ایران اور سعودی عرب کے مابین سفارتی تعلقات بحال

اگر آج مسلم دنیا ایک جسدِ واحد کے بجائے چھوٹے چھوٹے ریاستی ٹکڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے تو اِس کا بنیادی سبب ایران اور سعود ی عرب کے درمیان پائی جانے والی صدیوں پرانی آپسی رقابت اور مخاصمت ہے۔ بدقسمتی سے دونوں ممالک کی سیاسی پرخاش کی کوئی ایک معین وجہ نہیں ہے بلکہ ایران اور سعودی عرب کے مابین پائے جانے والے دیرینہ تنازعہ کی نوعیت کثیر الجہتی ہے۔ یعنی سیاسی، تہذیبی، مذہبی،معاشی اور سفارتی سمیت غرض کوئی ایک بھی ایسا میدان نہیں ہے،جہاں اِن ممالک کی قیادت ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار نہ رہی ہو۔ بظاہر مسلم دنیا کے کئی ممالک کی طرف سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان برسوں پرانی اِس مخاصمت اور تنازعہ کو ختم کرنے کی کئی بار سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کی گئیں۔ مگر ہر کوشش ناکام نہ مراد ہی ٹہری۔یاد رہے کہ ایران میں اچانک سے بپا ہونے والے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد جس طرح سے مغربی ممالک نے ایران پر اقتصادی و سیاسی پابندیاں لگا کر اُسے عالمی سفارتی تنہائی کا شکار کیا تھا۔ اُس کے بعد بعض اسلامی مفکرین کو یہ موہوم سی اُمید ہوچلی تھی کہ عین ممکن ہے کہ عالمی تنہائی کا شکار ہونے کے بعد نئی ایرانی قیادت سعودی عرب کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوئی نہ کوئی سعی ضرور کرے گی۔

مگر افسوس! سیاسی اور اقتصادی طور پر انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بھی ایران نے سعودی عرب کے خلاف اپنے مخاصمانہ خیالات میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ بلکہ ایران میں اسلامی انقلاب کے ظہور کے بعد مسندِ اقتدار پر براجمان ہونے والی ایرانی قیادت پہلے سے بھی زیادہ مخاصمانہ قوت کے ساتھ سعودی عرب کے خلاف پراکسی وار پر کمر بستہ ہوگئی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اصل جھگڑا عرب اور عجم کاہے اور اسی جھگڑے یا تفریق کو ختم کرنے کے لئے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا تھا ”کسی عرب کو عجمی پر یا کسی عجمی کو عرب پر برتری نہیں ہے“۔ مگر اس پیغمبرانہ نصیحت اور حکم کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت عرب اور عجم کے خانوں میں تقسیم ہوتی رہی۔ ایران کو عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب میں شیعہ مسلک پر عمل پیرا مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کی شکایت رہی ہیں۔جبکہ سعودی عرب کو بھی کچھ ایسی ہی شکایات ایران میں آباد سنی مسلمانوں کے بارے میں ہمیشہ سے رہی ہیں کہ ایران میں سنی مسلک کو ماننے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتاجاتا ہے۔جبکہ بعض عرب دانشور وں اور رہنماؤں کی جانب سے تواتر کے ساتھ ایرانی قیادت پریہ بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ایران میں سرکاری سرپرستی میں سنی مسلمانوں کو شیعہ بنانے کے لئے خفیہ تحریکات بھی چلائی جاتی ہیں۔

دوسری جانب مغربی ممالک نے سعودی عرب اور ایران کے مابین پائی جانے والی مذہبی اور تہذیبی کشیدگی کا بھرپور سیاسی اور معاشی فائدہ اُٹھایا اور مغربی ذرائع ابلاغ نے اِس کشیدگی کو مزید بڑھانے کے لیئے پوری چابک دستی کے ساتھ آگ پر پٹرول چھڑکنے کا کام کیا۔ اس وقت صیہونی ذہنیت کے حامل مغربی لابی عالم اسلام کو منتشر کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال کررہی ہیں تاکہ ان کے تیل اور گیس کے ذخائر پر بھی قبضہ ہوجائے اور آپس میں ایک دوسرے کو لڑانے کے لئے اپنے اپنے ہتھیاروں کی اچھی قیمت فروخت کے ذرائع بھی پیدا کرلئے جائیں۔اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے مغربی ممالک نے ایران اور سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دیگر مسلم ممالک میں بھی شیعہ سنی فسادات کروانے کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے ضائع جانے نہیں دیا۔کیونکہ مغرب جانتاہے کہ شیعہ سنی فسات کسی بھی مسلم ملک میں ہوں،اُس کا براہ راست اثر سعودی عرب اور ایران کے خلاف تعلقات پر پڑتاہے۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے قریب آنے کے بجائے مزید دُور ہوجاتے ہیں۔ مسلم دنیا کے لیئے یہ ایک صورت حال تھی، جس کا اُن کے پاس کوئی حل نہیں تھا۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کسی مسلم ملک نے خوشی فہمی کا شکار ہوکر سعودی عرب اور ایران کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے ثالثی کی پیشکش کی تو اُس ملک اپنے تعلقات ایران اور سعودی عرب کے ساتھ کشیدہ سے کشیدہ تر ہوگئے۔

یادش بخیر! جو مشکل ترین اور ناممکن دکھائی دینا والا کام پوری مسلم اُمہ کی سیاسی قیادت مل کر نہ کرسکی تھی، اُسے بیجنگ نے بالآخر کردکھایا اور سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف بیٹھنے پر آمادہ کرلیا بلکہ اُنہیں ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ اور اعلانیہ سفارتی تعلقات بحال کرنے پر بھی قائل کرلیا۔ مسلم دنیا کے دو نہایت اہم ملکوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کئی برسوں سے جاری شدید کشیدگی کا خاتمہ اور سفارتی تعلقات کی بحالی پر ہونے والا اتفاق پوری عالمی برادری کے لیے تو بلاشبہ بڑی خوش آئند پیش رفت ہے ہی مگر ساتھ ہی یہ بیجنگ کی بھی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ چینی قیادت کے اِس سفارتی اقدام نے عالم مغرب کو حیران اور ششدر کر کے رکھ دیا ہے۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ مشرق وسطی میں امریکا اور اِس اتحادی ممالک نے گزشتہ نصف صدی میں بھی جتنے سفارتی جال مسلم اُمہ کے خلاف بچھائے تھے، وہ سب کے سب تارِ عنکبوت کی مانند نیست و نابود ہوگئے ہیں۔جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے جنگ زدہ مسلم ملکوں یمن اور شام سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں پائیدار قیام امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سعودی عرب، ایران اور چین کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق تہران اور ریاض نے اتفاق کرلیا ہے کہ دوماہ کے اندر باہمی سفارتی تعلقات کی بحالی کا عمل مکمل کرلیں گے اور دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے سفارت خانے اور مشن کام شروع کردیں گے۔ یاد رہے کہ ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری اور سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر کے درمیان کئی دنوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں نے تعلقات کی بحال کرتے ہوئے دونوں ممالک نے 17 اپریل 2001 کو طے پانے والے سیکورٹی تعاون کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک نے 27 مئی 1998 کے عام معاہدے پر بھی اتفاق کرلیا ہے، جس کا مقصد اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، تکنیکی، سائنسی، ثقافتی، کھیلوں اور نوجوانوں کے امور میں تعلقات کو فروغ دینا تھا۔اچھی بات یہ ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی اس معاہدے پر تینوں ملکوں خصوصاً چین کی قیادت کی دور اندیشی اور فراست کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ یہ اہم سفارتی پیش رفت علاقائی اور عالمی امن و استحکام میں نہایت معاون ثابت ہوگی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 13 مارچ 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں