اسٹریٹ کرائمز اور سندھ حکومت کی ذمہ داریاں؟

کوئی مانے یا نہ مانے مگر سچ یہ ہی ہے کہ کراچی میں پولیس اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے جس کی وجہ سے شہر قائد میں جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے کسی خوف و خطر کے بغیر دن دیہاڑے لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے واقعات روزہ مرہ کا معمول بن کر رہ گئے ہیں۔یعنی روزانہ کراچی کے باسیوں کو راہ چلتے نقدی، موبائل فون، موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم کردیا جاتا ہے اور وہ بے چارے کچھ کر نہیں پاتے۔جبکہ کراچی کے باسیوں سے چھینی یا چوری شدہ موبائل فونز، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں کراچی سے باہر لے جا کر کوڑیوں کے مول بیچ دی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ اسٹریٹ کرائمز میں اضافے کی وجہ جہاں سندھ پولیس کی ناقص کارکردگی ہے وہاں شہر بھر میں بگڑتے ہوئے معاشی حالات، منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال اور قانونی کمزوریاں بھی اسٹریٹ کرائمز بڑھنے کا سبب ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں نو عمر بچے یا نوجوان سٹریٹ کرائمز میں سب سے زیادہ ملوث ہوتے ہیں، جو اپنے خوابوں کی تعبیر محنت، تعلیم، قلم و کتاب کی بجائے اسلحہ کے زور پر تلاش کرنے لگے ہیں۔ جس عمر میں ان کے ہاتھ میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئیں وہ چاقو اور پستول تھامے ہوئے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ نوعمر بچے بالخصوص لڑکے جن کی عمریں 10 سے 15 سال کے درمیان ہیں وہ معمولی چوری چکاری، جیب تراشی، اٹھائی گری میں ہی ملوث نہیں بلکہ بڑی ڈکیتیوں، گھروں، گوداموں اور دکانوں میں چوری کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ رہزنی، کار و موٹر سائیکل چوری کرنے جیسی سنگین وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ ایسے جرائم جو گلی محلوں میں انجام دئیے جاتے ہیں، جن میں عام لڑکے، لڑکیوں، بچوں، بزرگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، انھیں ”اسٹریٹ کرائمز“کہا جاتاہے۔

کراچی پولیس کے مطابق گلی محلوں میں 11 سے 12 سالہ بچوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، یہ بچے موٹر سائیکل اور موبائل لوٹ کربہت ہی کم قیمت میں فروخت کر دیتے ہیں۔ اور اس عمر کے بچوں میں جرائم بڑھنے کی بڑی وجہ ان کی نشے کی عادت ہے۔ نشہ آورادویات بچوں کو باآسانی دستیاب ہیں، جس کے حصول کے لیے بچے چند ہزارروپے کے عوض چوری کی موٹر سائیکل فروخت کردیتے ہیں۔

تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے تحت رواں سال کے صرف ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں 11 ہزار سے وارداتیں کراچی کے شہریوں کی جانب سے رپورٹ کرائی جا چکی ہیں۔شہر قائد کے باسیوں کی جانب سے درج کرائی جانے والی رپورٹس کے تحت یکم جنوری سے 17 فروری تک کے درمیانی عرصے میں کراچی کی سڑکوں پر شہریوں سے 3 ہزار 845 موبائل فونز چھینے جا چکے ہیں۔نیز اس ڈیڑھ ماہ کے دوران اسلحے کے زور پر 672 موٹرسائیکلیں اور 20 گاڑیاں چھینی گئی ہیں جب کہ شہریوں کی 6 ہزار 87 موٹرسائیکلیں اور 296 گاڑیاں چوری بھی ہو چکی ہیں۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اسٹریٹ کرائمز اور لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر پولیس اہلکار اور صحافی سمیت 13 افراد کو جرائم پیشہ عناصر جاں بحق بھی کر چکے ہیں۔ بہر دیر آید درست آید مقولہ کے عین مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم پر عادی مجرموں کی ای-ٹیگنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے پولیس کو ہر ضلعے میں رینجرز کی مدد سے کارروائی کرنے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ”شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ عادی مجرموں کی الیکٹرونک ٹیگنگ کی جائے، اس طرح کے مجرموں کے ساتھ ایسی ڈیوائس لگائی جائے تاکہ وہ کسی علاقے میں جائے تو پولیس کو اس کے بارے میں پورا علم ہو“۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ”میں اکثر خاموشی سے شہر کے دورے کرتا ہوں لیکن پولیس اور رینجرز سڑکوں اور متعلقہ علاقوں پر کہیں نظر نہیں آتے، اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں اب بالکل برداشت نہیں کی جائیں گی۔کیونکہ شہر میں وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور اِن واقعات میں شہریوں کی قیمتی جانیں بھی جار ہی ہیں“۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ”میں اب شہر کے اچانک دورے کروں گا، پولیس اور رینجرز کی جو بھی حکمت عملی ہے وہ بنائیں اور مجھے نتائج چاہئیں۔کیونکہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے“۔یقینا وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کے سدباب کے لیئے جو انتظامی فیصلے اور احکامات رواں ہفتے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلاشبہ وہ وقت کی ضرورت ہیں اور اِن فیصلوں سے اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام میں کافی مدد بھی حاصل ہوگی۔لیکن اِن اقدامات کے علاوہ بھی بہت سے ایسے کام جن کا آغاز کیئے بغیر کراچی سے اسٹریٹ کرائمز کا مکمل خاتمہ کا خواب کبھی پور ا نہیں سکتا۔ جیسے سٹریٹ کرائمز کی زیادہ تر رپورٹیں تھانے میں نہیں لکھوائی جاتیں۔ زیادہ تر لوگ پولیس کی جانب سے صحیح اور بروقت اقدام نہ کئے جانے، رشوت ستانی اور ملزمان کو پکڑنے کی بجائے سائل کو بے جا تنگ کرنے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کے خوف سے پولیس کو اپنے ساتھ ہونے والے جرائم سے آگاہ نہیں کرتے۔

یوں بڑی تعداد میں جرائم کے کیس سرے سے درج ہی نہیں ہو پاتے۔ جو کہ غلط ہے، ہر شہری کو کیس لازمی رپورٹ کروانا چاہیے، اور پولیس کو بھی عوام کے ساتھ اعتماد کی فضاء قائم کرنی چاہیے، تاکہ حکام کے پاس اس علاقے اور طریقہ واردات کا ریکارڈ موجود ہو، جو مستقبل میں ایسے کیس روکنے کیلئے مفید ثابت ہو سکے۔ اسی طرح ہمارے ہاں، مجرمان تک پہنچنے اور تفتیش کا نظام اتنا مثالی اور جدید نہیں، جتنا آج کے زمانے میں ہو چکا ہے، اس طرف بھی توجہ دیتے ہوئے نظام کو جدید بنانا ہوگا۔ اس سنگین معاملے میں بہت زیادہ قصور وار ہمارے تمام حکمران بھی ہیں، جنھوں نے کئی دہائیوں سے قوم کے نوجوانوں کی تعمیر کیلئے صرف نعرے لگائے ہیں مگر ان کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت نے اسٹریٹ کرائم کو روکنے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی پیش نہیں کی، اور نہ ہی نوجوانوں کو مجرمانہ سرگرمی سے دور رکھنے کے لئے کوئی خاطرخواہ اقدامات کئے۔جس کا خمیازہ ہمیں اسٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 مارچ 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں