Money is Money

منی لانڈرنگ اسکینڈل نیب کا شکنجہ تیار

کہتے ہیں کہ جب کسی انسان کا بُرا وقت چل رہا ہو تو وہ اگر پھر اونٹ پر بھی بیٹھا ہو تو اُسے کتا کاٹ لیتا ہے۔ایسا ہی بُرا وقت آج کل پاکستان پیپلزپارٹی پر سندھ میں آیا ہوا ہے۔گرفتاریاں تو پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی سندھ میں اکثر و بیشتر ہوتی ہی رہی ہیں لیکن جس طرح عین انتخابات کے قریب نیب حکام کے ہاتھوں حسین لوائی کی گرفتاری ہوئی ہے اس واقعہ نے سندھ بھر میں پیپلزپارٹی کے تمام رہنماؤں کو اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سخت اضطراب اور پریشانی میں مبتلاء کردیاہے۔ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس کے مبینہ ملزم اور آصف زرداری کے قریبی ساتھی، پاکستان اسٹاک ایکسینج کے چیئرمین اور سمٹ بینک کے صدر حسین لوائی کو سندھ منی لانڈرنگ اسکینڈل میں گرفتار کر کے اپنی وسیع تر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچینج حسین لوائی پر 3 بینکوں کے 29 جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے، مذکورہ 29 اکاؤنٹس سے رقم کا لین دین اومنی گروپ کے ملازمین کرتے تھے، اومنی گروپ کے مالک آصف علی زرداری کے ایک اور انتہائی قریبی دوست انور مجید ہیں جو سندھ حکومت کی مہربانیوں کی بدولت بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔جبکہ اسی منی لانڈرنگ اسکینڈل میں ملک ریاض کے داماد زین ملک، شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی بھی شامل ہے۔ایف آئی اے کے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اکاؤنٹس کو بحریہ ٹاؤن، سمیت دوسرے پروجیکٹس سے ملنے والے کک بیکس لینے کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ حسین لوائی نے طلحہ کے نام پراکاؤنٹ کھولا جبکہ سمٹ اور سندھ بینک سمیت تین بینکوں میں بھی ان کی طرف سے ہی 29 جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے، یہ اکاؤنٹس انور مجید کے اومنی گروپ کے ملازمین استعمال کرتے تھے۔ صرف سمٹ بینک کے 16 اکاؤنٹس کے ذریعے 20 ارب کا لین دین ہوا۔ اکاؤنٹس میں زین، شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی نے بھی پیسے جمع کرائے۔ ایف آئی اے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اکاؤنٹس کو پروجیکٹس سے ملنے والے کک بیکس لینے کیلئے کئی سالوں سے مسلسل استعمال کیا جارہا تھا۔پیپلزپارٹی کے لیئے بطور سیاسی جماعت پریشانی کی بات یہ ہے کہ ایف آئی اے نے حسین لوائی کیخلاف مقدمے میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی کمپنی کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی بھی منی لانڈرنگ سے بھرپور فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔اس کیس میں سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ انور مجید اور غنی مجید کے علاوہ تمام نام سمٹ بینک کے چیئرمین،صدر یا ملازمین ہیں جن کے نام پر اکاونٹ کھولے گئے ہیں، مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سمٹ بینک کو بطور بنک مکمل طور پر منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق 10 ماہ کے قلیل مدت میں ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی۔یہ رقم جمع کرانے والوں میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے زین ملک (75 کروڑ)، سجاول ایگرو فارمز پرائیوٹ لمیٹیڈ (50 کروڑ 50 لاکھ)، ٹنڈو الہ یار شگرملز (23کروڑ 84 لاکھ)، اومنی پرائیوٹ لمیٹیڈ (5 کروڑ)، ایگرو فارمز ٹھٹہ (ایک کروڑ 70 لاکھ)، الفا ژولو کو پرائیوٹ لمیٹیڈ(2 کروڑ 25 لاکھ)، حاجی مرید اکبر بینکر(2 کروڑ)، شیر محمد مغیری اینڈ کو کانٹریکٹر (5 کروڑ)، سردار محمد اشرف ڈی بلوچ پرائیوٹ لمیٹیڈ کانٹریکٹر(10 کروڑ)، ایون انٹرنیشنل (18 کروڑ 45 لاکھ)، لکی انٹرنیشنل (30 کروڑ 50 لاکھ)، لاجسٹک ٹریڈنگ (14 کروڑ 50 لاکھ)، اقبال میٹلز (15 کروڑ 63 لاکھ)، رائل انٹرنیشنل (18 کروڑ 50 لاکھ)، عمیر ایسو سی ایٹس (58 کروڑ 12 لاکھ) شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو 7 کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسو سی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔یاد رہے کہ انور مجید پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، 2016 میں رینجرز نے ان کے دفتر پر چھاپہ مارکر غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جس کے بعد ان سمیت انور مجید اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ سال سندھ میں گنے کے کاشتکاروں اور شگر ملزمالکان میں کشیدگی کے وقت بھی انور مجید کا نام سامنے آیا تھا، سندھ میں شگر ملز کی اکثریت کے مالک انور مجید ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا گروپ بھی بعض ملز کا مالک ہے، کاشتکاروں کا الزام تھا کہ حکومت ملز مالکان کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ حکومت سندھ نے جب بیمار صنعتوں کو مالی مرعات فراہم کی تو پچاس فیصد صنعتیں انور مجید کی تھیں۔

سندھ کے انتخابی ماحول میں اچانک نمودار ہونے والے یہ مناظر چیخ چیخ کر دہائی دے رہے ہیں کہ سندھ میں بہت جلد گرفتاریوں کا نیا موسم شروع ہونے والا ہے اور احتساب کی فصل کاٹنے کے لیے پوری طرح سے تیاری کر لی گئی ہے پھر بھی اگر کسی کو یہ لکھا ہوا نوشتہ دیوار پڑھنے و سمجھنے میں نہ آئے تو اسے سادگی کہاجائے،بے وقوفی کہا جائے یا کبوتر کی طرح مصیبت کو دیکھ اپنی آنکھیں بند کرنے کی ناکام حکمت عملی کہا جائے۔ فیصلہ اُنہیں پر چھوڑ دیتے ہیں جویہ سب دیکھ کر بھی اگلی حکومت میں ”منصبِ صدارت“ کے سہانے خواب ِ خرگوش دیکھنے میں گُم ہیں کیونکہ اگر بہ نظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو یہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے لیئے انتہائی کڑا اور مشکل ترین وقت ہے۔جس کا احساس آہستہ آہستہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو ہوتا جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اس مشکل ترین وقت سے خود کو اور اپنی پارٹی کو نکال پاتے ہیں یا نہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 19 جولائی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں