A supporter of Pakistan's Muttahida Quami Movement political party chants slogans during a protest in Karachi

سندھ میں سیاست کا اُلٹا سفر کب تک جاری رہے گا؟

ایک طویل عرصے بعد، گزشتہ دنوں ایم کیوایم پاکستان، کراچی شہر کی سڑکوں پر ہزاروں افراد کی پرہجوم ریلی کی صورت میں سندھ حکومت کے صدائے احتجاج بلند کرتی ہوئی نظر آئی۔یہ احتجاجی ریلی عوامی شرکت کے لحاظ سے کتنی موثر تھی یا غیر موثر؟۔ اس نقطہ پر بحث کرنا ایک بے معنی سی بات ہے کیونکہ کراچی کی سیاست میں ”عوامی شرکت“ سے زیادہ ”عوامی مزاج“فیصلہ کن کردار اداکرتاہے۔ حیران کن طور پر ایم کیو ایم پاکستان کی حالیہ احتجاجی ریلی میں شریک زیادہ تر افراد کا مزاج انتہائی جارحانہ تھا، اسی عوامی مزاج کو دیکھتے ہوئے ریلی میں شریک ایم کیوایم پاکستان کے تمام رہنماؤں نے سندھ حکومت کو مخاطب یا یوں کہہ لیں کے للکارتے ہوئے جو تقریریں کیں،وہ بھی بلاشک و شبہ انتہائی جارحانہ تھیں۔ خاص طور پر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے ریلی کے شرکا ء کو یہ کہنا کہ ”آئندہ سے مہاجر عوام اپنے ایڈریس یعنی پتے میں ”جنوبی سندھ“کو بطور صوبہ لکھیں“۔حالیہ سیاسی تناظرمیں ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا بہت سخت اور غیر معمولی مطالبہ ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: سندھ میں کورونا وائرس اور گورنر راج کے بڑھتے امکانات؟

حالانکہ ہماری دانست میں یہ ایک ایسا”سیاسی مطالبہ“ ہے جس پر شاید مکمل طور پر عمل پیرا ہونا ممکن نہ ہوسکے گا۔مگر اُس کے باوجود ”جنوبی سندھ“ کے لفظ کی باربار اپنی روز مرہ گفتگو میں تکرار کرنے سے سندھ اور مہاجر عوام کے مابین سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ آنے والے ایام میں آپ کو کراچی کی شاہراؤں،گلی،محلوں،بازاروں اور تفریحی مقامات پر ”جنوبی سندھ“ لفظ کی جابجا تکرار سنائی دے۔ کیونکہ نظر ایسے آرہاہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ”جنوبی سندھ“ کے قیام کے حوالے سے کوئی وسیع البنیاد سیاسی،انتظامی یا عوامی تحریک شروع کرنے سے قبل کراچی شہر کے گلی،کوچوں میں ”جنوبی سندھ“کی ایک لفظی تحریک کا موثر آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بعض ارباب اختیار ابھی یہ سمجھ ہی نہ سکیں کہ یہ ”لفظی تحریک“ آخر ہے کیا بلا؟۔ مگر اگر تھوڑا سا بھی تفکر اور سوچ و بچار کی جائے تو باآسانی سمجھ میں آنے لگے گا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ”جنوبی سندھ“ کی لفظی تحریک شروع کر کے سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کے اپنے دیرینہ مطالبے کو سندھ کی شہری عوام کے ذہنوں میں اچھی طرح سے راسخ کرنا چاہتے ہیں۔

دراصل گزشتہ کئی ماہ میں پے درپے سندھ کی سیاست میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں،جن سے سندھ کی شہری آبادی بالخصوص کراچی کے عوام میں شدید عد م تحفظ اور اضطراب پیدا ہوا ہے۔ مثال کے طورپر بحریہ ٹاؤن کراچی میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پرتشدد احتجاج کا انعقاد ہونا، جس میں کروڑوں مالیت کی املاک کا چند گھنٹوں میں تباہ و برباد ہوجانا۔ نیز کراچی میں رہائشی پلازوں کی مسماری کے لیئے عدالتی احکامات کا اجراء۔بظاہر ان دونوں واقعات کے بارے میں کہا جاسکتاہے کہ اِن سے پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا براہ راست کوئی تعلق نہیں بنتا۔ مگر کراچی کے عوام اِن دونوں معاملات پر ذرا مختلف رائے رکھتی ہے۔ کراچی کے زیادہ تر شہریوں کا موقف ہے کہ اگر سندھ حکومت چاہتی تو قوم پرست جماعتوں کے مٹھی بھر مسلح جتھے کو بحریہ ٹاؤن کراچی پہنچنے سے بہت پہلے ہی روک سکتی تھی۔ اس کے علاوہ سندھ حکومت نے عدالت میں رہائشی پلازوں کے مسماری رکوانے کے لیئے کسی بھی مرحلے پر کوئی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ حالانکہ اگر سندھ حکومت چاہتی تو عام لوگوں کے رہائش عمارتوں کو مسماری سے بچانے کے لیئے عدالت عالیہ کے روبرو انتظامی نوعیت کے دو، چار متبادل پلان باآسانی پیش کرسکتی تھی۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ میں سندھ میں 12 تعلقوں پر مشتمل6 نئے اضلاع بنائے جانے کا انکشاف کی خبر نے بھی شہری سندھ کی عوام کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت نے سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ،تحریک انصاف،جی ڈی اے اور دیگر سیاسی حریفوں کو سیاسی شکست دینے کیلئے صوبے میں لگ بھگ 12 یا اس سے زائد تعلقوں پر مشتمل 6 یا 8 نئے اضلاع بنانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔جبکہ اس مقصد کو جلد از جلد حاصل کرنے کے لیئے حکومت سندھ نے انتہائی خفیہ اور رازداری سے حد بندیاں اور تمام تر کاغذی کارروائیاں بھی مکمل کرلی ہیں۔خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کی ہدایت پر محکمہ روینیو نے مذکورہ حد بندیوں اور کاغذات میں ضلع دادو اور جام شورو کو تقسیم کرکے دو نئے اضلاع میہڑ اور سیہون شریف (جسے شہباز آباد) کا نام دیا جائیگا بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ضلع سانگھڑ کو تقسیم کرکے اس میں سے دو نئے اضلاع شہداد پور، ٹنڈوادم اور کھپرو کو بنانے کی تجویز بنائی گئی ہے جبکہ اسی طرح ضلع تھر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے نیا ضلع چھاچھرو کے نام سے بنائے جانے کی تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں۔

جبکہ سکرنڈ کو ضلع کا درجہ دیے کر اسے حاکم آ باد کا نام دیکر اسے ضلع تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں سرہاڑی تعلقہ کو بھی شامل کیا جائیگا جبکہ ضلع بدین، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈوالہ یار کا کچھ علاقہ لیکر ماتلی کو ضلع بنانے کا امکان ہیضلع ماتلی کو 4 تعلقوں ہر بنائے جانیکی تجویز دی گئی ہے، جن میں ماتلی، تلہار، ٹنڈو غلام حیدر، اور ٹنڈو غلام علی ایٹ دمبالو شامل ہیں۔ ادھر ٹنڈو محمد خان سے ٹنڈو غلام حیدر کو ماتلی ضلع میں شمولیت کے بعد ٹنڈومحمد خان کو نیا تعلقہ سہری یا شیخ بھرکیو کو شامل کئے جانے کے امکانات ہیں جبکہ ضلع بدین سے دو تعلقوں ماتلی اور تلہار کی علیحدگی کے بعد ضلع بدین کو نیا تعلقہ پنگریو د دیے جانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ اُصولی طور پر انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے نئے اضلاع کے قیام میں قطعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ لیکن جس پراسرار اور خفیہ اندا زمیں سندھ حکومت نے یہ اقدام کرنے کی کوشش کی ہے، اُس کی وجہ سے پیپلزپاٹی مخالف تمام سیاسی جماعتیں ہی سخت اضطراب میں مبتلا ہیں۔ اور سوال اٹھایا جارہاہے کہ کیا سندھ کے اگلے انتخابات پاکستان پیپلزپارٹی سیاسی و عوامی طاقت کے بجائے ”انتظامی کاری گری“ سے جیتنا چاہتی ہے؟۔ یہ وہ اہم ترین سوال ہے جس کا جواب پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو لازمی فراہم کرنا چاہئے۔تاکہ یہ تاثر رد ہوسکے پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں اپنے اقتدار اعلیٰ کو مستحکم کرنے کے لیئے ایک بار پھر سے سندھ کی سیاست کو 1990 کی دہائی میں لے جانا چاہ رہی ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 08 جولائی 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں