صدارتی اعزازات کی تقسیم پر جلنے، کُڑھنے والے لوگ

ہر برس 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے چنیدہ افراد کو حکومت ِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغے اور اعزازات سے نوازاجاتاہے۔اِن اعزازات کے لیئے خوش نصیب قابل افراد کا انتخاب کس قاعدہ، قانون یا فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے،یہ ایک ایسا سربستہ راز ہے، جس تک کسی ہما شما کی رسائی نہیں ہے۔مگر ایک بات جوساری پاکستانی قوم پر بہت اچھی طرح سے عیاں ہے،وہ یہ ہے کہ صدارتی تمغے اور اعزازات دینے کا حتمی فیصلہ بہرحال ہوتا حکومتی ایوانوں میں ہی ہے۔ لہٰذا، حاکم ِ وقت اور اس کے رفقا کی باریک بیں نگاہوں کو جس شخص کی بھی پیشہ ورانہ کارکردگی اور سماجی خدمات زیادہ متاثرکن اور نمایاں محسوس ہوتی ہے، اُسے صدارتی تمغہ و اعزاز کا مستحق قرار دے دیا جاتاہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح یوم پاکستان پر صدارتی تمغوں اور اعزازات کی تقسیم ایک معمول کی سالانہ کاروائی سمجھی جاتی ہے، بالکل ویسے ہی جن معزز شخصیات کو بھی صدرِ پاکستان کی جانب سے سوِل اعزازات سے نوازا جاتاہے،اُن کے انتخاب پر مختلف حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا ہونا بھی ایک معمول کا واقعہ خیال کیاجاتا ہے۔یعنی جہاں ایوانِ صدر میں منعقد تقریب کے اختتام پر ایک طرف صدارتی اعزازات وصول کرنے والی معزز شخصیات،لوگوں سے مبارک باداور تہنیتی پیغامات وصول کررہی ہوتی ہیں تو وہیں دوسری جانب بعض حلقوں میں یہ بحث و مباحثہ بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہوتاہے کہ فلاں کو صدارتی تمغہ کیوں مل گیا؟۔اور فلاں کو اِس اعزاز کے قابل کیوں نہ سمجھا گیا؟۔

واضح رہے کہ ماضی میں سول اعزازات کی تقریب پر ہونے والی تمام تر تنقید کا مرکز و محور شخصیات کا انتخاب ہوتا تھا۔لیکن رواں ہفتہ ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب پر تنقید اعزاز ات کے لیئے منتخب ہونے والی شخصیات کے بجائے ترجیحات کے تعین کے اردگرد گھوم رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بعض صارفین کی طرف سے صدارتی اعزاز حاصل کرنے والی ہر منتخب شخصیت کو بیک جنبش قلم مسترد کرتے ہوئے تھوک کے حساب سے اعتراض نما پوسٹیں لگاکر لائک،ری ٹوئٹ اور ٹیگ کی جارہی ہیں۔ جن میں کچھ اِس قسم کے جملوں کی سوالیہ تکرار ہے کہ ”صدارتی تمغوں اور اعزازات یافتگان میں کوئی ایک بھی ایسا سائنس دان شامل ہے، جس نے ملکی زرعی اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کاطریقہ دریافت کیا ہو؟۔ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی نیا طریقہ بتایا ہو؟۔کوئی ایک بھی سائنس دان ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟۔کوئی ایک بھی انجینئر ہے جس نے تعمیراتی یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی تحقیق کی ہو؟۔یا کوئی ایک بھی معاشی ماہر ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا طریقہ پیش کیا ہو؟“۔مذکورہ پوسٹ کے اختتام پر جلی حروف میں جملہ لکھا ہوتا ہے کہ”اگر عمران خان کی حکومت ہوتی ہے تو صدارتی تمغے و اعزازات کی تقسیم میں بندربانٹ کے بجائے میرٹ کا خیال بہرصورت رکھا جانا تھا“۔یہ پوسٹ پڑھ کر اچھے بھلے بندے کا مسکرانے کا کم اور قہقہہ لگانے کا زیادہ دل کرتاہے۔ کیونکہ اگر پوسٹ کرنے والے صاحبانِ کاپی پیسٹ، ایک بار عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں صدراتی تمغوں اور اعزازات سے نوازے جانے والی معزز شخصیات کی فہرست پر طائرانہ نگاہ ڈال لیتے تو شاید اُنہیں یہ مزاحیہ پوسٹ کرنے کی سرے سے ہمت یا جسارت ہی نہیں ہوتی۔

کیونکہ تحریک انصاف کے سابقہ نئے پاکستان میں بھی جن شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو صدارتی تمغہ و اعزاز کا حق دار قرار دیا گیا تھا، کم و بیش اُنہیں شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی شخصیات کو موجودہ حکومت نے بھی لائق اعزاز گردانا ہے۔ بلکہ یہ کہنا عین قرین قیاس ہوگا کہ ہماری 75 سالہ تقسیم اعزازا ت کی تاریخ میں ایک جیسے لگے بندھے ضابطہ اور اُصول کے تحت ہی بعض شخصیات کو سول اعزازات کے لیے منتخب کیا جاتارہاہے۔جن معزز شخصیات کو بھی رواں یوم ِ پاکستان پر صدارتی تمغوں و اعزازات سے نواز گیا ہے۔اُن میں سے کچھ شخصیات کے بارے میں آپ یہ تو ضرور کہہ سکتے ہیں کہ متعلقہ شعبہ میں اُن سے بھی زیادہ نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد بھی معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔جن کا اگر انتخاب کرلیا جاتا تو شاید زیادہ مستحسن ہوتا۔ مگر آپ یہ کسی صورت بھی نہیں کہہ سکتے کہ جن معزز شخصیات کو بھی حکومت نے سول اعزازات سے نواز ہے۔انہوں نے اپنے شعبہ میں سرے سے کوئی نمایاں کام ہی نہیں انجام دیا ہے یااُن کا شعبہ اِس قابل ہی نہیں ہے کہ اُس سے متعلق کسی بھی شخصیت کو لائق اعزاز سمجھا جاتا۔یادرہے آرٹ، ادب، سائنس، طب،کھیل، سیاست، صحافت اور معیشت سمیت ہر وہ شعبہ جس کا سماج کی تعمیر و ترقی اور نشوونما میں ذرہ برابر بھی کوئی کردار ہوتاہے۔اِس قابل ہے کہ اُن سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کی ریاست کی طرف سے بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔تاکہ معاشرہ کا ہر فرد مذکورہ شعبوں کی جانب متوجہ ہو۔

جہاں تک اِس نقطہ اعتراض کا سوال ہے کہ ملک میں ایجادات اوردریافت کرنے والے سائنسی ماہرین کو صدارتی تمغوں اور اعزازات سے کیوں نہیں نوازا جاتا؟۔ تو اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سائنسی میدان میں قابل ذکرایجادات، تحقیق اور دریافتیں کرنے والے پیدا ہی کب ہو رہے ہیں؟۔جو انہیں تلاش کرکے صدارتی تمغوں اور اعزازات سے سرفراز کیا جاسکے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یا تو مقبو لیت کے منہ زور گھوڑے پر سوار نام نہاد سیاسی رہنما پیدا ہو رہے ہیں یا پھر روبوٹ کی مانند اپنے سیاسی رہنماؤں کی ہرجھوٹی سچی بات،بیان یا یوٹرن پر آمنا و صدقنا کہنے والے سیاسی کارکنان کی افزائش ہورہی ہے۔ یہاں سوال بنتا ہے کہ آخر سوشل میڈیا پر کوئی بھی صارف لائیو ویڈیو بناکر کسی سے یہ سوال کبھی کیوں نہیں پوچھتا کہ آپ اپنے بیٹے بیٹی کو اسٹیفن ہاکنگ، ٹائن بی، سگمنڈ فرائڈ،مادام کیوری، ہیلن کیلر،ول ڈیو رانٹ،طالسطائی یا علامہ اقبال بنانا چاہو گے؟۔

لیکن آپ کو سوشل میڈیا پر ایسی لاتعداد ویڈیوز باآسانی ملاحظہ کے لیئے دستیاب ہوجائیں گی۔جن میں سستی شہرت کے متلاشی سیاست زدہ یوٹیوبرز ایک دوسرے سے پارکوں اور بازاروں میں یہ پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ اپنے بیٹے کو عمران خان بناؤ گے؟ نواز شریف بناؤ گے؟ یا اپنی بیٹی کے لیئے مریم نواز بننے کی دُعا کروگے؟۔اگر تو پاکستان کے تمام والدین نے تہہ کرلیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹو ں کو فقط عمران خان اور بیٹیوں کو صرف مریم نواز ہی بنانا ہے تو پھر یاد رکھیئے گا کہ جس طرح آج ایوانِ صدر میں کوئی موجد یا مفکر صدارتی اعزاز وصول کرتا ہوا دکھائی نہیں دیا،آئندہ بھی کبھی دکھائی نہیں دے گا۔ کیونکہ سیاست کی چکی میں اپنی مرضی سے پسنے والی قوم لانگ مارچ، احتجاج،جلاؤ گھیراؤ اور سوشل میڈیا پر اپنے مخالفین کی عزت و ناموس کو تار تار تو کرسکتی ہے۔لیکن ایجادات، دریافت، تحقیق اور علم کے میدان میں کوئی کارہائے نمایاں کبھی بھی انجام نہیں دے سکتی۔ بقول شاعر۔
اقوال ِ حکیمانہ کچھ کام نہیں آتے
باتوں سے نہیں بنتی بگڑی ہوئی تقدیریں

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 30 مارچ 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں