The politician, Ayaz Memom Motiwala, has taken to the drain to appeal for votes

یہ کراچی کو بدل رہے ہیں، یا کراچی سے بدلہ لے رہےہیں؟

مثل مشہور ہے کہ ”ایک انسان کے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کبھی بھی برابر نہیں ہوتیں“۔لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ کھاتے وقت یہ پانچوں انگلیاں ایک برابر ہوجاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بالکل ایسے ہی کراچی شہر کے مستقبل کو بنانے،سنوارنے اور چمکانے کے لیے سندھ کی سیاسی جماعتیں کبھی بھی نہ توماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ”سیاسی اتفاق“ قائم کرسکی ہیں اورغالب امکان یہ ہی ہے کہ نہ ہی آئندہ کبھی قائم کرپائیں گی۔لیکن جب بات آجائے کراچی کے وسائل کو لوٹنے کی، کراچی کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی،کراچی کے تاجروں سے بھتہ لینے یا کراچی کے عوام کا معاشی و سیاسی استحصال کرنے کی تو کم ازکم اس طرح کے نفع بخش معاملات پر کراچی کی تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صف میں برابر،برابر کھڑی نظر آتی ہیں۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: کراچی کی بھولی بسری لوک کہانی

زیادہ دور کیوں جائیں،چند ماہ قبل کی ہی تو بات ہے کہ کراچی میں ابر رحمت اتنا برسا کہ سار ا شہر کئی ہفتوں تک کے لیئے بارش کے پانی میں ڈوب گیا۔مگر اُس وقت کراچی پر گزشتہ چالیس برسوں سے یکے بعد دیگرے حکمرانی کرنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یعنی ایم کیو ایم پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی ڈوبتے شہر کی ذرہ برابر بھی ”انتظامی ذمہ داری“ اپنے کاندھوں پر لینے کو تیار نہ ہوئیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کا اصرار تھا کہ ”ہمیں تو کبھی شہر کا مکمل حکومتی انتظام ملا ہی نہیں،اس لیئے ہماری پالیسیاں شہر کو کیسے اور کیونکر ڈوبو سکتی ہیں؟“۔ جبکہ گزشتہ 12 برسوں سے سندھ پر مسلسل راج پاٹ کا فقید المثال حکومتی ریکارڈ قائم کرنے والی پاکستان پیپلزپارٹی نے یہ کہہ کراپنادامن، عوام کے ہاتھوں سے صاف چھڑا لیا کہ ”ہم نے تو شہر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے تھے لیکن افسوس!کم بخت،بارش ہی اتنی زیادہ تھی کہ ہمارے کروائے گئے سارے ہی ترقیاتی کام خس و خاشاک کی مانند بارش کے پانی میں بہہ گئے“۔دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے کراچی شہر کے ساتھ مکمل ”اعلان ِ لاتعلقی“کی اطلاع عام ہوجانے کے بعد اہلیانِ کراچی کی دل جوئی کے لیئے پاکستانی افواج کو مداخلت کرنا پڑی اور بالآخر شبانہ روز کی کڑی محنت کے بعد افواج پاکستا ن نے شہر کراچی کو بارش کے پانی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ڈوبنے سے بچالیا۔

اچھی بات ہوئی کہ کراچی ڈوبنے سے بال بال بچ گیا لیکن اس سے بھی زیادہ اچھی بات یہ ہوئی کہ شہر پر حکومت کرنے والوں کی”بدحال حکومت“ بھی ایک بار پھرسے بچ گئی۔کراچی کے باسیوں نے جہاں شہر بچ جانے پر خدا کا شکر ادا کیا،وہیں سندھ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حکومت بچ جانے پر غیر سیاسی اشاروں کنایوں میں افسوس کا اظہار بھی خوب کیا۔بہرحال جس حکومت کو ڈوبتے شہری نظر نہیں آئے تھے،اُسے دھوپ سینکتے شہری کیا خاک نظر آتے۔گویا رات گئی،بات گئی اور حالیہ بارشوں سے پہلے اور بعد میں شہر کی تعمیر نو کرنے کے لیئے سندھ حکومت نے جتنے بھی بلند بانگ”سیاسی وعدے“ کیئے تھے، وہ سب کے سب ”سیاسی بخارات“ بن کر ہوا میں تحلیل ہوگئے کیونکہ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ”اَب سندھ حکومت کراچی کے جزیرے آباد کرنے میں بھرپور سیاسی و انتظامی دلچسپی رکھتی ہے“۔حالانکہ جس طرح سندھ حکومت نے شہر کراچی کو اپنے ”حسن انتظام“ سے فیض یاب فرمایا ہے اگر یہ ہی انتظامی و سیاسی وارداتیں کراچی کے جزیروں پر بھی کرنے کی کوشش کی گئی تو خاطر جمع رکھیئے کہ کراچی کے جزیرے آباد ہوں یانا ہوں بہر کیف کچھ طاقت وار جیالوں کے عالیشان آشیانے ضرور آباد ہوجائیں گے۔

لطیفہ ملاحظہ ہو کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے عوام النّاس کو باور یہ کرایا جارہا ہے کہ ”کراچی کے جزیرے،سندھ کی ملکیت ہیں اور ان پر وفاق کو ڈاکا نہیں ڈالنا دیا جائے گا“۔اس کا سادہ سامطلب یہ ہوا کہ سندھ کی ملکیت پر ڈاکا ڈالنے کا تمام تر اختیار یا کاپی رائٹ فقط سندھ کی سیاسی جماعتوں کو ہے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی جاتی کہ ”کراچی کے جزیرے جو کہ سندھ کی ملکیت ہیں،اُس پر کسی بھی شخص یا سیاسی جماعت کو کرپشن کا ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔ دیکھیں بات وہی ہے،بس ”سیاسی نیت“کے فرق سے بات کا مطلب کچھ جدا ہوگیا ہے اور شاید مؤخرالذکر مطلب سندھ حکومت کے وارے میں نہیں ہے۔

ویسے بھی اہلیان کراچی کو سمندر کے درمیان موجود اپنے سنسان جزیروں کے ماضی،حال اور مستقبل سے کوئی خاص غرض ہے بھی نہیں کہ انہیں وفاق آباد کرے گا یا پھر سندھ حکومت برباد کرے گی۔ جلیسانِ کراچی تو بس! کراچی کو آباد اور شاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ کراچی شہر جس میں زندہ جاوید کروڑوں افراد بستے ہیں،سندھ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اتنے بڑے شہر کی خاک برابر پرواہ کرنے کے بجائے چند بے آب و گیاہ، سنسان جزیروں کے جنگل میں منگل منانے کے لیے وفاقِ پاکستان کے خلاف صف آرا ہونے کے لیئے اپنی تمام تر ”سیاسی تیاریاں“مکمل کر چکی ہیں۔طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ سندھ کی ساری جماعتیں ہی کراچی کے جزیروں کا حال بدل کر شہر کراچی کا مستقبل بدلنا چاہتی ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ سندھ کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا یہ متفقہ اور آخری ”سیاسی فیصلہ“ ہے کہ جب کراچی کے جزیرے آباد ہوں گے تو تب ہی جاکر شہر کراچی بھی آباد ہوگااور جزیروں کی محفوظ آباد کاری کے لیئے بنیادی شرط یہ ہے کہ ”وفاقِ پاکستان،کراچی کے جزیروں سے کوسوں دور رہے“۔سندھ کی سیاسی جماعتوں اور وفاقی حکومت کی سیاسی آپا دھاپی کا شرمناک نظارہ کرتے ہوئے کراچی کے عوام تو بس اتنا سوچ رہے ہیں کہ ”یہ سب مل جل کر، کراچی کو بدل رہے ہیں یا کراچی سے بدلہ لے رہے ہیں؟“۔مجھ ناسمجھ کے پاس تو اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں ہے اگر آپ کے پاس ہو تو ضرور بتائیے گا۔اہلیان کراچی پر آپ کی عنایت ہوگی۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 10 دسمبر 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

یہ کراچی کو بدل رہے ہیں، یا کراچی سے بدلہ لے رہےہیں؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں