Erdogon and Taliban

ترکی با ترکی، طالبان

ماضی میں ترک حکمرانوں کے سرزمین افغانستان کی مقتدر قوتوں کے ساتھ کتنے بھی گہرے سیاسی روابط،ثقافتی تعلقات یا اُن کے مابین تہذیبی ہم آہنگی اور دفاعی مراسم رہے ہوں لیکن اِس وقت طالبان کسی بھی صورت ترکی، کو افغانستان میں ایک بالادست حیثیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ بلا شک و شبہ ماضی بعید میں ترک اور افغان قوم کے درمیان طویل عرصے تک اعتماد کا مثالی رشتہ استوار رہا ہے۔مگر ماضی قریب میں چونکہ ترکی،اُس نیٹو افواج کا ناگزیر حصہ تھا،جو گزشتہ20 برسوں سے افغانستان سرزمین پر طالبان کے خلاف جنگ میں مصروف تھی۔ اس لیے طالبان ترکی کے ساتھ بطور ایک اسلامی مملکت بہتر سفارتی تعلقات رکھنے کے مسئلہ کو ترجیح تو دے رہے ہیں لیکن ترکی کے ساتھ تعلقات کے معاملہ کو اپنی ترجیح اوّل نہیں سمجھتے۔یاد رہے کہ افغانستان میں تعینات تقریباً 500 فوجیوں پر مشتمل ترک فوجی دستے نے گزشتہ 20 برسوں میں ہمیشہ طالبان کے خلاف کسی بھی فوجی آپریشن اور محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے،افغانستان میں صرف تعمیر وترقی یا امدادی کاموں میں حصہ لیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود طالبان قیادت سمجھتی ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد ترک فوج کا کسی بھی ضروری یا غیر ضرور بہانے سے افغان سرزمین پر قیام کرنا نہ صرف قطعی طور پر غیر مطلوب ہے بلکہ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہد ے کی اصل روح کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیئے: زبانِ پاکستان من ترکی۔۔۔۔!

شاید یہ ہی وجہ ہے ترکی نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد کابل انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی سیکورٹی سنبھالنے کے لیئے اپنا جو بھی منصوبہ امریکا کے ساتھ مل کر بنایا تھا،طالبان قیادت نے اُسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے تنبیہ کی تھی کہ ”اگر ترکی کی فوج نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعدبھی افغانستان میں رہنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف دشمن کے طور پر جہاد کیا جائے گا اور اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا“۔جبکہ ذبیح اللہ مجاہد نے ترکی کے سرکاری چینل ٹی آر ٹی ورلڈ کی عربی سروس کو بتایا کہ”طالبان ترکی کی موجودگی کی مخالفت کریں گے اور کابل ایئرپورٹ پر اس کے کنٹرول کو ”غیر ملکی مداخلت‘‘کے طور پر ہی دیکھیں گے“۔ترکی کے خلاف طالبان کی جانب سے آنے والا یہ ایک ایسا سخت موقف تھا،یقیناجس کی ترک صدر،رجب طیب اردوان کو قطعاً اُمید نہیں ہوگی۔تاہم، اچھی با ت یہ ہوئی کہ ترک صدر طیب اردوان نے طالبان کی جانب سے دیے جانے والے غیر محتاط تبصروں اور بیانات میں چھپی ہوئی اعلانیہ دھمکیوں کویکسر نظر انداز کرتے ہوئے کابل ائیرپورٹ کی سیکورٹی سے متعلق طالبان سے بات چیت جاری رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ”ہم غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے معاملہ پر طالبان کے احساسات کو سمجھتے ہیں اور ترکی کے متعلق اُن کے اذہان میں جو بھی غیر ضرور ی اور لایعنی خدشات پائے جاتے ہیں اُنہیں افہام و تفہیم سے دور کرنے کی مخلصانہ کوشش کی جائے گی“۔

دراصل کابل میں طالبان کے داخل ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا ترک صدر طیب اردوان ابتداء میں درست اندازہ لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ انقرہ طالبان کے مقابلے میں اپنی سفارتی حیثیت متعین کرنے میں کچھ زیادہ ہی خوش فہمی کا شکار ہوگیا اور ترک حکام نے ازخود ہی فرض کرلیا کہ طالبان کابل ائیرپورٹ کا انتظام و انصرام مکمل طور پر ترک افواج کے حوالے کرنے پر غیر مشروط طورپر آمادہ ہوجائیں گے۔ انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ طالبان امریکا اور نیٹو افواج کو شکست فاش دے کر کابل میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے ہیں اور ہر فاتح کا یہ پہلا حق ہوتا ہے کہ اُس کی خواہشات اور شرائط کو تسلیم کرکے مفتوح ممالک اُس کے ساتھ اپنا معاملہ طے کریں۔یقینا جب طیب اردوان کواپنی غلط فہمی کا احساس ہوا ہوگا توتب ہی انہوں نے طالبان قیادت کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کے اُصول پر براہِ راست مذاکرات و گفت و شنید کا فیصلہ کیاہوگا۔یہ ہی وہ درست”سفارتی راستہ“ ہے، جس پر چل کر ترکی اور طالبان کے درمیان اعتماد کا ماحول پیدا ہوسکتاہے۔

یاد ش بخیر کہ ترک صدر طیب اردوان کی یہ حکمت عملی بروئے کار آئی اور وہ طالبان جو ترک افواج کو انخلاء کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد ایک لمحہ کے لیئے بھی اضافی قیام کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں تھے۔ اَب وہی طالبان قیادت چند شرائط اور کچھ یقین دہانیوں کے بعد نہ صرف ترکی کو کابل ائیرپورٹ کے تیکنیکی اُمور کی دیکھ ریکھ دینے پر آمادہ ہوگئی ہے بلکہ کابل ائیرپورٹ کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ترک افواج کے حوالے کرنے پر نیم رضا مند دکھائی دے رہی ہے۔ البتہ! یہ ضرور ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر ترکی کے ساتھ ساتھ قطر بھی موجود رہے گا۔ یعنی طالبان نے ترکی اور قطر سے کہا ہے کہ ”وہ کابل ائیرپورٹ کی تیکنیکی اُمور اور حفاظت کی ذمہ داری ترکی اور قطر کی کسی بھی ایسی نجی کمپنی کو سونپنے کو تیار ہیں،جس میں ترک افواج کے ریٹائرڈ سپاہی شامل ہوں، تاکہ دنیا بھر میں یہ تاثر نہ جائے کہ کابل ائیرپورٹ کی سیکورٹی باقاعدہ ترک فوج نے سنبھالی ہوئی ہے“۔ نیز طالبان، ترکی اور قطر سے یہ بھی توقع اور اُمید رکھتے ہیں کہ ”اُن کے تیکنیکی و سیکورٹی ماہرین اپنا تجربہ اور ہنر افغان اہلکاروں کو بھی منتقل کریں گے تاکہ آئندہ آنے والے برسوں میں افغانستان بھر میں قائم ائیرپورٹس کا انتظام و انصرام طالبان اہلکار مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے سکیں۔علاوہ ازیں طالبان نے ترکی اور قطر کو کابل ائیرپورٹ کی سیکورٹی کا انتظام دینے کو اس بات سے مشروط کیاہے کہ دونوں ممالک طالبان حکومت کو تسلیم بھی کریں گے۔

اگر بہ نظر غائر جائزہ لیاجائے تو معلوم ہوگا کہ نئی طالبان حکومت بے شمار معاملات کے حل اور مسائل کے خاتمہ کے لیئے ترکی کے تجربے اور عملی صلاحیتوں کی قدم قدم پر ضرورت ہوگی۔ اسی لیئے طالبان قیادت نے ترکی سے افغانستان کی تعمیرو ترقی میں اپنا بھرپور کردارادا کرنے کی باضابطہ طور پر درخواست کی ہے۔ فی الحال طیب اردوان نے طالبان کی درخواست پر ہاں اور ناں کی صورت میں کوئی فیصلہ کن جواب نہیں دیا۔ لیکن غالب امکان یہ ہی ہے کہ ترکی کا جواب ہاں ہی ہوگا۔ کیونکہ ترکی کے نزدیک افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنا ازحد ضروری ہوگا۔ بہت سے تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ترکی افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھ کر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ نیٹو کے ان دو اتحادی ممالک کے درمیان کئی معاملات پر سنگین اختلافات پائے جاتے ہیں۔ترک صدر طیب اردوان کے نزدیک افغانستان سے امریکا اور نیٹو افواج کا نخلاء ہونے کے بعد افغان سرزمین پر ترکی کے سیاسی و سفارتی اثرو نفوذ میں اضافہ ہوتاہے تو پھر امریکی صدر جوبائیڈن کو بہت سے معاملات پر ترکی کی مدد درکار ہوگی۔ یوں ترکی”افغان کارڈ“استعمال کر کے امریکا سے اپنے بہت سے دیرینہ مطالبات منوانے کی پوزیشن میں آسکتاہے۔ جیسا کہ ترکی نے 1950 سے 1953 کے درمیان جاری رہنے والی کوریائی جنگ میں اپنے 21 ہزار فوجی بھیجنے کی قیمت نیٹو اتحاد میں شامل ہوکر لی تھی۔

دوسری جانب ترکی کے افغانستان میں قیام سے پورے خطے خاص طور پر مشرق وسطی میں اس کا اثر و رسوخ اور عالمی وقار بڑھے گا۔کیونکہ ترکی کی جیو پولیٹیکل پوزیشن ایسی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں برقرار رکھ سکتا ہے۔جبکہ ترکی کے پاکستان کے ساتھ بھی انتہائی قریبی اور دیرپا تعلقات ہیں۔ پاکستان کے تعاون سے طالبان کے ساتھ معاملات طے کرنا ترکی کے لیئے اور بھی زیادہ سہل اور آسان ہوگا۔ویسے ترکی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے بعد یہ ایک اہم علاقائی طاقت بھی ہے۔ یہی و جہ ہے کہ ترکی افغانستان میں رہ کر اپنی طاقت میں مزید اضافہ کرسکتاہے۔یاد رہے کہ ترکی جن وجوہات کے سبب لیبیا، صومالیہ، قطر، آذربائیجان، شام اور عراق میں موجود ہے، انھی وجوہات کے سبب اسے افغانستان میں بھی رہنا چاہے گا۔یعنی افغانستان میں اس کی موجودگی مشرق وسطیٰ میں اس کے ایجنڈے کو مزید آگے کی جانب بڑھائے گی اور افغانستان غیر محسوس اندا زمیں ترکی کو عالمی سیاست میں ایک نئے مقام اور قابل فخر مقام پر لے جاسکتاہے۔

دلچسپ با ت یہ ہے کہ تاریخ میں ترکی اور افغانستان کے درمیان ہمیشہ سے مثالی،سیاسی اور سفارتی تعلقات استوار رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 1920 اور 1960 کے درمیان ترکی نے افغانستان کو جدید بنانے کی کوششوں کی سب سے پہلے حمایت کی تھی۔افغانستان کے لیئے یہ ہی وہ مشکل وقت تھا، جب دنیا کا کوئی بھی ملک افغان ریاست کو ایک جدید ریاست کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔لیکن اِن نامساعد حالات میں انقرہ کا کابل میں پہلا سفیر مقرر ہوا تھا۔ اتاترک کے زمانے سے ترکی اور افغانستان کے ہر شعبے میں گہرے تعلقات رہے ہیں۔گزشتہ 20 برسوں میں نیٹو افواج میں شامل ترک فوجی دستے نے طالبان کے خلاف ہونے والی کسی بھی عسکری کاروائی میں کبھی حصہ نہیں لیا۔ بلکہ ترک افواج ترک فوج نے افغانستان میں گزرنے والا اپنا زیادہ تر وقت افغان عوام کو زیادہ سے زیادہ سماجی و معاشی سہولیات فراہم کرنے میں صرف کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ افغان عوام کو نیٹو میں شامل ہر ملک کی عوام سے بہت سی شکایات رہی ہیں لیکن ترک افواج کے بارے میں افغان عوام ہوں یا پھر طالبان سب کا رویہ ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ ہمارے خیال میں ترکی اور افغانستان کے مستحکم اور مضبوط تعلقات میں خطہ میں دیرپا امن کے قیام میں معاون ثابت ہوں گے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 06 ستمبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں