Drinking Water in Sindh

سندھ کے عوام مضر صحت پانی پینے پر مجبور

”روٹی، کپڑا اور مکان“ پاکستان پیپلز پارٹی نے جس وقت یہ دلفریب اور دلکش نعرہ لگایا تھا اُس وقت یقینا غریب لوگوں کو پانی ضرور میسر ہوگا ورنہ ذوالفقا رعلی بھٹو جیسا نابغہ روزگار رہنما اس نعرہ میں ”پانی“ جیسی انسانی ضرورت کا ضرور اضافہ کرتا۔”روٹی،کپڑا اور مکان“ کا نعرہ توآج تک حقیقت نہ بن سکا،صرف ایک نعرہ ہی رہا۔ مگر پانی جو غریبوں کو کبھی میسر تھا اب تووہ بھی بخارات بن کرہوا میں تحلیل ہوگیا ہے۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ روٹی،کپڑا اور مکان میں سے کوئی ایک شے تو کم از کم آج عوام کی دسترس میں ہوتی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت عوام الناس روٹی،کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات کے مطالبے سے بھی دستبردار نظر آتے ہیں کیونکہ ان سب سے بہت پہلے پانی کی ضرورت انسان کو درپیش ہوتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ آج آپ وطن عزیز کا صبح،دوپہر یا شام کا کوئی بھی منظر اُٹھا کر دیکھ لیں آپ کوعوام قریہ قریہ صرف صاف پینے کے ”پانی“کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔ویسے تو پانی کی اس بحرانی کیفیت کا شکار پورا ہی ملک ہے مگر سندھ میں یہ بحران انتہائی سنگین سطح تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے صوبے بھر کے شہری و دیہی علاقوں کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے تحت ہزاروں کی تعداد میں واٹر سپلائی سسٹم اور آر او پلانٹ کروڑوں کی خطیر لاگت سے نصب کیئے گئے تھے۔جن میں سے اکثر تنصیب سے لے کر تاحال غیر فعال یا انتہائی ناگفتہ حالت میں ہیں۔یہ صورت حال سپریم کورٹ کے سامنے بھی لائی گئی تھی۔جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے معاملات کی جانچ پڑتال کے لیئے ایک تحقیقاتی واٹر کمیشن تشکیل دے دیا گیاتھا۔پانی،صحت اور صفائی سے متعلق سپریم کورٹ کے قائم کردہ کمیشن کے روبرو ٹاسک فورس ٹاسک کی حال ہی میں پیش کی گئی رپورٹ میں کراچی سمیت سندھ بھر کے 18 اضلاع کو فراہم کیئے جانے والے پانی میں انسانی فضلہ کے پانے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔یہ انکشاف سندھ میں فراہمی و نکاسی آب کے منصوبوں کی صورت حال بہتر بنانے سے متعلق عدالتی کمیشن کی کارروائی کے دوران ہوا۔کراچی کے 90 فیصد پانی کے نمونے پینے کے لیئے انتہائی مضر پائے گئے اور سندھ کے 14 اضلاع میں پانی کے83 فیصد نمونوں میں انتہائی مضرصحت اجزاء پائے گئے۔کراچی کو فراہم کیئے جانے والے پینے کے پانی کے 33 فیصد نمونوں میں انسانی فضلہ پایا گیا ہے جبکہ ٹھٹھہ میں 75 فیصد نمونوں میں انسانی فضلہ پایا گیا ہے۔لاڑکانہ میں 88 فیصد پانی صحت کے لیئے انتہائی مضر اور 60 فیصد پانی کے نمونوں میں انسانی فضلہ کے اجزاء پائے گئے۔حیدرآباد میں 42 فیصد،جامشورو میں 36،ٹنڈومحمد خان میں 30 فیصد نمونوں میں انسانی فضلہ کے اجزاء پائے گئے ہیں۔ٹنڈو الہ یار میں 23،بدین میں 33 اور میرپور خاص کے نمونوں میں بھی انسانی فضلہ کی وافر مقدار پائی گئی۔سب سے کم فضلہ تھرپارکر کے پانی کے نمونوں میں پایا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں پینے کے لیئے استعمال ہونے والا پانی صرف انسانوں کے لیئے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے لیئے بھی انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہے۔پینے کے پانی کی لائنیں نکاسی آب یعنی سیوریج کے لائنوں سے مل گئی ہیں لوگ اسی پانی سے وضو اور غسل کرنے پر بھی مجبور ہیں۔جبکہ اسپتالوں میں فراہمی آب کے نظام کا حال اس بھی برا ہے۔شہریوں کو فراہم کیئے جانے والے پانی میں کلورینیشن بھی ڈھنگ سے نہیں کی جاتی۔

سپریم کورٹ کے عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس اقبال کلہوڑو نے پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں افسران بالا اور سندھ حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ”ایسے فلٹریشن پلانٹس کا کیا فائدہ جن سے عوام کو صاف پینے کا پانی بھی میسر نہیں آپ نے اور آپ کی حکومت نے چار ماہ میں کیا کیا؟“اس معاملے پر سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو جو کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ عذرا اٖضل پیچوہو کے شوہر بھی ہیں نے انتہائی کمال بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”اسپتالوں میں صاف پانی کی فراہمی کے ذمہ دار میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں ان کے خلاف صرف کارروائی کی سفارش کی جاسکتی ہے میرے پاس تو چوکیدار کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار نہیں ہے آپ مجھے اختیار دیں پھر دیکھیں کیسے کام نہیں ہوتا۔یہ سچ ہے کہ پانی کی ڈی سالنیشن نہیں کی جارہی اس کے وجہ ہمارے پاس جدید آلات کی کمی ہے۔“جبکہ ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی نے کہا کہ فلیٹس اور اپارٹمنٹس کے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکس کئی سال تک صفائی نہیں ہوتی۔کمیشن کے روبرو واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن نے صرف کراچی شہر میں 150 سے زائد غیر قانونی ہائڈرینٹس کی بھی نشاندہی کی جس پر کمیشن نے ایم۔ڈی واٹر بورڈ سے استفسار کیا کہ آپ کیا کر رہے ہیں ایم ڈی صاحب؟کیاآپ تو نہیں چلارہے ہیں یہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس؟ایم ڈی واٹر بورڈ نے کمیشن کے روبرو اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ”غیر قانونی کنکشن دینے میں ہمارا عملہ ملوث ہے جبکہ سائیٹ کے علاقے میں ایک ایم پی اے نے غیر قانونی لائنیں ڈلوائی ہوئی ہیں۔کچھ وقت مزید درکار ہے ہم ازسرِ نو منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔واٹر بورڈ کی لائن سے حبیب بینک چورنگی پر 6 انچ کی لائن سے غیر قانونی کنکشن حاصل کیا گیا کنکشن ایک رکن صوبائی اسمبلی نے زبردستی دلوایا اس کا نام بھی لکھ کر دینے کو تیا ر ہوں جب ہماری ٹیم لائن بند کرنے گئی تو اسے اغوا ء کر لیا گیا گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا ان سیاسی بدمعاشوں کو پولیس اور ہمارے نچلے طبقے کی سرپرستی حاصل ہے۔پولیس کو غیر قانونی کنکشن کرنے والوں کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کا حکم دیا جائے“۔جس پر کمیشن نے پولیس کے اعلی افسران کو بھی اگلی سماعت پر طلب کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے کمیشن کو یقین دلایا کہ”ٹریٹمنٹ پلانٹ کا مسئلہ آئندہ سماعت تک حل کر لیا جائے گا“۔اس موقع پر سیکریٹری بلدیات محمد رمضان نے کہا کہ”ہم سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کر پارہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نیچے بے حد سیاست ہے ہم منصوبہ بنا کر دیتے ہیں لیکن نیچے کوئی عمل درآمد ہی نہیں کرتا سندھ بھر میں نلکے کا پانی پینے کے قابل نہیں اب ہم ہر جگہ جاکر دیکھیں گے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔ہر نئی اسکیم 3 سال سے زیادہ کی نہیں ہوگی“۔ عدالتی کمیشن کے سربراہ نے پیش کی گئی رپورٹ اور اب تک کی حکومتی کارکردگی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس کہیں بھی پائے گئے تو اس کا ذمہ دار علاقہ کا ایس ایس پی ہوگا۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر چیف سیکریٹری اور دیگر کے خلاف توہین ِ عدالت کی کارروائی پر دلائل دیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دیئے گئے واٹر کمیشن کی اس حالیہ سماعت کے بعد عوام کو یہ اُمید ہو چلی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے سندھ حکومت کو کچھ نہ کچھ ایسے تادیبی احکامات ضرور دیئے جائیں گے جن سے اُن کے پینے کے صاف پانی کے مسائل حل ہو سکیں گے۔

سب سے مستحسن بات تو یہ ہے کہ سندھ حکومت سپریم کورٹ کے کسی حکم یا لوگوں کے احتجاج کا انتظار کیئے بغیر پینے کے صاف پانی کے بحران کاخود ہی کچھ تدارک کرلے۔آخر کار پاکستان پیپلز پارٹی اپنے آپ کو غریب عوام کی نمائندہ جماعت قرار دیتی ہے اور گزشتہ 8 سالوں سے سندھ کی بلا شرکتِ غیرے حکمران ہے۔آئندہ انتخابات میں جانے سے پہلے اگر سندھ حکومت لوگوں کو صرف پینے کا صاف پانی ہی فرہم کردے تو شاید اسے لوگوں سے ووٹ مانگنے میں آسانی ہوسکے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 27 جولائی 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں