ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کا عشق ممنوع

ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلزپارٹی کے درمیان تحریک عدم اعتماد میں متحدہ اپوزیشن کی حمایت کے اعلان کے عوض میں ہونے والے تحریر ی معاہدہ پر جتنا دُکھ اور افسوس ایم کیو ایم پاکستان کے دیرینہ کارکنان ہوا ہے،شاید اتنا صدمہ تو تحریک انصاف کے کھلاڑیوں کو بھی نہیں ہوا ہوگا۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو تو بہرکیف ابھی تک یہ تسلی و اطمینان ہے کہ اُن کے قائد اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے پاس تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہوجانے کے بعدبھی اپنی سیاست کو زندہ جاوید رکھنے کے لیئے بہت سے سیاسی آپشن دستیاب ہوں گے۔لیکن ایم کیو ایم پاکستان کے ذمہ داران کی اکثریت سمجھتی ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ کیئے گئے مذکورہ معاہدہ نے اُن کی جماعت کے لیئے مستقبل میں سیاست کرنے کے تمام آپشن ختم کردیئے ہیں۔

حالانکہ ہماری دانست میں شہری سندھ اور دیہی سندھ کی سیاست کو باہم شیر و شکر کرنے کے لیئے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہونے والے یہ معاہدہ ایک بڑا گیم چینجر بھی ثابت ہوسکتاہے۔ لیکن اس کے لیئے انتہائی ضروری ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے معاہدہ کی من و عن پاسداری کی جائے۔ چونکہ مذکورہ معاہد ہ پر عمل درآمد کرنے کے تمام تر انتظامی و سیاسی اختیارات پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے پاس ہیں۔اس لیئے ایم کیوایم کے ووٹرز کو اندیشہ ہے کہ یہ معاہدہ زیادہ عرصہ چلنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان ایک درجن سے زائد سیاسی اور انتظامی نوعیت کے معاہدے بیچ چوراہے میں ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ ایم کیوایم اور اپوزیشن کے درمیان طے پانے والے 18 نکاتی معاہدے کو ”چارٹرآف رائٹس“کانام دیاگیاہے اوراس معاہدے کے بنیادی فریقین ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے خالد مقبول صدیقی اورپیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ جبکہ معاہدے پرشہبازشریف، مولانافضل الرحمان، اخترمینگل اور خالد مگسی نے بطور ضامن کے دستخط کیے ہیں۔اگر غیر جانب داری سے ”چارٹر آف رائٹس“ کے نکات کا جائزہ لیاجائے تو منکشف ہوتا ہے کہ بلاشبہ اس معاہدے کی صورت میں ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے صرف ایک مطالبہ یعنی علحیدہ صوبہ کے علاوہ کم و بیش تمام مطالبات کو پیپلزپارٹی سے منوا لیا ہے۔ مثال کے طور پر معاہدہ کے اہم نکات کے مطابق لوکل گورنمٹ ایکٹ پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمل ہوگا اور نئی حلقہ بن سرکاری ملازمتوں پر طے شدہ کوٹہ شہری اوردیہی سندھ کے مطابق عمل کیاجائیگا۔جعلی ڈومیسائل کے معاملے پر دونوں جماعتوں کی جانب سے تمام فورمز پر جدوجہد کی جائے گی اور جعلی ڈومیسائل پر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہر جعلی ڈومیسائل کو منسوخ کردیاجائیگا۔

ایم کیوایم پاکستان اور پیپلزپارٹی کے درمیان”چارٹر آف رائٹس“ میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ سند ھ کی سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ کے حوالے سے دونوں جماعتیں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیں گی، جو گریڈ 1 سے 15 تک کی ملازمتوں میں سے 40 فیصد کوٹہ شہری سندھ کا ڈومیسائل کے حامل افراد کو فراہم کرنے کا انتظامی بندوبست کرے گی۔نیز امن وامان کی بہتری اور اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے مقامی پولیسنگ کانظام متعارف کرایاجائے گا اور اس میں بھی شہری سندھ کی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی۔ جبکہ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے مشترکہ کمیٹی کام کرے گی جس کے لیئے خصوصی مالیاتی پیکج کا بھی اعلان ہوگا۔علاوہ ازیں معاہدے کے مندرجات میں ایم کیو ایم کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر اور کمشنر کراچی کی تعیناتی پر مشاورت کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ حیدرآباد کے ایڈمنسٹریٹر کے لیے بھی ایم کیو ایم حکومت کو 3 نام بھیجے گی اور بھیجے گئے اِن ناموں میں سے ہی کسی ایک شخص کو حیدرآباد کا ایڈمنسٹریٹر بنایا جائے گا۔

دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے اِس معاہدے کی سب سے اہم ترین شق یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی تشکیل کے لیے بھی ایم کیوایم سے مشاورت کرنا لازمی ہوگا۔یعنی ایم کیو ایم کی سندھ حکومت کی صوبائی کابینہ میں شمولیت بہر صورت یقینی ہوگی۔اس کے علاوہ ”چارٹر آف رائٹس“میں ایم کیو ایم نے شہرِ قائد کراچی میں سرکاری جامعہ برائے خواتین بنانے، سیف سٹی پروجیکٹ کو فوری طور پر مکمل کرنے جیسی شرائط میں شامل کروائی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سرکردہ رہنماؤں کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو واقعی یہ ایک ”چارٹر آف رائٹس“ ہے۔جس میں انہوں نے اپنے ہر دیرینہ مطالبہ کو پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کاغذ پر لکھوا کر بطور سند، دستخط بھی کروالیے ہیں۔ مگر کیا وہ مذکورہ معاہدہ پر پیپلزپارٹی کو عمل درآمد کرواسکیں گے؟۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ شاید جس کا جواب فی الحال ایم کیو ایم پاکستان کے اُن رہنماؤں کے پاس بھی نہ ہو،جنہوں نے ”چارٹر آف رائٹس“ تک پہنچنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور اُن کے ساتھیوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ”چارٹر آف رائٹس“ کے معاہدہ کو سائن کرکے اپنے سیاسی کیریئر کا آج تک کا سب سے مشکل ترین فیصلہ کیا ہے۔کیونکہ اگر پیپلزپارٹی اپنی سابقہ ساکھ اور روایت کے مطابق مختلف سیاسی حیلے بہانوں سے معاہدے سے روگردانی کی کوشش کرتی ہے تو یہ اقدام ایم کیوایم پاکستان کی سیاسی موت کے مترادف ہوگا اور اگر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت غیر متوقع طور پر ”چارٹر آف رائٹس“ پر من و عن عمل درآمد کروانے کی جانب پیش قدمی کرتی ہے تو یہ فیصلہ پیپلزپارٹی کی سیاسی موت کے مترادف ہوگا۔کیونکہ ”چارٹر آف رائٹس“ میں ایم کیو ایم پاکستان کے جتنے مطالبات تسلیم کیئے گئے ہیں اُن پر پیپلزپارٹی کے کارکنان کو شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ مذکورہ کالم کی آخری سطریں تحریر کرتے وقت خبر موصول ہوئی ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کو تیکنیکی بنیاد پر مسترد کردی اور صدپاکستان نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کردی ہیں۔ یعنی اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوا ہے کہ ”چارٹر آف رائٹس“ کے معاہدہ کی کلیاں بن کھلے ہیں مرجھاگئیں ہیں۔ اَب بس یہ ہی کہا جاسکتاہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کو حالیہ غیر متوقع واقعہ پر صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 04 اپریل 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں