی بازی نہیں ہارتا۔مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم، کسی بھی میچ میں پاکستان سے شکست کھا جائے تو پھر کھیل کے میدان اور اُس کے باہر آگ بھی لگتی ہے، مخالفین کا گھیراؤ بھی ہوتا ہے،لوگوں کی جان و مال پر حملے بھی ہوتے ہیں اور معصوم و بے گناہ افراد کو زخمی اور قتل بھی کیا جاسکتاہے۔ دراصل ہندو انتہاپسند اپنے عام سے کھلاڑیوں کو ”دیوتا“ یعنی بھگوان سمان سمجھتے ہیں اورساتھ ہی وہ یہ خوش فہمی بھی رکھتے ہیں،اُن کے دیوتاؤں کو ہرایا نہیں جاسکتاہے۔ مگر جب یہ ہی خود ساختہ دیوتا اور بھگوان کسی اہم میچ میں اپنے مخالف ٹیم کے ہاتھوں اچانک سے زمین بوس ہوجاتے ہیں تو ہندو انتہا پسند وں کو یقین ہی نہیں آتا اُن کے نام نہاد، دیوتا اور بھگوان کھیل کے مہا یودھ میں اتنی بُری طرح سے ہارچکے ہیں۔

ہمارا تو عالمی برادری کے سامنے مقدمہ ہی بس یہ ہے کہ جو قوم کھیل کو کھیل سمجھنے کی ذہنی،نفسیاتی اور جذباتی اہلیت ہی سرے سے نہ رکھتی ہو۔کیا ایسے ملک و ملت کے کھلاڑیوں کو کسی عالمی مقابلے میں شرکت کی اجازت ہونی چاہئے؟۔کیا کھیل میں ہارنے کے بعد کھیل کا تقدس یعنی اسپورٹس مین اسپرٹ کی اخلاقیات کو دھجیاں بنا کر اپنے قدموں تلے کچلنے والوں کا داخلہ عالمی مقابلوں میں کچھ مدت کے لیئے بند نہیں ہوجاتاچاہئے؟۔جب ماضی میں جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم پر نسل پرستانہ جذبات کو بھڑکانے کا الزام لگاکر کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے تو کیا بھارت پر صرف ایک کرکٹ میچ ہارنے کے بعد ریاستی سرپرستی میں بے گناہ اور عام مسلمانوں کو ہول ناک تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی اور قتل کرنے پرعالمی کرکٹ کے دروازے مخصوص مدت کے لیئے بند نہیں ہونے چاہیئے؟۔تاکہ بھارت کی انتہاپسند ریاست کو سبق مل سکے کہ کھیل اور جنگ میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے اور جب وہ یہ فرق ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو اُن کے سر سے کھیل کا آسمان اور زمین دونوں چھین لی جائے گی۔واضح رہے کہ کرکٹ کے کھیل میں بھارت کو مہذب بنانے کا بس یہ ہی ایک راستہ ہے۔ اگر آئی سی سی نے کرکٹ کے کھیل کا تقدس بار،بار پامال کرنے پر، اَب بھی بھارتی کرکٹ ٹیم کے خلاف کوئی سخت کاروائی نہیں کی تو پھر وہ وقت زیادہ دور نہیں جب بھارت کے انتہاپسند ہندو ”جنٹل مین کرکٹ“کو ”کوڑا کرکٹ“میں تبدیل کردیں گے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر یکم نومبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں