کیاسیاست ایک اور سرپرائزکا انتظار کرے؟

سیاست کو اگر ایک کھیل تسلیم کرلیا جائے تو بلاشبہ عمران خان نے ابھی تک اپنے آپ کو اِس کھیل کا ایک بہترین کھلاڑی ثابت کیا ہے۔جبکہ اُن کے مقابلے میں ہر سیاسی محاذ پر اپوزیشن کے تجربہ کار اور گھاگ سیاست دان بالکل اناڑی ثابت ہوئے ہیں۔خاص طور پر عمران خان نے جس انداز میں اپنے خلاف پیش ہونے والی تحریک عد م اعتماد کو ایک منحنی سی آئینی شق کا سہارا لے کر مسترد کروایا ہے۔ اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ میاں شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ 40 برسوں میں سیاست کے میدان میں فقط بھاڑ ہی جھونکی ہے اور جیسا کہ اکثر عمران خان کے متعلق یہ کہاجاتاتھا کہ وہ سیاست کی باریکیوں کو نہیں سمجھتے۔ اُن کے بارے میں ایسا کہنے والے بھی اَب یہ ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اگر عمران خان سیاست نہیں جانتے تو پھر اس ملک میں کوئی بھی شخص سیاست کو جاننے کا دعوی نہیں کرسکتا۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ جس طرح پاکستانی سیاست کے تینوں ہیوی ویٹ سیاست دان یعنی میاں شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن تحریک عدم اعتماد کی بساط پر چاروں شانے چت ہوئے ہیں۔

یقینااپوزیشن اتحاد کی یہ شکست فاش پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ناقابل فراموش رہے گی۔ وزیراعظم کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کے اعلان سے کم از کم اپوزیشن کو فوری طور پر اقتدار میں آنے کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ چونکہ امریکی خواہش تھی کہ اپوزیشن کو ملک کا اقتدار سونپا جائے اور پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جائے،اس کے لیئے جہاں ایک جانب عمران خان کو اقتدار سے ہٹانا ضروری تھا تو وہیں دوسری جانب اگلے قومی انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیئے راہ ہموار کرنا بھی ضروری تھی۔اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیئے انتہائی لازم تھا کہ چند ماہ کے لیئے اپوزیشن اتحاد پر مشتمل ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے تاکہ یہ حکومت عمران خان کے دورِ اقتدار میں ہونے والی تمام تر آئینی ترمیمات کو ختم کرسکے۔جیسے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے انتخابات میں ای وی ایم مشین کا استعمال اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے جیسی آئینی ترمیم کا خاتمہ شامل تھا۔

کیونکہ اپوزیشن کا خیال ہے کہ اگر یہ دونوں فیصلے واپس نہ لیے گئے تو تحریک انصاف اگلے انتخابات میں اسکا بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے، اس لیے جس قدرعمران خان کو گھر بھیجنا ضروری تھا اتنا ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اگلے انتخابات سے ای وی ایم مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کو بھی کسی طرح ختم کر دیا جائے۔جبکہ پی ڈی ایم اگلے قومی انتخابات میں جانے سے قبل اپنی مرضی کا نگران سیٹ اپ بھی چاہتی ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں جیت کے امکانات زیادہ سے زیادہ بڑھائے جاسکیں۔ تاہم تحریک عدم اعتماد مسترد اور قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد آئندہ چند روز میں عبوری حکومت وجود میں آنے کے امکانات انتہائی روش ہوگئے ہیں، جو ملک میں آئندہ کروانے کی ذمہ دار ہوگی۔

اچانک سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال پر حزب اختلاف کی جماعتیں سخت نالاں اور پریشان نظر آتی ہیں اور اب ان کی آخری امید سپریم کورٹ آف پاکستان سے بندھی ہوئی ہے۔عمران خان کی جانب سے اپوزیشن اتحاد کو دیئے جانے والے بہت بڑے سرپرائز سے کم ازکم ایک چیز تو واضح ہوچکی ہے کہ اپوزیشن کو وقتی طور پر ہی سہی بہرحال اقتدار سے دور کر دیا گیا ہے، جبکہ عمران خان کو آئندہ الیکشن میں شائد ایسا موقع فراہم ہو نے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ وہ گذشتہ انتخابات کی نسبت آئندہ زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوں۔ کیونکہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو یہ واضح پیغام جاچکا ہے کہ ”دھمکی“ کا معاملہ اب کسی مخصوص سیاسی جماعت کی حد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس معاملہ کو ملکی سلامتی کے اداروں نے بھی نہ صرف سنجیدگی سے لیا ہے بلکہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کیا ہے۔ لہذا اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان کی جانب سے اُٹھائے جانے والے غیر معمولی اقدام کی وجہ سے امریکی سازش فی الوقت ناکام نظر آتی ہے تو کچھ بے جانہ ہوگا۔

عین ممکن ہے جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں تو سپریم کورٹ سے تحریک عد اعتماد کے مسترد ہونے کے حوالے سے کوئی فیصلہ آچکا ہو اور عمران خان اس کھیل میں اپنی بازی ہار بھی چکے ہوں لیکن وہ بظاہر ہار کر بھی جیت گئے ہیں اور عمران خان نے اپنے سرپرائز سے حقیقی معنوں میں سب کو انگشت بدنداں کردیا۔ یہی وہ جزوی کامیابی ہے جس کی وجہ سے عمران خان اور انکے کھلاڑی انتہائی پرجوش ہیں کہ حکومت تو جانی ہی تھی لیکن انھوں نے اقتدار اپوزیشن کے ہاتھ بھی نہیں لگنے دیا اور اگلے الیکشن کا اعلان کر کے انہیں اپنی مرضی کی پچ پر کھیلنے کے لیے بھی مجبور کردیا ہے۔اَب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ آف پاکستان سے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف فیصلہ آجاتاہے تو پھر عمران خان کیا کریں گے؟۔میری دانست میں عمران خان اس معاملے سے نبٹنے کے لیئے بھی پوری طرح سے تیار ہوں گے۔ کیونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آجانے سے بھی حکومت تو اُن کی ہی بحال ہونی ہے اور اپوزیشن کو ایک بار پھر سے اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا ہوگی۔

اگر خدانخواستہ اس بار اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو بہر حال عمران خان کے پاس قومی اسمبلی کی نشستوں سے اجتماعی استعفے دینے کا آپشن بھی موجود ہوگا۔ تحریک انصاف کے استعفے منظور ہونے کے بعد ملک کو بحالت مجبوری انتخابات کی طرف ہی جانا پڑے گا۔اس لیئے بادی النظر میں تو یہ ہی دکھائی دیتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنی اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے تمام تر توجہ آئندہ انتخابات کی تیاری پر مذکور کرنا ہوگی، کیونکہ اگر یہی جماعتیں عمران خان کی حکومت کو سلیکٹڈ کہتی آئی ہیں تو ان کیلئے اب عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کا موقع قدرے جلد میسر آرہا ہے۔ بیرونی آلہ کار بننے کا الزام تو ان تمام حزب اختلاف کی جماعتوں کے ماتھے پر ویسے بھی کلنک کا ٹیکہ بن چکا ہے، لہذا اگر اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں اپنا مثبت سیاسی کردار ادا کرنا ہے تو ان کے پاس آئندہ الیکشن کو قبول کرنے کے علاوہ بظاہر کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں۔ دراصل تحریک عد م اعتماد مسترد ہونے کے بعد پاکستانی سیاست سخت بحرانی کیفیت سے دوچار ہے اور اس سیاسی بحران کا خاتمہ صرف نئے انتخابات سے ہی ممکن ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 اپریل 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں