سندھ بدامنی اور لاقانونیت کی زد میں کب تک رہے گا؟

اَمن و امان کا قیام ہر جمہوری حکومت کا بنیادی وظیفہ ہوتا ہے اور جو حکومت اپنی اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکا م ہوجائے تو پھر اُس کی انتظامی کارکردگی پر ہر طرف سے سوالات اُٹھنا بالکل ایک فطری اَمرہے۔ ویسے تو صوبہ سندھ میں اَمن و اَمان کی صورت حال کبھی بھی ایسی نہیں رہی کہ جسے مثالی قرار دیا جاسکے لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے سندھ کے کئی علاقوں میں بدامنی اور قانون شکنی کے واقعات میں جس غیر معمولی تیزرفتاری کے ساتھ اضافہ ہو اہے، وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔پہلے سانحہ ٹندو الہ یار اور اَب نواب شاہ کے مرزا پور تھانے میں زرداری اور بھنڈ کے درمیان زمین کے تنازعے میں ایک ایس ایچ او سمیت 6 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہونے کا واقعہ سندھ حکومت کی انتظامی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

بظاہر یہ واقعہ دو برادریوں میں کچے کے علاقے میں واقع زرعی زمین پر حق ملکیت کا تنازعہ دکھائی دیتا ہے لیکن جس طرح سوشل میڈیا میں سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی پر اِس واقعہ میں ملوث ایک برادری کی پشت پناہی کا مبینہ الزام لگایا جارہا ہے۔اُس سے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ نواب شاہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا آبائی ضلع ہے جہاں ان کے رشتے دار اور زرداری برادری کے لوگ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔چونکہ یہ تنازعہ بھی زرداری برادری اور بھنڈ برادری کے درمیان تھا،لہٰذا اس وقت سب کی تنقید کا مرکز محور بھی سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ذات بن چکی ہے اور ملکی ذرائع ابلاغ عام تاثر یہ ہی لیا جارہا ہے کہ مذکورہ واقعہ میں زرداری برادری کو سندھ حکومت کی غیر معمولی حمایت اور تعاون دستیاب تھا۔

واضح رہے کہ یہ ہول ناک تنازعہ کچے کی کم ازکم 800 ایکٹر زمین کے حقِ ملکیت پر زرداری برادری اور بھنڈ برادی کے درمیان 2009 سے جاری ہے۔ دونوں برادریاں دعوی کرتی ہیں کہ یہ زرعی زمین اُن کی ملکیت ہے۔بھنڈ برادری کا موقف ہے کہ یہ ان کی آبائی زمینیں ہیں اور یہاں ان کا قبرستان بھی موجود ہے جبکہ ’زرداریوں کا کچھ بھی نہیں ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ اس پوری زمین میں ان کی برادری کے بہت سے کھاتے دار ہیں جن کے پاس چار سے پانچ ایکڑ تک زمین ہے۔دوسری جانب زرداری برادری کے مطابق یہ ساری زمین انھوں نے 2009 میں لغاری خاندان سے خریدی تھی اور ان کے پاس اس زمین کی تمام دستاویزات موجود ہیں لیکن بھنڈ برادری مختلف حیلوں بہانوں سے انھیں تنگ کرتی رہتی ہے اور اس زمین پر قابض ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھنڈ برادری نے اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں اس معاملے پر 40 روز تک دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے کے بعد نواب شاہ کے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کی موجودگی میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اس متنازع زمین سے فیصلہ ہونے تک دونوں فریقین پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہاں پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔اس پر دونوں فریقین نے متازعہ زمین پر پولیس کی تعیناتی سے اتفاق کیا تھا جس کے بعد گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے پولیس اہلکار متنازع زمین پر تعینات تھے۔دونوں فریقین کی جانب سے تنازعہ کے حل کے لیے سابق صوبائی وزیر منظور پنہور کی سربراہی میں جرگہ بلانے پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔جرگہ میں زرداری برادری کی جانب سے پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر اکبر جمالی جبکہ بھنڈ برادری کی جانب سے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما زین شاہ کو اس فیصلے کے لیے امین مقرر کیا گیا تھا۔

عموماً سندھ میں جب کسی تنازعہ کے حل کے لیئے جرگہ بلالیا جائے تو پھر فریقین جرگے کے فیصلے تک ایک دوسرے کے ساتھ تصادم سے گریز ہی کرتے ہیں مگر حالیہ واقعہ میں جرگہ پر متفق ہوجانے کے بعد فریقین میں تصادم ہوجانے سے جرگہ کے سربراہ منظور پنہور کی اہلیت پر بھی سنگین سوالات اُٹھتے ہیں کہ آخر وہ کیوں جرگہ کی تاریخ طے ہوجانے کے بعد فریقین کو گفت و شنید کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے عہد پر قائم نہ رکھ سکے؟۔اس با بت منظور پنہور کا یہ کہنا کہ”ایک فریق معاملہ عدالت لے جانے پر بضد تھااور وہ یہ اس تنازعہ کو عدالت میں لے گیا“۔ یہ دلیل اس لیئے قبول نہیں کی جاسکتی کہ عدالت میں زیر سماعت بہت سے معاملات پر بھی جرگے منعقد ہوتے رہتے ہیں اور اگر جرگہ میں فریقین کے درمیان صلح ہوجائے تو عدالت میں باہمی رضامندی سے فریقین ایک دوسرے کے خلاف زیرسماعت مقدمات واپس بھی لے لیتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ سندھ حکومت کے ہلاک ہونے افراد کے ورثا کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور اُن کے مطالبہ پر مذکورہ واقعہ کے مرکزی ملزمان کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیئے گئے ہیں۔ جس کے بعد مقتولین کے ورثا نے قومی شاہراہ پر کئی دنوں سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔لیکن مقتولین کے ورثا کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کو سندھ حکومت کا ”انتظامی کارنامہ“ اس لیئے نہیں قرار دیا جاسکتا کہ زرعی زمین کے تنازعہ میں جو قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے، اُسے بروقت انتظامی اقدامات کرکے رونما ہونے سے باآسانی روکا بھی جاسکتاتھا۔بہر حال اَب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے کاندھوں پر یہ بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ واقعہ پر ایک ایسی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کروائیں،جن پر کوئی مخالف فریق انگلی نہ اُٹھاسکے۔یہ پاکستان پیپلزپارٹی کے لیئے اس لیئے بھی لازم ہے کہ چند ماہ بعد بلدیاتی انتخابات اور ڈیڑھ برس بعد قومی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے اور آئندہ انتخابات میں اگر پیپلزپارٹی ماضی کی طرح سندھ میں بھرپور عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو پھر اسے اپنی کمزور ہوتی ہوئی، سیاسی ساکھ کو بہتر بنانا ہوگا۔

کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ سانحہ نواب شاہ جیسے واقعات کے باعث سندھ بھر میں پیپلزپارٹی کی عوامی مقبولیت کو شدید زک پہنچی ہے اور اس کی بھرپائی کرنے کے لیئے پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت چند ایک ایسے مشکل فیصلے ضرور لینے ہوں گے،تاکہ گذشتہ چند برسوں میں سندھ کی عوام میں پیپلزپارٹی کے بارے میں جو منفی تاثر اُجاگر ہوا ہے، اُس کی نفی ہوسکے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 21 فروری 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں