ITI Train Islamabad Tehran and Istanbul

پاکستانی ریل گاڑی ۔ ۔ ۔ اور آگے ہے دنیا ساری

سچ تو یہ ہے کہ ریل گاڑی، انجن اوردرجن بھر ڈبے اپنے ہمراہ لے کر چلنے والی جدید دنیا کی ایک عام سی سواری سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے۔مگر یہ بات شاید وہ عاقبت نااندیش افراد سمجھ ہی نہیں سکتے،جن کے نزدیک ریل گاڑی ہمیشہ سے فقط ایک سستی اور عوامی سواری سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں رہی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ ایسے ہی افراد کے ”دستِ انتقام“ میں جب ریل گاڑی کی انتظامی باگ تھمادی جاتی ہے تو پھر وہ ہی حال ہوتا جو اس وقت پاکستان ریلوے کا ہو چکا ہے۔ یعنی ریل گاڑی پٹر ی پر چلتی کم ہے اور پٹری سے اُترتی زیادہ ہے۔پاکستان میں ریل گاڑی کو محفوظ ترین سواری سے ایک پُر خطر سواری بنانے میں سب سے زیادہ کردار اُن وزیروں کا رہا ہے،جن کی وجہ شہرت ایک ”ٹرانسپورٹر“ کی تھی لیکن نیرنگی سیاست ِ دوراں نے انہیں کسی ”سیاسی حادثہ“ میں وزارت ریلوے عطا کردی تھی۔خاص طور پر غلام احمد بلور نے تو وزیر ریلوے کے منصب پر فائز ہوکر ریل گاڑی کی خواب ناک سواری کو خوف ناک سواری بنانے میں اپنی طرف سے کوئی کسر ہی نہ اُٹھا رکھی تھی۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: ریل گاڑی کو چلاؤ شیخ جی! ذرا ہلکے ہلکے

وہ تو عین دمِ آخری، ریل گاڑی کے سفر سے عشق کرنے والے چند نیک لوگوں کی دعائیں قبول ہوئیں اور قسمت نے ریل گاڑی پر ایسی یاوری کی کہ غلام احمد بلور انتخابات میں شکست کھاکر اپنے گھر کے ہو رہے اور پاکستان ریلوے نزاعی حالت میں ہی سہی،بہرکیف خواجہ سعد رفیق کی”انتظامی پناہ“میں آگئی۔ آپ خواجہ سعد رفیق کی سیاست سے لاکھ اختلاف کریں مگر آج پاکستان میں جو ریل گاڑی پٹری پر چلتی نظر آرہی ہے۔ بلاشبہ وہ انہی کی شبانہ روز محنت کی ہی مرہون منت ہے۔ویسے تو حال ہی میں وزارتِ ریلوے سے سبکدوش ہونے والے وزیر جنا ب شیخ رشید نے بھی ریل گاڑی کو پٹری پر ”سبک رفتار“ رکھنے کی بھرپور کوشش کی،مگر موصوف اپنی فطری عجلت پسندی میں مسافر بردار 100 ریل گاڑیاں ایک ہی وقت میں چلانے کے جنون میں ایسا مبتلاء ہوئے کہ وہ بھول ہی گئے کہ مسافر بردار ریل گاڑی نہیں بلکہ مال بردار ریل گاڑی کما کردیتی ہے۔ شیخ جی! نے مسافرریل گاڑی تو جو ق در جوق خوب چلائیں، مگر مال بردار ریل گاڑیوں کو پٹری پر رواں دواں رکھنے میں وہ اُتنا کامیاب نہ ہوسکے جیسا کہ اُن سے توقع کی جارہی تھی۔ خاص طور پراُن کے دورِ وزارت میں آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کا مسلسل ایک سال تک معطل رہنا ایک ایسی قومی نقصان ہے، جس کی تلافی کرنے میں شاید برسوں لگیں۔

واضح رہے کہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس سے مراد وہ ریل سروس ہے جو اسلام آباد،تہران اور استنبول کے مابین 2009 میں شروع کی گئی تھی۔ آئی ٹی آئی، اصل میں اسلام آباد، تہران اور استنبول کا مخفف ہے۔ یعنی آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس سے پاکستان،ایران اور ترکی کے درمیان بذریعہ ریل گاڑی، تجارتی روابط استوار ہوسکتے ہیں۔جبکہ اس ہی مال بردار ٹرین سروس نے مستقبل قریب میں چین اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں تک بھی پہنچنا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان ریلوے کے نئے وزیر باتدبیرجناب اعظم سواتی نے اپنی وزارت کا حلف اُٹھانے کے بعد سب سے پہلی جو خوش کن خبر سنائی ہے وہ یہ ہی ہے کہ پاکستان، ترکی اور ایران نے اسلام آباد سے تہران اور پھر استنبول تک ایک بار پھر سے آئی ٹی آئی کنٹینر ریل سروس بحال کرنے پر کامل اتفاق کر لیا ہے۔جس کے بعد اس بین الاقوامی ریل سروس کے 2021 کی پہلی سہ ماہی میں باقاعدگی کے ساتھ چلنے کے امکانات انتہائی روشن ہوگئے ہیں۔ اچھی طرح سے ذہن نشین رہے کہ پاکستان اور ترکی کے مابین ریل گاڑی چلانے کی اولین کوشش 1960 میں کی گئی تھی،اُس وقت اِس ٹرین سروس کو ”آر سی ڈی ٹرین“ کا نام دیا گیا تھا،مگر بدقسمتی سے کچھ ترکی میں اچانک سے پیدا ہونے بحرانی سیاسی حالات اور کچھ بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگی محاذ آرائی نے اس عظیم الشان منصوبے کو کھٹائی میں ڈال دیا۔

اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے دوسری کوشش 1985 میں اُس وقت کی گئی جب پاکستان اور ترکی کے مابین اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کا قیام عمل میں آیا۔ ای سی او تنظیم کے تحت اس ٹرین سروس کا نام ”ای سی او ٹرین“رکھ دیا گیا۔مگر نام کی تبدیلی اور ای سی او اتحاد،دونوں مل کر بھی بین الاقوامی ریل گاڑی کاغذی منصوبے کو عملی منصوبے میں بدل نہ سکے۔ بالآخر 2009 میں پاکستان کے سابق صدر جناب آصف علی زرداری،ایران کے صدر احمد ی نژاد اور ترکی کے صدر عبداللہ گل کی باہمی دلچسپی نے ماضی کے اس عظیم الشان منصوبے کو ”گولڈ ٹرین سروس“ کے نام سے پٹری پر چڑھا ہی دیا گیا اور یوں اسلام آباد،ایران اور ترکی کے درمیان رُک،رُک کر ہی سہی بہرحال مال بردار ریل گاڑی چلنے لگی۔

2009 میں شروع ہونے والی ”گولڈ ٹرین سروس“ میں سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ طے کیئے گئے روٹ کے مطابق یہ مال بردار یل گاڑی اسلام آباد سے لاہور اور سکھر کے راستے سے گزرتی ہوئی کوئٹہ پہنچی تھی۔جہاں سے آگے یہ ریل گاڑی بلوچستا ن کے سرحدی شہر تفتان سے ہوتی ہوئی ایرانی کے سرحدی شہر زاہدان تک پہنچ کر رُک جاتی تھی اور یہاں پاکستانی ریل گاڑی کا سفر اختتام پذیر ہوجاتا تھا۔کیونکہ زاہدان سے استنبول تک جو ریل کی پٹری بچھی ہوئی ہے،وہ جدید اور یورپین ساختہ ہے۔لہٰذا اس پٹری پر پاکستانی ریل گاڑی چل ہی نہیں سکتی تھی۔پس،اس لیے زاہدان کے مقام پر ایرانی حکام پاکستانی ٹرین سے تجارتی سامان اُتار کر اپنی ریل گاڑی میں منتقل کر دیتے تھے، پھرایرانی ریل گاڑی وہاں سے استنبول تک کا سفر کرتی تھی۔تاہم گزشتہ برس یہ طے پایا کہ پاکستان اپنے ریلوے نظام کو بھی اَپ گریڈ کرے گا۔پاکستان ریلوے کی فوری اور جدید ترین اَپ گریڈیشن کے لیئے چین نے پاکستان ریلوے کے لیئے ایم ایل ون منصوبہ متعارف کروا کر اسے سی پیک کا لازمی جز بنادیا۔ایم ایل ون منصوبہ کے مکمل ہونے کے بعد پاکستانی ریل گاڑی صرف استنبول تک ہی نہیں بلکہ کہیں آگے تک بھی سفر کرنے کے قابل ہوجائے گی۔یاد رہے کہ سی پیک میں شمولیت کے بعد اس عظیم الشان منصوبے کا نام اَب ”آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین“ رکھ دیا گیا ہے۔

لیکن آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کو ایک بین الاقوامی مال بردار ریل گاڑی میں تبدیل کرنے کے لیئے از حد ضروری ہے کہ پاکستان ریلوے کی بحالی کے لیئے شروع کیئے گئے چین اور پاکستان کا مشترکہ ایم ایل ون منصوبہ جلدازجلد مکمل کرلیاجائے۔کیونکہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کی کامیابی کے لیئے رفتار سب سے فیصلہ کن کردار کی حامل ہوگی۔ خدانخواستہ اگر یہ ٹرین سمندری جہاز کے مقابلے میں اپنی منزل مقصور پر قدرے تاخیر سے پہنچتی ہے تو پھر اس منصوبہ کی تما م تر افادیت ختم ہوکر رہ جائے گی۔ یا د رہے کہ ایک سمندری جہاز کو پاکستان سے استنبول تک پہنچنے میں کم و بیش 22 سے 24 دن لگ جاتے ہیں۔ مگر آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین یہ فاصلہ 7 سے 10 ایام میں مکمل کرسکتی ہے،لیکن تب،جب یہ مال بردار ریل گاڑی اپنی اُسی رفتار سے سفر کرے جو اس کے لیئے مقرر کی گئی ہے اور مقررہ رفتار میں آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین چلانے کے لیئے پاکستان ریلوے میں تیکنیکی نوعیت کی انقلابی تبدیلیاں کرنے کی شدید ضرور ت ہے۔

پاکستان ریلوے کے نئے نویلے وزیر جناب اعظم سواتی کے لیئے یہ ہی سب بڑا چیلنج ہوگا کہ آیا وہ ایم ایل ون منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرواپاتے ہیں یا نہیں؟۔نیز یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کی راہ میں حائل دیگر تیکنیکی اور انتظامی رکاؤٹوں کو کس طرح سے دُور کرتے ہیں؟۔کیونکہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کو چلانا مسئلہ نہیں ہے بلکہ تیزرفتار ی کے ساتھ چلانا ایک بڑا چیلنج ضرور ہوگا۔ اگرپاکستان یہ ہدف حاصل میں کامیاب ہوجاتاہے تو پھر یقینی سی بات ہے کہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کا دائرہ سفر فقط ترکی اور ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ کیونکہ ون روڈ،ون بیلٹ منصوبے کے تناظر میں اس مال بردار ریل گاڑی نے گوادر سے گزرتے ہوئے افغانستان،روس، یورپ اور وسطی ایشیائی ممالک تک بھی جانا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی آبادی، حجاز مقدس کی بربادی

دوسری جانب آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کے ذریعے تجارتی مال درآمد اور برآمد کرنے کے اخراجات سمندر ی جہاز کے مقابلے میں انتہائی ارزاں ہوں گے جبکہ قلیل مدت میں سامان یورپ کی تجارتی منڈیوں تک بھی باآسانی پہنچایا جاسکے گا۔ یورپی ممالک،پاکستان سے اپنی چاول،چمڑا،یوریا کھاد اور اسکریپ وغیرہ کی ضروریات پوری کرسکیں گے جبکہ پاکستان یورپی ممالک سے سینیٹری اشیا، ٹائلز اور ہارڈویئرز کا سستا سامان منگوا کر اپنا قیمتی زرِ مبادلہ بچا سکے گا۔ دراصل آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کو مستقبل میں پوری دنیا کے لیئے نقل و حمل کا ایک زبردست تجارتی منصوبہ قرار دیا جاسکتاہے۔جبکہ یہ عظیم الشان ریل منصوبہ پاکستان کو بین الاقوامی تجارت کا مرکز بھی بنادینے کی بھی پوری طرح سے قدرت رکھتاہے۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کو پٹری پر ڈالنے میں پاکستان ریلوے کتنی عجلت اور انتظامی دانش مندی کا مظاہر ہ کرتاہے؟۔بقول شاعر
کون کتنا ضبط کرسکتاہے،پتا چل جائے گا
ریل جب چلنے لگے گی،فیصلہ ہوجائے گا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں