کیا میئر کراچی، جیالا ہوگا؟

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں انتہائی مایوس کن کارکردگی دکھانے کے بعد بھلے ہی پاکستان تحریک انصاف بلدیہ عظمی کراچی کے میئر کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے،مگر پاکستان پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کا میئر تب تک نہیں بن سکتا، جب تک اُن میں سے کسی بھی ایک سیاسی جماعت کو پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل نہ ہو۔ یعنی پیپلزپارٹی یا جماعت اسلامی میں سے جس سیاسی جماعت کے پلڑے میں بھی پی ٹی آئی اپنا وزن ڈال دے گی،اُسی جماعت کا نامزد کردہ اُمیدوار، بلدیہ عظمی کراچی کے میئر کے عہدے پر متمکن ہوجائے گا۔ پاکستا ن تحریک انصاف کو یہ فیصلہ کن حیثیت صرف اِس لیئے حاصل ہوئی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی،دونوں کی قیادت ہی میئر کراچی کے عہدے سے کسی بھی صورت دست بردار ہونے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنی داخلی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو پھر میئر کراچی کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، لیکن ڈپٹی میئر کے عہدہ کے جملہ حقوق بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف کے نام محفوظ سمجھے جائیں گے اور وہ پیپلزپارٹی یا جماعت اسلامی میں سے کسی کی بھی حمایت کر کے اپنے لیئے ڈپٹی میئر کے عہدہ باآسانی حاصل کرلے گی۔لیکن اِس کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والا پی ٹی آئی کا ہر رُکن اپنی جماعت کی پالیسی سے کسی بھی مرحلہ پر منحرف نہ ہو۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو اپنا میئر بنوانے کے لیئے صرف درجن بھر اضافی ووٹوں کی ضرورت ہے۔جسے جوڑ توڑ کی سیاست سے باآسانی پورا کیا جا سکتاہے۔ خاص طور پرمیئر کراچی، منتخب کرنے کا جو طریقہ کار آئین میں درج ہے اُس میں جناب آصف علی زرداری کی ”سیاسی جادوگری“ چلنے کے بہت زیادہ امکانات پائے جاتے ہیں۔ویسے بھی صوبہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کا تنظیمی نیٹ ور ک انتہائی بودا اور کمزور ہے اور پیپلزپارٹی کے لیئے اِس میں نقب لگانا بے حد آسان ہوگا۔ عمران خان کی ”سیاسی گرفت“ تحریک انصاف سندھ پر کس قدر کمزور ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لیئے یہ ہی بات کہنا کافی ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں 34 فیصد سے زائد حلقوں میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار پیپلزپارٹی کے حق میں ازخود ہی دست بردار ہوگئے تھے،جس کی وجہ سے پی پی پی اُمیدواروں کی ریکارڈ تعداد بلامقابلہ منتخب ہونے میں کامیاب رہی۔

بلدیہ عظمی کراچی کے انتخاب کے طریقہ کار کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ یونین کمیٹیز کے چیئرمین کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کاؤنسل کے رُکن ہوں گے اور مذکورہ کاؤنسل 367 ارکان پرمشتمل ہوگی، جس میں خواتین، نوجوانوں، مزدوروں، اقلیتوں، معذوروں اور ٹرانس جینڈرز کے لیے مختص کردہ 121 نشستیں بھی شامل ہیں، جو کام یاب سیاسی جماعتوں کو میئر کراچی کے انتخاب سے قبل ہی اُن کی حاصل کردہ نشستوں کے تناسب سے مل جائیں گی۔ یہ تمام منتخب ارکان میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب اپنا اپنا ووٹ دے کر کریں گے۔ اِسی طرح یوسی وائس چیئرمین اپنے اپنے متعلقہ ٹاؤن کے رُکن ہوں گے اور وہ ٹاؤن ناظم کا انتخاب کریں گے۔ یعنی اگر پاکستان تحریک انصاف کے کچھ ارکان اِدھر سے اُدھر ہوجاتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کا صرف میئر ہی نہیں بلکہ ڈپٹی میئر بھی پیپلزپارٹی کا ہی منتخب ہوجائے۔ بظاہر ایسا ہونا کچھ مشکل لگتاہے،لیکن ناممکن اِس لیئے نہیں ہے کہ مفاہمت کی سیاست کے جادوگر آصف علی زرداری بہت مرتبہ پاکستانی سیاست میں ناممکنات دکھائی دینے اُمور کو بھی ممکن بناچکے ہیں۔

اَب یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت میئر کراچی کا قرعہ نیک فال کس کے نام پر نکالے گی؟۔ذرائع کے مطابق کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے بعد میئرکراچی کے لئے پیپلزپارٹی کی قیادت کو تین نام پیش کردیئے گئے ہیں۔ بلدیہ عظمی کراچی میئر کے لئے پیش کیے گئے ناموں میں مرتضیٰ وہاب، سعید غنی، نجمی عالم کے نام شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کی جانب سے تینوں ناموں پر خوب غور وخوض کرنے کے بعد ہی کوئی ایک نام میئر کراچی کے لیئے فائنل کیا جائے گا۔ویسے تو مذکورہ بالا تینوں اُمیدوار ہی کراچی کی سیاسی حرکیات سے بخوبی آگاہ ہیں اور اپنی جماعت کی جانب سے ماضی میں کئی اہم انتظامی عہدوں پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔ سعید غنی کی سب سے بڑی شناخت صوبائی وزیر کی ہے تو وہیں مرتضی وہاب سابقہ میئر کراچی ہیں اور نجمی عالم کراچی کی مقامی سیاست کا ایک زیرک کھلاڑی سمجھا جاتاہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری متعدد بار یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ اس بار کراچی میں میئر ”جیالا“ ہی ہوگا۔روایتی طور پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو جیالا کہا جاتا ہے۔اگر واقعی بلدیہ عظمی کراچی کا میئر جیالا آرہا ہے تو پھر غالب امکان یہ ہی ہے کہ نجمی عالم ہی میئر کراچی ہوں گے۔ کیونکہ نجمی عالم کو پیپلزپارٹی کے مقامی کارکنان ایک متحرک جیالا ہی کہتے ہیں۔ نیز نجمی عالم شہرکراچی کے گلی،محلے کے سیاسی اور سماجی مسائل کا خوب اچھی طرح سے بھی ادراک رکھتے ہیں۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار اُنہیں میئر کراچی کے لیئے ایک موزوں ترین اُمیدوار سمجھتے ہیں۔

جہاں تک مرتضی وہاب کے میئر کراچی بننے کی بات ہے تو یقینا اُن کے پاس اِس عہدے پر کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے لیکن جس طرح سے اُنہیں میئر کے عہدہ سے فرمائشی طور پر برخاست کیاگیا تھا اُس کے بعد ہماری رائے میں تو میئر کراچی کے لیئے اِس بار کوئی نیا چہرہ سامنے لانا چاہیئے،جس کے لیئے نجمی عالم ایک بہترین انتخابات ثابت ہوسکتے ہیں۔ جبکہ سعید غنی صوبائی سطح کے ایک بڑے قد آورسیاست دان ہیں، انہیں شہر کی مقامی سیاست میں اُتارنا شاید اُن کی سیاسی صلاحیتوں کے ساتھ اچھا انصاف نہ ہو۔ بہر حال زیادہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ میئر کراچی کون بنتا ہے؟۔بلکہ اہلیانِ کراچی کے لیئے سب سے زیادہ دلچسپی کی بات یہ ہوگی اُن کے شہر کا منتخب ہونے والا نیا میئر اپنے انتظامی فیصلوں اور اقدامات سے اُن کی زندگی کو کتنی آسانیاں بہم پہنچا سکتاہے۔ سرِ دست کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور اسٹریٹ کرائمز کی روبروز بلند ہوتی ہوئی شرح ہے۔ اگر منتخب ہونے والا نیا میئر اِن مسائل کو حل کرنے کو اپنی ترجیحی اوّل بنا لیتاہے تو پھر کراچی کے لوگ ایسے میئر کوہی نہیں بلکہ اُس کی جماعت کو بھی سَر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 30 جنوری 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں