Quaid

قائد اعظم کی شگفتہ مزاجی، بذلہ سنجی

یہ قول جس کسی نے بھی کہا، مگر ہے بہت خوب صورت کہ ”اپنے دشمنوں کو اپنی کامیابی سے مارو، اوراپنی مسکراہٹ سے دفناؤ“۔ بانی پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت ہو بہو اس قول کی عملی تفسیر تھی۔ برصغیر پاک و ہند کے عظیم سیاسی مدبّر، قابل وکیل اور مسلمانانِ ہند کے عظیم رہنما جہاں اپنی خوش پوشاکی اور نفاست پسندی کی وجہ سے مشہور تھے۔وہیں مؤرخین نے لکھا ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی خوش مزاجی اور بذلہ سنجی بھی ان کی طلسماتی شخصیت کا ایک ایسا جزو لاینفک تھی جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔دل چسپ بات یہ ہے کہ قائداعظم کی ذہانت آمیز، حسِ مزاح کا اعتراف ان کے تمام سیاسی مخالفین بھی کشادہ دلی سے کیا کرتے تھے۔

ویسے تو ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کی طویل اور ناقابلِ فراموش جدوجہد میں قائد اعظم کی بے لوث قیادت کا تذکرہ ایک اہم تاریخی موضوع ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں سیاسی عدم برداشت، طعن و تشنیع اورایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیئے بدگوئی اور یاوہ گوئی کو گفتگو کا اصل ہنر قرارد ینے والی سیاسی قیادت کو مصلح یا مسیحا سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہماری نوجوان نسل کو قائد اعظم کی بذلہ سنج طبیعت اور پرمزاح شخصیت کی سحرانگیزی سے بھی واقف کرانا ازحد ضروری ہے۔ تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ سیاسی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ایک مقبول سیاسی رہنما میں ذہانت،فطانت اور اچھی حسِ مزاح کا ہونا بھی لازم ہے اور مذکورہ خوبیوں کی حامل سیاسی قیادت کو ہی حقیقی معنوں میں ایک باوقار،پُراعتماد اور ہمہ اوصاف سیاسی رہنما کہا جاسکتاہے۔

بانی پاکستان،قائداعظم محمد علی جنا ح کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو اُن کی بے پناہ قوت برداشت تھی اور وہ اسی خوبی کوبروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذات پر ہونے والی سخت سے سخت تنقید کو بھی نہ صرف پورے تحمل و برداشت سے سنتے تھے بلکہ اپنے ناقد کی تنقید کا جواب بھی مسکراتے ہوئے، اتنے خوب صورت پیرایہ میں دیتے کہ سننے والا لاجواب ہوکر رہ جاتا تھا۔ ایسا ہی ایک واقعہ قائد اعظم کی زمانہ طالب علمی کے دوران اُس وقت پیش آیا،جب قائد اعظم، لندن یونی ورسٹی کے شعبہ قانون میں زیرتعلیم تھے۔ لندن یونیورسٹی کے ایک انگریز پروفیسر پیٹر، فقط مسلمان ہونے کے سبب قائد اعظم سے سخت پرخاش رکھتے تھے۔ ایک روز، پروفیسر پیٹر، جس کھانے کی میز پر کھانا کھارہے تھے، قائداعظم بھی اسی کھانے کی میز پر بیٹھ گئے۔ پروفیسر پیٹر، کو اُن کا کھانے کی میز پر بیٹھنا بالکل بھی پسند نہ آیا اور انہوں نے سخت ناگوار لہجے میں قائد اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ، ایک پرندہ اور ایک سور کبھی ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھاسکتے“۔قائد اعظم نے پروفیسر کی بات تحمل سے سننے کے بعد،ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کھانے کی میز سے اُٹھتے ہوئے کہا کہ ”آپ پریشان نہ ہوں، میں یہاں سے اُڑ جاتا ہوں اور دوسری میز پر بیٹھ کر کھانا کھا لیتاہوں“۔قائد اعظم محمد علی جناح کے اِس شگفتہ جواب پر انگریز پروفیسر کو غصہ تو بہت آیا، مگر کوئی مناسب جواب نہ سوجھنے کے باعث خاموشی سے اُنہیں دوسری میز کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

بہرکیف اگلے دن، پروفیسر پیٹر نے گزشتہ روزکا حساب،بے باک کرنے کے لیئے قائد اعظم کو راہ میں روک کر سوال کیا کہ ”اگر تمہیں دوبیگ ملیں، ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہوتو تم کس بیگ کو اُٹھاؤگے؟“۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے پروفیسر کی توقع کے عین مطابق بلاکسی توقف جواب دیا کہ ”میں دولت والے بیگ کو اُٹھاؤں گا“۔ قائد کا جواب سُن کر پروفیسر نے چہکتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا ”اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو دانائی والے بیگ کو اُٹھاتا“۔جس کے جواب میں قائد اعظم انتہائی متین اور مؤدب انداز میں گویا ہوئے کہ ”جناب، ہر انسان وہی چیز اُٹھاتا ہے، جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتی“۔ جیسا کہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ قائد اعظم وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے اور یہ ایک ایسا پیشہ ہے،جس میں وکیل کا اپنا مقدمہ جیتنے کے لیئے دلائل دیتے ہوئے طیش میں آجانا،بالکل فطری اور معمول کی بات ہے۔ مگر قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی غیر معمولی ذہانت،بذلہ سنجی اور حاضر جوابی کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔

نیز انہوں پیشہ ورانہ اُمور کی انجام دہی کے دوران ہر مشکل اور پُر خطر موڑ پر صبر و تحمل کا دامن مضبوطی سے تھام کر رکھا۔ جبکہ نازک ترین مواقعوں پر بھی وہ کبھی جذبات سے مغلوب نہیں ہوتے تھے اور شدید غصہ کے عالم میں بھی، عامیانہ اندازِ گفتگو اختیار کرنے سے گزیر کرتے تھے۔ ایک بار ایسی ہی ایک نازک صورت حال ہائیکورٹ میں کسی مقدمے کی پیروی کے دوران پیش آگئی۔ جب دورانِ بحث،قائد اعظم کے اندر خطابت میں کسی قدر تُرشی اور سختی غالب آگئی۔مقدمہ کی سماعت کرنے والے معزز جج، جناب جسٹس مارٹن صاحب کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اسی وقت قائد اعظم کو تنبیہی لہجہ میں کہا کہ”مسٹر جناح!آپ اس وقت کسی تیسرے درجے کے جج کی عدالت میں خطاب نہیں کررہے ہیں“۔ قائد اعظم نے بھی مؤدب لہجہ میں جج کو مخاطب کرتے ہوئے برجستہ جواب دیا….”جناب اعلیٰ، آپ کے سامنے بھی کوئی تیسرے درجے کا وکیل نہیں کھڑا ہے“۔یعنی فقط ایک مناسب جملے کا استعمال کرکے نہ صرف قائد اعظم نے معزز جج کے پیشہ ورانہ مقام کے آگے سر تسلیم خم کردیا بلکہ اپنی مسلمہ پیشہ ورانہ حیثیت کا بھی برملا اظہارفرمادیا۔

قائد اعظم کی زندگی پیشہ ورانہ ہو یا قائدانہ، ان کی شخصیت کے ہر پہلو سے ایک نستعلیق، انصاف پسند اور وضع دار آدمی کا کردار جھلکتاتھا۔ مثال کے طور پر قائد اعظم عدالت میں بحث کے وقت ایک خاص انداز میں کھڑے ہوتے پھر اپنا مونو کل آنکھ پہ لگاتے اور پورے اطمینان کے ساتھ دھیمے انداز میں جج کے سامنے بحث کا آغاز کرتے۔ بعض اوقات تو قائداعظم دلائل کے لیئے کھڑے ہونے کے بعد کچھ لمحوں کے لیئے کمرہ عدالت کی فضاء میں اس قدر خاموشی چھاجاتی کہ گمان ہونے لگتا کہ شاید عدالت برخاست ہوچکی ہے۔ ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران قائداعظم،اے سی وائلڈ،اورجسٹس آر بی ملن جیسے زیرک اور قابل ججوں پر مشتمل ڈویژن بینچ کے سامنے اپنے مؤکل کی طرف سے قانونی دلائل پیش کررہے تھے۔ چونکہ قائد اعظم ہمیشہ کی طرح ہلکی اور دھیمی آواز میں قانونی موشگافیوں کا بیان کررہے تھے کہ ایک مرحلہ پر جسٹس آر بی ملن نے زیرلب مسکراتے ہوئے کہا ”مسٹر جناح، ذرا زور سے بولیے،میں آپ کو سُن نہیں سکتا“۔قائداعظم نے فوراً جواب دیا۔”جناب والا! میں بیرسٹر ہوں ایکٹر نہیں“۔قائد کے اس پُر مزاح جملے نے کورٹ روم میں بیٹھے ہر شخص کو قہقہہ لگانے پر مجبور کردیا۔ یہاں تک جج صاحبان بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی پیشہ وارانہ زندگی کا اہم ترین مقدمہ،جس نے انہیں ہندوستان کے قابل ترین قانون دانوں کی فہرست میں لاکھڑا کیا اور جس مقدمہ نے بطور ایک نظیر برصغیر کی عدالتوں میں قانون کی حیثیت اختیار کرلی۔ وہ ریاست بھوپال والا مقدمہ تھا۔ نواب آف بھوپال نے اپنی جائیداد کی آمدن کا ایک حصہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ریاست سے باہر جانے والے طلبا کے لیئے وقف کر رکھا تھا نواب صاحب کی وفات کے بعد ورثاء نے یہ وقف ختم کرنے کا مقدمہ عدالت میں دائر کر دیا۔مدعیان کی طرف سے آلہ باد،بار کے سب سے قابل، تجربہ کار اور مشہور وکیل رائے تیج بہادر،تھے جبکہ دوسری جانب سے قائد اعظم محمد علی جناح۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رائے تیج بہادر، نے اپنے موقف کودرست ثابت کرنے کے لیئے تین دن تک مسلسل بحث کی اورعدالت کے سامنے قانونی نظائر و دلائل کے انبار لگا دیے۔جبکہ قائداعظم نے جج کے بار بار پوچھنے یا توجہ دلانے کے باوجود بھی اپنے موکل کے حق میں ایک جملہ ادا نہیں کیا۔ چوتھے دن جب جج نے مقدمہ سنانے سے پہلے قائد کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ”مسٹر جناح! کیا آپ اَب بھی کچھ کہنا نہیں چاہیں گے؟“۔ قائد پہلی بار بحث کے لیئے کھڑے ہوئے توان کے پاس نہ بھاری بھرکم فائل تھی نہ سینکڑوں دستاویزات کی نقول،بس وہ اپنے مخصوص انداز سے چلتے ہوئے روسٹرم پہ آئے اور صرف ایک جملہ کہا کہ”مائی لارڈ یہ مقدمہ بلحاظ مالیت آپ کی اختیار سماعت میں نہیں آتا“۔اور اس کے ساتھ ہی قائد نے متعلقہ قانون پڑھ کر سنایا جس کے مطابق ایک لاکھ مالیت سے زائد مالیت کی جائیداد کے مقدمات حکمران خود سنے گا۔

چونکہ قائد اعظم محمد علی جناح، لنکن اِن سے فارغ التحصیل انتہائی قابل بیرسٹر تھے اور قانون پر اُن کی بڑی گہری گرفت تھی۔ لہٰذا،اکثر کمرہ عدالت میں بڑی تعداد میں قائد اعظم کے قانونی دلائل سے محظوظ ہونے کے لیئے ایسے لوگ بھی جمع ہوجاتے تھے، جن کا مقدمہ کی سماعت سے براہ راست کوئی واسطہ یا تعلق بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ قائداعظم کوسننے کے لیئے بے شمار لوگوں کا ہجوم احاطہ عدالت میں جمع ہوگیا تو عدالت میں مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج ڈیوس نے پیش کار کو کمرہ عدالت کے دروازے بندکرنے کا حکم دے دیا، تاکہ لوگ کمرہ عدالت تک نہ پہنچ سکیں۔ معزز جج کا حکم سُن کر قائد اعظم نے مسکراتے ہوئے جج سے مودبانہ انداز میں استدعا کی کہ ”جناب والا! انصاف کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں“۔معزز جج جسٹس ڈیوس نے قائد کے جملے میں پنہاں طنزیہ کاٹ کو محسوس کرتے ہوئے کہا ”میں کمر ہ عدالت کے دروازے کھلے رکھنے کے لیئے تیار ہوں۔بشرط یہ کہ مجمع خاموش رہے“۔قائد نے احاطہ عدالت میں کھڑے لوگوں کی جانب دیکھتے ہوئے باآوازِ بلند کہا”مجھے اُمید ہے کہ سب لوگ کمرہ عدالت میں خاموش رہیں گے“۔دل چسپ بات یہ ہے کہ واقعی کمرہ عدالت میں آنے والے لوگوں نے قائد اعظم کی بات کا پاس رکھا اور عدالتی کارروائی کے دوران اس قدر خاموشی رہی کہ جج جب عملہ سے لے کرکوئی فائل اُٹھا کر اپنے سامنے میز پر رکھتا تھا تو اُس کی آواز بھی کمرہ عدالت میں گونجتی تھی۔

واضح رہے کہ انگریز جج، عام طور پر ہندوستان کے مسلمان وکلا کو زیادہ اہمیت نھیں دیتے تھے اور جب اُن کے سامنے کوئی مسلمان وکیل اپنے مقدمہ کی پیروی کے لیے پیش ہوتا تو وہ اُسے اپنے تنقید ی جملوں سے زَچ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ایساہی ایک انگریز جج،جسے اپنے روبرو پیش ہونے وکلا پر بالعموم اور مسلمان وکلاء پر بالخصوص تند و تیز جملے اور نشتر زنی کی عادتِ قبیح تھی۔ اتفاق سے اُس کے سامنے ایک مقدمہ میں قائد اعظم محمد علی جناح پیروی کے لیئے پیش ہوگئے۔ جج نے حسب عادت اپنے ناقدانہ، انداز گفتگو سے قائد اعظم کو پریشان کرنے کی بہت کوشش کی،مگر قائد اعظم ہر بار اُسے کمال ذہانت سے طرح دے جاتے اور اپنے قانونی نکتوں سے جج کو لاجواب ہونے پر مجبور کردیتے۔ آخر جب جج کو احساس ہوا کہ وہ،قائداعظم کو قانونی داؤ پیچ کی تیکنیک سے زَچ نہیں کر پائے گا تو اُس نے اپنی بزرگی کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے کہا ”مسٹر جناح! آپ کو کم ازکم میرے سفید بالوں کا تو احترام کرنا چاہیئے“۔قائداعظم نے بے ساختہ فقرہ کہا کہ ”مائی لارڈ! مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ میں اس وقت تک سفید بالوں کی عزت نہیں کرتا جب تک ان کے پیچھے دانش مندی پوشیدہ نہ ہو“۔ایک دوسرے مقدمہ میں جب اِسی انگریز مجسٹریٹ اور قائد کے مابین قانونی بحث غیر معمولی حد تک طول اختیار کر گئی تو انگریز مجسٹریٹ تنگ آکر بولا۔”مسٹر جناح! میں تو آپ کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دیتا ہوں“۔یہاں فوری طور پر قائد کی فطری حسِ مزاح متحرک ہوئی اور انہوں نے جواب دیا ”جناب والا! آپ کے دونوں کانوں کے درمیان کی جگہ غالباً خالی ہے شاید اس لئے!“۔

دوسری جانب قائد اعظم محمد علی جناح کی خوش گفتاری کے شگفتہ نقوش اُن کی سیاسی زندگی میں بھی جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور اُن کی لیڈی کی قائداعظم کے ساتھ وائسرائے ہاؤس میں ایک تصویر بن رہی تھی۔ اس خیال سے کہ لیڈی موصوفہ درمیان میں ہوں گی۔ قائداعظم نے ازراہ مزاح اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا… ”آپ تو تصویر میں دو کانٹوں کے درمیان پھول نظر آئیں گی“۔نیز ایک مرتبہ سن1941 میں قائد اعظم،مدراس میں مسلم لیگ کے جلسہ میں شرکت کرکے واپس جارہے تھے کہ راستے میں ایک قصبہ سے گذر ہوا۔ جہاں قائد کی گاڑی کو دیکھ بے شمار لوگ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے لگے۔ اسی ہجوم میں پھٹی پرانی نیکر پہنے ایک آٹھ سال کا بچہ بھی پورے جوش خروش کے ساتھ اُچھل اُچھل کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہا تھا،جسے دیکھ کر قائد نے گاڑی روکنے کو کہا اور لڑکے کو پاس بلا کرپوچھا”کیاتم پاکستان کا مطلب سمجھتے ہو؟“۔قائد کا سوال سُن کر لڑکا گھبراگیا۔ قائد نے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے پیار سے پھر سوال دہرایا تو لڑکا بولا ”پاکستان کا بہتر مطلب آپ جانتے ہیں،ہم تو بس اتنی سی بات جانتے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت وہ پاکستان اور جہاں ہندووں کی حکومت وہ ہندوستان۔“قائد اعظمؒ نے اپنے ساتھ آئے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”مدراس کا چھوٹا سا لڑکا پاکستان کا مطلب سمجھتا ہے لیکن گاندھی جی نہیں سمجھ سکتے۔“یہ بات صحافی نے نوٹ کرلی اور اگلے روزتمام اخبارات میں یہ خبر شائع ہوگئی۔

قائداعظم کی سیاسی زندگی کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی پوری سیاسی جدوجہد میں ایک بار بھی جیل نہیں گئے۔دراصل قائد اعظم جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد احتجاج پر مبنی تخریبی سیاست کے یکسر خلاف تھے۔کیونکہ اُن کی سیاست معاملہ فہمی اور اعلیٰ سیاسی آدرش کے گرد گھومتی تھی۔قائد کی پراَمن سیاست کا اکثر کانگریس کی قیادت مذاق بھی اُڑایا کرتی تھی۔ 10 اکتوبر 1945 کو کوئٹہ مسلم لیگ کے یک جلسہ عام میں قائدنے گاندھی جی کی تخریبی سیاست کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ ”لیڈری حاصل کرنا،پولیس لاٹھی چارج کے موقع پر بکری کی طرح بیٹھ جاناپھر جیل چلے جاناپھر وزن کم ہونے کی شکایت کرنااور پھر اس طرح رہائی حاصل کرلینا،میں اس قسم کی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتا“۔قائد کے بیان میں چھپی طنزیہ کاٹ سے کانگریسی قیادت نے سخت سبکی محسوس کی۔

یادش بخیر!قائد اعظم کی بذلہ سنج، باغ و بہار طبیعت اور شگفتہ مزاجی کی آئینہ دار، ایک حسین یاد،اُن کے زیرمطالعہ رہنے والی کتاب کی صورت میں آج بھی کراچی یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے۔ جس پر انگریزی میں لکھا ہوا ہے کہ(یہ کتاب مرتے دم تک میری ہے، کوئی اس کو چوری کر کے شرمندہ نہ ہو) اس لیئے اس کے مالک کا نام نیچے درج ہے۔ایم اے جناح 10 سمبر1895۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 25 دسمبر 2022 کے خصوصی شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں