UK court

عوامی مقبولیت بھی پل بھر کا تماشا ہے

صرف 6 برس قبل کا واقعہ ہے کہ صوبہ سندھ کی دوسری اور کراچی کی سب سے بڑی سیاسی و عوامی جماعت ایم کیوایم میں سیاہ و سفید کی مالک تنہا بانی متحدہ کی ذات بابرکات ہواکرتی تھی، لیکن پھر اچانک ایک روز، 22اگست 2016 کی متنازع تقریر کے بعد چشم فلک نے ایم کیوایم کے سیاسی اُفق پر وہ جمہوری صبح طلوع ہوتے ہوئے بھی دیکھی کہ جب ایم کیو ایم کے چند سرکردہ رہنماؤں نے مکھن میں سے بال کی طرح بانی متحدہ کو پارٹی قیادت سے علحیدہ کر کے ایک طرف رکھ دیا۔ ایم کیوایم جس کے بارے میں کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتھا وہ بانی متحدہ کی زندگی میں اُن کی قیادت کے بغیر ایک دن بھی اپنا سیاسی وجود قائم رکھ سکے گی۔ آج وہ ہی سیاسی جماعت پاکستانی سیاست میں نہ صرف قائم و دائم ہے۔ بلکہ اَب ایم کیو ایم اِس نازک مقام تک آپہنچی ہے کہ ایم کیوا یم کی لندن میں سات مہنگی ترین جائیدادوں کے حصول کی جنگ کسی اور کے خلاف نہیں بلکہ بانی متحدہ کے خلاف لڑنے کے لیئے،ایم کیو ایم کے تمام سرکردہ رہنما خم ٹھونک کر لندن ہائی کورٹ میں آکھڑے ہوئے ہیں۔یقینا حالیہ سیاست میں یہ مکافات ِ عمل کی وہ عبرت ناک مثال ہے، جسے بانی متحدہ کے علاوہ شاید ہی کسی دوسرے سیاسی رہنما نے اپنی زندگی میں بھگتایا ہوگا۔

واضح رہے کہ بانی متحدہ کی رہائش گاہ سمیت 7 جائیدادیں،جن میں اوّل،مل ہل میں ایبی ویو جہاں بانی متحدہ رہائش پذیر ہیں، دوم، ایج ویئر میں 1 ہائی ویو گارڈن جو کرایے پر ہے،سوم، ایج ویئر میں 5 ہائی ویو گارڈنزہے۔چہارم، ایج ویئر میں 185 وِچ چرچ لین جو ابھی بھی ایم کیو ایم لندن کے زیرِ استعمال ہے۔ پنجم،ایج ویئر میں 221 وِچ چرچ لین ہے۔ششم،، مل ہل میں 53 بروک فیلڈ ایونیو ہے (جسے ماضی میں بانی متحدہ اور طارق میر نے فروخت کردیا تھا، اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھی اس دعوے میں مانگی گئی ہے) اور ہفتم، ایج ویئر میں پہلی منزل کا الزبتھ ہاؤس جسے کبھی ایم کیو ایم کا پرشکوہ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا کرتاتھا۔بانی متحدہ سے واگزار کروانے کے لیئے لند ن کی عدالت میں مقدمہ زیرسماعت ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ بانی متحدہ کے سب سے قریبی اور مخلص ترین سمجھے جانے والے نظریاتی ساتھی امین الحق، ندیم نصرت، طارق میر باہم مل جل کر اپنے مربی و رہنما بانی متحدہ کے خلاف قانونی جنگ چھیڑ چکے ہیں۔ جبکہ فاروق ستار اور وسیم اختر پاکستان سے ویڈیو لنک کے ذریعے بانی متحدہ کے خلاف اپنے ساتھیوں یعنی دعوی داروں کو دامے،ورمے،سخنے بھرپور معاونت فراہم کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ شمالی لند ن کے مہنگے ترین علاقوں میں واقع ایم کیو ایم پراپرٹیز کے حصول کے لیئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی امین الحق نے لندن کی عدالت میں مقدمہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ”ایم کیو ایم کی تمام پراپرٹیز پر سب سے پہلا حق غریبوں کا ہے اور اِن پراپرٹیز سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی غریب اور ناداروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے بروئے کار لانی چاہیے تھی۔ چونکہ ایم کیوایم لندن نے پراپرٹیز سے حاصل ہونے والی آمدن سے غربا کی امدا نہ کرکے پارٹی منشور کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ لہٰذا،ہم نے لندن کی عدالت سے ایم کیو ایم کی پراپرٹیز کے غلط استعمال سے روکنے کی درخواست کی ہے“۔

دوسری جانب بانی متحدہ کے قریبی ذرائع کا لندن کی عدالت میں زیرسماعت مقدمہ کے متعلق یہ کہنا ہے کہ”جب لندن میں ایم کیو ایم کی پراپرٹیز خریدی گئیں تھیں تو اس وقت ایم کیو ایم پاکستان کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی ایم کیو ایم پاکستان نے ان پراپرٹیز کو آج تک کبھی اپنے اثاثہ جات کے طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ظاہر کیا ہے“۔یعنی سادہ الفاظ میں بانی متحدہ کے حالیہ قریبی ذرائع سمجھتے ہیں کہ ماضی میں بانی متحدہ کے قریب ترین ساتھی خیال کیئے جانے والے افراد بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے قانونی فائدہ اُٹھاتے ہوئے، بانی متحدہ کو اُن کی زندگی بھر کی جمع پونچی یعنی ایم کیو ایم کی جائیدادوں کو ہتھیانا چاہتے ہیں۔ یہ تو بالکل وہی صورت حال ہوگئی، جو چند برس قبل کراچی میں بانی متحدہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ روا رکھنے کا حکم شاہی دیا کرتے تھے۔ یقینا آج بانی متحدہ بھی اُسی دکھ اور کرب سے گزر رہے ہوں گے۔ جن سے کبھی وہ افراد گزرے ہوں گے، جن کی زمین،جائیداد چائنا کٹنگ کے نام پر زبردستی ہتھیالی گئی تھی۔

ہماری ناقص رائے میں بانی متحدہ کے خلاف لند ن کی عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کا عن قریب دو میں سے کوئی ایک نتیجہ لازمی اور بہر صورت نکلے گا۔ امکانی طور پر مقدمہ کا ایک ممکنہ فیصلہ یہ آسکتاہے کہ بانی متحدہ کے قریبی ساتھی عدالت میں اپنا دعویٰ ثابت نہ کرپائیں، تو اس صورت میں ایم کیو ایم کی تمام پراپرٹیز بانی متحدہ کے زیر تصرف ہی رہیں گی اور وہ اُن کے سہارے باآسانی اپنے ناکام زیست کے آخری ایّام گزار سکیں گے۔ لیکن خلاف ِ توقع مقدمہ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد دوسرا نتیجہ یہ بھی نکل سکتاہے کہ بانی متحدہ عدالت کو مطمئن نہ کرپائیں اور یوں فیصلہ یکسر اُن کے خلاف آجائے۔ اس صورت احوال میں ایم کیو ایم کی لندن میں موجود تمام پراپر ٹیز بشمول بانی متحدہ کی رہائش گاہ کے فوری طور پر اُن کے قریبی ساتھیوں یا پھر ایم کیوا یم پاکستان کو منتقل ہو جائیں گی۔لندن کی عدالت سے مقدمہ کا یہ نتیجہ ہر طرح سے بانی متحد ہ کے لیئے سراسر ناقابل قبول ہی نہیں بلکہ ناقابل برداشت بھی ہوگا۔ کیونکہ اس طرح کا فیصلہ آجانے کے بعد بانی متحدہ سر چھپانے کے لیئے ذاتی چھت کے سایہ سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محروم ہوجائیں گے۔

بانی متحدہ کی زندگی ایسے تمام پاکستانی سیاست دانوں کے لیئے نشان عبرت ہے، جو عوامی مقبولیت کے نشے میں چور ہوکر ریاست پاکستان کو للکارنا شروع کردیتے ہیں۔ یاد رہے کہ کبھی بانی متحدہ کا سیاسی دامن بھی فقید المثال عوامی حمایت سے لبا لب بھرا ہوا تھا، لیکن جب انہوں نے اپنے ذرا سے سیاسی مفاد کے لئے عوام کو ریاست پاکستان کے خلاف اُکسانا چاہا تو وہ عوامی تائید سے مکمل طور پر تہی دامن ہوگئے۔ آج بانی متحدہ کے ساتھ نہ تو عوام ہیں، نہ اُن کے قریبی ساتھی کھڑے ہیں۔بقول بشیر بدر
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
جس ڈال پر بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 05 دسمبر 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں