Police

پولیس کی سیاسی قید بامشقت کب ختم ہوگی؟

عوام قانون کی پابندی صرف دو ہی صورتوں میں کرتی ہے، اوّل،جب عام آدمی کے دل میں قانون کی طاقت کا خوف ہوتا ہے۔دوم، قانون کی بالادستی کا احترام اُس کے ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہوتاہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے دل و دماغ کے کسی گوشے میں نہ تو قانون کی حکمرانی کے خوف کی کوئی ہلکی سی رمق پائی جاتی ہے اور نہ ہی قانون کا احترام پایا جاتاہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ہم آئے روز،قومی ذرائع ابلاغ میں عام آدمی اور قانون کے درمیان ہونے والی محاذ آرائیوں کی خبریں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر پولیس کے رویے اور سلوک کو لے کر پاکستانی عوام میں جس قدر شدید تحفظات اور مغالطے پائے جاتے ہیں، وہ ناقابل بیان ہیں۔ المیہ ملاحظہ ہو کہ ہمارے معاشرہ میں ہمیشہ سے پولیس کی انتہائی منفی شبیہ اُجاگر کی جاتی ہے، حالانکہ اگر بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو انکشاف ہوگا کہ پولیس کا محکمہ،دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مظلوم سرکاری محکمہ ہے۔ بظاہر کہنے کو آئین پاکستان میں ہر جرم قابل دست اندازی پولیس ہے،لیکن ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ طاقت ور اشرافیہ یعنی سیاست دانوں کے سامنے یہ ہی پولیس یکسر بے دست و پا ہوجاتی ہے۔

یقینا آئین و قانون پولیس کو لامتناہی انتظامی قوت و طاقت عطا کرتاہے، لیکن سیاست زدہ پولیس، طبقہ اشرافیہ کے روبرو، پرکاہ جتنی بھی وقعت نہیں رکھتی۔ دراصل ہمارے حکم رانوں اور سیاست دانوں نے مل کر پولیس کو سیاست کے شکنجے میں اِس مضبوطی کے ساتھ کسا ہوا ہے کہ اگر پولیس کے حوصلہ مند اور دیانت دار افسران بھی چاہیں تو وہ اِن ”سیاسی بیٹریوں“سے جان خلاصی حاصل نہیں کرسکتے۔ ہمارے ہاں پولیس کو خود مختار بنانے کی بات تو ہر حکمران کرتا ہے،لیکن جب پولیس کو سیاسی استبداد سے آزادی دینے کی بات آتی ہے تو پھر ہر حکمران کے آگے اُس کے اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات آڑے آجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سابق وزیراعظم عمران خان نے وطن عزیز کا اقتدار ہی اِس سیاسی وعدے پر حاصل کیا تھا کہ وہ پولیس کے ادارہ کو انتظامی طور پر بااختیار بنائیں گے۔ مگر افسوس صد افسوس! کے اُن کے دورِ حکومت میں پنجاب پولیس کو جس طرح ایک سیاسی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا، شاید ایسی بدترین مثال تو پوری ملکی تاریخ میں ستیاب نہ ہوسکے۔

ہمارے سیاسی حکم رانوں نے ہماری پولیس کو اتنا بے وقعت کردیا ہے کہ بلوچستان رکن اسمبلی مجید اچکزئی پر ٹریفک اشارے پر کھڑے سپاہی کو مبینہ طور پر اپنی گاڑی تلے دن دہاڑے کچل دیتا ہے اور بے چاری پولیس، بطور ادارہ،اپنے مقتول اہلکار کے لواحقین کو انصاف دلانے کے لیئے ملزم کے خلاف ضابطہ کی موثر کارروائی بھی کرنہیں پاتی۔ چلیں یہ اندوہناک واقعہ تو قصہ پارینہ ہوااور ملزم مجید اچکزئی عدالت سے باعزت بری بھی ہوگیا۔ مگر گزشتہ دنوں ایک ایسا ہی دل خراش واقعہ شہر قائد کے علاقے ڈیفنس میں بارِ دگر دہرایا گیا،جب سندھ پولیس کا ایک معصوم پولیس اہل کار، مبینہ طور پر خاتون کے اغوا کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ملزم کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق مقتول پولیس اہلکار عبدالرحمن، شاہین فورس میں تعینات تھااور اس کی درخشاں کے علاقے ڈیفنس خیابان بادبان میں ڈیوٹی تھی۔ نیز مقتول سٹی ریلوے کالونی 10 نمبر گیٹ کے قریب غوثیہ مسجد کے عقب والی گلی کا رہائشی اور 4 بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا۔ مقتول کا آبائی تعلق بونیر سے تھا۔ اُس کا نکاح ہوچکا تھا اور دسمبر میں شادی طے تھی۔

مقتول، عبدالارحمن کے ساتھی پولیس اہل کار امین الحق نے واقعے سے متعلق جو بتا یا ہے،اُسے سُن کر تو انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔ امین الحق کے بیان کے مطابق”ہم شاہین فورس ساؤتھ میں تعینات اور شام 6 سے رات 2 بجے تک تھانہ درخشان میں موٹرسائیکل گشت پر مامور تھے۔خیابان شمشیر نزد 26 اسٹریٹ سگنل ڈیفنس فیز 5 پر رات ساڑھے 11 بجے ہمارے پاس سے ایک کار تیزی سے گزری۔ کار سے خاتون کے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔عبدالرحمان موٹرسائیکل چلا رہا تھا اور میں پیچھے بیٹھا تھا۔ہم نے کار کا تعاقب کیا، جس پر کار سوار نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ ہم نے کلفٹن بلاک 4، عبداللہ شاہ غازی مزار کے قریب کار کو رو کا اور کانسٹیبل عبدالرحمان دوڑ کر کار کی اگلی نشست پر بیٹھ گیا۔اس دوران خاتون گاڑی سے اتر کر بھاگ گئی اور ملزم نے عبدالرحمان کے ساتھ کار بھگا دی۔ ڈیفنس فیز 5 ایکسٹینشن میں گاڑی رُکی، کار سوار اور کانسٹیبل عبدالرحمن دونوں گاڑی سے اترے۔ گاڑی سے اترنے کے بعد عبدالرحمان اور ملزم کے درمیان اسلحہ نکالنے سے متعلق بات ہوئی۔عبدلرحمن نے ملزم سے سوال کیا کہ تم نے اپنا اسلحہ کیوں نکالا، ملزم کا کہنا تھا کہ تم نے اسلحہ نکالا تو میں نے بھی نکال لیا۔عبدالرحمن نے کار سوار کو کہا کہ گاڑی میں بیٹھو اور تھانے چلو۔ اسی اثنا میں ملزم نے گولی مار کر عبدالرحمن کو گولی مارکر قتل کردیا اور گاڑی لے کر فرار ہوگیا۔

المیہ ملاحظہ ہوکہ پولیس کی وردی کے خوف کا اَب یہ عالم رہ گیا ہے کہ ایک امیر،دولت مند شخص پولیس اہلکار کو سرِ عام گولی ماردیتا ہے اور اُسے یہ مذموم فعل کرنے سے پہلے ذرا بھر بھی قانون کی گرفت میں آنے کا ڈر محسوس نہیں ہوتا۔ حد تو یہ ہے کہ ملزم جس کا نام خرم نثار بتایا جاتاہے،ایک پولیس اہلکار کو قتل کرنے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر،اندر ملک سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوجاتاہے اور کراچی شہر کی پولیس فورس ملز م کو ملک سے فرار ہونے سے رو ک بھی نہیں پاتی۔ شاید واردات کے فوراً بعد ہی ملزم خرم نثار کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر وہ ابھی ملک سے نہیں بھاگا تو قانون کی پکڑ میں آجائے گا۔لہٰذا،ملزم ایک لمحہ کی تاخیر کیئے غیر ملکی ایئرلائن سے ٹکٹ بک کرا کر چند گھنٹوں بعد ہی براستہ استنبول، سوئیڈن روانہ ہوگیااور ہماری پولیس بس، رات کے اندھیرے میں اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں ہی مارتی رہی۔پولیس نے اگلے دن،جس وقت وزارت داخلہ کو ملزم خرم نثار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے لیے خط لکھا، تب تک ملزم، خرم نثار پاکستان سے ہزاروں میل دور جاچکا تھا۔

ویسے تو مذکورہ واقعہ کے رونما ہونے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر سندھ پولیس کو انتظامی نااہلی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے،لیکن میری ناقص رائے یہ ہے کہ پولیس اہلکار عبدالرحمن کا قتل،سندھ پولیس کو ظالم نہیں بلکہ حد درجہ مظلوم ثابت کرتاہے۔ کیونکہ اگر سندھ پولیس کمزور ہے، یا نااہل ہے تو آخر،اِس انتظامی بے اختیاری اور عاجزی کے مقام پر سندھ پولیس کو کس نے پہنچایا ہے؟۔ حقیقت میں پولیس اہلکار عبدالرحمن کے اصل قاتل تو وہ بدبخت لوگ ہیں، جو پولیس کو سیاسی اثرونفوذ سے آزاد اور بااختیار دیکھنا ہی نہیں چاہتے بلکہ ہمیشہ کے لیئے اِسے اپنی انتظامی مٹھی میں بند کرکے رکھنا چاہتے ہیں۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 28 نومبر 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

 

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں