NAB Files in Sindh

نیب سندھ میں پھر متحرک،سندھ حکومت کے لیئے نیا دردِ سر

سندھ حکومت کی طرف سے نیب قانون کی منسوخی اور نیب کے اختیارات سلب کرنے کے بعد بدعنوان افسران بے حد خوش تھے کہ اب وہ آرام سے اپنی بقایا زندگی کرپشن کے سمندر میں ہنستے کھیلتے گزاریں گے کہ اچانک سندھ ہائیکورٹ کی مداخلت کے بعد ان کے سارے سہانے خواب چکنا چور ہوگئے اور اُن کی عارضی خوشی یکدم ماتم میں بدل گئی ہے۔سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے نیب کو صوبے میں اپنی بھرپور کاروائیاں جاری رکھنے کے احکامات کے بعد ایک بار پھر نیب اور سندھ حکومت کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔نیب نے بھی اس موقع کو اپنی بقاء کے لیئے غنیمت جانتے ہوئے عدالتی احکامات کے فوراً بعد سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیوشاذر شمعون اور ثاقب سومرو سمیت کئی اہم حکومتی شخصیات سے تعلق رکھنے والے 105 سے زائد مفرور ملزمان کی فوراً گرفتاری اور تلاش کی غرض سے ائیرپورٹ اور دیگر اہم ترین مقامات پر فہرست ارسال کردی ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: منی لانڈرنگ اسکینڈل نیب کا شکنجہ تیار

اس کے علاوہ سندھ کی کئی اعلیٰ حکومتی شخصیات اور بیورکریٹس کے خلاف بھی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جن میں وزیر قانون سندھ ضیا ء الحسن لنجار،رکن سندھ اسمبلی فقیر داد کھوسو، سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن،رکن سندھ اسمبلی اویس مظفر،سابق چیف سیکریٹری صدیق میمن،ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی،سابق چیئر مین اسٹیل مل معین آفتاب شیخ،سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی فضل الرحمن،سابق چیئر مین ایف بی آر علی ارشد حکیم اور سابق سیکریٹری بلدیات علی احمد لوند شامل ہیں۔ ان تمام سیاسی افراد اوردیگربے شمار اعلیٰ افسران پر سندھ بھر میں اربوں روپوں کے غیر قانونی اثاثے بنانے کے ساتھ ساتھ سندھ بھر میں سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کرنی والی لینڈ مافیا کی سرپرستی سمیت کئی سنگین ترین الزامات ہیں جن کی تحقیقات کا نیب سندھ نے ازسرنو نہایت چابکدستی کے ساتھ آغاز کردیا ہے۔ جس کے بعد سندھ بھر کے بدعنوان افراد میں کھلبلی مچ گئی ہے اور انہوں نے سندھ نیب کی کارروائیاں رکوانے کے لیئے سندھ حکومت پر ہر طرف سے دباؤ ڈالواناشروع کردیا ہے۔ ان بدعنوان افسران نے سندھ حکومت کو پیغام پہنچادیا ہے کہ اگر ان پر نیب سندھ نے ہاتھ ڈالا تو پھر وہ اُن تمام شخصیات کے نام اُگل دیں گے جنہوں نے اُنہیں اپنے ساتھ شامل کر کے ناجائز کام کرنے کے لیئے ترغیب دی۔

سندھ حکومت کی طرف سے نیب سندھ کو دباؤ میں لانے کے لیئے سندھ اسمبلی کی استحقاق اور قواعد ضوابط سے متعلق قائمہ کمیٹی نے ڈی جی نیب سندھ کو 24 اگست کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔کمیٹی کے چیئر میں نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم نے ڈی جی نیب سندھ الطاف باوانی کو کمیٹی کے روبرو حاضر ہونے کا نوٹس بھیجا تھا لیکن انہوں نے شرکت نہیں کی۔ڈی جی نیب کی کمیٹی کے سامنے عدم شرکت مناسب عمل نہیں ہے۔ جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ڈی جی نیب سندھ کا قائمہ کمیٹی کا سامنے پیش نہ ہونا انتہائی معنی خیز ہے،ڈی جی نیب نے کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوکر سندھ حکومت کو اپنی طرف سے واضح پیغام دے دیا ہے کہ نیب سندھ بھر اپنی کارروائیاں کسی سیاسی یا غیر سیاسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر بدستورجاری رکھے گا۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے نیب سندھ کے ساتھ ساتھ احتساب عدالتوں کو بھی مقدمات کی کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسمبلی میں بل منظور کرانے سے قبل کونسی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا؟اس کمیٹی میں کتنے قانونی ماہرین شامل تھے؟مذکورہ کمیٹی میں اس سارے معاملہ سے متعلق ہونیوالی مشاورت کے کمنٹس پیش کیئے جائیں۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی کے منٹس اس وقت موجود نہیں ہیں۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے اس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت اگر عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش نہیں کرنا چاہتی تو کیا یہ مقدمہ مشترکہ مفادات کونسل میں بھیج دیں؟ایڈوکیٹ جنرل سندھ بتائیں کہ اگر ان کے ارشادات کے مطابق وفاقی قوانین کا اطلاق صوبہ سندھ میں نہیں ہوسکتا تو پھر کیا تمام خصوصی عدالتوں کو تالا لگادیں؟احتساب عدالتوں کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی،انسداد منشیات اور دیگر تمام خصوصی عدالتیں بند کردیں؟اور سندھ کی عوام کو سندھ حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔چیف جسٹس ہائی کورٹ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ نیب سندھ کی کارروائیوں کے دوران حکومت کی طرف سے کسی قسم کی رخنہ اندازی نہ کی جائے اور انہیں آزادانہ طور پر بدعنوان افراد کے خلاف کھل کر کام کرنے دیا جائے۔

سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کی سرزنش کے بعد نیب سے پلی بارگین کرنے والے 565 افسران جن میں سندھ کے مختلف اضلاع کے 4 ڈپٹی کمشنر ز،محکمہ بلدیات،محکمہ خزانہ،محکمہ تعلیم اور دیگر محکموں میں موجود افسران جو کہ اہم ترین عہدوں پر براجمان ہیں انہیں فوری طور پر ان کے عہدوں سے برطرف کر کے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔کیونکہ نیب قانون کے تحت پلی بارگین کرنے والے افسران کو ملازمت سے برطرف کردیا جاتا ہے اور 10 سال تک انہیں کسی بھی پوسٹ پر نہیں رکھا جاسکتالیکن ان 565 سرکاری افسران نے اپنے سیاسی تعلقات اور سفارشات کے ذریعے اپنی تعیناتی کروارکھی تھی،جن کی برطرفی اب یقینی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 31 اگست 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں