Is Cryptocurrency Dead for Good

کرپٹو کرنسی، ایک کھوٹا سکہ؟

”کا غذ کا ایک چھوٹا سا پرزہ پیسے کا نعم البدل کیسے بن سکتاہے؟“ یہ سوال اُس وقت بھی لوگوں کی زبان پر آیا تھا،جب دنیا میں اولین کاغذکے کرنسی نوٹ کا جراء کیا گیاتھا۔بعد ازاں جب پلاسٹک کرنسی یعنی ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ متعارف ہوئے تو تب بھی ماہرین معیشت کی اکثریت نے پیش گوئی کی تھی کہ”پلاسٹک کرنسی کا بطور کرنسی فروغ پانا بہت مشکل ہوگا“۔ حد تو یہ ہے کہ آج بھی اے ٹی ایم مشین پر صرف بائیں ہاتھ کا ا نگوٹھا لگا کر پیسے نکالنے کا عمل بے شمار لوگوں کو حیرت زدہ کرنے کے لیئے کافی ہے۔دراصل ٹیکنالوجی کا ابتدائی تاثر ہی حیران کن اور ناقابل یقین ہوتاہے۔ اس لیئے ہر ٹیکنالوجی کے آغاز پر اُس کے متوقع فوائد سے انکار کرنا اور پھر کچھ عرصہ بعد اُسے قبول کرلینے کی عادت ِ بد میں حضرتِ انسان ہمیشہ سے ہی مبتلاء رہا ہے۔ اس مناسبت سے علامہ اقبال کا یہ شعر کتنا برمحل ہے کہ ”آئین نو سے ڈرنا اور طرزِ کہن پر اَڑنا۔۔۔منزل یہ ہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں“۔

دلچسپ با ت یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کے منصہ شہود پر آجانے کے بعد یہ کٹھن مرحلہ بارِ دگر دنیاکی ہر قوم وملت کو درپیش ہے اور کئی برسوں سے یہ سوال پورے شد و مد کے ساتھ ساری دنیا میں زیر بحث ہے کہ ”فقط کمپیوٹر اسکرین پر نظر آنے والے چند حروف اور ہندسوں کا ایک مختصر سا مجموعہ پیسے کا نعم البدل کیسے اور کیونکر بن سکتا ہے؟“۔ عموماً کسی نئی ٹیکنالوجی،ایجاد اور دریافت کو سمجھنے کے لیئے ایک دو برس کافی ہوتے ہیں لیکن ہماری جدید معاشرتی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کرپٹو کر نسی کا آغاز ہوئے 15 برس سے زائد مدت گزرچکی ہے لیکن ابھی بھی کرپٹوکرنسی کی اصل ہیت کذائیہ کے بارے میں کسی عام شخص کے لیئے سمجھنا اور سمجھانا، ناممکن نہیں تو مشکل ترین کام ضرور ہے۔ کرپٹوکرنسی کی اِسی گنجلک پراسراریت نے اسے دھوکے باز اور نوسر بازوں کے نزدیک سب سے محبوب ترین شئے بنا دیا ہے اور کرپٹو کرنسی کے نام پر دنیا بھر میں دورِ جدید کے ڈیجیٹل دھوکے باز،سادہ لوح افراد کو راتوں رات ارب پتی بننے کے سبز باغ دکھا کر لوٹنے میں مصروف ہیں۔ چند ہفتے قبل پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بھی کرپٹو کرنسی کے نام پر ہزاروں پاکستانی شہریوں کے ساتھ تقریباً 18 ارب روپے کی خطیر رقم کا فراڈ کیے جانے کا انکشاف کیاتھا۔

پاکستان میں کرپٹوکرنسی کے اِس بڑے مالیاتی اسکینڈل کے منصہ شہود پر آ جانے کے بعد اَب ہمارے ہاں بھی کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ یعنی باضابطہ اور باقاعدہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں زبردست بحث و مباحثہ کا آغاز ہوچکاہے۔اس حوالے سے ایک طبقہ فکر کا موقف ہے کہ ”چونکہ کرپٹو کرنسی چند حروف اور ہندسوں کا صرف ایک خیالی مجموعہ ہے اور اس کی پشت پر پیسے کی قدر طے کرنے کا کوئی طے شدہ مالیاتی نظام موجودنہیں ہے، اس لیئے کرپٹوکرنسی کے کاروبار کرنے کی قانونی اجازت کسی بھی صورت نہیں ہونی چاہیئے“۔ جبکہ دوسرے مکتبہ فکر کی رائے میں ”کرپٹو کرنسی ایک تقسیم شدہ ڈیجیٹل ریکارڈ پر مبنی مکمل مالیاتی نظام ہے جسے بلاک چین کہا جاتا ہے اور اس نظام میں ہر ایک ٹرانزیکشن کے بارے میں تمام تر معلومات دستیاب ہوتی ہے۔ جس میں کرنسی ادائیگی کی تاریخ،وقت، کل قیمت، خریدار اور فروخت کنندہ کے کوائف شامل ہیں، نیز بلاک چین میں کرپٹوکرنسی کی ہرادائیگی کے لئے ایک منفرد شناختی کوڈ بھی مہیا کیا جاتاہے۔لہٰذا کرپٹو کرنسی دنیا بھر میں رائج روایتی کرنسی سے کہیں زیادہ محفوظ اور مفید ڈیجیٹل کرنسی ہے“۔

ہم کرپٹو کرنسی کو کھرا سمجھیں یا کھوٹا؟
حیران کن بات یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کے حامی اور مخالفین سب ہی الاماشاء اللہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور علم اقتصاد کی تیکنیکی جزیات سے مکمل طور پر آگاہی رکھنے کے دعوی دار ہونے کے باوجود یہ معاملہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر افہام و تفہیم سے حل کرنے سے قاصر دکھائی دے ہیں۔ کیونکہ ہر فریق اپنی رائے کے مستند ترین ہونے پر بضد ہے اور اُس کے نزدیک دوسرے فریق کی جانب سے پیش کی جانے والے دلائل فضول اور ناقابل ِ سماعت ہیں۔ مثال کے طور کرپٹوکرنسی کے مخالف اس کو کرنسی ماننے سے ہی مکمل طورپر انکاری ہیں تو دوسری طرف کرپٹوکرنسی کی حمایت میں صبح و شام رطب اللسان رہنے والے افراد سمجھتے ہیں کہ کرپٹوکرنسی کی قانونی حیثیت بحال ہوجانے سے ملکی معیشت کی آناً فاناً کایا پلٹ جائے گی اور ہمارا ملک اپنے سارے بیرونی قرضے عالمی مالیاتی اداروں کویکمشت نقد ادا کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ حالانکہ اگر عقل اور علم ِ اقتصاد کے بنیادی اُصولوں کی روشنی میں پرکھا جائے تو دونوں فریقین کی رائے اور دعووں سے مکمل اتفاق کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ بٹ کوائن کے مخالفین کی رائے کے یکسر برعکس کرپٹو کرنسی کو دنیا کے کئی ممالک نے واقعی ایک ڈیجیٹل کرنسی یا اثاثے(Asset) کا درجہ دیا ہوا ہے اور وہاں اسے آپسی لین دین اور دیگر تجاری سرگرمیوں کے لیئے کامیابی کے ساتھ بروئے کار لایا جارہا ہے۔مثلاً آسٹریلیا،ایسٹونیا،اٹلی، سویڈن اور سنگا پور میں کرپٹوکرنسی کو جزوی طور پر ہی سہی بہر کیف بطور ڈیجیٹل کرنسی قبول کیا جاچکا ہے۔جبکہ برازیل، بلغاریہ،فن لینڈ،اسرائیل،مراکش،سوئزرلینڈ اور ناروے میں اسے اثاثہ (Asset) کی حیثیت حاصل ہے۔
دوسری جانب بٹ کوائن کے حمایتیوں کے بلند وبانگ دعووں کے بالکل اُلٹ یہ ایک بھی بدیہی حقیقت ہے کرپٹو کرنسی، بہر حال الہ دین کاچراغ تو ہرگز نہیں ہے کہ جس کو ایک بار رگڑنے سے یک دم کسی ملک کی معاشی حالت بدلی جاسکتی ہو۔اگر ایسا ممکن ہوپاتا تو ابھی تک ایکواڈور، کروشیا، قازقستان، فلپائن، سلووینیا،بیلاروس اور ایل سلواڈور،دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوااچکے ہوتے کیونکہ یہ وہ ممالک ہیں،جو ایک مدت ہوئی کرپٹوکرنسی کو قانونی حیثیت دے چکے ہیں۔ مگرابھی تک اِن میں سے کسی ایک ملک میں بھی کرپٹو کرنسی کے فقط قانونی ہونے کے باعث قابلِ ذکر معاشی انقلاب برپا نہیں ہوسکا۔ دراصل کرپٹو کرنسی میں بھی وہ تمام تر خوبیاں اور خامیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں،جو دنیا کے کسی ملک کے جاری کردہ سکہ رائج لوقت میں ممکنہ طور پر ہوسکتی ہیں۔

اگر عام فہم الفاظ میں یہ کہہ دیا جائے کرپٹوکرنسی دنیا بھر میں رائج لین دین کے لیئے استعمال ہونے والے تمام طریقوں میں سب سے زیادہ پیچیدہ، مشکل اور پراسرار معاشی نظام ہے تو، ایسا کہنا زیادہ قرین قیاس ہوگا۔ کیونکہ کرپٹو کرنسی ایک ورچوئل اثاثہ ہے یعنی یہ محض ڈیٹا کی صورت کمپیوٹر میں موجود ہوتی ہے اور حقیقی صورت میں کہیں دستیاب نہیں ہوتی۔نیز کرپٹوکرنسی کی قدرو قیمت بہت کم عرصے کے دوران غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوسکتی ہے۔ جبکہ کسی عام شخص کے لیئے اس کے کام کرنے کا طریقہ اور اس سے وابستہ خطرات سے بروقت آگاہ ہونا کم و بیش ناممکن ہے اور بلاک چین میں کوئی ایسا نظام سرے سے بنایا ہی نہیں گیاجو کسی صارف کو کرپٹوکرنسی کی قدر میں ہونے والے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں ہونے والے نقصان سے تحفظ مہیا کرسکے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کا زیادہ تر استعمال ٹریڈنگ اور سٹے بازی کے لیئے کیا جاتاہے اور شاذ و نادرہی کوئی شخص اِسے خرید و فروخت یالین دین کے لیئے وسیلہ بناتاہے۔

کرپٹوکرنسی کا مقدمہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سو برسوں میں ہزاروں کرنسیاں معرض وجود میں آئی لیکن آج اِن میں سے فقط 193باقی ہیں اور دیگر تمام کرنسیاں ختم ہوگئیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی بچ جانے والی 193 کرنسیوں کو زندہ و جاوید رکھنے والی وہ مشترکہ خوبی کون سی ہے، جس سے معدوم ہوجانے والی ہزاروں کرنسیاں محروم تھیں؟۔اس سوال کا جواب سوائے اِس کے اور کیا ہوسکتاہے کہ جو کرنسی معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے میں باسہولت اور سہل ثابت ہوئی وہ باقی رہ گئی جبکہ دیگر ازخود ہی متروک ہو گئیں۔یعنی انسانی معاشرہ میں سکہ صرف وہی چلتاہے، جس کا رکھنا،سنبھالنا اور کسی شئے کے عوض تبادلہ کرناعوام کی اکثریت کے لیئے آسان ہوتاہے۔ اس ایک عمومی اُصول کو ملحوظ خاطر رکھ کر کرپٹو کرنسی کی جانچ کی جائے تو یہ جدید سکہ آپ کو کچھ کھوٹا،کھوٹا سا لگے گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں بسنے والے تقریباً نوے فیصد افراد کو کرپٹوکرنسی کو سمجھنے اور اس کا درست استعمال سیکھنے کے لیئے کم ازکم دس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ اس لیئے اگر بٹ کوائن کے حمایتی کرپٹوکرنسی کو مستقبل کی کرنسی قراردیتے ہیں تو ہمیں اُن سے سوفیصد اتفاق ہے۔ بس ڈر ہے تو اتنا سا کہ اگر انہوں نے”ٹیکنالوجی مارچ“یا ”بٹ کوائن مارچ“نکال کر حکومت ِ وقت کو کرپٹوکرنسی کی قانونی حیثیت بحال کرنے پر مجبور بھی کر دیا۔ تب بھی پاکستانی عوام کو اِسے قبول کرنے میں پوری ایک دہائی درکار ہوگی اور اِس تمام عرصہ میں دھوکہ باز اور نوسرباز، بٹ کوائن کے نام پر سادہ لوح افراد کو خوب دل کھول کر لوٹیں گے۔

لہٰذا،اسٹیٹ بینک اور حکومتِ پاکستان کا یہ موقف تو سوفیصد درست ہے کہ کرپٹو کرنسی کو فوری طور پر قانونی حیثیت دینا، ایک عام پاکستانی کو بے شمار معاشی خطرات کے چنگل میں بے یارومددگا چھوڑنے کے مترادف ہو سکتاہے۔ لیکن دوسری جانب حکومت کی جانب سے کرپٹوکرنسی پر بطور ڈیجیٹل کرنسی مکمل پابندی کی سفارش کرنا بھی دو وجوہات کی بناء پر ایک صائب اور دانش مندانہ اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ کرپٹوکرنسی چونکہ ایک ڈی سینٹرلائزڈ یعنی ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے،جس کا کنٹرول کسی فردِ واحد کے پاس موجود نہیں ہے۔ اس لیئے بٹ کوائن کے جن کو پابندی کی بوتل میں بند کرنا دنیا کی کسی بھی حکومت کے لیے کارِ محال ہے اور ابھی تک عام مشاہدہ میں یہ ہی آیا ہے کہ اگرچہ کوئی ملک یا حکومت کرپٹو کرنسی کی ویب سائٹس کو بلاک بھی کردے تب میں ہزاروں ایسے طریقے موجود ہیں،جن کی مدد سے کوئی بھی شخص بلاک ویب سائٹس کو اپنے کمپیوٹر اور موبائل پر باآسانی استعمال کرسکتاہے۔

دوسری وجہ یہ اندیشہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بٹ کوائن پر مکمل پابندی عائد ہوجانے کے بعد کرپٹوکرنسی کا کاروبار اور مائننگ کرنے والے وہ بڑے عالمی ادارے بھی پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے بلیک لسٹ کرسکتے ہیں،جن کی ساکھ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ فی الحال تو شاید ہمیں اِن اداروں کی جانب سے پاکستان کو خیر باد کہنے کاذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچے، لیکن بعض معاشی ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق دس سال بعد اگر واقعی کرپٹو کرنسی چند ضروری تبدیلیوں کے بعد حقیقی اور قابل قبول ڈیجیٹل کرنسی کا روپ دھار لیتی ہے تو ہمیں ممکنہ طور پر ناقابلِ تلافی خسارہ بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے ماضی میں ہماری عجلت میں بنائی گئی معاشی پالیسیوں کے باعث پے پال اور ایمیزون جیسے بڑی کامرس کمپنیوں نے پاکستان کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کردیا تھا۔ اس لیئے عقل مندی کا تقاضا تو یہ ہی ہوگا کہ ہم کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے اِسے متنازعہ اور خطرناک قرار دے کر اُس وقت تک واچ لسٹ میں رکھیں جب تک کہ دنیا کی اکثریت کرپٹوکرنسی کو قبول یا رَد کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرلیتی۔ یاد رہے زیادہ تر ممالک بھی کرپٹو کرنسی کے متعلق ”تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو“ والے مقولے پر عمل پیرا ہیں۔

کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے گریز کریں
یہ ایک نصیحت ہے اُن تمام قارئین کے لیئے جو بٹ کوائن اور کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے والے اشتہارات کی چکاچوند سے متاثر ہوکر اپنی محنت کی کمائی، یک دم ہزار گنا بڑھ جانے کے لالچ میں ڈیجیٹل دھوکے بازوں کے حوالے کرنے کا سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق”سالِ گزشتہ 2021 میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری،سٹے بازی اور ٹریڈنگ کا جھانسہ دے کر دنیا بھر میں لگ بھگ ساڑھے دس ہزار افراد سے مجموعی طور پر 14 بلین ڈالر سے زیادہ کا فراڈ کیا گیاتھا“۔واضح رہے کہ اس میں وہ کروڑوں ڈالر کی رقم شامل نہیں ہے جو ہیکرز نے کرپٹوکرنسی رکھنے والے افرادکے والٹ اکاؤنٹس کو ہیک کرکے چرائی تھی۔ اِن اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ سرِدست کمپیوٹر کی بنیادی مبادیات سے نابلد ایک عام شخص کے لیئے کرپٹوکرنسی میں پیسا لگانا کس قدر خطرناک ہوسکتاہے۔

شاید اسی لیئے دنیائے انٹرنیٹ پر یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ ”کرپٹو کرنسی میں پیسا لگانے والے اپنی جمع پونجی گنوا دیتے ہیں،جبکہ اس میں اپنا تھوڑا سا دماغ کھپانے والے مفت میں بٹ کوائن کمالیتے ہیں“۔جی ہاں! یہ ایک حقیقت ہے کہ مائنرز(Miners) اور بلاک چین ڈویلپرز(Blckchain Develpers) نے ہی آج تک کرپٹوکرنسی کی بدولت سب سے زیادہ مال و دولت کمائی ہے،جبکہ بڑے بڑے سرمایہ کار وں کوبٹ کوائن نے صرف ایک رات میں دیوالیہ کردیا۔ اس لیئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوان ڈیجیٹل فراڈیوں کے چرب زبانی سے متاثر ہوکر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری، سٹے بازی اور ٹریڈنگ کرکے اپنی حلال کی کمائی ضائع کرنے کے بجائے،اس جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کریں اور اگر ممکن ہوسکے تو اس شعبہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کریں۔تاکہ آنے والے وقت میں اگر کرپٹو کرنسی کا ڈیجیٹل سکہ، رائج الوقت کرنسی کی صورت اختیار کرلیتاہے تو اس سے ہمارے نوجوان بہتر طور پر مستفید ہوسکیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2030 تک دنیا میں کم ازکم 5 لاکھ بلاک چین ڈویلپر ز، اور اتنے ہی اعلی تعلیم یافتہ مائنرز درکار ہوں گے۔فی الحال اس شعبہ میں تیکنیکی مہارت اور تخصیصی تعلیم کے حامل افراد کی کل تعداد 4 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کرپٹوکرنسی کو مستقبل کی ڈیجیٹل کرنسی قرار والے ہمارے نام نہاد، دانش ور اپنے تھوڑے سے مالی فائدہ کے لیئے نوجوانوں کو بٹ کوائن میں سرمایہ لگانے کے ترغیبی اشتہارات تو سوشل میڈیا پر ضرور چلاتے ہیں لیکن اِن میں سے کوئی بھی اپنے ملک کے نوخیزذہنوں کو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی جانب متوجہ کرنے کے لیئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تشہیری مہم نہیں چلاتا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 13 مارچ 2022 کے خصوصی شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں