وائرس سے ہوں آشنا

دنیا میں کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے ظہور سے قبل عام افراد کے نزدیک وائرس کا زیادہ سے زیادہ خطرہ اور نقصان یہ ہوا کرتا تھا کہ اس کی وجہ سے اُن کے کمپیوٹر خراب ہوجاتے تھے۔ یعنی چند برس قبل تک وائر س کو فقط کمپیوٹر کی ایک تیکنیکی بیماری سمجھا جاتاتھااور کمپیوٹر وائرس کا ذکر خیر بھی روزمرہ گفتگو میں زیادہ تر صرف وہی افراد کیا کرتے تھے کہ جن کا واسطہ یا بالواسطہ تعلق کمپیوٹر مشین کے ساتھ استوار ہوتا تھا۔ جبکہ انسان جس واحد غیر مرئی، یک خلوی مخلوق سے خوف کھاتے تھے، اُسے جراثیم کے نام سے پکارتے تھے اور دنیا بھر میں حفظان صحت کے تمام قوائد و ضوابط جراثیم کے انسداد یا اُن سے بچاؤ کے لیئے ہی ترتیب دیئے جاتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ بڑے تجارتی ادارے اپنی گھریلو مصنوعات مثلاً صابن،شیمپو اور ٹشوپیپر وغیرہ کے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں مشتہر ہونے والے اشتہارات میں بھی یہ ہی ترغیب دیتے دکھائی دیتے تھے کہ”اگر اُن کی فلاں فلاں مصنوعہ کوترجیحی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تو آپ بیماریوں کا باعث بننے والے جراثیم سے خود کو محفوظ و مامون رکھ سکتے ہیں“۔ مگر شومئی قسمت کے کورونا وائرس کی آمد نے ہماری روزہ مرہ زندگی سے جراثیم کا بوریا بستر ہی گو ل کردیاہے اور اَب تو کوئی بھولے سے بھی”جراثیم“ کے مضر اثرات کا ”ذکر بد“ کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ کم و بیش تمام کاروباری ادارے اپنی جراثیم کش مصنوعات کو بھی ”وائرس دشمن“ بناکر ہی فروخت کر رہے ہیں۔

یوں سمجھ لیجئے کہ وائرس نے انسان کے ذہن میں جراثیم کے صدیوں پرانے خوف کا خاتمہ بالخیر کر کے اپنا ڈر،پوری طرح سے راسخ کردیا ہے اور وائرس کی ہلاکت خیزی کا یہ خوف اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ اگر زبان و بیان کی باریکیوں پر تحقیق کرنے والا کوئی ادارہ اعدادو شمار اکھٹے کرے تو منکشف ہوگا کہ گزشتہ دو برسوں میں ہم انسان نے سب سے زیادہ جس لفظ کو بولا،لکھا اور سنا ہوگا،وہ لفظ یقینا ”وائرس“ ہی ہوگا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم دو سال سے مسلسل ”وائرس گردی“ کا شکار رہنے کے بعد بھی اس موذی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ ہی جانتے ہیں کہ ”ہم وائرس کے متعلق یقین سے کچھ بھی تو نہیں جانتے“۔ دراصل ہم وائرس کی تفہیم اور جان کاری کے لیئے زیادہ تر جس علمی مواد پر انحصار کررہے ہیں،وہ کورونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد عجلت میں مرتب کیا گیا ہے۔ جبکہ کورونا وائرس کی ہیت،ساخت اور طریقہ واردات کو درست انداز میں سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اُن سائنسی تحقیقات کو کھنگا لا جائے جو سائنس دان گزشتہ دو صدیوں کے دوران وائرس پر کرچکے ہیں۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس فقط وائرس کا ایک چھوٹا سا جز ہے جبکہ وائرس یک خلوی مخلوقات کا پورا ایک جہان ہے۔ زیر نظر مضمون میں کورونا وائرس کی شاخ کو زیربحث لانے کے بجائے وائرس کی اصل جڑ پر ہونے والی سائنسی تحقیق کے ذریعے ”وائرس شناسی“کی ایک عاجزانہ سی تحریری کوشش پیش خدمت ہے۔

وائرس اور جراثیم کے فرق کو سمجھیں
عام طور پر جراثیم کی اصطلاح ایسے یک خلوی جانداروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ جن کا مرکزہ مکمل طور پر ترقی یافتہ نہ ہو۔یاد رہے کہ جراثیم کو انگریزی زبان میں بیکٹیریا(Bacteria) کہا جاتا ہے۔جبکہ وائرس اپنی ساخت میں خلیہ (Cells) نہیں ہوتے۔ بظاہر سائز میں بڑے تو جراثیم ہی ہوتے ہیں لیکن زیادہ خطرناک اور موذی وائرس ہوتے ہیں۔ نیز جراثیم کی اکثر اقسام انسانوں کے لیئے خطرناک بھی نہیں ہوتیں اور صرف ایک فیصد جراثیم ہی انسانی جسم میں بیماری کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں بے شمار جراثیم یعنی بیکٹیریا ہماری صحت اور نشوونما کے لیئے بھی بے حد مفید اور مددگار واقع ہوئے ہیں۔مگر جراثیم کے مقابلے میں وائرس کی ہر قسم انسان کے لیئے ہمیشہ نقصان دہ ہی ہوتی ہے۔وائرس زیادہ تر نیم مردہ حالت میں ہی بے حس و حرکت پڑے رہتے ہیں،جب تک کہ وائرس کو کوئی زندہ خلیہ دستیاب نہ ہو۔ جیسے ہی وائرس کومیزبان زندہ خلیہ میسر آجاتا ہے۔وہ بہت تیز رفتاری کے ساتھ اپنے جیسے دوسرے وائرس بنانا شروع کردیتاہے۔وائرس کی میزبانی کرنی والا خلیہ جانور، انسان، پودے کابھی ہو سکتاہے۔ مصیبت یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ وائرس کے بڑھنے کا عمل شروع ہوجائے تو پھر یہ نہیں رکتا۔ کیونکہ وائرس میں مختلف درجہ حرارت میں محفوظ رہنے اور خاص درجہ حرارت پر اپنی افزائش کئی گنا بڑھا کر بیماری کو آخری حدود تک لے جانے کی زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ وائرس اور جراثیم کے انسانی جسم پر حملہ آور ہونے کے طریقہ کو جاننے کے لیئے ضرور ی ہے کہ سب سے پہلے انسانی جسم کی ساخت کو سمجھ لیا جائے۔ ایک انسانی جسم کی عمارت خلیات سے مل کر بنتی ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے اردگر اکثر و بیشتر اینٹوں سے تعمیر کی گئی کوئی پرشکوہ عمارت ہوتی ہے۔ انسانی جسم میں خلیات کی حیثیت اینٹوں کی ہوتی ہے۔ جراثیم یا بیکٹیریا خلیات پر حملہ آور ہونے کے بجائے دو خلیات کے درمیانی جگہ کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ اس لیئے حملہ آور ہونے والے جراثیم کو اینٹی بایوٹک ادویات دے کر ختم کردیا جاتاہے۔ لیکن چونکہ وائرس براہ راست خلیات پر حملہ آور ہوکر اُن کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔اس لیئے طبی ماہرین وائرس کو مارنے کے لیئے ادویات استعمال نہیں کرسکتے۔کیونکہ وائرس کا خاتمہ کرنے والی ادویات سے خلیات میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوسکتاہے۔اس لیئے طبی ماہرین انسانی جسم میں موجود مدافعتی نظام کو تحریک کر وائرس کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ وائرس کے خلاف واحد دفاع انسانی جسم میں موجود اپنی قوت مدافعت ہی ہے۔ اسی قوت مدافعت کے باعث انسانی جسم بن بلائے مہمان کی شناخت کرتا ہے اور خون میں موجود سفید سیلز اینٹی باڈیز بناکر وائرس کو ناکارہ کردیتے ہیں۔ لیکن وائرس کا خاتمہ تب ہی ممکن ہوپاتا ہے،جب مدافعتی نظام وائرس کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو۔جبکہ کسی بھی وائرس کے شدید حملہ یا کمزور قوت مدافعت کی صورت میں ویکسین اور اینٹی وائرل ادویات سے وائرس کی افزائش کی روک تھام اور اس کے خاتمہ کے لئے جسم کو قوت مدافعت کو بڑھایا اور مضبوط بنا یا جاتاہے۔

کیا وائرس زندہ ہوتے ہیں؟
اگر کوئی دلائل سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے کہ وائرس کسی سائنسی لیبارٹری میں تیار ہونے والاایک ہتھیار ہے تو پھر ایک عام شخص کے ذہن یہ سوال ہونا فطری ہے کہ وائرس حقیقی زندگی رکھتاہے یا پھر اسے طبی ماہرین نے مصنوعی حیات سے سرفراز کیا ہواہے؟۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں! آج بھی سوشل میڈیا پر یہ سازشی تھیوری سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے کہ کورونا وائرس سائنس دانوں نے کسی لیبارٹری میں تیار کیا تھا۔ ابتدا ء میں یہ موقف صرف سوشل میڈیا پر گھڑا گیا ایک نظریہ تھا،لیکن جب اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین ہارون نے سوشل میڈیا پر اصرار کیا کہ”اُن کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کو بل گیٹس نے کسی طبی لیب میں تیار کروایا تھا“۔ تو پھرمختلف نیوز چینلز کی سب سے پہلے بریکنگ نیوز دینے کی مجبوری نے حسین ہارون کی اِس انکشاف کو پاکستانی میڈیا کی سب سے بڑی خبر بنادیا۔ واضح رہے کہ اس بریکنگ نیوز کے افشاء ہونے کے بعد وائرس کی صحت پر تو ذرہ برابر اثر نہیں پڑا لیکن پاکستانی عوام میں ضرور وائرس کی حقیقت ایک تماشہ اور لطیفہ بن کر رہ گئی۔

بہرکیف سائنسی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ وائرس خوردبین میں بے حس و حرکت اور بے جان ضرور دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں ہوتاایک زندہ خلیہ ہی ہے اور جوں ہی اسے کوئی دوسرا زندہ خلیہ دستیاب ہوتا ہے تو خود کو پوری طرح سے فعال کرلیتا ہے۔ نیز فعال ہونے کے بعد یہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ اپنے جیسی شکل و صورت اور خاصیت رکھنے والے دوسرے وائرس بنا نا شروع کردیتاہے۔ علاوہ ازیں سائنس دان بھی کسی لیبارٹری میں پروٹین،لیپڈ اور نیوکلیک ایسڈ جیسے کیمیائی مرکبات کی مدد سے وائرس بنا نا بھی چاہیں تو اُس کے لیئے بھی انہیں مطلوبہ خاصیت رکھنے والے ایک عدد میزبان زندہ خلیہ اور نیم مردہ وائرس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی سائنس دانوں کو کورنا وائرس تیار کرنے کے لیئے لازمی طور پر ایک عدد میزبان کورونا وائرس درکار ہوگا۔ جب ہی کہیں جاکر سائنس دان وائرس زدہ،ڈی این یا آر این اے بناسکتے ہیں۔ کیونکہ طبی ماہرین کسی وائرس کو سست، بے حس،نیم مردہ یا اس کی تعداد میں اضافہ تو ضرور کرسکتے ہیں لیکن وائرس کی تخلیق فی الحال سائنس کے لیئے بھی ایک کارِ محال ہی ہے۔

زمین کے اصل مالک وائرس ہیں
عالمی ادارہ صحت کے مطابق چونکہ کورونا وائرس ایک عالمگیر وبا ہے۔اس نسبت سے زیادہ تر افراد،وائرس کو ایک ایسا حملہ آور یک خلوی جرثومہ تصور کرتے ہیں، جو مختلف ادوار میں نہ جانے کہاں سے اچانک زمین پر نمودار ہوکر انسانی زندگی پر حملہ آور ہوتا رہا ہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی رائے رکھتے ہیں کہ وائرس شاید کسی دوسرے سیارے سے ہماری زمین پر اُترنے والی ایک غیر مرئی ایلین مخلوق ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بے شمار سائنس دانوں کے نزدیک ہمارے کرہ ارض پر سب سے پہلے وائرس آئے تھے اور اِن کی وجہ سے ہی زمین پر دیگر حیات کا ظہور ممکن ہوا۔جب کہ نظریہ ارتقاء پر تحقیق کرنے والے محقیقین بھی کچھ اسی بات سے ہی ملتی جلتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”زمین پر اگر کسی یک خلوی جرثومے سے زندگی کا آغاز ہوا ہو گا تو پھر وہ وائرس ہی ہوگا۔ کیونکہ حیاتیاتی چپ ”ڈی این اے“ کی ابتداء ”آر این اے“ سے ہوئی ہے اور ”آر این اے“ میں اپنی جیسی شکل و صورت اور خاصیت رکھنے والے مزید آر این اے بنانے کی فطری صلاحیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ جبکہ وائرس بھی اس خوبی اور صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔اس لیے غالب امکان یہ ہی ہے کہ ہمارے دنیا میں سب سے پہلے وائرس آئے تھے اور بعد ازاں وائرس کے ارتقاء کے نتیجے میں ہی زمین پر زندگی وجود میں آئی ہوگی“۔ اگر یہ سائنسی نظریہ درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر ہماری زمین کے اصل باسی تو وائرس ہوئے نا کہ ہم انسان۔

سارا جہاں وائرس ہے
ہمارے دوست اور معروف شاعر جناب فہیم شناس کاظمی کا ایک شعر ہے کہ ”ہر عکس،اُس کا عکس ہے۔۔۔ سارا جہاں آئینہ ہے“۔اگر اس شعر کو تھوڑے سے تصرف کے ساتھ ”وائرس زدہ“ کردیا جائے تو بات کچھ یہ یوں بھی بنائی جا سکتی ہے کہ ”ہر عکس،اُس کا عکس ہے۔۔۔ سارا جہاں وائرس ہے“۔ دراصل وائرس ہر جگہ موجود ہیں۔یعنی جہاں زندگی پائی جاتی ہے، وہاں وائرس بھی موجود ہیں۔حد تو یہ ہے کہ زندہ اجسام کے اندر بھی عجیب و غریب وائرس کا ایک جہاں آباد ہوتاہے۔مگر ہم انسانوں پر خدائے لم یزل، کابے پایاں لطف و کرم یہ ہے کہ چونکہ زیادہ تر وائرس غیر فعال اور نیم مردہ حالت میں ہی ہوتے ہیں۔ اس لیئے حضرت انسان وائرس کے مضراثرات سے محفوظ و مامون ہی رہتے ہیں۔لیکن اگر کوئی وائرس کبھی فعال ہوجائے تو پھر طاعون، ہیضہ،پولیو اور کورونا وائرس جیسی جان لیوا وباؤں کی صورت میں زمین پر وہ قیامت صغری برپا ہوجاتی ہے کہ رہے نام اللہ کا۔

سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ وائرس کی فعالیت متاثرہ جان دار کی موت کا دوسرا نام ہی ہے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایک انسانی جسم میں تقریباً 10,000,000,0000,000 خلیات ہوتے ہیں۔ جس سے مل کر ایک انسان کی تشکیل ممکن ہوتی ہے۔نیز اِن خلیات میں موجود بیکٹیریا کا شمار کیا جائے تو مذکورہ بالابڑی مشکل سے شمار میں آنے والا طویل عدد، بھی انتہائی مختصر دکھائی دے گا۔حیران کن طور پر ہم میں سے ہر انسان اپنے اند موجود انسانی خلیات کے مقابلے میں ایک سو گنا زیادہ وائرس لے کر گھومتا پھرتا رہتا ہے۔اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر زمین پر موجود دیگر جاندار وں کے خلیات اور اُن میں پائے جانے والے وائرس کی اصل تعداد سے متعلق قیاس کیا جائے توعین ممکن ہے کہ ہماری دنیا میں رائج عددی نظام ہی تہہ و بالا ہوجائے مگر وائرس کی درست تعداد جاننا تو ایک طرف رہا،شاید اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکے۔

چھوٹے وائرس
عام طور پر ہم جانتے ہیں کہ وائرس انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں لیکن وائرس کتنے چھوٹے ہوتے ہیں؟شاید اس بابت آپ نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔ یاد رہے کہ ایک وائرس جراثیم یعنی بیکٹیریا سے بھی 100 گنا چھوٹا ہوتاہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وائرس کو کسی عام خورد بین سے بھی دیکھنا کم و بیش ناممکن ہی ہوتاہے۔ اس لیئے وائرس کا مشاہدہ اور مطالعاہ کرنے کے لیئے طبی ماہرین خاص قسم کی الیکٹران مائکروسکوپ کا استعمال کرتے ہیں۔ وائرس پروٹین کی ایک جھلی کے اندر بند نیوکلیک ایسڈ (RNA یا DNA) پر مشتمل ہوتا ہے۔ دھاگے، راڈ، گول یا دیگر مختلف شکلوں کے ان وائرس کی پیمائش معلوم کرنی ہو تو ہمیں نینو میٹر کا پیمانہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اور اندازہ لگائیے کہ ایک انچ کے دسویں حصہ میں 2,54,000 نینو میٹر ہوتے ہیں۔ قطر 20 سے 300 نینو میٹر اور لمبائی 700 سے 1400 نینو میٹر ہوسکتی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ اگر وائرس کو جاندار اجسام میں موجود کسی ایک زندہ خلیہ کی میزبانی بھی دستیاب ہوجائے تو وہ اَن گنت وائرس بنالیتاہے۔یہاں تک کہ وائرس نووارد،وائرس کی تعداد جاندار جسم میں موجود خلیات سے بھی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ یہ ہی وہ بدنصیب لمحہ ہوتاہے جب یہ چھوٹا سا وائرس خلیات کی وسیع وعریض اقلیم کا خاتمہ کرکے جاندار کے جسم پر اپنا اقتدار قائم کرلیتاہے۔

وائرس بمقابلہ وائرس
جیسا کے آپ سب ہی بخوبی جانتے ہوں گے کہ وائرس کو عام ادویات سے ختم نہیں کیا جاسکتااور نہ ہی وائرس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف اینٹی بایوٹک ادویات موثر ثابت پائی گئی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا وائرس کے خلاف وائرس کو استعمال کیا جاسکتاہے؟۔کمپیوٹر وائرس کو ختم کرنے کی حد تک تو ایسا بالکل ممکن ہے اور اینٹی وائرس کی اصطلاح استعمال بھی ایسے سافٹ وئیرز کے لیئے ہی کی جاتی ہے۔ جن کی مدد سے کسی وائرس سے متاثرہ کمپیوٹر میں سے وائرس زدہ مواد میں سے وائرس کا سراغ لگا کر وائرس کو ختم کردیا جاتاہے اور فائلیں یا دیگر مواد محفوظ بنالیا جاتاہے۔شاید یہ ہی وجہ اکثر افراد سوال کرتے ہیں کہ آخر ہم انسان پر حملہ آور ہونے وائرس کے خاتمہ کے لیئے اینٹی وائرس کا استعمال کرنے بجائے ویکسین کیوں استعمال کرتے ہیں؟۔ دراصل طبی ماہرین کو ابھی تک اینٹی وائرس بنانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تما م سائنس دان صرف ویکسین کی ایجاد میں ہی مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ بعض سائنس دان یا سائنسی ادارے ایسے بھی ہیں جو وائرس کے خاتمہ کے لیئے وائرس یعنی اینٹی وائرس کو استعمال کرنے کے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے برسوں سے مسلسل تحقیقات میں مصروف ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ سپوتنک (Sputnik) کے نام سے ایک ایسا وائرس تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔جو ٹھنڈے پانی میں دریافت ہونے والے ”ماما وائرس“ (Mamavirus) پر حملہ آور ہوکر اُس کی مزید وائرس بنانے کی صلاحیت کو غیر معمولی حد تک متاثر کر سکتاہے۔ ابھی یہ تحقیقات ابتدائی مرحلے میں لیکن اس تحقیق کے نتیجہ میں سائنس دانوں کو پہلی بار اُمید ملی ہے کہ وہ مستقبل قریب میں کسی موذی وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے وائرس کو اُتار سکیں گے۔یعنی جان داروں کو متاثر کرنے والے وائرس کے قلع،قمع کرنے کے لیئے اینٹی وائرس کی ایجاد اَب زیادہ دور نہیں ہے۔

نوبل انعام اور وائرس
اگر آپ نوبل انعام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی تحقیق کا مرکز وائرس کو بنالیں۔یہ ہم نہیں کہتے بلکہ اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ”حالیہ وقت میں کسی بھی وائرس پر منفرد تحقیق بلاشبہ محقق کو یقینی طور نوبل انعام کا باآسانی حق دار بنا سکتی ہے“۔دراصل گزشتہ ایک دو دہائیوں سے مختلف طرح کے عجیب و غریب اور مہلک صفات سے لیس نمودار ہونے والے نت نئے وائرس نے انسانی آبادی کو جس طرح سے اپنا نشانہ بنایا ہے۔ اُس کے بعد تو انسانیت کی بقا کے لیئے وائرس کی اُلجھی ہوئی گنجلگ گتھی کو سلجھانا ازحد ناگزیر ہوگیا ہے اور جو بھی سائنس دان، محقق یا طبی علوم کا ماہر وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وبائی امراض کے علاج اور روک تھام میں قابلِ قدر تحقیقی کام کرے گا۔ اُسے یقینی طور پر نوبل انعام سے سرفراز کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ وائرس کا تخصیصی علم جدید اصطلاح میں ویرولوجی (Virology)کہلاتاہے۔ سال گزشتہ 2020 میں بھی جن دو محقیقین نے ہیپاٹائٹس سی وائرس کے علاج کے لیئے دو اکی دریافت میں معاون بننے والی تحقیقات کی پیش کی تھیں۔انہیں نوبل انعام کا اعزاز دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ وائرس کو سب سے پہلے 1892 میں دریافت کی گیا تھا،جب Dmitri Ivanovsky نے سراغ لگایا کہ تمباکو کے پودوں میں ایک انجیکشن کے ذریعے سیال بیکٹیریا کی تھوڑی سی مقدار داخل کر کے بیماری سے متاثر کیا جاسکتاہے۔ انسانی آنکھ سے دکھائی نہ دینے والے اس بیکٹیریا کو ”وائرس“ کا نام دے دیا گیا۔جبکہDmitri Ivanovsky کو 1946 میں اسی سائنسی تحقیق پر نوبل انعام کا حق دار قرار دے دیا گیا تھا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 06 جون 2021 کے خصوصی شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں