کسان ٹریکٹر ٹرالی کی بھی ایک پہلی ہے

بلاشبہ پاکستانی سیاست میں کسانوں کے بنیادی حقوق کو سب سے پہلے اپنے جماعتی منشور کا حصہ بنانے والی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی ہی تھی۔یا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں پاکستان کے کسان اپنے دیرینہ مسائل کے حل اور حقوق کے حصول کے لیئے جس واحد سیاسی جماعت پرہمیشہ سے اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے آئے ہیں،اُس جماعت کے نامِ نامی کے طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کے سوا کوئی دوسرا،نام لیا ہی نہیں جاسکتا۔ ہماری ناقص رائے میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا سب سے بڑا سیاسی کارنامہ ہی،یہ تھا کہ انہوں نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر ملک کی بیشتر دیہی آبادی کو کمال سیاسی مہارت سے اپنی جانب متوجہ کیا اور بعد ازاں اُن کی اسی غریب پرور طرزِسیاست نے ”مسٹر بھٹو“ کو طبقہ اشرافیہ کا ایک اہم اور کلیدی کردار ہوتے ہوئے بھی ”قائد عوام“ کے جلیل القدر عوامی منصب پر لا بٹھایا۔

اس لیئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کو پاکستانی کسان کی جانب سے بے پناہ سیاسی حمایت اور غیر معمولی مقبولیت حاصل نہ ہوپاتی تو اس جماعت کے لیئے اقتدار کی راہ داریوں تک پہنچ پانا،ناممکن نہیں بہت مشکل ضرور تھا۔ چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو اقتدار تک پہنچانے میں سب سے بڑا محرک کسان ثابت ہوئے تھے، اس لیئے شہید ذوالفقار علی بھٹو جب تک حیات رہے انہوں نے اپنی تما م تر سیاست کا مرکز و محور ملک کے دیہی علاقوں کو بنائے رکھا۔نیز بعدازاں اُن کی صاحب زادی شہید بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے ہر دورِ اقتدار میں کسانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں زیادہ سے زیادہ معاشی آزادی بہم پہچانے کے بے شمار نت نئی حکومتی پالیسیاں متعارف کروانے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔ جن کے فوائد براہ راست یا بلاواسطہ کسی نے کسی حد تک ہر کسان کی دہلیز تک وقتا فوقتا پہنچتے بھی رہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دوردراز دیہی علاقوں میں آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی صاحب زادی کے دورِ اقتدار کو حسرت و یاس کے ساتھ یاد کیا جاتاہے۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور کسان کے مابین یہ”سیاسی رومان“ شہید بے نظیر بھٹو کے اس جہانِ فانی سے رخصت ہونے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا اور اَب تو پاکستان پیپلزپارٹی میں کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا کہ ”کبھی کسان بھی پیپلزپارٹی کے سینے میں دل کی ماننددھڑکتے تھے“۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ رواں ہفتے جب پیپلزپارٹی نے کسان،ٹریکٹر،ٹرالی ریلی نکالی تو، اُسے دیکھ کر ایک بار پھر سے بھولی بسری سی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں کہ ”اخاہ! یہ تو وہی سیاسی جماعت ہے،جس کی داغ بیل کبھی کسانوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیئے ڈالی تھی“۔حالانکہ ”کسان، ٹریکٹر، ٹرالی ریلی“میں کسانوں کا وہ ہجوم دکھائی نہیں دیا، جو کبھی ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے جلسے، جلوس اور ریلیوں میں نظر آیا کرتا تھا۔ بہرحال پھر بھی یہ ایک بڑی بات ہے ایک طویل مدت بعد ہی سہی پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کو کسانوں کی یاد تو آئی اور جواب میں کسانوں نے بھی غیر معمولی نہ سہی لیکن کافی بھرپور انداز میں ”کسان، ٹریکٹر،ٹرالی ریلی“ میں شرکت کر کے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ثبوت دیا۔

بظاہر پیپلزپارٹی کی جانب سے ”کسان،ٹریکٹر، ٹرالی ریلی“ وفاقی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف بطور احتجاج نکالی گئی تھی، لیکن اگر پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے نزدیک ملک گیر کسان ریلیاں نکالنے کا یہی ایک مقصد تھا تو پھر معذرت کے ساتھ ”کسان،ٹریکٹر،ٹرالی ریلی“ کے نکالنے کا جواز صوبہ سندھ میں تو بالکل بھی نہیں بنتا تھا۔کیونکہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کا نام و نشان تک بھی نہیں پایا جاتااور یہاں گزشتہ 12 برس سے پیپلزپارٹی بلاشرکت ِ غیرے اقتدار پر متمکن چلی آرہی ہے۔بلکہ حالیہ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کو دو تہائی کے قریب اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں اتنا مستحکم، مضبوط اور طویل اقتدار کی موجودگی میں کسانوں کے حقوق کے لیئے احتجاجی ریلی نکالنا، چہ معنی دارد۔جبکہ اگر سندھ حکومت چاہے توسندھ کے کسانوں کے مبینہ معاشی استحصال اور نقصان کا ازالہ اٹھارویں ترمیم کو بروئے کار لا کر یعنی اربوں روپے کی سبسڈی دے کر باآسانی کرسکتی تھی۔

ہاں اگر پیپلزپارٹی ”کسان ٹریکٹر، ٹرالی ریلی“کا احتجاج کر کے مقتدر حلقوں کے سامنے اپنی سیاسی طاقت اور عوامی مقبولیت کا اظہار کرنے چاہتی تھی تو بلاشبہ اُس نے یہ ہدف کم ازکم سندھ کی حد تک تو کامیابی کے ساتھ حاصل کرہی لیا ہے۔جبکہ دیگر صوبوں میں پیپلزپارٹی کی طرف سے جتنی بھی ”کسان ٹریکٹر، ٹرالی ریلیاں“ نکالی گئی ہیں، اُن میں عوام کی دلچسپی اور شرکت نہ ہونے کے برابر ہی کہی جاسکتی ہے۔ خاص طور پر صوبہ پنجاب میں جہاں کے دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی کو کبھی مقبول ترین سیاسی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل تھا، آج اگر وہاں کا کسان پیپلزپارٹی کے احتجاج میں شرکت سے گریزاں دکھائی دیتا ہے تو یقینا اس متعلق پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو سنجیدگی سے غورو فکر کرنا چاہئے۔

دوسری جانب 27 فروری سے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین جناب بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے خلاف ملک گیر لانگ مارچ یا کسان مارچ نکالنے کا اعلان بھی کیا ہواہے۔لہٰذا، اس تناظر میں بھی ”کسان،ٹریکٹر، ٹرالی ریلی“ کو سیاسی حلقوں میں ایک بڑی سیاسی ایکٹیویٹی کے طور پر دیکھا جارہاہے۔ یعنی مذکورہ ”کسان،ٹریکٹر،ٹرالی ریلی“ کو وفاقی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف متوقع ملک گیر لانگ مارچ سے پہلے اپنے کارکنان میں سیاسی تحرک پیدا کرنے کی ایک بھرپور اور اچھی کاوش قرار دیا جاسکتاہے۔ گو کہ ایک دن کی ”کسان ٹریکٹر،ٹرالی ریلی“ سڑک پر نکل آنے سے غریب کسان کے احوال میں ذرہ برابر تبدیلی کی اُمید رکھنا بھی سراسر بے وقوفی ہوگی۔مگر پھر بھی کسانوں کے حقوق کے نام پر ریلی نکلنے سے یہ تاثر تو ملک کے سیاسی اُفق پر ضرو نمایاں ہوا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ابھی تک کسانوں کو مکمل طورپر فراموش نہیں کیا ہے اور آئندہ بھی جب اُنہیں مقتدر حلقوں کے روبرو اپنی احتجاجی قوت کی نمائش مقصود ہوگی تو اس کے حصول کے لیئے کسانوں کو احتجاج کے لیئے پکارلیا جائے گا اور کسان بھی کھیتی باڑ ی چھوڑ کر اپنی اپنی ٹریکٹر، ٹرالیوں پر سوار ہوکر کشاں کشاں احتجاج میں شرکت کے لیئے نکل پڑیں گے۔ پاکستانی سیاست کی کہانی میں بے چارے کسانوں کا بس اتنا سا ہی تو کردار رکھا گیا ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 27 جنوری 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں