My Lover Kill Me

میرا قاتل، میرا چاہنے والا نکلا

انگریزی زبان کی ایک بہت قدیم کہاوت ہے،جس کا اُردو زبان میں مفہوم کچھ یوں بنتا ہے کہ ”محبت اور نفرت کے درمیان صرف ایک باریک سی لکیر ہوتی ہے“۔اس کہاوت کا سادہ سا مطلب یہ ہوا کہ محبت کرنے والا ذراسی بے دھیانی،بے وقوفی اور کسی بدگمانی کے باعث کب نفرت کی حدود میں قدم رکھ دے اور اُس کا دعوی محبت کس وقت جذبہ حسد و انتظام سے مغلوب ہوجائے،اس بابت یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتاہے۔شاید اسی مناسبت سے حفیظ جالندھری نے یہ شعر کہا تھا کہ ”دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف۔۔۔۔ اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی“۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: سکہ رائج الوقت کی بے وقعتی

دوستوں کی دوستی کا دشمنی میں بدل جانا اس لیئے بھی سمجھ میں آتاہے کہ ہمارے دوست، زندگی کے سفر میں ہمارے ہمراز و ہم رفیق ہوتے ہیں۔لہٰذا کسی مقام پر مشترکہ معاشی وسماجی مفادات کاٹکڑاؤ ہوجانے کے باعث کسی دوست کا دشمن بن جانا، کسی حد تک عین قرین قیاس بھی لگتاہے۔ لیکن معاشرے کی مشہور و معروف شخصیات کے مداح اور پرستار اگر اپنے آئیڈیل کی پیروی کرتے کرتے او راُس کے ساتھ اپنی دلی وابستگی کا دم بھرتے بھرتے اچانک ہی اُن کے ساتھ ایسی نفرت کرنا شروع کردیں کہ اپنے آئیڈل کو اپنے ہی ہاتھوں قتل کرنے کا فیصلہ کرلیں۔ یقینا ایسے المناک واقعہ کا رونما ہوجاناکسی سانحہ سے کم نہیں ہے۔ زیر نظر میں مضمون میں چند ایسی مشہور و معروف لیکن بدقسمت شخصیات کا احوال پیش ہے،جنہیں ایک دن اُن کے مداح اور پرستار وں نے ہی موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔

تم میری نہیں تو پھر کسی کی بھی نہیں
”ربیکا لوسیل شیفر“80 کی دہائی کے آخر میں ایک نوجوان، خوبصورت اور اُبھرتی ہوئی اداکارہ تھیں۔خاص طور پر اس کی فلم ”مائی سسٹر سام“ نے ربیکا نے اپنی کمال اداکاری کے وہ جوہر دکھائے کہ وہ راتوں رات لاکھوں دلوں ڈھڑکن بن گئی۔ربیکا کے اُن پرستاروں میں ”رابرٹ جان ہارڈو“ بھی سرفہرست تھا،جنہیں ”مائی سسٹر سام“ میں ربیکا کی اداکاری نے اپنا دیوانہ بنادیا تھا۔ رابرٹ نے اپنی پسندیدگی کے اظہار کے لیے ربیکا کو کئی خطوط لکھے،اُس کا لکھا گیا ہر خط بہت ہی خوب صورت ہوتا تھا۔ زیادہ تر وہ اپنے خط میں ایک دل اور ربیکا کی تصویر ضرور چسپاں کرتا تھا،جس کے نیچے اس کے دستخط کے ساتھ محبت آمیز یہ عبارت بھی ضرور درج ہوا کرتی تھی”ربیکا سے محبت کے ساتھ،ایک پرستار اور مداح“۔ربیکا کو رابرٹ کے سارے خط ہی ملے لیکن اُس نے کبھی اُس کے خطوں کا جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

رابرٹ کو جب اپنے خطوں کے جواب میں ربیکا کی جانب سے ایک بھی خط موصول نہیں ہوا تو،اُس نے ربیکا سے بالمشافہ ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رابرٹ نے ”باردوناکام فلم اسٹوڈیوز“میں ربیکا سے ملنے کی دوبار بھرپور کوشش کی بھی لیکن وہ ہر بار ناکام و نامراد ہی رہا۔ اس دوران ربیکا کی ایک دوسری نئی فلم ریلیز ہوگئی،جس میں ربیکا نے فلم کے ہیرو کے ساتھ کئی رومانوی سین فلمند کروائے تھے۔ ربیکا کو فلم میں ہیرو کے ساتھ رومان کرتے دیکھ کر رابرٹ کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور اس کا ربیکا سے ملنے کا جنوں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا۔ اَب اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ ربیکا سے اُس کے گھر میں ملاقات کرے گا مگر مصیبت یہ تھی وہ ربیکا کے گھر کا پتا جانتا ہی نہیں تھا۔ باالآخر اُس نے ربیکا کے گھر کا درست پتا معلوم کرنے کے لیے 250 ڈالر پر ایک نجی جاسوس کی خدمات حاصل کرلیں۔

جاسوس کامیاب رہا اور یوں رابرٹ کے ہاتھ میں ربیکا کے گھر کا پتا آگیا۔18 جولائی 1989 کو رابرٹ اپنی پسندیدہ اداکارہ ربیکا کے دروازے پر کھڑا گھنٹی بجارہا تھا۔ دروازہ ربیکا نے ہی کھولا اور رابرٹ نے ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر ربیکا کو بتا دیا کہ وہ اُس کا کتنا بڑا پرستار ہے۔ربیکا نے اُس کی ساری رام لیلا سُن کر بس اتنا جواب دیا کہ ”اُس کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے کہ وہ کسی پرستار کی جنونی محبت میں اُسے ضائع کرسکے“۔ربیکا کے جواب نے رابرٹ کو سخت صدمہ پہنچایا اور اُس نے اپنی جیب سے پستول نکال کر کہا کہ ”اگر تم اپنے پرستار کی نہیں ہوسکتی تو پھر کسی اور کی بھی نہ ہوسکو گی“۔ یہ کہہ کر اُس نے ربیکا کو اُس کے گھر کے دروازے پر ہی گولی مار دی اور خود موقع واردات سے فرار ہوگیا۔ ربیکا فوری طور پر ہلاک ہوگئی۔جبکہ رابرٹ کو ایک ماہ بعد گرفتار کرلیا گیااور عدالت نے اُسے ربیکا کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزاسنادی۔

میچ کیوں ہارا۔۔۔
ہر ایک جانتاہے کہ کھیل چاہے کوئی بھی ہو،ہمیشہ جوش و جذبہ سے بھرپور ہی ہوتا ہے۔یعنی کھیلنے والے نہیں بلکہ کھیل کو دیکھنے والی بھی کھیل میں پوری طرح سے منہمک ہوجاتے ہیں اور اپنی پسندیدہ ٹیم کی ہار،جیت کو خود کی ہار،جیت سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ شائقین کھیل کا یہ جنون کبھی کبھار کھلاڑیوں کے لیے وجہ آزار بھی بن جاتاہے۔لیکن کولمبیا کے فٹ بال ٹیم کے کپتان اور ڈیفنڈر ”اینڈرس ایسکو بار“ کے لیئے یہ جذبہ جنون جان لیوا ثابت ہوا۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ سوکر ورلڈ کپ کے دوران کولمبیا اور امریکا کے درمیان ایک بہت اہم ترین میچ جاری تھی۔ کولمبین شائقین کی تمام نظریں اپنی ٹیم کے کپتان ”اینڈرس ایسکوبار“ پر جمی ہوئی تھی،ماہر ین کا خیال تھا اینڈرس یہ میچ باآسانی کولمبیا کو جتا سکتاہے ہے۔

مگر شومئی قسمت سے میچ کے دوران ایک موقع ایسا آیا اینڈرس اپنے گول پر مخالف ٹیم کی جانب سے ہونے والے جارحانہ حملے کو روکنے کی کوشش کررہا تھا کہ غلطی سے اس نے فٹ بال اپنے ہی گول میں پھینک دی۔ جس کی وجہ سے کولمبیا کی سوکر ٹیم کو امریکی ٹیم کے ہاتھوں ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست ہوگئی اور کولمبیا ورلڈکپ سے باہر ہوگیا۔ کولمبیا کی عوام اور میڈیا نے سوکر ٹیم کی ہار کا سارا ملبہ ”اینڈرس ایسکوبار“ پر ڈال دیا۔ اینڈرس نے میڈیا پر آکر کہا کہ ”یہ ایک انسانی غلطی تھی،اُس نے فٹ بال جان بوجھ کر اپنے گول میں نہیں پھینکی تھی اور وہ اپنی ناقابلِ تلافی غلطی پر تہہ دل کے ساتھ پوری قوم سے معافی بھی مانگتا ہوں“۔کولمبیا سوکر ٹیم کی وطن واپسی کے ٹھیک چھ روز بعد 2 جولائی 1994 کی ایک صبح اینڈرس کو چھ گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اینڈرس کے قتل کے شبے میں ”ہمبرٹو منوز“ نامی ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔

بعد از تفتیش انکشاف ہوا کہ ”ہمبر ٹومنوز“ اینڈرس کا زبردست پرستار تھا اور اُس نے اینڈرس کی کارکردگی پر جوئے خانے میں بڑی رقم کی شرط بھی لگائی تھی۔لیکن چونکہ اینڈرس میچ میں حسب توقع کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا،تو اُس کا پرستار شرط ہار گیا۔ ”ہمبرٹومنوز“ نے شرط ہارتے ہی قسم کھالی تھی کہ وہ اینڈرس کو موقع پاتے ہیں قتل کردے اور میچ کے دسویں روز اُسے یہ موقع میسر آگیا اور اُس نے ہیرو کو ہلاک کردیا۔”ہمبر ٹومنوز“کو عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 42 سال قید بامشقت کی سزا سنائی، اس سزا کے خلاف اُس کے وکیل نے اعلیٰ عدالت نے اپیل دائر کی،جہاں اُس کی سزا کو 11 سال قید میں بدل دیا گیا۔ ہمبرٹومنوز اپنی مقررہ قید پوری کرکے رہا ئی حاصل کرچکا ہے۔جبکہ دنیا بھر کے فٹ بال شائقین آج بھی”اینڈرس ایسکوبار“ کی الم ناک موت کا تذکرہ سنتے ہیں تو دُکھی ہوجاتے ہیں۔

آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
جیسی جیمز کہنے کو تو ایک ڈاکو تھا،لیکن جیسا کہ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں ”پھولن دیوی“ کو ایک ڈاکو ہوتے ہوئے بھی فقیدالمثال عوامی مقبولیت اور شہر ت حاصل ہوگئی تھی۔کچھ ایسی ہی غیر معمولی شہرت ایک زمانے میں ”جیسی جیمز“ کو امریکا میں حاصل تھی۔ جیسی جیمز نے ”جیمز کنفیڈریٹ“کے نام سے امریکا بھر میں ڈکیتی کے لیئے ایک مسلح گروہ بنایا ہوا تھا۔ جو عام اور غریب امریکیوں میں ”جیمز گروپ“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسی کی ڈکیتیوں کو امریکی عوام کی جانب سے مہم جوئی اور کارناموں کی اساطیری داستانوں میں بدل کر نجی محفلوں میں ایسے تذکرہ کیا جاتاتھا جیسے وہ کوئی ”رابن ہوڈ“ ہو۔ دراصل جیسی جیمز امیروں سے چوری کرتا تھا اور لوٹی ہوا مال و دولت کا کچھ حصہ غریبوں میں تقسیم کردیا کرتا تھا۔ جیسی جیمز کے اس طرز عمل نے اسے امریکی عوام میں ”ہیرو“ بنادیا تھا۔ ایک ایسا ہیرو جس کے گن گاتے ہوئے عام عوام تھکتی نہ تھیں۔جیسی جیمز کے جاں نثار پرستاروں میں رابرٹ فورڈ بھی شامل تھا،جس کے نزدیک جیسی جیمز ایک دیوتا کی مانند تھا اور وہ اپنے دیوتا کی ”جیمزگینگ“ میں شامل ہونے کا خواب جاگتی آنکھوں سے صبح و شام دیکھا کرتا تھا۔

رابرٹ فورڈ کو اُس وقت اپنے خواب کی تعبیر مل گئی جب اُسے معلوم ہوا کہ جیسی جیمز کو اپنی گینگ کی افرادی قوت کو بڑھانے کے لیئے نئی بھرتی کی ضرورت ہے۔ رابرٹ اور اس کا بھائی چارلس بھرتی کے خواہش مند بن کر جیسی جیمز کے سامنے حاضر ہوگئے اور ان دونوں بھائیوں کی اپنے ساتھ والہانہ محبت اور اندھی عقیدت سے جیسی جیمز بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اس نے دونوں بھائیوں کو اپنے گروہ میں شامل کرلیا۔ حیران کن طور رابرٹ فورڈ کو اپنے آئیڈیل جیسی جیمز کے ساتھ صرف ایک ٹرین ڈکیتی میں حصہ لینے کا موقع میسر آیا۔ڈکیتی کامیاب رہی لیکن عین آخری موقع پر رابرٹ نے جیسی جیمز کے دور کے رشتہ دار،اور گینگ کے انتہائی اہم رکن ”کزن وڈ ہیٹ“ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ چونکہ رابرٹ گینگ میں صرف چوری چکاری اور رہزنی کی نیت سے شامل ہوا۔

لہٰذا اپنے ہاتھوں ہونے والے قتل سے وہ اتنا گھبرا گیا کہ موقع واردات سے بروقت فرار نہ ہوسکا اور حکام کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔حکام نے جب پوچھ گچھ کی تواس نے اُگل دیا کہ”وہ ”جیمز گینگ“ کا اہم ترین رکن ہے اور اس نے حال ہی میں اس کے گروہ میں شامل ہوا ہے۔جبکہ جیسی جیمز اس پر اعتبار بھی بہت کرتاہے“۔بعدازں حکام نے جیسی جیمز کو گرفتار کروانے کے لیے رابرٹ فورڈ کو ایک خصوصی معاہدہ کی پیش کش کی جس کے مطابق اگر وہ جیسی جیمز کو گرفتار کروادیتاہے تو اُسے عام معافی کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ ڈالر کی کی کی خطیر رقم بطور انعام بھی دے دی جائے گی۔ حکام کی پیشکش کو رابرٹ نے قبول کرلیا، جس کے بعد اُسے رہائی حاصل ہوگئی اور ایک بار پھر سے وہ جیسی جیمز کے گروہ میں حکام کا جاسوس بن کر شامل ہوگیا۔3 اپریل 1882کو جیسی جیمز اپنی پناہ گاہ میں ناشتہ کررہا تھا کہ رابرٹ کی مخبری پر حکام نے دھاوا بول دیا۔

جیسی جیمز چونکہ رابرٹ کی محبت پر حد درجہ اعتبار کرتا تھا۔لہٰذا اس نے اپنے تمام ساتھیوں کو حکام سے مقابلہ کرنے کے لیئے باہر بھیج دیا جبکہ خود رابرٹ کے ساتھ ایک کمرے میں محدود ہوگیا۔جب رابرٹ فورڈکو احساس ہوا کہ حکام،جیسی جیمز کو زندہ گرفتار بھی کرسکتے ہیں تو اس نے حکام کے ساتھ طے پاجانے والے معاہدے کو خفیہ رکھنے کے لیئے عین اُس لمحے جیسی جیمز کی پیٹھ میں اپنی پستول سے گولی مار کر ہلاک کردیا کہ جس وقت وہ دیوار پر آویزاں ایک ٹیڑھی تصویر کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ جیسی جیمز فقط 34 برس کا تھا،جب اُس کے پرستار نے اُسے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ حکام نے معاہدے کے مطابق رابرٹ فورڈ اور اس کے بھائی عام معافی دے کر رہا کردیا جبکہ اُسے انعامی رقم کا صرف پانچ فیصد حصہ ہی دیا گیا کیونکہ اُس نے جیسی جیمز کو زندہ گرفتار نہیں کروایا تھا۔ رابرٹ فورڈ نے جیسی جیمز کے قاتل کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی بہت کوشش کی لیکن اردگرد کے لوگ اور خود اُس کا اپنا ضمیر بھی اُسے لعنت ملامت کرتا ہے۔رابرٹ کے بھائی چارلس فورڈ نے 1884 میں خود کشی کرلی جبکہ 8 جون 1892 کو رابرٹ فورڈ کو ”ایڈورڈ اوکے کلی“نامی شخص نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔کہا جاتاہے کہ رابرٹ فورڈ کو ہلاک کرنے والا بھی جیسی جیمز کا مداح اور پرستار ہی تھا۔

اعتبار کی موت
سیلینا کوئینٹینلا پیریز ایک امریکی و میکسیکن گلوکارہ نغمہ نگار، اداکارہ، ماڈل اور معروف فیشن ڈیزائنر تھیں۔بدقسمتی سے سیلینا کو اُس کی 24 ویں سالگرہ سے ٹھیک دو ہفتہ قبل اس کے ہی ایک مداح نے بے دردی سے ہلاک کردیا تھا۔سیلینا میکسیکو میں امریکی میڈونا کے نام سے جانی و پہچانی جاتی تھیں۔ جبکہ امریکامیں اُسے میکسیکن بیوٹی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ سیلینا اُن گنی چنی شوبز شخصیات میں سے ایک تھی جنہیں میکسیکو اور امریکا میں برابر مقبولیت حاصل تھی جبکہ عالمی سطح پر اُس کے فن کا اعتراف برابر کیا جاتاتھا۔نیز اُس کا پہلا انگلش میوزک بھی البم عالمی ریلیز کے لیئے تیاری کے آخری مراحل میں تھا۔علاوہ ازیں میکسیکو میں وہ اپنا ایک بوتیک بھی چلاتی تھیں،جہاں فروخت کے لیئے تمام د ملبوسات سیلینا اپنی نگرانی میں تیار کرواتی تھی۔ سیلینا کی انہی بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں کے اظہار نے اُس کے بے شمار مداح اور پرستار بھی پیدا کردیئے تھے۔ اُس پر دل و جان سے فدا ہونے والی ایک پرستار خاتون”یولانڈ اسلدیور“ بھی تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں: امریکیوں کی سیاسی سَر پھٹول

جسے سیلینا خود بھی اپنی سب سے بڑی مداح قرار دیتی تھی اور اکثر نجی محفلوں میں وہ اپنی مداح کی جانب سے اُ س کے ساتھ روا رکھی جانے والہانہ وارفتگی کے قصے بھی سنایا کرتی تھی۔”یولانڈ اسلدیور“ نے سیلینا فین کلب بھی بنایا ہوا تھا جبکہ وہ سیلینا کے ذاتی بوتیک کا انتظام و انصرام بھی خوب سنبھالتی تھی۔ سیلینا کے اندھے اعتماد اور اعتبار نے اُس کی مداح کو خوش فہمی میں مبتلا کردیا اور اس نے بوتیک میں سے قیمتی ملبوسات کی چوری اور رقم میں ہیرا،پھیری بھی شروع کردی۔ ابتداء میں تو سیلینا نے اپنی پرستار کی اس حرکت کو نظر اندا زکیا لیکن جب بوتیک میں وارداتوں اور ہیراپھیری کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی گئی تو آخر ایک روز غصہ میں آکر اُس نے یولانڈا کو ملازمت سے فارغ کردیا۔ لیکن یولانڈا جاتے جاتے بوتیک کی تجوری سے سیلینا کی اہم ترین دستاویزات بھی چرا کر چلتی بنی۔ یہ دستاویزات سیلینا کے لیے ازحد اہم اور ضروری تھیں۔ پس اُس نے اپنی دستاویزات کی واپسی کے لیئے یولانڈا سے رابطہ کیا۔ جس کے جواب میں وہ ٹیکساس کے کورپس کرسٹی کے ایک ہوٹل میں سیلینا کے ساتھ ملنے پر راضی ہوگئی۔مگر شومئی قسمت کے ہوٹل میں یولینڈا نے سیلینا کو دستاویزات دینے کے بجائے گولی مار دی۔ ہوٹل میں موجود افراد نے سیلینا کو فوری طور پر قریبی میموریل میڈیکل سنٹر منتقل کردیا، جہاں ایک گھنٹے بعد سیلینا کی موت کی تصدیق کردی گئی۔ یولینڈا کو قتل میں الزام گرفتار کرلیا گیا اور مقامی عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنادی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین میں 14 فروری 2021 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

3 تبصرے “میرا قاتل، میرا چاہنے والا نکلا

اپنا تبصرہ بھیجیں