Population Census of Pakistan 2017

مردم شماری کی چاند ماری

وفاقی حکومت کے تحت منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اہم ترین اجلاس میں بظاہر 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ طے پاگیا ہے مگر دوسری جانب رواں برس ماہِ اکتوبر میں نئی مردم شماری کے اعلان نے اس بات پر پوری طرح سے مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ گزشتہ مردم شماری میں واقعی ایسے نقائص ضرور موجود تھے،جن کا ازالہ کیئے بغیر مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر 2023 میں اگلے قومی انتخابات نہیں کروائے جاسکتے۔ یعنی اَب فوری طور پر 2017 کی مردم شماری کے نتائج جاری تو کردیئے جائیں گے لیکن اُن نتائج کی بنیاد پر ملک بھر میں انتظامی تبدیلیاں یا اصلاحات کا عمل ممکن نہیں ہو سکے گا۔یاد رہے کہ 2017 کی مردم شماری پر سب سے زیادہ اعتراضات صوبہ سندھ کی سیاسی جماعتوں کو تھے،خاص طور کراچی میں سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں کا دیرینہ موقف تھا کہ مردم شماری میں جان بوجھ کر کراچی کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے اور اُن کی جانب سے موردِ الزام پاکستان پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کو ٹہرایا جارہاتھا۔ جبکہ حیران کن طور پر سندھ حکومت کے بھی2017 کی مردم شماری کے نتائج پر شدید تحفظات تھے اور پیپلزپارٹی کی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ”حالیہ مردم شماری میں صوبہ سندھ کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے“۔بہرحال اس لحاظ سے سندھ حکومت کا موقف بالکل درست لگتاہے کہ اگر کراچی کی آبادی کم دکھائی جائے گی تو لامحالہ صوبہ سندھ کی آبادی از خود ہی کم ظاہر ہوگی۔یعنی کراچی کی سیاسی جماعتیں ہوں یا سندھ حکومت مردم شماری کے مسئلے کو لے کر بات ایک ہی کر رہی ہیں لیکن عوام کو تاثر یہ دینے کی کوشش کررہی تھیں کہ مردم شماری پر ہمارے تحفظات کی معنوی نوعیت ایک دوسرے سے جدا جدا ہے۔شاید اپنے اپنے موقف کو پیش کرنے کا یہ ہی باریک سا فرق سیاست کہلاتا ہے،جسے سیاست دان تو بخوبی سمجھتے ہیں لیکن عوام نہیں سمجھ پاتی۔

مزید یہ مضمون بھی پڑھیئے: کراچی میں کتنے آدمی ہیں؟

مردم شماری کے تنازعہ کو لے کر ایک خوش آئند پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی رائے جزوی طور پر،اور اہلیانِ کراچی کا موقف مکمل طور پر درست تسلیم کر لیا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہنا تھا کہ ”مردم شماری کے بنیادی فریم ورک پر6سے 8ہفتوں میں کام مکمل ہوجائے گا اور ستمبر یا اکتوبر میں نئی مردم شماری کا عمل شروع ہوجائے گا اورنئی مردم شماری کا عمل مارچ 2023تک مکمل کر لیا جائے گا۔نیز نئی مردم شماری پر ملک کے تمام شراکت داروں، صوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کو ساتھ لیکر چلیں گے اور 2023 میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات سے قبل نئی مردم شماری کے نتائج کو مکمل کر لیا جائے گا، تاکہ آئندہ بلدیاتی اورقومی انتخابات کا انعقاد نئی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر کیا جاسکے“۔جبکہ اسد عمر نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ”نئی مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی، اقوام متحدہ کے اصولوں اور دنیا کے مروجہ طریقہ کار کو بروئے کار لایا جائے گا۔کیونکہ مردم شماری انتخابات کی بنیاد ہے“۔یادش بخیر!کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اراکین نے باہمی افہام و تفہم سے جس طرح مردم شماری کے معاملہ پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی عملی کوشش کی ہے۔بلاشبہ اس پر وفاقی حکومت اور تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہر حساس معاملہ پر مشترکہ مفادات کونسل میں اراکین غیر ضروری بیان بازی اور سیاست سے پرہیز کرتے ہوئے اسی طرح احسن طریق پر قومی اتفاق رائے سے اہم قومی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کو اپنا شعار بنالیں۔

مگر یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے حالیہ اجلاس میں رواں برس جس نئی مردم شماری کروانے کا عندیہ دیا گیا ہے، کیا اُس کے نتائج سب کے لیئے قابلِ قبول ہوسکیں گے؟۔ہماری دانست میں اس ضروری سوال کا”مثبت جواب“ نئی مردم شماری کے آغاز سے قبل ہی تمام سیاسی قوتوں کے پاس ہونا چاہیئے۔تاکہ نئی مردم شماری کو تنازعات اور سیاسی تنقید سے حتی المقدار محفوظ رکھا جاسکے اور قومی وسائل کو بھی ایک ایسی مردم شماری کی نذر ہونے سے بچایا جاسکے کہ جس کے نتائج بعدازاں ملکی وحدت میں زبردست سیاسی تقسیم کا بنیادی سبب بنتے ہوں۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ 2017 کی مردم شماری میں سرکاری وسائل بڑی کثیر تعداد میں خرچ ہوئے تھے لیکن پاکستانی قوم کو اُس کا کچھ حاصل وصول نہ ہوسکا۔واضح رہے کہ پاکستان کے معاشی حالات پہلے ہی انتہائی دگرگوں ہیں،اس لیے وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نئی مردم شماری میں غیر ضروری سیاسی مداخلت سے یکسر باز رہیں تاکہ مردم شماری کے نتائج ملک کے ہر فرد اور شہر کے لیئے یکساں قابل اعتبار قرار پائیں اور اُسی کی بنیاد پر ملک کی تمام اکائیوں کو وسائل کا حصہ منصفانہ انداز میں مہیا کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ آج کے جدید دور میں انسانی شماریات کے میدان میں جس قدر متنوع سائنسی آلات اور غیرمعمولی سہولیات مہیا ہوچکی ہیں،اُن کی موجود گی میں سائنسی بنیاد پر مؤثر،دیرپا اور بالکل درست اعداد و شمار پر مشتمل مردم شماری کروانا کسی بھی حکومتی ادارے کے لیئے چنداں مشکل کام نہیں ہے۔ بس! ضرورت ہے تو صرف اس اَمر کی کہ منصفانہ مردم شماری کے حق میں صبح و شام رطب اللسان رہنے والے سیاسی رہنماؤں کی اپنی نیت ”سیاسی کھوٹ“اور ”سیاسی تعصب“ سے یکسر پاک اور شفاف ہو۔اگر رواں برس ماہِ اکتوبر میں ایسا ممکن ہوجاتاہے تو من حیث القوم، ہم پہلی بار، ایک منصفانہ اور سب سے لیئے قابل قبول مردم شماری کروانے میں باآسانی کامیاب و کامران ہوجائیں گے لیکن اگر ہمارے جمہوری پسند سیاسی رہنماؤں نے اَب کی بار بھی اپنی اپنی تعصبات سے آلودہ سیاسی روش کو ترک نہ کیا تو اس نئی مردم شماری کا حشر بھی 2017 میں ہونے والی مردم شماری سے کچھ مختلف نہ ہوگااور ہماری یہ نئی مردم شماری بھی پاکستانی عوام کے نزدیک فقط چاند ماری ہی کہلائے گی۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 15 اپریل 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں