Rainfall

ڈوبتے سندھ کو کس کا سہارا؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کرنا ایک بہتر فیصلہ ثابت ہوا۔ویسے تو الیکشن کمیشن کے اِس فیصلہ پر بعض سیاسی جماعتوں نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ لیکن رواں ہفتہ سندھ بھر میں ہونے والی والی شدید طوفانی بارشوں نے ثابت کردیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ کے مخدوش موسمیاتی حالات کو بروقت پرکھتے ہوئے ایک دوراندیشانہ فیصلہ کیا تھا اور صوبہ سندھ کی عوام کو طوفانی بارشوں میں ووٹ ڈالنے کی بڑی اذیت سے بچالیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو تین ہفتوں سے جس طرح کی غیر معمولی بارشیں صوبہ بھر میں مسلسل ہورہی ہیں،اِن بارشوں نے معمولات ِ زندگی مکمل طور پر تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ مثال کے طور پرکراچی کی مختلف مرکزی شاہراہوں پر بارش نے گہرے گڑھے ڈال دیئے ہیں، جن کی وجہ سے شہری شدید اذیت کا شکار ہیں۔اگر انتظامہ کی بات کی جائے تو بس یہ ہی کہا جا سکتاہے کہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ شہر بھر میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے جس سے گاڑیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اورشہریوں کا مہنگا پیٹرول پانی کی طرح ضائع ہو رہا ہے اورمنٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے جس سے شہری مہنگائی کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ پر بھاری رقوم خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔

المیہ ملاحظہ ہو کہ کراچی شہر کے نالوں میں موجود سیکڑوں ٹن پلاسٹک بیگ اور بوتلوں نے مون سون کی حالیہ بارش میں کراچی کو مکمل طور پر ڈبو دیا ہے۔ اِس وقت نکاسی آب کو معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاؤٹ یہی”پلاسٹک کچرا“بن رہا ہے۔بظاہر شہر کے ہر نالے سے صفائی کے دوران چند دنوں میں سیکڑوں ٹن پلاسٹک بیگ نکالے جاچکے ہیں جس نے نکاسی آب میں رکاوٹ ڈال رکھی تھی،مگر اَبھی بھی ہزاروں ٹن ”پلاسٹک کچرا“ بارش کے پانی کے ساتھ مل شہر بھر میں تعفن پھیلانے کا باعث بن رہاہے۔اگر ہم یہ کہیں کہ مون سون کی حالیہ بارشوں میں انتظامیہ کے لیئے سب سے بڑاچیلنج اسی ”پلاسٹک کچرے“ کو ٹھکانے لگانا ہے تو یہ عین قرین قیاس ہوگا۔

یاد رہے کہ ماضی میں سندھ حکومت نے کئی بار پلاسٹک بیگ پر پابندی عائد کرنے کے احکامات دیئے تاہم یہ احکامات چند روز تک ہی کار آمد رہے بعد ازاں یہ پابندی غیر اعلانیہ طور پر ختم کر دی گئی اس ضمن میں تاجروں،پلاسٹک کے ہول سیلروں کی دکانوں پر ادراہ تحفظ ماحولیات نے کئی بار نمائشی چھاپے بھی مارے اور اسکی ذرائع ابلاغ سے بھرپور تشہیر کی گئی تاہم بعد ازاں یہ معاملہ طلسماتی طور پر رفع دفع ہو گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پلاسٹک بیگ کی ہی وجہ سے بنگلہ دیش میں خوف ناک، اربن فلڈ آ چکا ہے جس کے بعد انہوں نے پلاسٹک بیگ پر 2002ء میں پابندی عائد کی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس ملک میں سیلاب کی ایک عام وجہ پلاسٹک بیگ سے سیوریج کی نالیوں کا بند ہونا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام شہری دن کی سبزی، گوشت دودھ،اشیائے صرف کا سامان لینے میں کم از کم دس شاپرز استعمال کرتا ہے۔ گویا ایک دن کی ہنڈیا کے لیے دس شاپرز استعمال ہوتے ہیں۔ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ ہے گویا کم از کم تیس لاکھ گھر ہوں گے۔ ہر گھر اگر دس شاپر استعمال کرتا ہے تو گویا ہم خود روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں شاپرز، کا اضافہ کررہے ہیں۔ یہ یہ ”پلاسٹک کچرا“ کراچی میں اربن فلڈ کا باعث بنا ہوا ہے۔

حالیہ بارشوں سے صرف کراچی کے تاجروں کو ایک اندازے کے مطابق دو ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان ہواہے، بارشوں کے پانی سے تہہ خانوں میں رکھا سامان خراب ہوگیا، کروڑوں مالیت کا آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں اور فروٹ خراب، شہر کی بڑی مارکیٹوں کے تہہ خانے بھی بارشوں کے پانی سے متاثر، بیشتر مارکیٹوں میں کاروبار زندگی مفلوج رہا،نیز گوداموں میں رکھا 50 فیصد سے زائد مال خراب ہوگیا ہے،جس میں آٹا،چینی،دالیں اور دیگر اشیاء شامل ہیں،اجناس کے تاجروں کا کہنا ہے گواداموں میں برساتی پانی داخل ہونے کے باعث وہاں رکھا گیا تمام مال خراب ہوگیا ہے،جس کی تاجروں نے کڑوروں مالیت بتائی ہے۔جبکہ سبزی منڈی کے تاجروں کا کہنا ہے کہ آلو پیاز جو گوداموں رکھی ہوتی ہے میں سب کا سب مال خراب ہوگیا ہے،جبکہ سبزی کی فصلیں خراب ہونے سے بھی کرڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے،بارش کا پانی لگنے سے کھلے میدان میں رکھی سبزیاں اور فروٹ خراب ہوگئے،تاجروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال آئندہ چند ماہ تک ڈیمانڈ اور سپلائی کے میکنزم کے تحت سبزیوں وفروٹ کی قیمت بڑھیں گی۔

دوسری جانب کراچی کے فیشن ایبل بازار طارق روڈ کے تاجروں کا بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے،شاپنگ مال کے بسمنٹ بازار میں بنی ہوئی اکثر دُکانوں کا سارا مال خراب ہوگیا ہے،جبکہ بسمنٹ میں بنائے گئے کپڑے کے گوداموں میں کروڑوں کا کپڑا دکانوں میں پانی بھرنے سے بہہ گیا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال صدر بازار اور زیب النساء اسٹریٹ میں ہوئی ہے۔یہاں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ایک ایک دکاندار کا بارش کے باعث 50 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔کراچی کی تمام تاجر تنظیموں نے سندھ حکومت سے کراچی کو آفت زدہ قرار دینے کی اپیل کرتے ہوئے تاجر برادری کے ذمہ واجب الادا قرضے فوری طور پر معاف کرنے اور تباہ و برباد ہونے والے کاروبار کو معمول پر لانے کے لئے کم سے کم شرح سود پر نئے قرضے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاوہ باقی سندھ کی صورت حال بھی انتہائی مخدوش ہے۔ مثلاًحیدرآباد میں گذشتہ کئی روز سے وقفے وقفے سے بارش کے پانی کی عدم نکاسی کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، مسلسل پانی کھڑا رہنے سے شہریوں کا لاکھوں روپے کا فرنیچر اورقیمتی سامان خراب ہوگیاہے۔ تعلقہ لطیف آباد کے مختلف یونٹس مہر علی سوسائٹی، فاطمہ جناح کالونی، ریلوے کالونی، حالی روڈ، زیل پاک کالونی، واپڈا کالونی، ٹنڈو محمد خان، مرشد آباد، فرنٹیئر کالونی سمیت دیگر نشیبی علاقوں میں قائم کالونیوں میں گذشتہ 4 روز سے بارش اور سیوریج کا پانی جمع ہے، جہاں گندے پانی کی نکاسی کے لئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاص انتظامات نہیں کئے گئے۔

علاوہ ازیں نواب شاہ شہر کی بعض سڑکوں اور نشیبی علاقوں سے بھی بارش کا پانی بھی تک نہیں نکالا جا سکا۔نیز نواب شاہ شہر میں گذشتہ 20روز سے جاری بارشوں کی وجہ سے شہر میں گندگی اور تعفن پھیلنے کی وجہ سے گیسٹرو کی وبا پھیل چکی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ کم وبیش سارا سندھ ہی مون سون کی طوفانی بارشوں کے رحم و کرم پرہے۔ اَب دیکھنا یہ ہے صوبہ کی مجبور و مقہور عوام کو اِس آفت زدہ صورت حال سے نکالنے کے لیے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کیا ہنگامی اقدامات اُٹھاتی ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 28 جولائی 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں