World Water Day

فطرت اور پانی

پانی ہماری زندگی کی صرف ایک بنیادی ضرورت ہی نہیں بلکہ حقیقت میں پانی ہی زندگی ہے کیونکہ اس کے بغیر کسی قسم کی انسانی، حیوانی، زرعی یا صنعتی سرگرمی کا تصور بھی محال ہے۔ اگرچہ ہمارے کرہ ارض کا75فیصد حصہ پانی پر ہی مشتمل ہے لیکن کرہ ارض پر دستیاب پانی کا 97.5فیصد حصہ نمکین یعنی پینے کے قابل نہیں جبکہ صرف 2.5فیصد میٹھا ہے۔ میٹھے پانی کی فراہمی میں گلیشیئرز کا حصہ 68.7فیصد، زیر زمین پانی کا حصہ 30.1فیصداور زمینی اور بخاراتی پانی کا تناسب 0.4فیصد ہے۔ ماہرین آب کے مطابق، بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی،غیر متوقع موسمیاتی تبدیلیاں اور گلوبل وارمنگ کے باعث دنیا بھر میں صاف اور میٹھے پانی کے سب سے بڑے ماخذ گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے سمندر کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ سمندری طوفان، سیلاب اور خشک سالی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی پینے کے صاف پانی تک انسان کی آسان رسائی کو مشکل بنانے کی اہم ترین وجوہات بھی ہیں۔ اس وقت دنیا میں ایک بلین سے زائد انسانوں کی پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے۔ ان میں زیادہ تر یعنی 672 ملین افراد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، جبکہ ان میں سے 185 ملین بدقسمت افراد ایسے بھی ہیں جو فضلہ ملا ہوا پانی پی کر اپنی زندگی بسر کررہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق صاف پانی کی عدم دستیابی پیٹ کی مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے اور آلودہ پانی کو پینے کے نتیجے میں ہر سال842000 افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمر کے361000 معصوم بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی کمی سے خوراک کی قلت، مال مویشی کی ہلاکتیں، بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلاء، اندرون و بیرون ملک ہجرت، عدم استحکام،معاشی اور سیاسی حالات میں بگاڑ جیسے گھمبیر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔عالمی ادروں کے نزدیک صاف پانی کی فراہمی کا معیار یہ ہے کہ صاف پانی کے پائپ آپ کے گھر تک پہنچتے ہوں، جہاں ایک عدد ٹونٹی لگی ہو اور اس میں صاف پانی بھی آتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا میں صرف 23 فیصد شہری ایسے ہیں، جنہیں یہ سہولت میسر ہے۔ صاف پانی کی اسی بیش بہا اہمیت و ضرورت کے اعتراف کے لیئے عالمی یومِ آب اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام1993 میں پہلی بار 22 مارچ کو منایا گیا، جس کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور لوگوں کو صاف پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کا احساس دلانا تھا۔رواں سال اس دن کو”فطرت اور پانی“ کے عنوان سے منایا جارہا ہے تاکہ کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کویہ بات باور کرائی جاسکے کہ پینے کا صاف پانی کسی حکومت کی طرف سے اپنے ملک کے عوام کو دی جانے والی کوئی خصوصی سہولت نہیں بلکہ انسان کا بنیادی حق ہے۔

صاف پانی کی ”شفاف“تعریف کیا ہے؟
ہمارے ہاں عام طور پر لوگ پانی کے پینے کے قابل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صرف اس کے میٹھے یا کھارے ہونے کی بنیاد پر کرلیتے ہیں۔گھر میں بورنگ کروائی، پانی کو چکھا اگر ذائقہ میٹھا ہے تو سمجھ لیتے ہیں کہ پانی پینے کے لئے ٹھیک ہے اور اگر کھارا ہے تو سمجھ لیا کہ پانی پینے کے قابل نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف پانی کے ذائقے کی بنیاد پر اس کے پینے کے قابل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ پانی پینے کے قابل ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اس میں موجود نمکیات یعنی articles Pیا TDSکی بنیاد پر ہوتا ہے۔لفظ TDS سے مراد Total dissolved solidsہے۔TDSکے علاوہ PPM کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ PPM مخفف ہے Parts Per Millionکا۔ یعنی پانی میں شامل ضروری معدنیات کی مناسب مقدار جنہیں عرف عام میں نمکیات بھی کہا جاتا ہے۔ان ہی نمکیات کی کمی یا زیادتی پر پانی کے معیاری یا غیر میعاری ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ منرل واٹر کا معیاری TDS،عموماً 300 کے قریب ہوتا ہے جوکہ عالمی ادارہ صحت کا مقرر کردہ معیار ہے۔ اس 300TDSکے پانی میں کیلشم، میگنیشم، کلورائیڈ،فلورائیڈ، آرسینک، نائیٹریٹ، آئرن، سلفیٹ شامل ہیں اور یہ پانی انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید ہے لیکن TSDکا 300سے بہت بڑھ جانا یا بہت کم ہوجانا انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ بلکہ بعض حالات میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتاہے۔300TDSکا پانی یا تو بازار میں فروخت ہونے والی منرل واٹر کی بوتلوں میں ہوتا ہے جسے (Reverse Osmosis) یعنی ROپلانٹ کے ذریعے بنایا جاتا ہے یا پھر یہ آسمان سے برسنے والی بارش کا ہوتا ہے۔ بارش کا یہ پانی کہیں پہاڑوں پر برف کی صورت میں گرتا ہے تو کہیں ندی نالوں اور خشک زمین پر برستا ہے اور یہیں سے ا س میں زمینی معدنیات شامل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔خاص مقدار میں خاص قسم کے معدنیات منرلز کہلاتے ہیں اور اگر ان کی تعداد بڑھ جائے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اس پانی کا TDS بڑھ گیا ہے۔ یہ TDS ایک لاکھ یا اس بھی زیادہ بڑھ سکتا ہے۔جتناTDSزیادہ ہوگا پانی اتنا ہی زہریلا ہوتا ہے۔



قدرت نے بنائے کتنے پانی
بارش کا پانی
دو حصے ہائیڈروجن اور ایک حصہ آکسیجن یعنی H2Oصرف بارش کا پانی ہی ایچ ٹواو پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی ”خالص پانی“ یہی ہے۔قدرتی حالت میں بارش کا پانی خالص ہوتا ہے۔ جبکہ گلیشیئر پر جمی برف بھی خالص پانی ہی پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کرہ ارض پر پایا جانے والا کوئی پانی خالص نہیں ہوتا۔
دریا کا پانی
دریاؤں میں پانی بارش اور پہاڑوں پر جمی برف کے پگھلنے سے آتا ہے۔ بارش کاپانی جونہی زمین کی سطح سے ٹکراتا ہے تو مٹی میں موجود معدنیات (منرل) اس میں جذب ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑی علاقوں سے گذرنے والے دریا کے پانی میں معدنیات نسبتاً کم اور میدانی علاقوں سے گزرنے والے حصے کے دریائی پانی میں معدنیات زیادہ ہوتے ہیں۔ دریا کے اُس حصہ میں سب سے زیادہ نمکیات یا TDS ہوتے ہیں، جہاں پر پانی سمندر میں گرتا ہے کیونکہ یہ پانی سب سے زیادہ زمینی سفر کرچکا ہوتا ہے۔ دریائی پانی میں غیر حل شدہ ذرات اور جراثیم بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی ادارے انہیں سپلائی کرنے سے پہلے فلٹر کرکے تمام غیر حل شدہ Particles کو الگ کرلیتے ہیں اور جراثیم سے پاک کرنے کے لئے کلورین وغیرہ سے گذارتے ہیں۔ دریائی پانی میں عموماً 500سے 900 تکTDSپائے جاتے ہیں۔
بورنگ کا پانی
بورنگ واٹریعنی ہینڈ پمپ کا پانی دریائی پانی سے زیادہ ”کھارا“ ہوتا ہے۔ اگر کسی کنویں یا ہینڈ پمپ کا پانی پینے میں ”میٹھا“ لگے یعنی اس میں ”کھاراپن“ بالکل بھی نہ ہو تب بھی اس پانی میں 1000سے1500 تک TDSہوتے ہیں۔ عام گاؤں دیہات کے لوگ تو ہلکا ہلکا کھارا پانی بھی پینے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کا TDS دوہزارتک ہوتا ہے، جو کہ صحت کے لئے سخت مضر ہے۔
سمندرکا پانی
جیسا کہ سب کو معلوم ہے، بہت زیادہ کھارا ہوتا ہے۔ سمندر کے مختلف علاقوں میں نمکیات کا تناسب مختلف ہوتا ہے پاکستان کے ساحلی علاقوں کے سمندری پانی کا ٹی ڈی ایس تیس پینتیس ہزار سے 90 ہزار تک ہوتا ہے۔

پاکستان کا سب کچھ پانی پہ ہے
پاکستان زرعی، معدنی اور دیگر شاندار قدرتی خزانوں کے ساتھ ساتھ بہترین آبی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ اگر انہیں صحیح معنوں میں بروئے کار لایا جاتا تو پاکستان دنیا کا ایک خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا تھا مگر افسوس کہ حکمران طبقے کی غلط ترجیحات نے ملک کوپانی کے گھمبیر مسائل سے دوچار کرد یا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے ناطے پانی کی بوند بوند پاکستان کیلئے اہم ہے لیکن بڑھتی ہوئی آبادی، شہروں کی طرف نقل مکانی، موسمیاتی تبدیلیوں اور نا عاقبت اندیش حکومتوں کی کوتاہیوں نے پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان کے تین بڑے آبی ذخائر کے حامل ڈیموں منگلا، تربیلا اور چشمہ میں صرف 60 دن سے 90 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے۔عالمی معیار کے مطابق کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے،دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک ایک سے دو سال کیلئے باآسانی پانی ذخیرہ کررہے ہیں۔اس وقت بھارت کے پاس 220 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، جنوبی افریقہ 500 دن تک پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتاہے، آسٹریلیا 600دن اور امریکہ 900 دن کا پانی ذخیرہ کر رہا ہے جبکہ مصر ایک ہزار دن کا پانی صرف ایک دریائے نیل سے ذخیرہ کر رہا ہے مگر پاکستان میں دریاؤں کا بمشکل صرف 10 فیصد پانی ہی ذخیرہ ہو پاتا ہے۔ملکی دریاؤں میں آنے والے پانی میں سے 28 ملین ہیکٹر فٹ سے زائد پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ ہمارے دریاؤں میں 144 ملین ہیکٹر فٹ پانی آتا ہے جس میں سے صرف 13.8 ملین ہیکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہوتا ہے اور اگر کبھی بارش زیادہ ہوجائے تو پھر اضافی پانی ہمارے لیئے سیلاب کا عذاب بن جاتاہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے 38 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات ہوئے ہیں۔ مارچ 2012 میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ واٹر ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان نویں نمبر پر ہے۔اس کے علاوہ بھارت اور افغانستان کے آبی منصوبے بھی پاکستان کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستانی دریاؤں چناب اور جہلم پر بھارت نے بگلیہاراورکشن گنگا جیسے بے شمار ڈیم بنا لیئے ہیں جبکہ افغانستان بھی دریائے کابل پر کئی ہائیڈرو پاور منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے پانی کے ذخائر انتہائی تیزی کے ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں جس کے لیئے ہمیں لازماً کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنا ہوگا۔

پانی کا مستقبل آلودہ ہے
انسانی آبادی سال1927میں صرف2ارب تھی جو 2011میں بڑھ کر 7ارب ہو گئی ہے 2050میں یہی آبادی9.3ارب ہو جائے گی۔ جس کے لئے پینے،زراعت،،توانائی،خوراک صنعت کے لئے صاف پانی کی مزیدذخیروں کی ضرورت ہو گی۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق2050تک آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خوراک کی پیداوار میں 70، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق تونائی کی پیداوار میں 2035تک 36فیصد اور عالمی واٹر ریسورسز گروپ کے اندازوں کے مطابق تازہ پانی کے ذخائر میں نمایاں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔اندیشہ ہے کہ2025تک 3ارب لوگ پانی کی کمی کا شکار ہوں گے۔ جس میں ایشیاء اور افریقہ کے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔ اگر مستقبل میں پاکستان کی متوقع صورتحال کی بات کی جائے تو ماہرین کو ڈر ہے کہ 2030 تک پاکستان بھی کہیں پانی کی شدید قلت والے 30 ممالک کی فہرست میں شامل نہ ہو جائے۔اس وقت پاکستان پانی کی قلت والے دنیا کے 180 ممالک کی فہرست میں 36 ویں نمبر پر ہے۔ امریکی ادارے”ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ“ کے مطابق پاکستان میں 60سال پہلے فی فرد 50 لاکھ لیٹر پانی دستیاب تھا۔ پانچ گنا کمی کے بعد آج کل یہ مقدار 10 لاکھ لیٹر فی فرد رہ گئی ہے۔اس کے باوجود افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ پانی کا ضیاع کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اگر پانی ضائع کرنے کی اپنی پرانی روش ہم نے ایسے ہی برقرار رکھی تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ ہم 2025 ء تک اس فہرست میں پہلے نمبر پر بھی آسکتے ہیں۔

پانی سب کچھ حل کرے۔۔۔پانی کا مسئلہ کو ن حل کرے؟
اگر حضرت ِ انسان نے زندگی کو معمول کے مطابق رواں دواں رکھنا ہے تو، پینے کے صاف پانی کو بچانا ہو گا۔جس کے لیئے ہمیں پانی کے گھریلو، زرعی اور صنعتی استعمال میں سائنسی اندازِفکر اپنانا ہوگی۔ پانی کے دستیاب وسائل اور بارش کا پانی جو کرہ ارض پر صاف پانی کا سب سے بڑاذریعہ ہے کوضائع ہونے سے بچانا ہو گا۔ بے ہنگم طور پرزیر زمین پانی کی نکاسی پر پابندی عائد کرنا ہو گی۔ ہمارے ہاں زیر زمین پانی کے نکالنے کا کوئی ضابطہ نہیں ہے، جس کا جہاں اور جتنا دل چاہے زمین سے پانی نکال سکتا ہے۔ میٹھے پانی کے غیر انسانی استعمال سے متعلق قواعد ترتیب دینے ہوں گے۔ صنعتی، تعمیراتی، گاڑیوں، گھروں کی غیر ضروری دھلائی پر مکمل پابندی لگانا ہو گی۔صنعتی، زرعی اور گھروں کے فضلہ زدہ اور مضر ماحول کیمیکل والے پانی کو میٹھے پانی میں شامل ہونے سے روکنا ہو گا۔ پانی کی سپلائی لائینوں کو ٹھیک حالت میں رکھنا ہوگا اور اس کو گٹر کی لائنوں سے ملنے اور رسنے سے بچانا ہو گا۔زیادہ پانی کی فصلوں اور سیلابی پانی سے متعلق سخت قوانین بنانے ہوں گے اور ایسی فصلوں کی کاشت جن میں کم سے کم پانی درکار ہو،کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔فوری طور پر ایسے اُمور پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرناہوگی جن کی وجہ سے بارش کے پانی سے کاشتکاری، گرے واٹر کی ری سائیکلنگ، واٹر پرائسنگ، پانی کے ذخائرمیں اضافے، پانی کی آلودگی میں کمی کے اقدامات کو فروغ مل سکے۔ہمارے ملک میں زرعی مقاصدکے لئے70فیصد سے 94فیصد تک میٹھا پانی استعمال ہوتا ہے۔ جدید طرز اپنانے سے یہ شرح 50فیصد تک آ سکتی ہے۔ صنعتی پانی کے استعمال کو باقاعدہ بنانے سے آلودگی کا خاتمہ ممکن ہے جس سے میٹھا پانی دیگر مقاصد کے لئے زیادہ استعمال ہونا ممکن ہے۔سب سے زیادہ توجہ آلودگی کے خاتمہ،موسمی تغیرات اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر دینا ہو گی تا کہ، گلیشئرز کے حد سے ذیادہ پگھلاؤ، سطح سمندر کی بلند ہوتی سطح پر جلدازجلد قابو پایا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پانی کے استعمال سے متعلق عوام کے رویوں میں بھی مثبت تبدیلی لا نے کے لیئے ہرسطح پر موثر اور بھرپور آگہی مہم چلانا ہو گی۔ یہ ہی وہ اقدامات ہیں جنہیں عملی جامہ پہنا کر ہم اپنی آئیندہ نسلوں کے لئے قدرت کی اس نعمت اور بنیادی ضرورت ”پانی“ کو بچا سکتے ہیں۔ا س کے لیئے اگر چاہیں تو ہمارے حکومتی ادارے سنگاپور کی مثال اپنے سامنے رکھ سکتے ہیں۔سنگاپور پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ”واٹر اسٹریس“ یعنی پانی کی کمی کا شکار ملک ہے کیونکہ وہاں ہمارے ملک کی طرح قدرتی گلیشئیرز،دریا، تازہ پانی کی جھیلیں یا دیگر پانی کے قدرتی ذخائر موجود نہیں اور وہاں پانی کی طلب بھی پانی کی دستیابی سے بہت زیادہ ہے۔ اس کے باوجود عمدہ مینجمنٹ، عالمی معاہدوں اور جدید ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی بدولت سنگاپورکا شمار دنیا کے بہترین ’واٹرمنیجرز‘ممالک میں ہوتا ہے۔جو یقینا ہمارے لیئے ایک دعوت ِ فکر ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 18 مارچ 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں