Muslim League Q Politics

مسلم لیگ ق کا سیاسی قاعدہ

گزشتہ کچھ ہفتوں سے جس سیاسی تندہی کے ساتھ مسلم لیگ ق کے سربراہ اور بزرگ سیاست دان جناب چوہدری شجاعت حسین نے پنجاب کی سیاست کو لسی کی طرح تیز،تیز بلونا شروع کردیا ہے۔اُسے دیکھ کر تو یہ ہی لگتا ہے کہ وہ عنقریب اِس سیاسی لسی میں سے ایک بارپھر سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا مکھن اپنے خاندان کے لیئے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ چونکہ چوہدری شجاعت حسین شہری سیاست کے بجائے گجرات کی خالص دیہی سیاسی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں،اِس لیئے وہ کسی سیاسی کیفے ٹیریا میں چپ چاپ بیٹھ کر چائے کی پیالی میں سیاسی طوفان برپا کرنے کے بجائے، اقتدار کے چوراہے کے عین بیچوں، بیچ میں براجمان ہو کر سیاست کی لسی کو خوب اچھی بلو کر اعلیٰ درجے کا مفاداتی مکھن نکالنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہدری شجاعت اکثر و بیشتر اقتدار کی بالائی اور مکھن بیک وقت دونوں کے حصول میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں تو انہوں نے سیاسی لسی سے وزیراعظم کا مکھن بھی اِس کمال مہارت سے نکال لیا تھاکہ ہر دیکھنے والی آنکھ د عش عش کر اُٹھی تھی۔چوہدری شجاعت کے حالیہ سیاسی ارادوں سے صاف جھلک رہا ہے کہ تحریک انصاف کی ناتجربہ کار حکومت سے اپنے چھوٹے بھائی چوہدری پرویز الہیٰ کے لیئے اسپیکر پنجاب اسمبلی کا اہم ترین عہدہ اینٹھنے کے بعد اَب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کرسی اِن کے سیاسی نشانے پر ہے۔

بظاہر 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی طرف سے پنجاب کے سنگھاسن پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ نئے نویلے کھلاڑی عثمان بزدار کو بٹھا دیا گیا تھا لیکن اصلاً پنجاب کے تمام تر سیاسی و انتظامی معاملات مسلم لیگ ق کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے۔ پنجاب میں انتظامی وسیاسی معاملات سے کلیتاً نابلد وزیراعلیٰ کی تمام تر سیاسی کمزوریوں کا فائدہ اگر کسی ایک جماعت نے خوب جی بھر کر اُٹھایا ہے تو وہ مسلم لیگ ق ہے۔ جس نے پنجاب حکومت کے پسِ پردہ رہتے ہوئے صوبے کے انتظامی معاملات میں اِس حد تک دخیل ہوگئے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں رہ گئی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ تحریک انصاف جس نے صوبہ خیبر بختون خواہ میں اقتدار ملنے کے بعد ہر شعبہ میں کامیاب اصلاحات کرکے صوبہ کے انتظامی معاملات میں ایک نئی جان ڈال تھی،وہی تحریک انصاف کی حکومت،صوبہ پنجاب میں کسی ایک ادارہ میں بھی اصلاحا ت کرنے سے فقط اِس لیئے قاصر رہی کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں انقلابی اصلاحات کا آغاز ہونا، مسلم لیگ ق جیسی روایتی سیاسی جماعت کو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں تھا۔ پس مسلم لیگ ق نے پنجاب کے اقتدار میں شراکت دار بننے کے پہلے دن سے ہی وزیراعظم پاکستان عمران خان کو یہ سیاسی پٹیاں پڑھانا شروع کردی تھیں کہ سیاسی و انتظامی اصلاحات صوبہ پنجاب کے لیئے بالکل بھی مناسب نہیں ہیں۔لہٰذا پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو تحریک انصاف انقلابی انداز میں چلانے کے بجائے، مسلم لیگ ق کے پرانے سیاسی انداز میں چلانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔



پاکستانی سیاست میں مسلم لیگ ق کی حیثیت ہمیشہ سے ایک کنگز پارٹی کی رہی ہے اور سیاسی بلیک میلنگ کے اسرار و رموز کیا ہوتے ہیں اور انہیں کب،کہاں اور کس طرح سے استعمال میں لانا ہوتا ہے،یہ سب کچھ ایک کنگز پارٹی سے بہتر کوئی دوسری جماعت جان ہی نہیں سکتی۔ مسلم لیگ ق کے طرزِ سیاست کو سمجھنا ہے تو اِس کے لیئے پرویز مشرف کے زوال کا مطالعہ کرنا از حد ضروری ہوگا، کیونکہ پرویز مشرف کو پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ این آراو کے گورکھ دھندے کے سیاسی جال میں پھنسانے والی بھی یہ ہی ساسی جماعت تھی۔ مسلم لیگ ق بنیادی طور پر سیاست میں طبقہ اشرافیہ کی نمائندہ جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ سیاست میں ریسکیو 1122 بھی ہے۔ یعنی جیسے ہی پاکستان کی کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو سیاسی مدد کی ضرورت آن پڑتی ہے۔ مسلم لیگ ق فوراً حرکت میں آتی ہے اور اُس جماعت کو بحفاظت ریسکیو کر کے سیاسی مشکلات سے نجات دلادیتی ہے۔ پرویزمشرف کے دور میں بھی مسلم لیگ ق اقتدار کی حد تک تو بھلے ہی پرویز مشرف کے ساتھ تھی لیکن درپردہ اِس جماعت کی ساری سیاسی و انتظامی سپورٹ مسلم لیگ ن کو حاصل تھی۔حد تو یہ ہے کہ شریف خاندان کی جلاوطنی کے پورے دورانیہ میں حمزہ شریف کے ماہانہ اخراجات تک چوہدری شجاعت حسین اپنی جیبِ خاص سے ادا کرتے رہے تھے۔

ویسے کہنے کو تو آج کی سیاست میں بھی مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف، حکومتی شراکت دار ہیں لیکن درپردہ مسلم لیگ ق کا اصل سیاسی کام جو سب کو بالکل صاف صاف نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ کس طرح میاں محمد نواز شریف کو علاج کے لیئے لندن بھیجنے کی راہ ہمور کرنا ہے،یا کس طرح سے مولانا فضل الرحمن کو دھرنے میں غیر مرئی مدد و اعانت کے لیئے اہم ترین ”امانتی راز“ پہنچانے ہیں یاپھر کیسے بندوبست کرنا ہے کہ جلد ازجلد مریم نواز بھی عازمِ لندن ہوجائیں۔ جبکہ آصف علی زرداری اور فریال تالپر کو مختلف کیسز میں ریلیف فراہم کرنے کے لیئے عمران خان کو دباؤ میں لانے کی ذمہ داری بھی مسلم لیگ ق کے ناتواں سیاسی کندھوں پر ہے اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کروانا بھی اِِس جماعت کا بنیادی ہدف ہے، جس کے حصول تک اِس جماعت کے جملہ رہنما بدستور تحریک انصاف کی حکومت کو بلیک میل کرتے رہیں گے۔کیونکہ مسلم لیگ ق پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام کو اپنی سیاسی موت گردانتی ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان چاہے کرکٹ کے جتنے اچھے کھلاڑی ہوں لیکن اقتدار کے میدان اِن کا واسطہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہیٰ جیسے گھاگ سیاسی کھلاڑیوں سے ہے۔جو ہمیشہ سے ہی اقتدار کی وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی عادی ہیں بلکہ اگر ضرورت پڑ جائے تو یہ اقتدار کی باؤنڈری کے پار بھی جاکر کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔ کیونکہ اِن کا مقصد ہمیشہ سے ہی اپنے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑی کو رن آؤٹ کروانا ہوتا ہے،پچھلی بار انہوں نے پرویز مشرف کو آؤٹ کروایا تھا اور اِس بار یہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو رن آؤٹ کروانے کے فراق میں مبتلا ہیں کیونکہ یہ خود تو کبھی بھی اقتدار کے کھیل میں آؤٹ ہونا پسند نہیں کرتے اور ہمیشہ ہی اقتدار کے میدان سے ناٹ آؤٹ جاتے ہیں۔تاکہ اگلی اننگز میں جو بھی ٹیم اقتدار کے میدان میں کھیلنے کے لیئے اُترے وہ سیاسی احسان کی ادائیگی کے طور پر اِن کے سیاسی مفادات کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھے۔ یہ مسلم لیگ ق کا پرانا سیاسی قاعدہ ہے اور نیا بھی یہ ہی ہے۔بقول شجاع خاور
یعنی گھر اور دشت دونوں لازم و ملزوم ہیں
قاعدہ یہ ہے اِدھر رہنا، اُدھر کی سوچنا

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 12 فروری 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں