پیپلز بس سروس۔ ۔ ۔ دیر آید درست آید

بڑے شہر وں میں عوام کی آمدو رفت کے لیئے پبلک ٹرانسپورٹ یعنی عوامی بس سروس سہولت سے زیادہ ضرورت کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر بڑا شہر پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک فقید المثال نظام رکھتاہے، سوائے ایک بدقسمت شہر کراچی کے۔ ویسے تو کراچی کو دنیا کا ساتواں اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے اور اِس مناسبت سے کراچی میں ملک کی کسی بھی دوسرے بڑے شہر سے زیادہ بہتر اور موثر پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ایک مدت ہوئی مکمل طور پر شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ کسی زمانہ میں سرکاری ادارے کے تحت ”کے ٹی سی“ کی بڑی بسیں،جن میں مسافروں کی زیادہ گنجائش ہوتی تھی، کراچی شہر کے کم و بیش ہر اہم روٹ پر چلتی دکھائی دیتی تھیں۔ ”کے ٹی سی“ کی عوامی بسوں کا کرایہ انتہائی مناسب ہوتا تھا اور شہر کے لوگ اِس سہولت سے خوب جی کھول کر مستفید ہوتے تھے۔ بعدازاں کراچی شہر جیسے جیسے وسیع ہوتا گیا،ویسے ویسے پبلک ٹرانسپورٹ کی ذیل میں نجی بس،منی بس،وین اور تیز رفتار کوچز کا اضافہ بھی ہوتا گیا۔ نجی شعبہ کے تحت چلنے والا پبلک ٹرانسپورٹ کا یہ نظام بھی شہریوں کے لیئے ملک کے سب سے بڑے شہر میں آمدورفت کے لیئے ایک نعمت و سہولت سے کم نہ تھا۔ مگر پھر اچانک ہی شہر کی سیاست ذاتی اور گروہی مفادات کی ایسی بھینٹ چڑھی کہ سب سے پہلے سرکاری بسیں کراچی کی سڑکوں پر چلنا بند ہوئیں اور پھر نجی بسیں بھی ایک ایک کر کے غائب ہوگئیں۔اَب اگر شہر کی سڑکوں پر کچھ باقی بچا ہے تو وہ بس ٹیکسیاں،رکشوں اور چنگ چی کا ”آلودہ“راج ہے۔ جنہیں آپ مہنگی پرائیویٹ ٹرانسپورٹ تو کہہ سکتے ہیں لیکن کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں ٹیکسی،رکشہ اور چنگ چی کو سستی پبلک ٹرانسپورٹ ہرگز نہیں قرار دے سکتے۔

واضح ر ہے کہ کراچی کے شہریوں نے ہر نئی حکومت سے صاف پانی کی فراہمی کے بعد جو دوسرا بڑا مطالبہ کیا وہ پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کا ہی تھا اور برسراقتدار آنے والی ہر حکومت نے کراچی شہر میں معیاری اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیئے کئی منصوبوں کا آغاز بھی کیا لیکن اُن میں سے کوئی بھی منصوبہ تکمیل کے حتمی مراحل طے نہ کرسکا۔ مثال کے طورپر فروری 2016 میں اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان،میاں محمد نواز شریف نے کراچی میں گرین لائن ریپڈ بس سروس منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ”16 ارب 85 کروڑ روپے لاگت سے یہ منصوبہ ایک سال میں (یعنی دسمبر 2016 تک) بہر صورت مکمل ہوجائے گا۔جس کے بعد کراچی کے شہری اس سروس سے ایک گھنٹے سے زائد میں طے ہونے والا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکیں گے“۔نیزاُس وقت کی وفاقی حکومت نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ یہ سفری منصوبہ ملک کا پہلا تیز ترین ٹرانزٹ سسٹم ہوگا اور جدید سفری سہولیات کے حامل اس کی مدد سے ماہانہ 90 لاکھ (یومیہ تین لاکھ) مسافروں اپنی اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں گے۔گرین لائن ریپڈ بس کا روٹ17.8 کلو میٹر طویل مقرر کیا گیا تھا،جو سرجانی ٹاؤن سے شروع ہوکرناگن چورنگی، کے ڈی اے چورنگی، ناظم آباد چورنگی، لسبیلہ، گرومندر سے محمد علی (ایم اے) جناح روڈ پر ختم ہونا تھا۔ لیکن گرین لائن بسیں کاغذوں تک ہی محدود رہیں اور کبھی کراچی کی سڑکوں پر نہ آسکیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ، اپریل 2018 میں سندھ حکومت کی جانب سے نجی ٹرانسپورٹ کمپنی ڈائیوو کے تعاون سے گرین لائن ریپڈ بس سروس کی طرز پر 10 ایئرکنڈیشن بسیں متعارف کروائی گئی تھیں اور اسے ”پیپلز بس سروس‘‘کا نام دیا گیا تھا۔گرین لائن بس منصوبہ کے ناکام ہوجانے کے بعد ”پیپلز بس سروس“ کے آغاز پر جہاں عوام کی قلیل تعداد نے مسرت و خوشی کا اظہار کیا تھا وہیں بہت بڑی تعداد میں لوگ حکومت سندھ پر یہ تنقید کرتے ہوئے نظر آئے تھے کہ 2 کروڑ آبادی کے شہر میں صرف 10 بسیں کی عوام کے ساتھ صریح مذاق ہے۔بہرکیف مختصر تعداد میں ہونے کے باوجود بھی روزانہ شہریوں کی کچھ نہ کچھ تعداد تو ان بسوں سے مستفید ہو تی ہی تھی۔مگر صرف 10 بسیں آخر کب تک کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی خانہ پُری کرتیں۔لہٰذا ”پیپلزبس سروس“ کی ذیل میں چلنے والی بسوں میں بروقت اضافہ اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے یہ منصوبہ بھی مشکل سے فقط دو، تین برس ہی چل سکا اور کراچی کی عوام ایک بار پھر سے ملک کے بڑے اور اپنے سے چھوٹے شہروں میں چلنے والے پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگے۔

یاد ش بخیر کہ دسمبر 2021 میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کراچی میں گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (بی آر ٹی ایس) کا افتتاح کیا۔اِس منصوبہ میں چین سے منگوائی گئیں تقریباً 80 بسیں شامل ہیں۔یقینا پبلک ٹرانسپورٹ کی ضمن میں گرین لائن بس سروس ایک اچھی اور مفید سہولت قرار دی جاسکتی ہے۔لیکن بہرحال کراچی جیسے میگا میٹروپولیٹن سٹی کے لیئے وفاقی حکومت کا یہ منصوبہ قطعی ناکافی تھا اور ضرورت اِس اَمر کی تھی کراچی کی عوام کو سستی ٹرانسپورٹ کی سہولیات اعلیٰ معیار کے ساتھ مہیا کرنے کے لیئے سندھ حکومت بھی آگے آئے اور شہر کے لیئے مزید کسی بہتر ٹرانسپورٹ منصوبہ کا فی الفور آغاز کرے۔

شاید سندھ حکومت نے اہلیانِ کراچی کی مذکورہ ضرورت کو دل سے محسوس کرلیا اور سندھ حکومت نے بالآخر اپنی مسلسل تیسری حکومت کے 14 سال بعد”پیپلز بس سروس“ جیسے ایک بڑے اور فقیدالمثال ٹرانسپورٹ سروس کا آغاز کردیا ہے۔ یاد رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروس کے پہلے روٹ کے بعد اب دوسرا روٹ بھی رواں ہفتے یکم جولائی سے آپریشنل کردیا گیا ہے۔پیپلز بس سروس کا روٹ نمبر 2 ناگن چورنگی، شفیق موڑ، سہراب گوٹھ، گلشن چورنگی، نیپا، جوہر موڑ، سی او ڈی، ڈریگ روڈ اسٹیشن، کالونی گیٹ، شاہ فیصل کالونی، انڈس اسپتال، سنگر چورنگی اور لانڈھی کے درمیان ہوگا۔جبکہ ”پیپلز بس سروس“ کا روٹ نمبر 1 ماڈل کالونی ملیر سے براستہ شاہراہ فیصل، میٹروپول اور آئی آئی چندریگر روڈ سے ہوتا ہوا ٹاور پر ختم ہوتا ہے۔علاوہ ازیں ”پیپلزبس سروس“ کے تحت عن قریب شہر کے 7 مختلف روٹس پر مجموعی طور پر 240 بسیں چلائی جائیں گی۔اگر یہ غیر معمولی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو ان بسوں کے ذریعے لاکھوں افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنی منزلوں کو پہنچیں گے۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ”پیپلزبس سرو س“ کے تحت چلنے والی ایئرکنڈیشن اور آرام دہ بسوں کا کرایہ صرف 25 سے 50 روپے کے درمیان ہے۔یقینا بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کراچی کے لوگوں کے لئے ”پیپلزبس سروس“ ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔اس لیئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اگرچہ دیر سے ہی سہی مگر سندھ حکومت نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا برس ہا برس پرانا مسئلہ حل کرنے کے لیئے ”پیپلزبس سروس“ کے عنوان سے جو مفید اور عظیم الشان ٹرانسپورٹ منصوبہ شروع کیا ہے۔ اُس پر پاکستان پیپلزپارٹی کی پوری قیادت بالخصوص بلاول بھٹو زرداری خصوصی مبارک باد اور ستائش کے مستحق ہیں۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 04 جولائی 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں