ایم کیو ایم روز بنتی ہے ٹوٹ جاتی ہے

کراچی کی سیاست میں کسی بھی چھوٹی یا بڑی سیاسی جماعت کے سیاسی و انتخابی کیمپ پر عوام کی جانب سے پرتشدد حملے ہونا کبھی بھی کوئی بڑی بات نہیں رہی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی،جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے سیاسی و انتخابی کیمپوں پر تو ماضی قریب اور ماضی بعید میں اتنے زیادہ پر تشدد حملے ہوچکے ہیں کہ ہم اُن کا درست شمار بھی نہیں کرسکتے۔لیکن کراچی میں ایم کیو ایم کے سیاسی کیمپ پر عوام کی جانب سے اچانک پرتشدد دھاوا بول دینا اور وہ بھی اُس وقت جب کیمپ میں ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما بھی موجود ہوں۔ یقینا ایک بہت بڑی سیاسی انہونی ہے۔ اَب آپ اِسے کراچی کی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا کہیں یا پھر تیز تپتی ہوئی لو کا تھپیڑاقرار دیں۔بہرکیف ایک بات تو طے ہے کہ کراچی کی سیاست میں حقیقی معنوں میں ایک بہت بڑی جوہری تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔ وگرنہ ایم کیو ایم کے ہوم گراؤنڈ میں ایم کیو ایم ہی مکمل طور پر گراؤنڈ ہونے پر مجبور ہوجائے گی۔ ایسا ایم کیو ایم تو کیا، کبھی اُس کی بڑی سے بڑی مخالف سیاسی جماعت نے بھی خواب و خیال میں نہ سوچا ہوگا۔

مگر وہ کہتے ہیں نا کہ،انہونی ہوکر ہی رہتی ہے اور ہونی کو بھلا کون ٹال سکتاہے۔پس!بانی ایم کیو ایم کے ایک اشارہ ابرو،پر پاکستانی سیاست کو زیر و زبر کرنے والی منظم ترین سیاسی جماعت بھی بالاخر دیکھتے ہی دیکھتے مکافاتِ عمل کا شکار ہوکر آج نشانِ عبرت کی بدترین صورت میں ہم سب کے سامنے ہے۔ بظاہر آج بھی ایم کیو ایم کے پرانے نظریاتی رہنماؤں اور کارکنان کی بھرپور کوشش اور آخری خواہش ہے کہ کسی بھی طریقے سے،کوئی بھی سیاسی اُپائے کر کے ایم کیو ایم کو کراچی کے سیاسی اُفق سے مکمل طور پر نیست و نابود ہونے سے روک لیا جائے۔

لیکن تاریخ اور سیاست کا ادنی سا طالب علم بھی کم ازکم ایک بات تو بخوبی جانتا ہی ہے کہ جب کسی سیاسی تحریک یا سیاسی جماعت میں شکست و ریخت کا خود کار عمل، اُس کے اندر سے ہی شروع ہوجائے تو پھر اِسے مکمل ہونے سے پہلے،درمیان میں کسی بھی صورت روکا نہیں جاسکتا۔ بلکہ جو بھی اس عمل میں رخنہ انداز ہونے کی کوشش کرتاہے،وہ عاقب نااندیش سیاسی شکست و ریخت کے عمل کی رفتار کو سست کرنے کے بجائے،اُلٹا مزید بڑھا دیتا ہے۔ مثال کے طورپر مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے ایم کیو ایم کے سیاسی مردے سے ایک نئی سیاسی جماعت ”پاک سرزمین پارٹی“ کو جنم دینے کی کوشش کی مگر نتیجہ یہ حاصل ہوا کہ دونوں رہنما اپنا پرانا بنابنایا،اچھا خاصا ”سیاسی پندار“ بھی بیچ چوراہے میں توڑوا بیٹھے۔

تازہ ترین شنید یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے سابق کنوینیر جناب فاروق ستار بھی ایم کیو ایم کا ایک نیانکور اوراَپ ڈیٹ،ورژن کراچی کی سیاست میں عن قریب منصہ شہود پر لانے والے ہیں۔ فاروق ستار کے اپنے جاری کرہ سیاسی بیان کے مطابق اُن کی نئی سیاسی جماعت کا نام جو بھی ہو،لیکن اُن کا انتخابی نشان تالا ہوگا اور فی الحال بیٹا ورژن کے تحت فاروق ستار،سربراہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے بطور ایک آزاد اُمیدوار تالے کے انتخابی نشان کے ساتھ این اے 245 کا ضمنی انتخاب بھرپور انداز میں لڑ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ انتخابی نشست معروف کمپیئر عامر لیاقت حسین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔

بادی النظر میں انہوں نے یہ قومی اسمبلی کی نشست 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے انتخابی ٹکٹ پر ہی لڑ کے جیتی تھی،لیکن اِس کے باوجود، مرحوم کو پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی کارکن اِس لیئے نہیں لکھا جاسکتاکہ وہ اپنی حیات کے آخری ایّام میں پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے سیاسی نظریہ سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کرچکے تھے۔ لیکن سردست مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عامر لیاقت حسین مرحوم کو پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی کارکن لکھا جائے یاپھر اُنہیں ایم کیو ایم کو سابق رہنما قرار دیا جائے۔بلکہ یہاں زیادہ ضروری اِس بات کا سراغ لگانا ہے کہ این اے 245 کے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم اور فاروق ستار کے آمنے سامنے آجانے سے کراچی کی سیاست میں ایم کیو ایم مزید کتنا طاقت ور اور مضبوط ہو جائے گی؟۔

دراصل مذکورہ ضمنی انتخاب میں فاروق ستار ”تالے“ کے انتخابی نشان پر انتخاب لڑ ہی اِس لیئے رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کی شکست و ریخت کے عمل کوروک کر اُس کی سیاسی طاقت کو پھر سے بحال کیا جائے۔دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے بھی این اے 245 میں فاروق ستار کو اپنا اُمیدوار صرف اِس لیئے نامز د کرنے سے اجتناب برتا، کہ اُن کے پیش ِ نظر بھی ایم کیو ایم کی بحالی سب سے زیادہ مقدم تھی۔ بہرکیف ہمیں یہاں اِس بات کی داد تو دینا ہی چاہیئے کہ ایم کیو ایم کے سیاسی مستقبل کو محفوظ اور تابناک بنانے کے لیئے دامے، ورمے،سخنے سب کی”سیاسی نیت“ بہت اچھی ہے۔اَب اس اچھی خاصی سیاسی نیت کا نتیجہ اگر بُرا بھی آجا ئے، جس کا کہ واضح امکان ہے تو اِس میں بھلا ایم کیو ایم پاکستان کے حاضر ڈیوٹی رہنماؤں اور سابق رہنما فاروق ستار کا کیا قصور ہوگا۔یعنی این اے 245 کے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کی متوقع شکست کی ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے سابق اور حاضر رہنما بھی ہوں گے۔

اگر خدانخواستہ معجزانہ طور پر سہی یعنی سندھ حکومت کی ”انتظامی جادوگری“ کے بل بوتے پر ایم کیو ایم پاکستان این اے 245 کی نشست کا ”کانٹا“ ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد نکالنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے،تب بھی کراچی کی سیاست میں ایم کیو ایم کی واپسی کی اُمید رکھنا،دیوانے کے پراگندہ و پریشان حال خوا ب جتنا ہی قابل ذکر ہوگا۔ کیونکہ چند دنوں بعد کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ کا آغاز ہوجائے گااور اِس مرحلے کی بابت سیاسی تجزیہ کار بہت پہلے ہی سے پیش گوئی کر چکے ہیں کہ اِس مرتبہ کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کراچی کے ایم کیو ایم سے بھی زیادہ بڑی سیاسی طاقت کے طور پر اُبھرنے کے واضح امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔

سادہ الفاظ میں یوں جان لیجئے کہ سیاسی دھڑے بندی کا شکار ایم کیو ایم کے ایک طرف عمران خان کی روز بروز بڑھتی ہوئی سیاسی مقبولیت کا تیز دھاری”بلا“ہے تو دوسری جانب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم کا انصاف پسند”ترازو“ ہے اور دونوں سے بیک وقت نمٹنے کے لیئے صرف ایک ”ایم کیو ایم“ کی ضرورت ہوگی۔ناکہ اَن گنت اور بھانت بھانت کے سابقے اور لاحقے والی ڈھیر ساری ایم کیو ایم کی۔ کیونکہ جب تک حقیقی،لندن،پاکستان اور پاک سرزمین کے درمیان ایم کیو ایم ”سیاسی جائیدار“ کی مانند تقسیم رہے گی تب تک کراچی کی سیاست میں ایم کیو ایم کی واپسی۔ایں خیال است،محال اَست و جنوں اَست۔
ٹوٹ کر گر چکے ہیں پات بہت
اے خزاں بڑھ گئی ہے بات بہت

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 22 اگست 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں