Murtaza Wahab as a Karachi Political Administrator

ایڈمنسٹریٹر کراچی کی خودساختہ قانونی مشکلات

سپریم کورٹ، میں سیاسی طرز عمل اختیار کرنے پر ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صدیقی اپنے عہدے سے نااہل ہوتے ہوتے بال بال بچ گئے ہیں،کہنے کو تو موصوف خود بھی ایک مایہ ناز وکیل ہیں اور عدالت کے حفظ مراتب اور قانونی حدود و قیود کو کسی بھی دوسرے سیاست دان کی بہ نسبت بدرجہا بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں۔ لیکن شاید سیاست اور بڑے سرکاری عہدے کا نشہ ہی کچھ ایسا ظالم ہوتا ہے کہ اچھا خاصا قانون سمجھنے والا زیرک شخص بھی کب عدالت میں قانون کی پٹری سے اُتر کر سیاست کے کچے پکے راستے پر دوڑنا شروع کردے کچھ پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ بہرحال اچھی بات یہ ہوئی کہ بیرسٹر مرتضی وہاب صدیقی نے بروقت سیاست کا جامہ خود پر سے اُتار پھینک کر آئین و قانون کی چھتری تلے پناہ لے لی اور یوں وہ بلدیہ عظمی کراچی کے اہم ترین سرکاری منصب سے فارغ ہونے سے بال برابر کے فرق سے بچ نکلے۔

پاکستان پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کے لیے یہ بڑی اطمینان بخش صورت حال ہے کہ سپرکورٹ کراچی رجسٹر ی میں آخری لمحات میں بیرسٹر مرتضی وہاب کی قسمت نے یاوری کی اور پیپلزپارٹی ایک بڑے غیر متوقع سیاسی نقصان سے بچ گئی۔کیونکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ روز اوّل سے تنقید کی زد میں ہیں کہ انہوں نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کا عہدہ کسی انتظامی شخصیت کو دینے کے بجائے پیپلزپارٹی کے اہم ترین سیاسی رہنما بیرسٹر مرتضی وہاب صدیقی کو دے کر بلدیہ عظمی کراچی کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔اس تناظر میں اگر خدانخواستہ ایڈمنسٹریٹر کراچی واقعی اپنے عہدے سے عدالتی حکم پر ہٹا دیئے جاتے تو اس واقعہ کو سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتیں،پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک بڑی سیاسی و قانونی شکست کے مقدمہ کی صورت میں صوبہ کی عوام کے سامنے پیش کر کے اپنی سیاست چمکانے کی بھرپور کوشش کرتیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے گٹر باغیچہ کیس پر سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت سخت الفاظ استعمال کرنے پر عدالت نے مرتضیٰ وہاب پر برہمی کا اظہار کیا، بینچ کے رکن جسٹس قاضی امین نے ایڈمنسٹریٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”یہ ریاست کی زمینیں ہیں آپ کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ آپکے پاس امانتیں ہیں ریاست یہ سب زمینیں واپس لے گی اور آپ نے ہر حال میں ساری زمینیں واپس کرنا ہونگی، ہم نہیں لیں گے تو کوئی اور آکر لے گا لیکن بہر صورت یہ زمینیں آپ واپس کریں گے“۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ”کیسے سوچ لیا گیا کہ رفاہی زمین پر تعمیرات ہوسکتی ہیں؟ تاقیامت بھی رفاہی زمین کی حیثیت رفاہی رہیں گی۔ کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ کے ایم سی کی تمام سوسائٹیز ختم کر دی جائیں، کے ایم سی والوں نیسب رفاہی زمینیں مرضی سے بیچ کر خوب مال بنایا“۔

جبکہ جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایک چھوٹے سے سرکاری آفس میں بیٹھاافسر یہاں وائس رائے بن جاتا ہے یہی ہمارا المیہ ہے“۔چیف جسٹس نے مرتضیٰ وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”آپ کو تمام پارکس اصل حالت میں بحال کرنا ہونگے اور انکی بحالی کیلئے آپکو کسی عدالتی حکم کی بھی ضرورت نہیں یہ یاد رکھیں کہ ریاست کی زمینیں آپکے پاس امانتیں ہیں“۔ اس ریمارکس پر مرتضیٰ وہاب کا لہجہ تلخ ہوگیا اور انہوں نے عدالت میں کہا کہ”ہم کیا چلے جائیں اور حکومت چھوڑدیں؟ ہر بار اوپن کورٹ میں حکومت سندھ کے خلاف بڑی بڑی آبزرویشن پاس کردی جاتی ہیں“۔ مرتضی وہاب کے جملے سن کر چیف جسٹس گلزار احمد نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ”مسٹر! چپ کریں کیا بات کررہے ہیں سیاست نہیں کریں یہاں، آپ یہاں سیاست کر رہے ہیں؟ جائیں یہاں سے نکل جائیں، ابھی آپ کو فارغ کردیتے ہیں“۔ چیف جسٹس نے جانبدارانہ اور تحکمانہ رویہ اپنانے پر کہاکہ”آپ ایڈمنسٹریٹر ہیں یا سیاسی رہنما؟ ایڈمنسٹریٹر کو شہریوں کی خدمت کیلئے رکھا جاتا ہے تاکہ غیر جانبداری سے کام کرے آپ کو بنیادی معلومات تک نہیں ہیں کہ ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سیاست کیلئے نہیں ہوتا ہے“۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ”بادی النظر میں ایڈمنسٹریٹر اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے، ایڈمنسٹریٹر کا رویہ مکمل طور پر سیاسی ہے شہریوں کی خدمت کا نہیں لہٰذا ہم وزیراعلیٰ سندھ کو غیر جانبدار اور اہل شخص کو ایڈمنسٹریٹر لگانے کا حکم دیتے ہیں کیونکہ مرتضیٰ وہاب ایڈمنسٹریٹر کراچی کیلئے اہل نہیں“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت کی سرزنش پر مرتضیٰ وہاب نے خود بھی محسوس کیاکہ ان سے بڑی قانونی غلطی سرزد ہوگئی ہے، عدالت کے روبرو سخت الفاظ استعمال کرنے پر عدالت سے معافی مانگتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ”میں معافی چاہتا ہوں اپنے رویئے پر معذرت خواہ ہوں“ لیکن اس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دئیے کہ”ہم آپ کو عہدے سے ہٹا چکے اب آپ ایڈمنسٹریٹر نہیں رہے، آپ ریاست نہیں ہو حکومت ہو، دونوں کا فرق پتا ہونا چاہیے، آپ کا عہدے پر رہنا مفادات کا تصادم ہوگا“۔جس پر جواباً ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے استدعا کی فیصلہ واپس لیا جائے۔علاوہ ازیں مرتضیٰ وہاب نے بھی دوبارہ معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پھر معذرت کرتے ہیں۔بعد ازاں چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ”اگر آپ ہمارے سامنے سیاسی ایجنڈا لے کر آتے ہیں تو عام شہریوں کے ساتھ کیا کرتے ہوں گے آپ کا یہ رویہ ذہنی رحجان کی نشاندہی کرتا ہے“۔

بہرکیف عدالت نے اپنی جاری کارروائی میں مختصر وقفہ کر کے مرتضیٰ وہاب کی معافی قبول کرلی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم واپس لے لیا اور آئندہ کے لیئے انہیں خبردار بھی کیا کہ ایسا طریقہ کار ناقابل برداشت ہوگا، نیز چیف جسٹس نے مرتضیٰ وہاب کو ہدایت کی کہ وہ اپنا آفس غیر جانبداری سے چلائیں۔اس واقعہ سے سیاست دانوں کو یہ سبق حاصل ہوتاہے کہ سیاست کا کھوٹا سکہ ہر جگہ اور ہر مقام پر جعل سازی سے نہیں چلایا جاسکتا، خاص طور پر عدالت کے روبرو سیاسی بیان بازی کرنے سے حتی المقدور گریز سے ہی کام لینا چاہئے، وگرنہ تمام تر عزتِ سادات،طویل رخصت پر بھی جاسکتی ہے۔کیا مستقبل قریب میں ہمارے سیاست دان اس واقعہ سے حاصل ہونے والے سبق حرزِ جاں بنا کر رکھیں گے؟۔ سابقہ تاریخ کی روشنی میں جواب ہے کہ ”بالکل بھی نہیں“۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 03 جنوری 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں