Saudi Arabia

چین و عرب کی بڑھتی ہوئی قربتیں

جدید سیاسیات میں سفارتی تعلقات سے مراد دو ممالک کے آپسی تعلقات لیئے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ عموماً سفارتی تعلقات معاشی، تجارتی،لسانی،ثقافتی اور سیاسی محرکات پر ہی استوار کئے جاتے ہیں۔ بعض اوقات دوممالک کے درمیان قائم سفارتی تعلقات انتہائی دوستانہ اور مفاہمانہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور کبھی سفارتی تعلقات منفی نوعیت یا انتہائی معاندانہ نوعیت کے بھی ہوسکتے ہیں۔ بہرحال دو ممالک کے درمیان استوار تعلقات کی نوعیت بہت اچھی ہو یا پھر بہت بُری،لیکن عالمی سیاست کی زبان میں کہلاتے وہ سفارتی تعلقات ہی ہیں۔ چونکہ ہر ملک کسی دوسرے ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات اپنے مخصوص سیاسی، معاشی اور سماجی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہی قائم کرتا ہے۔لہٰذا،جیسے ہی کسی ملک کے مفادات کی کیفیت بدلتی ہے، ویسے ہی دوسرے ملک کے ساتھ اُس کے سفارتی تعلقات کی حیثیت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ عالمی سیاست میں سفارتی تعلقات کا گورکھ دھندہ سمجھنے کے لیئے سعودی عرب،امریکا اور چین کے سفارتی تعلقات کا مطالعہ ازحد مفید ثابت ہوسکتاہے۔

صرف چند برس پہلے کی بات ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقا ت کا سیاسی رشتہ تھا اور سعودی عرب کو مشرق وسطی میں امریکا کا سب سے بڑا اور قابل اعتبار سیاسی،اقتصادی او عسکری اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج اُسی سعودی عرب کو عالمی ذرائع ابلاغ مشرق وسطی میں چین کے سب سے بڑے اتحادی کے طورپر پیش کررہاہے۔ سعودی عرب اور امریکا کے مستحکم سفارتی تعلقات میں پہلی بڑی دراڑ اُس وقت پڑی تھی، جب سعودی عرب کے دورے کے دوران امریکی صدر جوزف جو بائیڈن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ اٹھایا تھا۔جو بائیڈن کے مطابق سعودی رہنما محمد بن سلمان، سعودی نژاد امریکی صحافی کی موت کے لیے ذمہ دار ہیں۔دوسری طرف محمد بن سلمان نے ایک میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو ان کے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں انہیں اس کی پرواہ نہیں اور بائیڈن کو امریکہ کے مفادات پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔نیز واشنگٹن اور ریاض کے سفارتی تعلقات میں دوسری دراڑ اُس وقت آئی،جب امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کے معاملے پر رواں برس اکتوبر میں گرما گرمی پیدا ہو گئی تھی۔ دراصل،سعودی قیادت اور تیل پیداکرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک نے قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کے تحت تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کمی کردی تھی اور یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے سخت اعتراض کے باوجود کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے امریکا سے خراب ہوتے سفارتی تعلقات نے سعودی قیادت کو مجبور کیا کہ وہ اپنے سفارتی تعلقات کا تمام تر جھکاؤ چین کی طرف منتقل کر دے تاکہ مستقبل قریب میں مشرق وسطی میں اگر خدا نخواستہ،امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی ہونے والی مہم جوئی کے وجہ سے سعودی عرب کے سیاسی و معاشی مفادات کو بدستور تحفظ حاصل رہے۔سعودی عرب چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا آغاز بیجنگ کو امریکی کی مخالفت کے باوجود تیل کی سپلائی میں اضافہ کرکے کیا۔ گو کہ روس کم قیمت کی وجہ سے چین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں تیل سپلائی کررہا ہے۔تاہم سعودی عرب اَب بھی بیجنگ کو تیل سپلائی کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ نیز بیجنگ تجارت کے لیئے امریکی ڈالر کی جگہ ریال اور یوآن کے استعمال کرنے کے لیئے بھی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوآن میں تیل کی اعلانیہ دھمکی بھی دے چکا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کو واشنگٹن اور ریاض کے درمیان پیدا ہونے والی غیر معمولی سفارتی سرد مہری کے تناظر میں ہی دیکھ رہا ہے۔اسی لیئے مغرب کے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے چینی صدر شی جن پنگ کا تاریخی اور فقید المثال استقبال کر کے امریکی صدر جو بائیڈن کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ سعودی عرب بہت سی عالمی طاقتوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور سعودی عرب چین کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیئے سنجیدہ ہے۔ جبکہ حقیقت بھی یہ ہی ہے کہ چینی صدر کے حالیہ دورہ سعودی عرب،بلاشبہ چین اور عرب تعلقات میں ایک نیا سنگ میل عبور کرنے کا باعث بنا ہے اور اس دورہ سے چین عرب سٹریٹیجک و تجارتی شراکت داری کے وسیع تر امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور حالیہ برسوں میں، سعودی عرب نے ”مشرق کی طرف دیکھو“ کی پالیسی کو فروغ دیا ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کا ترقیاتی منصوبہ”وژن 2030“چین کے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو سے مکمل طور ہم آہنگ ہے اور چین نے مذکورہ منصوبہ کے تحت سعودی عرب میں مکہ، مدینہ ہائی اسپیڈ ریلوے جیسے متعدد بڑے منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

سعودی قیات کی جانب سے واشنگٹن کے بجائے بیجنگ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کی بے شمار وجوہات ہیں۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ چین اور مشرق وسطی کے ممالک سیاسی طور پر ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔دوسراسبب، مغربی طاقتوں کے برعکس، چین کی مشرق وسطی کے ممالک کے خلاف نو آبادیاتی دور کی غیر منصفانہ سیاسی جارحیت کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ تیسری وجہ،چین نے کبھی بھی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی ہے، اور آزادانہ طور پر اپنی ترقی کی راہ تلاش کرنے کے لیے ہمیشہ عرب قیاد کی حمایت کی ہے۔ چوتھا سبب،مشرق وسطیٰ کے معاملے پر چین نے ہمیشہ سے ہی اصولوں کی پاسداری کی ہے، انصاف کو برقرار رکھا ہے، امن اور مذاکرات کو فروغ دیا ہے۔یہ ہی وہ اسباب نے جس نے چین کو مشرق وسطی کے ممالک کے لیے سب سے زیادہ قابل اعتماد بڑا ملک بنا دیا ہے۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں کئی برسوں کے دوران جو کچھ عالمی سیاست کے نام پرکرنے کی کوشش ہے اس کی وجہ سے بھی وہ اس خطے کے ممالک کا اعتماد کھو بیٹھا ہے۔واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، جو ایک طویل عرصے سے سیاسی کشمکش کا شکار ہیں، ان کو خطے میں امن اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے فوری طور پر سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور چین نے مشرق وسطی کے ممالک کو معاشی ترقی کے ذریعہ سیاسی استحکام حاصل کرنے کا ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ریاض میں خلیجی تعاون تنظیم کے اجلاس سمیت عرب ممالک کے تین اہم سربراہی اجلاسوں میں کی۔جس میں سعودی عرب کے ساتھ بحرین، کویت، عمان، قطر،متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک بھی شامل تھے، پاکستان سمیت کمبوڈیا، انڈونیشیا اور سینیگال کے اعلیٰ سطحی وفود کے ساتھ بھی انہوں نے تبادلہ خیال کیا۔اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہاکہ ”چینی صدر کا حالیہ دورہ سعودی عرب بلاشبہ چین عرب تعلقات کی تاریخ میں ایک عہد ساز سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے“۔

جبکہ چینی صدر کے دورہ سعودی عر ب پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ”چین کی جانب سے دنیا بھر میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش سے ورلڈ آرڈر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،۔کیونکہ سعودی عرب اب بھی امریکا کا قریبی اتحادی ہے“۔ تاہم وائٹ ہاس نے چین کو مخاطب کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ”ہم بخوبی واقف ہیں کہ چین دنیا بھر میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوششیں کررہا ہے۔اَب امریکا ایشیا پیسیفک ریجن میں زیادہ طاقتور پوزیشن لے گا اور چین کو اس خطے میں وہ برتری حاصل کرنے سے روکے گا جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ چین وہ ملک ہے جو ارادہ اور طاقت دونوں رکھتا ہے۔ وہ اپنے خطے اور عالمی نظام کو اپنی آمرانہ ترجیحات کے مطابق بدلنا چاہتا ہے اور ہم یہ سب ہونے نہیں دیں گے“۔

واضح رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے تاریخی دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے مابین 30ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے اور شاہ سلمان نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کے معاہدے سمیت کئی معاہدوں پر بذات خود دستخط کئے۔جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کا امریکی صدر جوبائیڈن سے زیادہ شاندار استقبال کیا گیا، چینی صدر کی گاڑی عربی گھوڑوں کے جھرمٹ میں شاہی محل پہنچی جن پر سعودی شاہی گارڈ کے ارکان سوار تھے، جنہوں نے چین اور سعودی عرب کے پرچم بھی اٹھارکھے تھے، چینی رہنما نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی جنہوں نے مسکراتے ہوئے چینی صدر کا استقبال کیا، اس موقع پر انہیں فوجی بینڈ نے سلامتی بھی دی اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے، اس موقع پر چینی صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”آج عرب دنیا کیساتھ تعلقات کا ایک نئے دورکا آغاز ہورہا ہے“۔

دریں اثناء، چین کے صدر شی جن پنگ کے سعودی عرب کے تین روزہ دورے کے اختتام پر تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جس میں تیل کی ایک مستحکم عالمی مارکیٹ کی اہمیت پر مشترکہ طور پر زور دیا گیا ہے۔ چین نے تیل کی ڈویلپمنٹ کے فروغ کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔نیزدونوں ممالک نے روس یوکرین تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پُرامن حل پر توجہ دینے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ جبکہ دونوں سربراہان نے یمن اور شام میں پُرامن حل کی کوششوں کی تائید کی جبکہ لبنان بحران کے حل کے لیے مل کر کوششیں کرنے کا عزم کا اعادہ بھی کیا۔علاوہ ازیں،چین اور سعودی عرب نے علاقائی و عالمی سطح پر باہمی تعاون کو بڑھانے کے ساتھ دوطرفہ سرمایہ کاری اور توانائی و تجارت کے امور پر کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیاگیا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 15 دسمبر 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں