Ridiculous And Funny Taxes

ایسے بھی ہوتے ہیں ٹیکس

اکثر کہا جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف دو ہی چیزیں یقینی ہیں۔ایک موت اور دوسرا ٹیکس۔یعنی ہماری دنیا میں رہنے والے ہرشخص کے لیئے جس طرح موت کا ذائقہ چکھنا یقینی سی بات ہے۔بالکل اسی طرح ٹیکس کی ادائیگی کا تلخ تجربہ حاصل کرنا بھی ہر انسان کے لیئے عین ضروری ہے۔ بلکہ ہم میں سے بعض لوگ تو یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ٹیکس،موت سے بھی بدتر ہوتاہے۔کیونکہ موت ایک بار آنی ہوتی ہے،جبکہ ٹیکس کے ہاتھوں ہمیں بار بار مرنا ہوتاہے اور کبھی کبھار تو ایک ہی وقت میں متعدد ٹیکس اداکرکے المناک ”معاشی موت“ سے بھی گزرنا پڑسکتاہے۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ امیر ہو یا غریب سب ہی ٹیکس دینے سے کنی کتراتے ہیں حتی کہ ٹیکس چاہے کتنا کم یا معمولی ہی کیوں نہ ہو، ادائیگی کرنے والے کو ہمیشہ زیادہ ہی محسوس ہوتاہے۔عوام الناس کی اسی دیرینہ ٹیکس دشمنی کے باعث دنیا کے کسی بھی ملک میں ٹیکس کی ادائیگی کو عوام کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاتابلکہ ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ وصولی کو محفوظ اوریقینی بنانے کے لیئے حکومتیں قانونی و انتظامی طاقت کا سختی سے عام استعمال کرنا اہم سرکاری فریضہ سمجھتی ہیں۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: خوش قسمتی سے بدقسمتی تک ۔ ۔ ۔

لیکن دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹیکس سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتا بھی عوام کو ہی ہے۔جیسے جن ممالک میں ٹیکس وصولی کی شرح بلند ترین سطح پر ہوتی ہے، وہ ممالک نہ صرف زبردست معاشی ترقی کرتے ہیں بلکہ وہاں کی عوام بے شمار سرکاری سہولیات سے مفت میں خوب مستفید بھی ہوتی ہے۔ جبکہ ایسی حکومتیں جو اپنی عوام سے ٹیکس وصول کرنے سے قاصر رہتی ہیں، ایسے حکمرانوں کی زیادہ تر مدتِ اقتدار اپنے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج سے نمٹنے میں ہی گزرجاتی ہے۔مثال کے طور پر ہمارا ملک دنیا کے اُن ممالک میں سرفہرست ہے، جہاں عوام سب سے کم ٹیکس کی ادائیگی کرتی ہے۔مگر اس کے باوجود ہماری عوام اپنے ہر دُکھ درد کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ڈال کر جب جی چاہتا ہے حکومت مخالف احتجاج کے لیئے نکل پڑتی ہے۔

لطیفہ ملاحظہ ہو کہ پاکستان کا تاجر طبقہ سب سے کم ٹیکس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود تاجر تنظیمیں ہر حکومت سے ایک ہی مطالبہ کرتی ہیں کہ ”ہمیں ٹیکس ادائیگی میں غیر معمولی رعایت دی جائے“اور اگرعوام کی ”ٹیکس کتھا“سنی جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان میں جو ٹیکس عائدکیئے گئے ہیں شاید ایسے”ظالمانہ ٹیکس“عوام سے وصول کرنا دنیا کے دیگر ممالک میں گناہ کبیرہ سمجھا جاتاہے۔ حالانکہ جس طرح کے عجیب وغریب اور مضحکہ خیز ٹیکس دنیا بھر میں نافذ ہیں،اُن کے بارے میں اگر پاکستانی عوام کو معلوم ہو جائے تو یقین مانئے ہم پاکستانیوں کو اپنے ٹیکس،سرے سے ٹیکس ہی محسوس نہ ہوں گے۔ زیر نظر مضمون میں دنیا بھر میں نافذ العمل کچھ ایسے ہی منفرد،عجیب وغریب، انوکھے،مضحکہ خیز اور غیرمنصفانہ ٹیکسوں کا مختصر سا احوال پیش خدمت ہے۔

سانس لینے پر ٹیکس
ہمیں یقین ہے کہ آپ نے کبھی نہ کبھی اپنے اردگرد یہ جملہ تو ضرور سنا ہی ہوگاکہ ”اگر حکومت کا بس چلے تو وہ سانس لینے پر بھی ٹیکس عائد کردے“۔ لیجئے جناب! پاکستانی حکومت نے نہ سہی لیکن وینزویلاکی حکومت نے ضرور اپنے لوگوں کے سانس لینے پر باقاعدہ ٹیکس عائد کردیا ہے۔ مگر یہاں اس بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ یہ ٹیکس پورے ملک میں نہیں بلکہ وینزویلا کے شہر کاراکاس میں حال ہی میں تعمیر آنے والے مکیٹیا بین الاقوامی ہوائی اڈے سے باہر جانے والے مسافروں پر127 بولیوار یعنی 20 ڈالر کا خصوصی ”سانس لینے کا ٹیکس“ عائد کیا گیا ہے۔ دراصل یہ ٹیکس وینزویلا کی حکومت نے ہوائی اڈے پر ہوا کو صاف کرنے کے لیئے نصب کیئے گئے جدید ترین فلٹریشن سسٹم کی لاگت کو پورا کرنے کے لئے عائد کیا ہے۔وینزویلا کی وزارت پانی و ہوائی نقل و حمل کے وزیر کا اس منفرد ٹیکس کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ”چونکہ اُن کا نصب کیا گیا ایئر فلٹریشن نظام ہوائی اڈے کی فضائی صفائی کو یقینی بناتا ہے، جس سے ائیرپورٹ کی فضا کو آلودہ کرنے والے بیکٹیریا کی افزائش کا راستہ رُک جاتاہے۔لہذا ائیرپورٹ پر آنے والے مسافروں کو صحت افزا فضاء میں سانس لینے کی تھوڑی بہت قیمت تو ٹیکس کی مد میں ادا کرنا ہی چاہئے“۔حالانکہ وینزویلا کی عوام نے سوشل میڈیا پراس عجیب و غریب ٹیکس کاخوب مذاق اڑایا۔مگر اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وینزویلا حکومت کی سرکاری پالیسی ہے کہ اچھی فضا میں سانس لینے کے لیئے اچھا ٹیکس تو بہر صورت دینا ہی ہو گا۔

کتا ٹیکس (Dog Tax)
اگر آپ سوئٹزرلینڈ میں رہتے ہوئے ایک عدد کتے کے مالک بھی بننا چاہتے ہی۔ تو ہمارا آپ کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ سب سے پہلے Dog Tax کے لیئے رقم کا بندوبست ضرور کر لیجئے گا۔ بصورت دیگر ٹیکس نادہندہ قرار دے کر آپ کے کتے کو کبھی بھی گولی مار کر ہلاک کیا جاسکتاہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ سالانہ کتا ٹیکس کے لیئے آپ کو کتنی رقم کی ادائیگی کرنا ہوگی، یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔کیونکہ سوئزرلینڈ کی حکومت نے کتا ٹیکس کی مخصوص شرح مقرر نہیں کی ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ آپ کے کتے کے قد کاٹھ،نسل اور میونسپلٹی اہلکاروں کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ آپ پر سالانہ کتنا کتا ٹیکس واجب الادا قرار دیتے ہیں۔یعنی کسی برس کتے کا وزن کم یا زیادہ ہونے سے ٹیکس کی مالیت میں بھی فرق آسکتاہے۔

اچھی با ت یہ ہے کہ جو کتے گائیڈ یا ریسکیو کی خدمات انجام دیتے ہیں،اُن کے مالکان کو کتا ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنی بھی قرار دیا جاسکتاہے۔ یہ قانون سوئیزرلینڈ کی حکومت نے پہلی بار 1904 میں نافذ کیا تھا کہ جو شخص کتا ٹیکس کی سالانہ ادائیگی کرنے سے انکار کرے گا،اُس کے کتے کو سرکاری اہلکار گولی مار دیں گے۔1960 کے بعد اس قانون میں کچھ نرمی کردی گئی تھی اور کتا ٹیکس کے نادہندہ ہونے کے باوجود بھی کتوں کو گولی مارنے سے اجتناب کیا جانے لگا تھا لیکن پھر اس نرمی کا یہ نتیجہ نکلاکے لوگوں نے کتا ٹیکس ادا کرنا ہی بند کردیا۔ تاہم ریکن ویلئیر گاؤں کی میونسپلٹی کو جب گاؤں میں 280 کتے ہونے کے باجود ایک بھی کتے کا کتا ٹیکس نہیں موصول ہوا تو میونسپلٹی کے سربراہ نے ایک بار پھر سے سختی کے ساتھ اس قانون پر عمل درآمد کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری حکم نامہ جاری کردیا ہے کہ ”کتا ٹیکس کے نادہندہ کے لیئے آخری موقع ہے کہ وہ اپنا سالانہ ٹیکس ادا کردیں،وگرنہ اُن کے کتے کو گولی ماردی جائے گی“۔

جادوئی ٹیکس
رومانیہ میں جادوگری اورمستقبل بینی ہمیشہ ہی سے ایک بڑا کاروبار رہا ہے اور اس کام کے کاری گروں یعنی جادوگر،جادوگرنیاں یا عاملوں کو گاہک ڈھونڈنے میں کبھی بھی مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ رومانیہ میں زیادہ تر امیر ترین افراد جادوئی پیشوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔لیکن اس کی باوجود رومانیہ کی حکومت نے کبھی اس تجارت کو سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا تھا۔الہٰذا جادوگری کے پیشوں سے منسلک افراد ٹیکس نیٹ میں بھی نہیں آتے تھے۔ مگر پھر اچانک وقت کا پہیہ گھوما اور رومانیہ کی معیشت کساد بازاری کا شکار ہوگئی اور روز بہ روز ہوتے دگرگوں معاشی صورت حال کے باعث رومانیہ کے حکمرانوں کے لیئے کاروبارِ حکومت چلانا سخت مشکل ہونے لگا تو انہوں نے ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کا ایک منفرد راستہ نکالااور جادو اور مستقبل بینی کے کاروبار سے منسلک افرادکے لیئے ٹیکس کا نیا قانون نافذ کردیا کہ وہ سب کے سب اپنی آمدنی کا 16 فیصد بطور ٹیکس حکومت کو اداکریں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رومانیہ کے زیادہ تر جادوگروں اورعاملوں نے بھی حکومت کے نافذ کردہ اس ”جادوئی ٹیکس“ پر کوئی نقطہ اعتراض نہیں اُٹھایا۔ذرا سوچئے! اگر یہ ہی کچھ رومانیہ کی جگہ پاکستان میں ہوا ہوتا توکیا ہوتا؟۔اول تو ہمیں یقین ہے کہ ہماری حکومت ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیئے جادوگروں اور عاملوں کے پاس ٹیکس لینے کے بجائے تعویذ لینے جاتی لیکن اگر بالفرض محال پاکستانی حکومت ”جادوئی ٹیکس“نافذ کرنے کا مشکل فیصلہ لے بھی لیتی تو پھر ہمارے قابل ترین عامل بابے اُلٹا حکومت وقت کو جلاکر بھسم کردینے کی دھمکی دے کر یہ فیصلہ واپس چند لمحوں میں واپس کروالیتے۔ بہرحال رومانیہ میں ایسا کچھ نہیں ہوا ور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ”جادوئی ٹیکس“ کے نفاذ کے بعد رومانیہ کی معیشت بھی مستحکم ہوگئی ہے۔ہمیں تو شک ہے کہ یہ سب ”جادوئی ٹیکس“ کی ہی کرامت ہے۔ اگر پاکستانی حکومت توجہ دے تو اس طرح کے معجزہ کا ظہور ہمارے ہاں بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیئے ”جادوئی ٹیکس“ کا نفاذ کون،کیسے اور کب کرے گا؟۔

سوشل میڈیاٹیکس
فیس بک، ٹوئٹر،واٹس ایپ،ٹک ٹاک،انسٹاگرام اور یوٹیوب وغیرہ چند ایسی قابل ذکر سوشل میڈیا ویب سائٹس ہیں،جن کی جانب گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی عوام بڑی تیزی سے راغب ہوئی ہے۔ خاص طو رپر ہماری نوجوان نسل تو سوشل میڈیا کے سحر میں مکمل طور پر گرفتار ہوچکی ہے۔ ایسے میں اگرکسی روز اچانک یہ بریکنگ نیوز سننے کو ملے کہ ”حکومت نے سوشل میڈیا ویب سائیٹس استعمال کرنے پر ٹیکس عائد کردیا ہے“۔تو اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد غالب گمان یہ ہی ہے کہ سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف احتجاج کے وہ وہ ٹاپ ٹرینڈ چلیں گے کہ جن کی زد میں آکر یا تو بے چاری حکومت چند گھنٹوں میں گھٹنوں کے بل گر جائے گی یا پھر اُسے سوشل میڈیا ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لینا پڑے گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سیاسی سوشل میڈیاسیلز کے ذریعے سوشل میڈیا کے ہاتھی کو اتنا سرکش اور طاقت ور بنا دیا ہے کہ اَب کسی بھی جمہوری حکومت کے لیئے یہ ممکن ہی نہیں رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے بدمست ہاتھی کے پاؤں میں ٹیکس کی بیڑیاں ڈال سکے۔

لیکن ایک چھوٹے سے افریقی ملک یوگنڈا میں ابھی تک سوشل میڈیا حکومت سے زیادہ طاقت ور نہیں ہوسکا ہے۔کیونکہ یوگنڈا کی حکومت نے یکم جون،2018 میں سوشل میڈیا ٹیکس متعارف کروا کر تمام تر سوشل میڈیا ویب سائیٹس کو ”پابندٹیکس“ کردیا تھا۔واضح رہے کہ یوگنڈا میں سوشل میڈیا صارفین،فیس بک، واٹس ایپ،ٹوئٹر،ٹک ٹاک اور انسٹا گرام وغیرہ کے استعمال پر روزانہ 200 شیلنگ یعنی 0.05 امریکی ڈالر ٹیکس اداکرتے ہیں۔لیکن یوگنڈا کے شہریوں کو اُن دنوں ٹیکس ادا کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی،جن ایام میں وہ یہ ایپس یا ویب سائیٹس استعمال نہیں کرتے۔سوشل میڈیا ٹیکس کے نفاذ سے متعلق یوگنڈا کے صدر یووری میوسیوینی کا کہنا ہے کہ ”سوشل میڈیا ٹیکس کا نفاذ سوشل میڈیا پر غیرضروری گپ شپ اوروقت کے ضیاع کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیئے کیا گیا ہے۔جبکہ اس ٹیکس کی ادئیگی سے سوشل میڈیا صارفین بھی ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا اہم ترین کردار کررہے ہیں“۔

مذہبی ٹیکس
جرمنی میں اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور مذہبی سہولیات سے مستفید ہونے کے لیئے خصوصی ”مذہبی ٹیکس“ کی ادائیگی لازمی ہے۔یہ مذہبی ٹیکس کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائی جرمن شہریوں پر برابر نافذ ہے۔ دراصل جرمنی کی حکومت توقع کرتی ہے کہ مذہبی مقامات مثلاً گرجا گھروں کی دیکھ بھال کے لیئے انہیں افراد سے ٹیکس لیا جائے گا،جو انہیں استعمال کرتے ہیں۔اس لیئے کیتھولک یا پروٹسنٹ کہلانے والے والے ہر جرمن شخص سے اُس کی آمدنی پر ایک خصوصی ”مذہبی ٹیکس“ وصول کیا جاتا ہے۔جو کہ ہر شخص کی حاصل ہونے والی آمدنی پر خالص منافع یا اثاثہ جات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 8.9 فیصد بنتا ہے۔واضح رہے کہ جرمن حکومت کو ”مذہبی ٹیکس“ کی مد میں ہر سال خاطر خواہ رقم حاصل ہوجاتی ہے۔کیونکہ جرمنی میں 24.7 ملین کے قریب کیتھولک اور 24.3 ملین کے قریب پروٹسنٹ مذہب پر عمل کرنے والے بستے ہیں۔

جبکہ باقی مذہب یا لادین افراد پر یہ ”مذہبی ٹیکس“لاگو نہیں ہوتا۔ لہٰذا جرمنی میں ”مذہبی ٹیکس“ سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہی ہے کہ ایک جرمن شہری باضاطہ طور پر کیتھولک یا پروٹسنٹ ہونے سے انکار کردے۔تاہم اس انکار کا بھاری نقصان بھی برداشت کرنا پڑتاہے۔ کیونکہ قانون کے مطابق جو جرمن شہری باضابطہ پر کیتھولک یا پروٹسٹنٹ ہونے سے انکارکر دیتا ہے، وہ خود بخود کچھ مذہبی سہولیات اور فوائد سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محروم ہوجاتا ہے، جس میں مذہبی تدفین کا حق، سرکاری سطح پر چلنے والے ڈے کیئرز کا استعمال، یا چرچ کے زیر ملکیت اور کچھ سرکاری اسکولوں تک رسائی کا حق ختم ہوجانا شامل ہے۔اس کے علاوہ، یہ افراد کیتھولک چرچ میں اعتراف جرم بھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی چرچ میں ہونے والی کسی بھ قسم کی تقریب میں شرکت کرسکتے ہیں۔لیکن ان سخت ترین پابندیوں کے باوجود بہت سے جرمن شہری صرف ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لئے از خود ان مذہبی سہولیات کو ترک کردیتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال کم و بیش ایک لاکھ سے زیادہ جرمن شہری باضابطہ طور پر ”مذہبی ٹیکس“ کی دائیگی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ سن 2014 میں، سب سے زیادہ یعنی دولاکھ جرمن شہریوں نے”مذہبی ٹیکس“ سے بچنے کے لیئے کیتھولک اور پروٹسنٹ ہونے انکار کردیا تھا۔

چرس اور ٹیکس
شاید آپ کے علم میں ہوکہ گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ میں ایک شہری غلام اصغر سائیں نے درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اسے 10 گرام تک چرس پینے کی اجازت دی جائے۔جس پر دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ آپ کیسی درخواست لے کر آئے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟“۔عدالت کے استفسار پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ”’میں ایک غریب آدمی ہوں اور مفاد عامہ کی درخواست لے کر آیا ہوں۔جبکہ چرس پر ٹیکس عائد کرکے اسے کم مقدار میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے ملک کی ٹیکس آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا“۔بعد ازاں معزز عدالت نے درخواست گزار کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’’نہیں چاہیے ایسا ٹیکس،جس سے نشے کو فروغ حاصل ہو، کیونکہ ٹیکس بڑھانے کے اور بھی جائز طریقے ہوتے ہیں“۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چرس کے قانونی اور غیرقانونی ہونے کا تنازعہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں بھی کافی طویل عرصے سے جاری ہے۔

امریکا کی 29 ریاستوں میں آپ چرس کسی بھی میڈیکل اسٹور سے ڈاکٹر کا نسخہ دکھا کر با آسانی خرید سکتے ہیں۔جبکہ امریکا کی 9 ریاستیں ایسی بھی ہیں،جن میں واشنگٹن ڈی سی بھی شامل ہے، جہاں تفریح کے لیئے چرس کو بغیر کسی ڈاکٹری نسخہ کے بھی خریدا جاسکتاہے۔ تاہم مختلف ریاستوں میں چرس کے استعمال سے متعلق متضاد ریاستی قانون ہونے کے باوجود،امریکی وفاقی حکومت کے قانون کے مطابق چرس ایک غیرقانونی شئے ہی ہے اوراس کی خرید و فروخت کو اسمگلنگ کے زمرہ میں ہی شمار کیا جاتاہے۔لہٰذا جو کاروباری ادارے یا افراد اپنی ریاست کے قوانین کے مطابق چر س کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔اُن سب سے امریکا کا وفاقی ادارہ انٹرنل ریوینوسروس(آئی آر ایس) بھاری انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس وصول کرتا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے چرس پر عائد کیا جانے والے ٹیکس دیگر تمام قابل فروخت مصنوعات کے مقابلے میں اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ بہت ساری چرس کمپنیاں زیادہ عرصہ تک اپنا کاروبار جاری رکھنے کی متحمل ہی نہیں ہوسکتیں۔ واضح رہے کہ چرس کی خرید و فروخت کرنے والوں کو اپنی آمدنی کا 40 سے لے کر 70 فیصد تک حصہ بطور ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔

بلاگ لکھنے اور ویب سائیٹ بنانے پر ٹیکس
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ بلاگ ہے کیا؟۔لفظ بلاگ در اصل ویب لاگ کا مخفّف ہے،جو انگریزی کے دو لفظوں web and log سے مل کر بنا ہے جو ایسی ویب سائٹس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں معلومات کو تاریخ وار ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آن لائن کوئی لاگ بُک یا ڈائری مرتّب کر تے ہیں یا انٹرنیٹ کے ذریعے کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہو کر کچھ لکھتے ہیں تو اس سارے عمل کو انٹرنیٹ کی جدید رائج اصطلاح میں ”بلاگ“ بنانا یا بلاگ نویسی قرار دے دیا جاتاہے۔واضح رہے کہ انٹرنیٹ کی مبادیات سے تھوڑی بہت جان کاری والا شخص باآسانی اور مفت میں بلاگ بنا سکتاہے۔جبکہ بہترین تخلیقی مواد کی حامل بلاگ ویب سائٹس، بلاگر یعنی بلاگ نویس کے لیئے آن لائن کمائی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔لیکن افریقی ملک تنزانیہ میں بلاگ بنانا آسان کام نہیں ہے کیونکہ تنزانیہ کی حکومت نے بلاگ نویسی پر سالانہ 440 ڈالر کا مضحکہ خیز ٹیکس عائد کیا ہوا ہے۔ یعنی اگر آپ تنزانیہ میں رہ کر بلاگ بنانا چاہیں گے تو اُس کے لیئے سب سے پہلے الیکٹرانک اینڈ پوسٹل کمیونیکیشز قانون کے تحت بلاگ نویسی کا باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔بلاگ کے لائسنس کے ساتھ 44 ڈالر اور لائسنس ملنے کے بعد سالانہ 440 ڈالر بطور ٹیکس ادائیگی کرنا ہوگی۔ تب کہیں جاکر آپ بلاگ بنانے کے اہل قرار پائیں گے۔یاد رہے کہ 16 مارچ 2018 کو نافذ ہونے والا یہ ٹیکس صرف بلاگرز پر ہی لاگو نہیں ہوتا بلکہ سوشل میڈیا صارفین،آن لائن فورمز، ویڈیو اور پوڈ کاسٹ کے تخلیق کاروں سمیت ہر اُس شخص پرعائد ہوتا ہے جو انٹرنیٹ پر آن لائن مواد شائع یا اُس کی خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس ٹیکس سے سب سے زیادہ بلاگر ز متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اگر بلاگر ز، یہ سالانہ ٹیکس ادا نہیں کرتے تو انہیں نادہندہ قرار دے کر 50 لاکھ تنزانی شلنگ تقریباً 2500 امریکی ڈالر کا جرمانہ یا ایک سال قید کی سزا بھی سنا دی جاتی ہے۔جبکہ بعض بلاگرز پر بیک وقت قید اور جرمانہ دونوں عائد کرنے کی اطلاعات بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں: موت سے پہلے کرنے کے کچھ کام

رشوت، چوری شدہ سامان، اور”دوسری آمدنی“ پر ٹیکس
کاروباری افراد اور اداروں کا ٹیکس بچانے یا معاف کروانے کے لیئے رشوت کی ادائیگی کرنا ایک عام سی بات ہے لیکن ٹیکس اہلکاروں کی جانب سے رشوت لینے والے سے کسی شخص یا ادارے سے حاصل شدہ رشوت کی رقم پر ٹیکس طلب کرنا یقینا ایک غیرمعمولی خبر ہے۔ اگر آپ غیر قانونی آمدنی کے حامل امریکی شہری ہیں؟ یا آپ کو حال ہی میں ایک دفعہ رشوت ملی ہے؟تو امریکی وفاقی قانون آپ کو پابند بناتاہے اس غیرقانی اور رشوت زدہ آمدنی پر ٹیکس کی ادائیگی کریں۔رشوت کی رقم پر ٹیکس وصول کرنے کا قانون بظاہر متنازعہ سا لگتاہے۔ بہرکیف امریکا میں یہ عجیب و غریب قانون پوری طرح سے نافذالعمل ہے۔ ریاستہائے متحدہ کی انٹرنل ریونیو سروس (IRS) امریکی شہریوں سے مطالبہ کرتاہے کہ اُن میں سے جو بھی رشوت وصول کرتا ہے وہ اپنی رشوت زدہ آمدنی کی اطلاع دے اور پھر قانون کے مطابق اپنی ”دوسری آمدنی“پر قابل اطلاق ٹیکس کی بروقت ادائیگی کرے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ IRS چوری کی صورت میں، چور سے بھی یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ چوری شدہ شے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر مناسب ٹیکس ادا کرے۔ یاد رہے کہ چور کو صرف اس صورت میں ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوسکتا ہے اگر وہ چوری کرنے کے ایک سال کے اندر چوری کردہ رقم یا جائیدار وغیرہ سرکار کو واپس لوٹادے۔لطیفہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی چور یا رشوت خور اپنے جرائم کی وجہ سے گرفتار ہوجاتاہے تو جہاں چوری یا رشوت کا جرم ثابت ہونے پر اسے سزاد دی جائے گی وہیں غیر قانونی آمدنی پر ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں الگ سے سزا سنائی جائے گی۔یاد رہے کہ بدنام زمانہ امریکی گینگسٹر ”ال کپون“ 1930 کی دہائی میں غیر قانونی آمدنی اور جائیدار ٹیکس ادا نہ کرنے کے ہی الزام میں جیل گیا تھا۔جبکہ اُسے قتل، شراب کی غیر قانونی فروخت، یا اپنے منظم جرائم کے سنڈیکیٹ کی دیگر مجرمانہ سرگرمیوں پر ناکافی شواہد کی بناء پر باعزت بری کردیا گیا تھا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کراچی کے سنڈے میگزین میں 17 جنوری 2021 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

ایسے بھی ہوتے ہیں ٹیکس” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں