غزہ کے آنسو۔ ۔ ۔!

اسرائیلی جارحیت کے باعث فلسطینی سر زمین ایک بار پھر سے لہولہان ہے۔جبکہ فلسطینی نوجوانوں کی سربریدہ لاشوں اور باحیا فلسطینی خواتین کی فلک شگاف آہ و بکا پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی ایک سلگتا ہوا تازیانہ بن کر اُمت مسلمہ کے جسدِ واحدہ پر برس رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ جب فلسطینی عوام اسرائیلی جارحیت اور بربریت کا نشانہ بنے ہوں بلکہ اس سے پہلے بھی وقتا فوقتا فلسطینی اپنی ہی سرزمین پر اسرائیل کے ظلم وستم کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔رواں ہفتہ فلسطین پر اسرائیلی ظلم و ستم کا آغاز اس وقت ہوا جب غزہ کے جبالیہ مہاجر کیمپ پر اسرائیل فضائیہ کی بمباری میں 3 کمسن بچوں سمیت 5 بے گناہ فلسطینی شہید ہوگئے، دو روز تک مسلسل جاری رہنے والے اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں اَب تک فلسطین کی وزارتِ صحت کے مطابق 24 افراد ہلاک اور 200 سے زائدافراد زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں چھ بچے اور اسلامک جہاد کے سربراہ تیسیر الجعبری سمیت دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ کے حملوں سے غزہ کی محصور پٹی میں نظام زندگی مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے۔نیزغزہ میں بجلی فراہم کرنے اور بجلی کی پیداوار کا واحد اسٹیشن بند کردیا گیا ہے۔کیونکہ سرحد پار سے ایندھن کی ترسیل معطل کئے جانے کے بعد مذکورہ ادارے کو تیل کے بحران کا سامنا ہے جبکہ اسرائیل نے سرحدی راہداریاں بھی بند کردی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ”اِس وقت غزہ شدید انسانی المیہ سے دوچار ہے اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث ہمارے اسپتالوں میں اہم سروسز بھی معطل ہوچکی ہیں“۔یعنی اسرائیلی فضائیہ کی بمباری سے زخمی فلسطینی عوام ابتدائی طبی امداد اور علاج معالجہ کی سہولیات سے بھی مکمل طور پر محروم کردی گئی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے حالیہ آپریشن کو’’بریکنگ ڈان“ کا نام دیا ہے۔یاد رہے کہ ”بریکنگ ڈان“ کے اِس نام نہاد آپریشن کے تحت فضائی حملوں کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں میں اب تک مبینہ طور پر اسلامک جہاد کے لگ بھگ 19 اراکین کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔مذکورہ کارروائی پر اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ”اُن کے ملک نے دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر آپریشن کیا ہے، جس میں اہداف کا باریک بینی سے تعاقب کیا جارہاہے“۔ جبکہ اسرائیلی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ’’ہمیں نہیں معلوم یہ بات کہاں تک جائے گی۔۔۔ مگر اس میں وقت لگ سکتا ہے اور یہ (آپریشن) بہت مشکل اور بہت طویل بھی ہوسکتا ہے“۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے اپنے کمانڈر تیسیر الجعبری اور کم سن فلسطینی بچوں اور بے گناہ فلسطینی عوام کی موت کا بدلہ لینے کا عزم کا اظہار کرتے ہوئے اپنی جوابی کارروائی میں اسرائیل پر ساڑھے تین سو سے زائد راکٹ داغے ہیں۔جن سے اسرائیل میں کوئی بڑا جانی و مالی نقصان تو نہیں ہوا مگر اسرائیلی آباد ی میں خوف وہراس ضرور پھیل گیاہے۔خاص طور پر حماس کی جانب سے جاری کردہ اِس بیان کے بعد کہ”اسرائیل کو اپنے نئے جرم کی قیمت بہت جلد چکانی پڑے گی“۔جبکہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مذکورہ واقعہ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا“۔ واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ سے اب تک اسرائیل امریکی بیرونی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔یو ایس ایڈ کے مطابق 2019 میں اسرائیل افغانستان کے بعد سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والا ملک تھا۔

المیہ ملاحظہ ہو کہ گذشتہ چند برس میں امریکی امداد نے اسرائیل کو دنیا کی سب سے ترقی یافتہ افواج کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے اور امریکی امداد کے باعث وہ امریکہ سے جدید ترین فوجی ساز و سامان خرید سکتا ہے۔مثال کے طور پر اسرائیل نے 50 ایف 35 لڑاکا طیارے خریدے ہیں جو میزائل حملوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے 27 طیارے اسرائیل کو پہنچا دیے گئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی لاگت دس کروڑ ڈالر ہے۔نیز اسرائیل نے امریکا سے آٹھ کے سی 46 اے بوئینگ پیگاسس طیارے بھی خریدے جن کی لاگت اندازاً 2.4 ارب ڈالر تھی۔

یہ طیارے ایف 35 جیسے لڑاکا طیاروں کو فضا میں ہی ایندھن دوبارہ فراہم کر سکتے ہیں۔جبکہ 2020 میں اسرائیل کو دیے گئے 3.8 ارب ڈالر میں سے 50 کروڑ ڈالر میزائل ڈیفینس کے لیے دیے گئے تھے۔جس میں اسرائیل کے آئرن ڈوم نظام اور دیگر سسٹم شامل ہیں جو اسرائیل پر فائر کیے گئے راکٹس کو فضا میں ہی روک دیتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ 2011 سے لے کر اب تک امریکہ نے آئرن ڈوم دفاعی نظام کے لیے 1.6 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔جبکہ اس کے علاوہ بھی اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ عسکری ٹیکنالوجی پر مل کر کام کرتے ہوئے کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں جس میں اسرائیل میں غیر قانونی داخلے کے لیے زیرِ زمین سرنگوں کا سراغ لگانے والی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع نیا نہیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔پہلی جنگ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے فلسطینی خطے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس وقت یہاں پر ایک عرب اکثریت میں جبکہ یہودی اقلیت میں تھے۔دونوں اقوام میں کشیدگی اس وقت بڑھنے لگی۔ جب عالمی برادری نے برطانیہ کی ذمہ داری لگائی کہ وہ یہودی کمیونٹی کے لیے فلسطین میں ’’قومی ریاست“ کی قانونی تشکیل کرے۔ یہودیوں کے نزدیک یہ ان کا آبائی گھر تھا مگر یہاں اکثریت میں آباد فلسطینی عربوں نے اس اقدام کی سختی کے ساتھ مخالفت کی۔

بہرکیف، فلسطینیوں کی شدید ترین مخالفت اور احتجاج کے باوجود برطانیہ نے یہودیوں کی فلسطین میں زبردست آبادکاری کی۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ 1920کی دہائی سے لے کر 1940 کی دہائی کے دوران یہاں آنے واے یہودیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ جن میں سے کچھ دوسری جنگِ عظیم میں یورپ سے ہولوکاسٹ سے بچ کر آئے تھے۔ 1947 میں اقوام متحدہ نے ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کیا کہ فلسطین کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے جن میں ایک یہودی ریاست ہو اور ایک عرب ریاست جبکہ یروشلم (بیت المقدس) ایک بین الاقوامی شہر ہو گا۔اس تجویز کو یہودی رہنماؤں نے تو تسلیم کر لیا جبکہ عربوں نے بکثرت رائے سے مسترد کر دیا اوریوں اقوام متحدہ کی اِس قرارداد پر عملدرآمد نہیں ہوسکااور 1948 میں برطانوی حکمران یہ مسئلہ حل کیے بغیر ہی یہ خطہ چھوڑ کر چلے گیے۔

برطانوی حکمرانوں کے جانے کے فوراً بعد یہودی رہنماؤں نے سرزمین فلسطین پر”اسرائیلی ریاست“کے قیام کا اعلان کر دیا۔ فلسطینیوں نے جس کی بھرپور انداز میں مخالفت کی اور پھر بعدازاں فلسطینی اور یہودیوں کے درمیان اِس تنازع پر باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔ ہمسایہ عرب ممالک کی فوجوں نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا اور فلسطینیوں کی بھرپور پشت پناہی کی۔مگراِس جنگ کا فاتح اسرائیل رہا اور جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو اسرائیل نے زیادہ تر خطے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔کچھ عرصہ بعد 1967 میں ایک اور جنگ میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اور غربِ اردن کے ساتھ ساتھ شام میں گولان کی پہاڑیوں، غزہ کی پٹی اور مصر میں آبنائے سینا پر بھی قبضہ کر لیا۔جس کے بعد یہاں آباد زیادہ تر فلسطینی، پناہ گزین بنادیئے گئے۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ جن فلسطینیوں کو یہودیوں نے ارضِ مقدس سے بہ زور طاقت بے دخل کیا تھا،آج کل،اُن کی آنے والی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد ہی غزہ کی پٹی اور غربِ اردن میں رہتے ہیں۔ تب سے لے کر آج تک نہ پناہ گزینوں کو اور نہ ہی ان کی نسلوں کو اسرائیل نے واپس اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ان کے ملک کے لیے بہت بھاری ثابت ہو گا اور ان کی ریاست کو بطور ایک یہودی ریاست خطرہ ہو گا۔

دراصل اسرائیل پورے بیت المقدس کو اپنا دارالخلافہ مانتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔ امریکہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو اسرائیلی دعوے کو تسلیم کرتا ہے۔گذشتہ 50 سالوں میں اسرائیل نے یہاں آبادیاں بنا لی ہیں،جہاں کم ازکم چھ لاکھ یہودی رہتے ہیں۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی یہ آبادیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہے اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں جبکہ اسرائیل،فلسطینیوں کے اِس مطالبہ کو مسترد کرتا ہے۔

سب سے زیادہ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ حالیہ سرائیلی جارحیت پر عرب دنیا کا کردار خاصا افسوسناک ہے۔عرب مسلمان حکمرانوں کی خاموشی نے باقی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فلسطین کے معاملے پر ان کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔ ان حکمرانوں سے اچھے تو یورپ اور امریکا کے وہ باشعور عوام ہیں جو اِس ظلم کے خلاف کم ازکم سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کے حق میں کچھ نہ کچھ صدائے ہمدردی تو بلند کر رہے ہیں۔جبکہ اسلامی تنظیمیں اور عرب لیگ محض مذمتی قرار داوں کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدام نہ کر سکی۔

بہرحال مسئلہ فلسطین پر ہمیشہ سے پاکستان کا کردار قابل ذکر اور لائق تحسین رہا ہے۔لیکن کیا فقط ایک مسلم ملک پاکستان کی حمایت سے فلسطینی عوام اپنا حق خود ارادیت حاصل کرسکتے ہیں؟۔یقینا اِس سوال کا جواب نفی میں ہی ہوگا۔کیونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسرائیل کی فلسطینی سرزمین پر بار بار کی جارحیت کو روکنے کے لیے تمام امت مسلمہ کے حکمرانوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ خاص طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان،جناب شہباز شریف او آئی سی یعنی اسلامی سراہ کانفرنس تنظیم کے پلیٹ فارم بروئے کار لاکر تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو مسئلہ فلسطین کے معاملے پر یکجا اور متحرک کرے۔ تاکہ اُمت مسلمہ کے بے حس حکمران مشترکہ طور پر اسرائیلی جبرواستبداد کے مقابلہ کرنے کے لیئے کوئی حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔ آخر!کب تک یہ فلسطینی اپنی بقا کی جنگ اکیلے لڑتے رہیں گے؟۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 11 اگست 2022 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں