سندھ کی سیاست میں سیاسی معاہدہ اور قانونی فیصلہ کی گونج

گزشتہ چند ہفتے سے سندھ کی سیاسی فضا تعصب سخت مکدر چلی آرہی تھی اور کئی با ر تو ایسا بھی محسوس ہوتا رہا کہ شاید سندھ کی سیاست ایک بار پھر سے نوے کی دہائی کی جانب اپنا سفرِ معکوس شروع کرچکی ہے۔یعنی ایک جانب ٹنڈو الہیار میں لڑائی جھگڑے کو لسانی رنگ دینے کی کوشش جاری تھی تو دوسری طرف کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی میں ہونے والی مار کٹائی کے نتیجے میں ایم کیو ایم رہنما کی مبینہ ہلاکت کی خبر سے پر تشدد اور خوف وہراس کی سیاست کا تاریک دور لوگوں کو رہ رہ کر یاد آنے لگا تھا۔لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ بالآخر سب اندیشے اور خدشات بالکل لغو اور فضول ثابت ہوئے اور سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں نے سیاسی کشیدگی نقطہ عروج پر پہنچنے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے دروازے بند نہ کیے۔جس کا حتمی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ سندھ کی سیاست پر تعصب اور لسانیت کا خون آشام رنگ چڑھنے سے محفوظ و مامون رہا۔

یاد ش بخیر! کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کامیاب ہوگئے، جس کے بعد جماعت اسلامی نے اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے تحریری معاہدہ کے مطابق سندھ حکومت تمام تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کراچی کو واپس کرنے پر تیار ہوگئی۔ نیز آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سے بھی بلدیہ کراچی کو حصہ دینے پر پیپلزپارٹی نے آمادگی ظاہر کردی۔ جبکہ میئر کراچی کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر بورڈ کے چیئرمین ہو نے پر بھی اتفاق کرلیا گیا۔علاوہ ازیں بلدیہ کراچی کو خود مختار بنانے کیلئے مالی وسائل دینے پر بھی سندھ حکومت تیار ہوگئی اور،صوبائی فنانس کمیشن کا قیام، کے ایم ڈی سی بھی بلدیہ عظمی کراچی کو واپس کردیا گیا۔ حکومتی مذاکرات کار، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے دھرنے کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروائی ہے کہ ”سندھ حکومت نے صحت سے متعلق جو ادارے بلدیہ عظمی کراچی سے اپنے زیر انتظام لے لئے گئے تھے۔وہ دوبارہ بلدیاتی اداروں کے سپردکردیئے جائیں گے،نیز صوبائی حکومت یو سی کوماہانہ اورسالانہ فنڈزکی فراہمی آبادی کی بنیاد پر ہوگی۔ جبکہ میئرکراچی واٹربورڈاورسیوریج بورڈ کے چیئرمین ہوں گے اور صوبائی حکومت یو سی کوماہانہ اور سالانہ فنڈزکی فراہمی آبادی کی بنیادپرہوگی، اس کے علاوہ سندھ حکومت 2013کے بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم لا ئے گی،جن معاملات پر نوٹیفکیشن جاری کرناہوں گے، ایک سے دوہفتوں میں ایسا کردیا جائے گا“۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی سندھ حکومت اور جماعت اسمبلی کے درمیان طے پاجانے والے معاہدے پر سندھ کی عوام پوری طرح سے اپنی خوشی اور اطمینان کا اظہار کر بھی نہ پائی تھی کہ عدالت عظمیٰ ٰنے سندھ میں بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیئے دائر متحدہ قومی مومنٹ(ایم کیو ایم)کی آئینی پٹیشن نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ”مقامی حکومتوں کا قیام آئین کا تقاضا ہے، لہٰذا،سندھ میں بلدیاتی اداروں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیئے جائیں“۔ عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2013کی شق 74 اور 75 کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ”سندھ حکومت تمام قوانین کی آرٹیکل 140 اے سے ہم آہنگی یقینی بنائے“۔یا د رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کیلئے دائر ایم کیو ایم کی درخواست پر محفوظ فیصلہ صادر کیاہے۔

یہ تاریخ ساز فیصلہ چیف جسٹس گلزار احمد نے پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ ”آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت لوکل گورنمنٹ کا قیام عمل میں آتا ہے اور قانون کے تحت لوکل گورنمنٹ کو مقامی حکومت اور بلدیاتی اختیارات حاصل ہیں۔ صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات کی منتقلی اور بلدیاتی اداروں سے متعلق تمام قوانین کو آئین کے آرٹیکل 140اے سے ہم آہنگ بنایا جائے، جبکہ سندھ حکومت مقامی حکومتوں کیساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن رکھنے کی پابند ہے۔ نیز بلدیاتی حکومت کے تحت آنے والا کوئی نیا منصوبہ صوبائی حکومت شروع نہیں کر سکتی،ماسٹر پلان بنانا اور اس پر عملدرآمد کرانا لوکل باڈیز کے بنیادی اختیارات ہیں“۔

عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں سندھ حکومت کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ قوانین کی ان شقوں میں تبدیلی کی جائے جہاں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اختیارات میں تضاد ہے۔نیز عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایکٹ اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) ایکٹ کو آئین کے مطابق ڈھالنے جبکہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین بھی آئین کے مطابق تبدیل کرنے کا حکم دیا۔یعنی اَب لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، واٹربورڈ، سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور لاڑکانہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قوانین میں بھی ضروری ترامیم کی جائیں گی۔عدالتی فیصلے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ”سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرینگے، کوئی قابل اعتراض بات ہوئی تو اپیل کا حق ہے۔ بلدیاتی حکومتوں کو وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے اختیارات نہیں دیئے جاسکتے، ہم نے بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم اسمبلی میں بل لاکر کی، وزیر اعظم، وزیراعلیٰ اور کابینہ کے اختیارات لوکل کونسلز کو دئیے جائیں تو کیا باقی سب گھر بیٹھ جائیں؟ آرٹیکل ایک سو چالیس اے کی پوری پاسداری کی“۔

دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی اور سندھ حکومت کے درمیان بھی مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد بلدیاتی قانون کے خلاف 6 روز سے کراچی میں جاری دھرنا ختم کردیا گیا۔چیئر مین پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہاکہ”دھرنا ختم نہیں 18 فروری تک موخر کررہے ہیں، 11سے 18 فروری کے درمیان قانون سازی ہوگی، ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے عہدوں کو لات مار کر اپنے دشمن بنائے“۔واضح رہے کہ سندھ حکومت اور پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے درمیان ہونے والے معاہدے کے متن کے مطابق سندھ حکومت ایکٹ 140 اے کے تحت بلدیاتی نظام نافذ کرے گی، جبکہ سندھ حکومت نے سیاسی انتظامی اور مالیاتی اختیار عوامی نمائندوں کو دینے پر اتفاق کیا ہے۔نیز صوبائی مالیاتی کمیشن کو حقیقی معنوں میں فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ ایس بی سی اے، کے ڈی اے سمیت دیگر اداروں میں مئیر کو کردار دینے پر اتفاق کیا گیا۔بظاہر جماعت اسلامی، پاک سرزمین پارٹی اور سندھ حکومت کے درمیان ہونے والے تما م ہی معاہدے بہت اچھے ہیں،لیکن اگر اِن معاہدات پر من و عن عمل در آمد بھی ہوجائے تو کتنا اچھا ہوجائے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 فروری 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں