جوڑ توڑ کی سیاست کا مستقبل؟

سابق صدر ِ پاکستان جناب آصف علی زردری اگر جوڑ توڑ کی سیاست کے بادشاہ کہلاتے ہیں تو دوسری جانب وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان بھی احتجاجی سیاست کے جادوگر کی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ جوڑ توڑ کی سیاست کی بساط خفیہ راہ داریوں اور ڈرائنگ روم کے بند کمروں میں بچھائی جاتی ہے۔جبکہ احتجاجی سیاست کو پنپنے اور نشوونما کے لیئے پرہجوم سڑکوں کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ جوڑ توڑ کی سیاست کا بنیادی وصف ہی معاملہ فہمی،خاموشی اور مکمل رازداری میں پنہاں ہے تواس کے بالکل برعکس احتجاجی سیاست کا شناختی نشان برانگیختہ جذبات، شورشرابا اورعوامی طاقت کے مظاہرے ہیں۔سادہ الفاظ میں یوں جان لیجئے کہ جوڑ توڑ کی سیاست میں حکومت کرنے کے اُصول چند زیرک اور گھاگ سیاست دان آپس میں مل جل کر باآسانی طے کر سکتے ہیں جبکہ احتجاجی سیاست کے علم بردار کے لیئے اپنے اقتدار کا فارمولا عوامی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق ترتیب دینا ازحد ضروری ہوتاہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جوڑ توڑ کی سیاست کا ماہر کبھی کبھی بھی احتجاجی سیاست کے میدان میں غیر معمولی ”سیاسی کارکردگی“ کا مظاہرہ نہیں کرسکتا بالکل ویسے ہی احتجاجی سیاست کے سرخیل کے لیئے بھی کسی ڈرائنگ روم کے بند کمرے میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حسبِ منشا سیاسی نتائج و عواقب حاصل کرپانا کم و بیش ناممکن ہی ہوتاہے۔ اگر آپ کو ہماری اس بات پر ذرہ برابر بھی شک و شبہ ہوتو سرِ دست وفاقی دالحکومت اسلام آباد میں حکومت اور حزب ِ اختلاف کی جماعتوں کے مابین جاری زبردست معرکہ آرائی کو باریک بینی سے ملاحظہ فرمالیں۔ کیونکہ اقتدار پانے اور حکومت بچانے کی یہ جنگ بلاشبہ، جوڑ توڑ کی سیاست اور احتجاجی سیاست کے درمیان ہونے والی مخاصمت کا سب سے بہترین نمونہ قرار دی جاسکتی ہے کہ جس میں حزب اختلاف کی جملہ سیاسی جماعتیں آصف علی زرداری کی قیادت میں یکسو ہوکر جوڑ توڑ کی سیاست کے ذریعے وزیراعظم پاکستان کو اُن کے عہدہ سے معذول کرنا چاہتی ہیں تو وہیں دوسری جانب عمران خان مشہورزمانہ احتجاجی سیاست کے بل بوتے پر اپنی گرتی ہوئی حکومت کو بچانے کے لیئے کوشاں ہیں۔

واضح رہے کہ ہماری پاکستانی سیاست میں اَب تک کا سب سے زیادہ مشہور معروف مقولہ یہ ہے کہ ”احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے سے کبھی بھی حکومت نہیں گرائی جاسکتی“۔حیران کن طور پر پاکستانی سیاست میں اَب تک ہوا بھی سب کچھ اسی مقولہ کے عین مطابق ہی ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں احتجاج اور دھرنے جمہوری نظام کی رخصتی کا باعث تو ضرور بنے ہیں لیکن اِن کے ذریعے سے پرامن تبدیلی اقتدار کبھی بھی ممکن نہ ہوسکا۔ چونکہ حزبِ اختلاف کی ساری جماعتیں مذکورہ بالا ”سیاسی قول“ پر کامل ایمان و اعتقاد رکھتی ہیں، اس لیئے انہوں نے عمران خان کو وزیراعظم کے منصب سے ہٹانے کے لیئے احتجاجی سیاست کا مشکل راستہ اختیار کرنے کے بجائے اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے ایک ایسا آسان اور سہل آئینی راستہ اختیار کیا ہے۔جس کی کامیابی اور ناکامی کا تمام تر انحصار جوڑ توڑ کی سیاست پر منحصر ہے اور یہ تو آپ سب اچھی طرح سے جانتے ہی ہوں گے کہ حزب اختلاف کے جملہ قائدین بالخصوص جناب آصف علی زرداری جوڑ توڑ کی سیاست میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔

بظاہر تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کا سیدھا سادا اور آسان سا فارمولا تو یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی جوڑ توڑ کی سیاست کے ذریعے حزب اختلاف کے رہنماؤں کی جانب سے بچھائی گئی سیاسی بساط کو اُن پر ہی پلٹ دینے کی کوشش کریں۔لیکن اِ س طرز سیاست کو اختیار کرنے میں بہرحال ایک خطرہ ضرور عمران خان کے لیئے یہ موجود ہوگا کہ چونکہ وہ جوڑ توڑ کی سیاست میں اُتنی مہارت اور تجربہ نہیں رکھتے،جس قدر مہارت اس کھیل میں مولانا فضل الرحمن،شہباز شریف، چوہدری برادران اور بالخصوص آصف علی زرداری کو حاصل ہے،اس لیئے عمران خان کے لیئے جوڑ توڑ کی سیاست کی مدد سے حزب اختلاف کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانا آسان نہ ہوگا۔

شاید یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان نے اپنے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیئے احتجاجی و عوامی سیاست کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے اور ابتدائی طور پر اُن کی یہ حکمت عملی اس لحاظ سے خاصی کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ انہوں نے حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کو جوڑ توڑ کی سیاست کے میدان سے نکال کر اپنے من پسند احتجاجی سیاست کے میدان میں کھڑا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی یہ ہی خیال ہے کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کو عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لیے فی الوقت احتجاجی سیاست کے میدان میں خود کو نہیں اُتارنا چاہیے تھا۔ نیز 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے کامیاب اور تاریخی جلسہ نے بھی ثابت کردیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کو عمران خان کے جلسہ کے مقابلے میں اپنی سیاسی جلسیاں کرنے کی سیاسی غلطی ہرگز نہیں دہرانی چاہیے تھی۔

بہرکیف کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ایک بات تو طے ہے کہ عمران خان تحریک عدم اعتماد جیسے خالص پارلیمانی معاملہ کو عوام کی عدالت میں کھینچ لانے میں پوری طرح سے کامیاب رہے ہیں۔ اَب اُن کی اس عوامی واردات کے اثرات تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی پر کس طرح سے پڑتے ہیں،اس کا اندازہ تو اُسی دن ہوسکے گا جب تحریک عدم اعتماد کامیابی یا ناکامی سے دوچار ہوگی۔ اگر حالیہ سیاسی تناظر میں حزب اختلاف کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد، ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہے تو اِس میں فیصلہ کن کردار احتجاجی سیاست کا ہوگااور پھر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ”احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں سے بھلے ہی کوئی حکومت گرائی نہ جاسکتی ہو لیکن اِن کی مدد سے اپنی حکومت بچائی ضرور جاسکتی ہے“۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 28 مارچ 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں