PPP wants to hold local government polls in Sindh

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

صوبائی وزیر بلدیات سندھ، سید ناصر حسین شاہ نے اپنے ایک بیان میں عندیہ دیا ہے کہ ”اُن کی حکومت اگلے برس ماہ فروری یا مارچ میں صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی تمام تر انتظامی تیاریاں مکمل کر چکی ہے“۔صوبہ سندھ کے حالیہ سیاسی منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتاہے کہ اگلے قومی انتخابات کے تناظر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کا یہ ایک بہترین سیاسی فیصلہ ہے۔ کیونکہ اس وقت پیپلزپارٹی کی تمام حریف سیاسی جماعتیں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف سندھ، زبردست آپسی چپقلس اور سیاسی گروہ بندی کا شکار ہے۔

جس کا بڑا ثبوت کچھ عرصہ قبل منعقد ہونے والے کنٹونمٹ بورڈز کے انتخابات کے نتائج ہیں، جن میں پیپلزپارٹی کی کارکردگی کافی حد تک مستحکم اور تسلی بخش رہی لیکن پاکستان تحریک انصاف سندھ کے لیئے کنٹونمنٹ بورڈ زکے انتخابی نتائج ایک ڈراؤنے خواب سے بھی کچھ زیادہ ثابت ہوئے۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج ملاحظہ کرنے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان انتخابات میں تاریخی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر تحریک انصاف سندھ کی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اُن سے سخت باز پرس کرتے اور نتائج کے ذمہ داروں کو اُن کے عہدوں سے برطرف کر کے جماعت کے دیگر کارکنان اُن کی جگہ لاکر اُنہیں کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کرتے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: کراچی جیسا ہے ویسا ہی رہے گا؟

لیکن شاید پاکستان تحریک انصاف میں گنگا اُلٹی بہتی ہے۔ جب ہی تو سندھ بھر میں بدترین انتظامی و انتخابی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی تو پیٹھ تھپکی جارہی ہے،جبکہ وہ رہنما یا کارکنان جو اپنی جماعت کی سیاسی کارکردگی پر طویل عرصے سے سخت پریشان اور رنجیدہ تھے،اُن سے جماعت کی تنظیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیئے گراں قدر مشورے لینے کے بجائے،اُنہیں ایک ایک کر کے تحریک انصاف سندھ سے مکھن میں سے بال کی مانند نکالا جارہا ہے۔ تازہ ترین مثال ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے استعفے کی ہے۔ یاد رہے کہ بعض سیاسی رہنما اپنی جماعت کی ”فیس ویلیو“ ہوتے ہیں، بلاشبہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا بھی ایک ایسے ہی سیاست دان میں شمار کیا جاسکتاہے،جو کبھی ایم کیو ایم کا چہرہ ہوتے تھے اور گزشتہ چند برسوں سے پاکستان تحریک انصاف کا ایک مثبت تعارف بنے ہوئے تھے۔

لیکن یہ ایک سال میں مسلسل دوسری بار ہورہاہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ”انصاف ہاؤس“ میں ہونے والی ریشہ دوانیوں اور سیاسی چال بازیوں سے تنگ آکر تحریک انصاف کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کررہے ہیں۔ ماضی میں وہ جب بھی مستعفی ہوئے تو انہیں پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے سمجھا بجھا کر اپنا استعفا واپس لینے پر آمادہ کرلیا تھا۔ لیکن اس بار ایسا لگتاہے کہ اُن کے مخالفین نے کام پکا کیا ہے۔ اس لیئے نہ صرف جلد ہی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا استعفا منظور کرلیا جائے گا بلکہ اُن کو منانے کا راویتی سی زحمت بھی نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے تحریک انصاف سے مستقل علحیدگی اختیار کرنے سے خود اُن کی حیثیت اور سیاست پر تو کوئی خاص فرق پڑنے کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن اُن کے فیصلے سے کراچی شہر میں پاکستان تحریک انصاف کو ضرور شدید سیاسی ضرر اور نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔ خاص طور پر ماہ فروری یا مارچ کے وسط میں متوقع طور پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو کراچی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی کی انتخابی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کے کمزور ہونے سے سب سے زیادہ سیاسی فائدہ کس ایک سیاسی جماعت کو پہنچنے گا؟۔ہمارے خیال میں متوقع بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف سندھ کی سیاسی شکست و ریخت کا سب سے زیادہ فائدہ جو سیاسی جماعت اُٹھاسکتی ہے یا جسے اُٹھانا چاہئے وہ جماعت اسلامی ہے۔ جس کی ایک جھلک ہم کنٹونمنٹ بورڈز میں ہونے والے انتخابات میں ملاحظہ بھی کرچکے کہ جن جن حلقوں میں تحریک انصاف ناکام ہوئی،وہاں سے جماعت اسلامی نے باآسانی میدان مارلیا۔

دراصل کراچی کے شہری اس وقت شدید سیاسی مخمصے کا شکار ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کا تو ٹریک ریکارڈ ہی ایسا معتصبانہ ہے کہ وہ اِس پر اعتماد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔نیز ایم کیوایم پاکستان کی ساری قیادت کو وہ پہلے ہی اتنا بھگتا چکے ہیں کہ اَب مزید نہیں بھوگ سکتے۔ جبکہ تحریک انصاف سندھ پر اعتماد کرنے کا گزشتہ تین برسوں میں صلہ اُنہیں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسے رہنماؤں کے استعفوں کی صورت میں وقتافوقتا ملتا ہی رہتاہے۔ جہاں تک بات ہے پاک سرزمین پارٹی کے قائد مصطفی کمال کی تو بلاشبہ اہلیانِ کراچی کو وہ پسند تو بہت ہیں مگر چونکہ وہ اکیلے اور تنہا سیاست کرنے کے شوق کے مارے ہوئے ہیں، اس لیئے وہ ہر انتخابی معرکہ کے اختتام پر تنہا ہی رہ جاتے ہیں۔یعنی کراچی کے شہری مصطفی کمال کی خدمات کا اعتراف تو کرتے نہیں تھکتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ اُن کی جماعت پاک سرزمین پارٹی کی سیاسی تنہائی اور اکلاپا کبھی بھی کراچی کے سیاسی و انتظامی روگ اور بیماریوں کا مدوا نہیں بن سکتا۔ کراچی میں سیاسی قیادت کے اس شدید بحران میں اہلیان کراچی کے لیئے امیر جماعت اسلامی کراچی، حافظ نعیم ایک بڑے، قابل قبول ”سیاسی آپشن“ کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔

خاص طور پر متوقع بلدیاتی انتخابات میں اگر جماعت اسلامی اُسی شاندرار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہتی ہے، جس کی جھلک حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں نظر آئی تھی توشہر کراچی کا ناظم ایک بار پھر سے جماعت اسلامی سے سامنے آسکتاہے۔ کیونکہ غالب امکان یہ ہی ہے کہ کراچی کے اگلے بلدیاتی انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔ ایسی صورت حال ہمیشہ سے ہی جماعت اسلامی کے لیے آئیڈیل ثابت ہوتی رہی ہے۔دراصل جب بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتبار اور اعتماد کی فضا کا مکمل طور پر فقدان ہو تو تب چارونا چار جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ اُمیدوار کو قبول کرنا ہر بڑی سیاسی جماعت کی مجبوری بن جاتا ہے۔ ماضی میں جماعت اسلامی ایسیWin-Win صورت حال سے زبردست طریقے سے فائدہ اُٹھاتی رہی ہے۔ لیکن کیا اس بار بھی جماعت اسلامی اپنی ماضی کی وہی تاریخ دہرانے میں کامیاب رہے گی؟۔ فی الحال اس سوال کا درست جواب کراچی کی عوام کے سوا کسی کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 14 اکتوبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں