Pakistan China And USA

چین ہمارے پیچھےہے، امریکہ ہمارے آگے

چین ہمارا دیرینہ دوست ہے اور امریکہ ہمارا پرانا معشوق۔تاریخ گواہ ہے کہ جتنا ہم چین کی دوستی پر نازاں رہے ہیں اُس سے کہیں زیادہ ہم امریکہ کی زلف کے بے دام اسیر ثابت ہوئے ہیں۔ دوستی اور عاشقی کے بیچ فضول سا”سفارتی توازن“قائم کرنے کی جدوجہد میں ہماری قوم نے ایک عمر گزاردی لیکن بدقسمتی سے ہماری تمام عاشقانہ حرکتیں بھی امریکہ کو ہم سے پے درپے بے وفائیاں کرنے سے باز نہ رکھ سکیں۔یوں کہیے کہ ہمیں امریکا کا والہانہ وصل تو خیر کیا خاک حاصل ہونا تھا بلکہ ہمارے اِس نامراد”امریکی عشق“نے اُلٹا اثر یہ دکھایا کہ ہماری چین کے ساتھ ووستی بھی امریکہ کے ساتھ چلنے والے معاشقے کے مضر اثرات سے محفوط و مامون نہ رہ سکی اور پاک چین دوستی بلند و بانگ دعووں کے باوجود بھی یا س و گمان کے مہیب سایوں سے مکمل طورپر باہر نہ نکل سکی۔ یعنی تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سفارتی تعلقات میں روا رکھے جانے والے اپنے دو رخی سفارتی رویے کی وجہ سے ہم من حیث القوم نہ تو امریکہ کی نظر وں میں خود کو ایک اچھا عاشق ثابت کرنے میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی ہم چین کے لیئے ایک ایسا سمجھدار دوست بن سکے جیسا کہ دوست بننے کا حق ہم پر واجب ہوتا تھا۔

امریکہ کے 70 سالہ عشق نے ہماری”ملّی انا“ پر اتنے کاری زخم لگائے ہیں کہ جن کا شمار کرنا بھی ممکن نہیں لیکن امریکی معشوق کے ہزارہا زخم اپنے سینے پر تمغوں کی مانند سجانے کے باوجود بھی ہم امریکہ کے ساتھ اپنا معاشقہ اِس موہوم سی اُمید کے سہارے پر نبھائے چلے آرہے ہیں کہ شاید اَ ب کی بار امریکہ کو ہماری بے مثال ملّی قربانیوں کی قدر ہوجائے۔مگرمثل مشہور ہے کہ”وہ معشوق ہی کیا جو اپنے عاشق پر جفاکرنے سے باز آجائے“۔امریکہ کے عشق نے ہماری آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی ہوئی ہے کہ کئی بار تو ہم اُس کی جفاؤں کو بھی وفائیں بنا کر دنیا بھر کے سامنے پیش کرنا شروع کرد یتے ہیں۔ دُور کیوں جائیں حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی مخدوش صورت حال کو ہی بطور مثال لے لیجئے کہ کس طرح کشمیر پر بھارتی دراندازی کے خلاف امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیئے ہم نے امریکہ اور اقوامِ متحدہ میں جاکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کیسے کیسے ترلے،منتیں کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن مجال ہے جو امریکہ ہمارے ازلی رقیب ِ روسیاہ بھارت کی کھلم کھلا سفارتی حمایت سے ذرا بھی باز آیا ہو۔ جبکہ امریکی معشوق کے مقابلے میں ہمارے بے لوث دوست چین نے مسئلہ کشمیر پر ہر محاذ پر اعلانیہ طور پر ہماری سفارتی مدد و اعانت کرنے کی بھرپورکوشش کی۔اگر یہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی ہم مسئلہ کشمیر کو امریکی ثالثی کی روشنی میں ہی حل کرنے پر مصر رہیں تو اِسے خودفریبی کے سوا اور کیا کہاجاسکتاہے؟۔فکر مندی کی بات تو یہ ہے کہ جو امریکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا ٹھیکہ دار ہونے کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر میں دو مہینے سے زائد گزرنے کے بعد بھی بھارت کو کرفیو اُٹھانے پر آمادہ نہ کرسکے۔ ایسے امریکہ کی مسئلہ کشمیرپر ثالثی کرنے کے بارے میں تو سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔



میرے خیال میں کسی ایک ملک سے سفارتی تعلقات کے نام پر 70 سال تک مسلسل دھوکا کھاتے رہنا، کسی بے وقوف سے بے وقوف قوم کے لیئے بھی سبق سیکھنے کے لیئے کافی ہوتاہے۔ یقینا اَ ب وہ تاریخی لمحات آپہنچے ہیں جب ہمیں امریکی عشق کے پھندے سے اپنی گردن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے آزاد کروالینا چاہئے اور سفارتی محاذ پر اپنے لیئے فقط چین کی بے لوث دوستی پر اکتفا کرلینا چاہئے۔بدقسمتی سے اگر اَب بھی ہم نے ماضی کے تلخ تجربات سے سبق نہ سیکھا اور اپنے امریکی معاشقے کو طول دینے پر ہی بضد رہے تو عین ممکن ہے کہ یہ جان لیوا”عشق ِ بے لذت“اِس بار ہم سے کہیں ہمارے دیرینہ دوست چین کی رفاقت کو بھی ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے نہ چھین کر لے جائے۔ اِن اندیشوں کے تناظر میں پاکستان کے آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا حالیہ دورہئ چین انتہائی فیصلہ کُن اہمیت کا حامل ہے اور آنے والے دنوں میں اِس اعلیٰ سطحی دورے کے انتہائی دُور رس اثرات پاکستان کی سفارت پالیسی پر واضح طور پر محسوس کیئے جاسکیں گے۔یہ اثرات اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور بُرے بھی۔ اگر پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت کی طرف سے کیا جانے والا یہ دورہئ چین کامیاب رہا تو پھر پورا خطہ اِس دورے کے اچھے ثمرات سے ضرور بالضرورمستفید ہو گا جبکہ حالیہ دورہئ چین کی ناکامی پورے خطہ کو امریکہ،اسرائیل اور بھارت کی ایک باجگزار ریاست میں بھی بدل سکتی ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے حالیہ دورہ چین کو غنیمت جانتے ہوئے سی پیک پر پائے جانے والے چینی قیادت کے تمام تر تحفظات کو فی الفور دُور کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور فی الحال خیر سگالی کے طور رزاق داؤد جیسے سی پیک مخالف عزائم رکھنے والے وزرا اور مشیروں کو اپنے حلقہ ارادت سے بے دخل کرنے کا سرکاری اعلان جاری فرمادیں۔کیونکہ ایک بات تو اظہر من الشمس ہے کہ رزاق داؤد جیسے امریکہ نواز مشیروں باتدبیروں کے ہوتے ہوئے سی پیک جیسے عظیم الشان منصوبے کی باحفاظت تکمیل انتہائی مشکل ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ چین سے آنے والی ابتدائی خبریں خاصی حوصلہ افزاء ہیں لگتا یہ ہی ہے کہ عمران خان اِس بار کافی تیاری کے ساتھ عازمِ چین ہوئے ہیں اور اگر عمران خان نے استقامت دکھائی یا ہماری قسمت نے یاوری کی تو اِس دورہئ چین کے طفیل امریکہ کے عشق کا طوق بھی ہمارے گلے سے اُتر سکتا ہے۔ آخر میں مرزا غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ بس اتنا ہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ
ایماں ہمیں روکے ہے جو کھینچے ہے ہمیں کفر
چین ہمارے پیچھے ہے امریکہ ہمارے آگے

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 17 اکتوبر 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں