Sadiq-Sanjarani-Yousuf-Raza-Ghilani-Mirza-Muhammad-Afreedi-Haidri

جب سات، ساتھ نہیں تھے

ایوانِ بالا میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے اُمیدوار عبدالغفور حیدری نے مرزا محمد آفریدی سے عبرت ناک شکست کھانے کے فوراً بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پی ڈی ایم کو اپنے گریبان میں بھی جھانکناچاہئے“۔ یاد رہے کہ عبدالغفور حیدری نے اپنے اس بیان میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے جس ”چاکِ گریبان“ کی جانب اشارہ کیا ہے۔بادی النظر میں یہ اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کا وہی گریبان ہے جسے سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان کی حکومت نے پوری طرح سے چاک کر دیا ہے۔دراصل عبدالغفور حیدری اپنے بیان کے توسط سے جمعیت علمائے اسلام ف کی اعلی قیادت کو یہ سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ اگر پی ڈی ایم ایک بار اپنے گریبان میں جھانک لے تو اُسے باآسانی معلوم ہوجائے کہ پی ڈی ایم کے مضبوط ”سیاسی گریبان“ کو باہری کنارے سے نہیں بلکہ اندرونی طور پر اندرونی دوستوں کی جانب سے ہی چاک کیئے جانے کی ”سیاسی واردات“ کی گئی ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد میں شامل گیارہ جماعتوں میں سے کس جماعت نے اتنی بڑی ”انتخابی بغاوت“ کرنے کی جسارت کی ہوگی۔ پہلا شک تو مسلم لیگ ن پر ہی کیا جارہا ہے کہ اُ ن کے سینیٹرز نے اپنے دوسرے درجے کے قائد میاں شہباز شریف کی خفیہ ہدایات کے عین مطابق یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے کے بجائے،اُسے ضائع کرکے اپنی صف اول کی قائد محترمہ مریم نواز پر واضح کردیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر ز کسی بھی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ”سیاسی مفادات“ کی ساری بالائی تن تنہا ہڑپ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔لہٰذا مسلم لیگ ن کے سات سینیٹرز نے پوسف رضا گیلانی کے نام کے اُوپر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کو ایوانِ بالا میں مزید اُوپر جانے سے روک دیا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: سیاسی و انتظامی مفاہمت کا “کالا جادو”

دوسرا شک پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹرز پر کیا جارہاہے کہ جنہوں نے جب دیکھا کہ اُن کے نامزد کردہ اُمیدوار سید یوسف رضاگیلانی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب سات مسترد شدہ ووٹوں کے باعث ہار چکے ہیں تو پیپلزپارٹی کے سینیٹرز نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا ووٹ عبدالغفور حیدری کو ڈالنے کے بجائے حکمران اتحاد کے اُمیدوار مرزا محمد آفریدی کے کھاتے میں فقط اس لیئے ڈال دیا،تاکہ مولانا فضل الرحمن ڈپٹی چیئرمین کے لالچ میں آکر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے مبینہ طور پر ”غداری“ کے مرتکب نہ ہوسکیں۔ یاد رہے کہ عبدالغفور حیدری بھی اپنے بیان میں ڈھکے،چھپے لفظوں میں یہ ہی کچھ کہنا چاہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے سید یوسف رضاگیلانی کے ہارنے کے بعد ایوان بالا کے باہر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے ایسا منفی تاثر دیا، جیسے کہ سینیٹ انتخابات کا سارا کھیل، صادق سنجرانی کی جیت کے ساتھ ہی ختم ہوگیا ہے اور اَب انہیں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے نتائج سے قطعی دلچسپی نہیں رہی۔ حالانکہ اُصولی طورپر ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کا حتمی نتیجہ آنے کے بعد ہی ایوانِ بالا کے انتخابی نتائج کے متعلق اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کو اپنے سیاسی خیالات عالیہ کا اظہار کرنا چاہئے تھا۔ مگر سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے تو ساری بساط ہی اپنے نامزد اُمیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی جیت کے لیئے ہی بچھائی تھی،جب انہیں ہی مات ہوگئی تو پھر سینیٹ انتخابات میں عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین بنانا تو خود اپنے لیئے ایک ”سیاسی مصیبت“ پالنے کے مترادف تھا۔لہٰذا آصف علی زرداری نے اپنے اہم ترین مہرے کے پٹ جانے کے بعد پوری بساط ہی اُلٹ دی اور یقینا شطرنجی سیاست کا ہر چالاک کھلاڑی ایسا ہی کرتا۔ویسے بھی اپنے شہ کو بُری طرح سے مات ہوجانے کے بعد آصف علی زرداری نے عبدالغفور حیدری جیسے پیادہ کے ساتھ آگے کھیل کر بھلا حاصل بھی کیا کرلینا تھا۔

اپوزیشن اتحاد میں شامل بعض رہنماؤں کی طرف سے تیسرا شک جمعیت علمائے اسلام ف کی قیادت پر کیا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اُمیدوار مولانا عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنوانے کے لیے خفیہ طور پر حکومتی حلقوں سے ساز باز کرلی تھی اور قوی خدشہ ہے کہ 7 اپوزیشن سینیٹر کو سید یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگا کر اپنا ووٹ مسترد کروانے کی”خفیہ تربیت“ بھی مولانا کی جانب سے ہی فراہم کی گئی تھی۔ تاہم سید یوسف رضا گیلانی کے ہارتے ہی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو احساس ہوگیاکہیں مولانا اُن کے ساتھ خاموشی سے ہاتھ تو کرنے نہیں جارہے اور اپنے اسی اندیشے کو ختم کرنے کے لیئے دونوں جماعتوں نے جان بوجھ کر اپنے 7 ووٹ تحریک انصاف کے اُمیدوار مرزامحمد آفریدی کو ڈال کر ڈپٹی چیئر مین سینیٹ بنوادیا۔ اس طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایوان بالا کے انتخابات سے قبل چلنے والی اُن خبروں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا،جن میں کہا جارہاتھا کہ ”صادق سنجرانی کو چیئر مین سینیٹ اور مولانا غفور حیدری کوڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنوا کر پی ڈی ایم اتحاد کا مردہ ایوان ِ بالا کی راہ داریوں میں ہی دفنا دیا جائے گا۔

بہرکیف نو منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے 48 اورڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کے54 حاصل شدہ ووٹوں نے ثابت کردیا کہ حکمران اتحاد اِس مرتبہ ابتداء سے لے کر انتہا تک پوری طرح سے متحد و یکجان تھا۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ اس بار میڈیا کو بھی شکوک وشبہات کے تمام سائے اپوزیشن سینیٹر ز کے سروں پر ہی لہراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ نیز ایوانِ بالا کے حالیہ نتائج نے پاکستانی عوام کو بھی بخوبی سمجھا دیا ہے کہ ایک زرداری اس قدر بھی بھاری نہیں ہے،جس قدر اُس کے بارے میں میڈیا میں ڈھول پیٹا جاتا رہاہے۔دراصل زرداری کے سیاسی جثہ میں جوڑ توڑ کی ہوا،”کوئی اور“ بھرتا ہے اور اگریہ ہی”کوئی اور“ ایک زرداری کے سیاسی تن ِ نازک میں ہوا نہ بھرے تو پھر زرداری کی سیاست کا ہلکا پن قابل دید ہی نہیں بلکہ قابل عبرت بھی بن جاتا ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 15 مارچ 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں