Ghotki Election

پی ایس 7 گھوٹکی کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی کامیابی

اگر دیکھا جائے تو نیا سال اپنے آغاز سے ہی پاکستان پیپلزپارٹی کے لیئے سیاسی کامیابیوں کے حوالے سے انتہائی نیک شگوں ثابت ہوا ہے، اب وہ بلوچستان اسمبلی میں اپنے من پسند اور حمایت یافتہ وزیراعلی کی نامزدگی ہو یا سینٹ کے حالیہ الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان کے یقینی جیتے ہوئے سینیٹرز کی جگہ پر اپنے حمایت یافتہ سینیٹرز کو کامیاب کرانا ہو یا پھر سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 7 کے ضمنی الیکشن میں فنکشنل لیگ کی سر توڑ کوششوں کے باوجود پی پی کے حمایت یافتہ اُمیدوار کی فقیدالمثال کامیابی ہو۔یقینا پاکستان پیپلزپارٹی کا سیاسی ستارہ پورے عروج پر ہے اور اس عروج کی چمک دمک کے مانند ہونے کا فی الحال سندھ میں ذرہ برابر بھی امکان نہیں پایا جاتا۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: کراچی کی انتخابی سیاست کے بدلتے رنگ

سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 7 گھوٹکی میں پیپلزپارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سردار احمد علی پتافی کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی نشست کے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہاں ضمنی الیکشن کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ ضمنی الیکشن کئی حوالوں سے اہم ترین خیال کیا جارہا تھا، کیونکہ پی ایس 7پر ضمنی انتخابات،پیپلز پارٹی دو دھڑوں میں واضح طور پر تقسیم ہوچکی تھی اور پی پی قیادت،اپنی تمام تر کوشش کے باوجود مہر برادران کو منانے میں ناکام رہی تھی۔ مہر گروپ نے پی پی کی جانب سے نامزد امیدوار باری خان پتافی کی مخالف حریف کی بھرپور سیاسی حمایت کے اعلان نے یہاں کی انتخابی سیاست کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا کیونکہ گھوٹکی سے مہر گروپ نے دو صوبائی اور دو قومی کی نشستیں اور ضلعی چیئرمینی اپنے نام کر رکھی ہے۔ جبکہ گھوٹکی کے علاوہ اندرون سندھ میں بھی مہر برادران کو بے پناہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہے۔اس کے علاوہ حال ہی بننے والے پیپلزپارٹی مخالف اٹھاروں جماعتوں کے اتحاد نے پیر پگارا فنکشنل لیگ کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے نامزد اُمیدوار کی سخت مخالفت کا اعلان کردیا تھا۔اس ساری صورتحال نے پی ایس 7 کے ضمنی الیکشن کی تمام تر صورتحال کو پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی تشویشناک بنا دیا تھا۔

پیپلز پار ٹی کی جانب سے نامزد امیدوار باری خان پتافی کے مقابلے میں فنکشنل لیگ کے امیدوار میاں عبدالمالک عرف میاں منجن کی سیاسی پوزیشن انتہائی مستحکم دکھائی دے رہے تھی کیونکہ پیپلزپارٹی سے ہی وابستہ مہر گروپ نے پی پی کی جانب سے نامزد کردہ امیدوار باری خان پتافی کے مقابلے میں میاں عبدالمالک عرف میاں منجن کی بھرپور سیاسی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جبکہ مہر گروپ کے علاوہ دیگر سیاسی برادریوں اور اتحادیوں نے بھی فنکشنل لیگ کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد پیپلز پارٹی کے امیدوار کی پوزیشن انتہائی کمزور دکھائی دے رہی تھی۔ اپنے خلاف تیزی بدلتی صورت حال کے بعد پی پی قیادت کی جانب سے مہر برادران کو منانے کے لیے آغا سراج درانی اور ناصر شاہ کو بھیجا گیا لیکن وہ ناکام لوٹ گئے بعد ازاں مہر برادران کو منانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ خانگڑھ پہنچے اور مہر برادران کو باری خان پتافی کی حمایت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن مہر برادران نے باری خان پتافی کی حمایت کرنے سے صاف انکار کر دیا جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سابق وزیر مملکت میر خالد احمد خان لوند کے پاس خالد آباد پہنچے اورعبدالباری خان پتافی کو کامیاب کرنے کے حوالے سے دیگر سیاسی معاملات زیر بحث لائے گئے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے خالد احمد خان لوند سے ملاقات کے دوران اس بات کا اقرار کیا کہ مہر برادران کو منانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں تاہم اب باری خان پتافی کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے آپ کو کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ مہر برادران کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ پیپلز پارٹی اپنی طاقت کے بل پر جیتنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

مہر گروپ کے پارٹی سے اختلافات اس وقت سامنے آئے جب پی پی قیادت نے مہر برادران کی خواہش کے منافی ٹکٹ باری خان پتافی کو جاری کیا کیونکہ باری خان پتافی نے مہر گروپ کے روایتی سیاسی حریف خالد خان لوند سے سیاسی اتحاد جوڑ رکھا ہے۔ اس وقت مہر برادران نے ضلع گھوٹکی سے دو قومی اور دو صوبائی نشتوں سمیت ضلعی چیئرمینی اپنے نام کر رکھی ہے۔مہر گروپ کو ضلع گھوٹکی کے علاوہ اندرون سندھ میں بھی سیاسی اثر رسوخ حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت مہر برادران کی ناراضگی کے باعث آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہے۔اگر مہر برادران پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں تو نا صرف ضلع گھوٹکی بلکہ اندرون سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کو شدید سیاسی بحران سے دو چار ہونا پڑے گااور ضمنی الیکشن سے صرف ایک دن پہلے سابق پی پی ایم این اے میاں عبدالخالق عرف میاں مٹھو نے بھی دعوی کرتے ہوئے کہا تھاکہ”الیکشن میں پیپلز پارٹی کو علی گوھر مہر سے دوری کا سخت دھچکا لگے گا۔

فنکشنل لیگ کے امیدوار میاں مجن کے ساتھ بھرپور ورک کیاہے منافقت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ علی گوھر اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرے گا کیونکہ وہ ایک بڑا سیاستدان ہے اور ایک وقت میں دو فیصلے نہیں کرے گا کیونکہ دو فیصلے خود علی گوھر مہر کے لیئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انشاء اللہ ہم پیپلز پارٹی کو شکست دیں گے“۔ لیکن تمام تر تجزیوں اور بلند بانگ دعووں کے برعکس سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 7 گھوٹکی میں ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالباری پتافی 48 ہزار 114 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار نے فنکشنل لیگ کے امیدوار کو شکست دے دی۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالباری پتافی نے 48 ہزار 114 ووٹ حاصل کئے، جبکہ فنگشنل لیگ کے میاں عبدالمالک نے 36 ہزار 987 ووٹ حاصل کئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک آئندہ ہونے والے عام انتخابات سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی نے اس ضمنی الیکشن میں جیت حاصل کر کے سندھ بھر میں اپنی سیاسی پوزیشن کو بہت زیادہ مستحکم کرلیا ہے۔جبکہ پی پی کی اس جیت سے پیپلزپارٹی میں دھڑے بندی کرنے والوں کو بھی سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 15 مارچ 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں