9th May

عمرانی انقلاب کی عبرت ناک ناکامی

جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے والوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اُن کا کوئی پسندیدہ خواب ٹوٹ بھی جائے تب بھی وہ بدستور محو خواب ہی رہتے ہیں اور اپنے اَدھ اَدھورے، ٹوٹے ہوئے خواب کی بکھری کرچیاں جوڑنے کے لئے خود کو ایک نئے خواب میں غرق کرلیتے ہیں۔یاد رہے کہ ایسے لوگ چاہیں بھی تو کبھی حقیقت کادرست ادراک نہیں کرسکتے،کیونکہ اِن کی ذہنی و نفسیاتی سطح اتنی معمولی اور پست ہوتی ہے کہ جس پر حقیقت جیسی عظیم الشان شئے کا نزول سرے سے ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، خواب و خیال کی غیر حقیقی دنیا میں بسنے والوں کا سامنا اگر بدقسمتی سے کبھی ناقابل تردید مجسم حقیقت سے ہوجائے تو پھر وہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے،جو آج کل پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور جملہ کارکنان کے ساتھ ملاحظہ کے لیئے دستیاب ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی شکست و ریخت کے مناظر دیکھ کر ہر سیاسی ذہن میں یہ سوال کلبلارہا ہے کہ کیا ایک سیاسی جماعت اپنی ساخت کے اعتبار سے اتنی بوسیدہ اور بودی بھی ثابت ہوسکتی ہے کہ صرف چار دن بادِ مخالف چلنے سے ہی تنکوں کی مانند بکھر کر نیست و نابود جائے؟۔مذکورہ سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر واقعی پاکستان تحریک انصاف کوئی سیاسی نظریہ،اُصول یا مقصد رکھنے والی ایک جماعت ہوتی تو یقینا اُس کے بکھرنے میں کم ازکم اِتنا وقت تو ضرور لگتا کہ جتنا وقت اِس کے بننے اور بن کر اقتدار تک پہنچنے میں میں لگا تھا۔مگر چونکہ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے ہی ایک منظم جماعت کے بجائے منتشر اور بکھرے ہوئے ہجوم کا صرف ایک پراگندہ خواب ہی تو تھی۔لہٰذا، تحریک انصاف بالکل ویسے ہی اچانک ٹوٹ پھوٹ کاشکارہو گئی جیسا کہ اکثر اوقات ڈراؤنے خواب یک لخت ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔

یہاں ہونا تو یہ چاہیئے تھا مذکورہ دہشت ناک خواب کے ٹوٹ جانے کے بعد خواب دکھانے والا اور خواب دیکھنے والے یعنی عمران خان اوراُس کے گمراہ پیروکار حقیقت کی دنیا میں واپس آکر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے خودکو سزا وجزا کے لیئے ریاستی اداروں کے سامنے رضاکارانہ طور پر پیش کردیتے۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وطن ِ عزیز کے ہزاروں معصوم نوجوانوں کو ریاست مخالف احتجاج اور انتشار کی آگ کا ایندھن بنا کر بھی عمران خان کے اقتدار کی ہوس بدستور قائم و دائم ہے اور موصوف ابھی بھی زمان پارک میں بیٹھ کر کسی ایسے سنہری موقع کی تاک میں ہے، جس کا فائدہ اُٹھا کر ریاست کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکے۔

9 مئی کی بغاوت کے ناکامی سے دوچار ہوجانے کے بعد عمران خان کی جانب سے اَب یہ تاویل پیش کرنا کہ ”حلف دیتا ہوں کہ تشدد اور توڑ پھوڑ کا کبھی نہیں کہا“۔ ایک ایسا فرسودہ بیانیہ ہے جس پر اُن کے بے دام ذہنی غلام توضرور فی الفور، ایمان لے آئیں گے۔ مگر جو شخص ذرہ برابر بھی عقل و شعور رکھتا ہے، وہ بخوبی جانتا ہے کہ عمران خان کی تمام سیاست ہی تخریب، یاوہ گوئی، الزام تراشی،انتشار،تشدد اوربلیک میلنگ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ عمران خان کی پاکستان دشمن ریشہ دوانیوں کے بارے میں حکیم محمد سعید شہید 1996 میں اپنی کتاب ”جاپان کہانی“ کے صفحہ نمبر 14 پر بہت پہلے ہی اپنی قوم کو خبردار کرتے ہوئے لکھ چکے تھے کہ ”نوجوانو! تم نے دیکھا کہ اَب امریکا نے عربوں کو یہودیوں کی غلامی میں دینا شروع کردیا ہے۔ اَب جہاں امریکا ہے، وہاں یہودی اس کے ساتھ ہیں۔ کہنا چاہیئے کہ امریکا یہودیوں کی دولت سے آگے بڑھ رہا ہے اور نہایت خاموشی کے ساتھ یہودی نظام کو(دنیا بھر میں) رائج کرتا چلاجارہا ہے۔ عرب ملکوں کے بعد دوسرے اسلامی ممالک بھی یہودیوں کی طاقت کو لوہا مان چکے ہیں۔اس لیئے یہودی حکومت(روز بہ روز مضبوط سے مضبوط)تر ہوتی چلی جارہی ہے۔اَب یہودی مدینہ کو یثرب بنانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ اس کے بعد سارا عرب ڈوب مرے گا اور سارا عالم ِ اسلام (مکمل طور پر) یہودیوں کے زیر اثر آجائے گا۔

پاکستان(میں اِس مقصد کے لیئے) عمران خان کا انتخاب ہواہے۔یہودی ٹیلی ویژن اورعالمی میڈیا نے عمران خان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ سی این این،بی بی سی سب عمران خان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملارہے ہیں۔ برطانیہ،جس نے فلسطین کو تقسیم کرکے یہودی حکومت قائم کروائی تھی۔وہ عمران خان کو(پوری طاقت کے ساتھ) آگے بڑھا رہا ہے اورکسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہورہی ہے۔ عمران خان کی شادی یہودیوں میں کروادی گئی ہے۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو کروڑوں روپے دیئے جارہے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان(یعنی مسیحا) بنادیا جائے۔نیزوزارتِ عظمی کے لیئے عمران خان کی راہیں (بڑی تیز رفتاری کے ساتھ)ہموار کی جارہی ہیں۔ نوجوانو! کیا اَب پاکستان کی آئندہ حکومت یہودی الاصل ہوگی؟۔یہ سیلاب بڑی تیزی سے آ رہا ہے اور اس پر بند باندھنا بہت مشکل ہورہاہے۔ بہت جلد عمران خان کو ایوانِ وزیراعظم میں لے جا کر بٹھا دیا جائے گا اور یہ مہرہ(مکمل طور پر) یہودیوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ عظیم نوجوانو! عظیم پاکستان کی قسمت کایوں سودا(طے) ہوا ہے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون“۔یہ اقتباس پڑھ کر یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ اِسے 27 برس قبل لکھا گیا تھا۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا کہ یہ رائے 9 مئی کے سانحہ کے نتیجہ میں عمران خان کا اصل چہرہ بے نقاب ہونے کے بعد رقم کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حکیم محمد سعید شہید زیادہ تر مضامین اور کتب صرف بچوں اور نوجوانوں کے لیئے لکھا کرتے تھے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی تحریروں میں سیاست کو زیربحث نہیں لایا کرتے تھے۔ لیکن کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ اپنی تصنیف ’’جاپان کہانی“ میں انہوں نے پاکستانی بچوں اور نوجوانو! کو عمران خان کے پاکستان مخالف عزائم کے بارے میں آج سے 27 برس پہلے ہی آگاہی فراہم کرنا اپنی علمی ذمہ داری سمجھاتھا۔شاید اُنہیں اندیشہ اور ڈر تھا کہ یہ ہی بچے کل بڑے ہوکر عمران خان کا آلہ کار بن کر پاکستان دشمنی پر نہ اُتر آئیں۔ ہماری کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ حکیم محمد سعید شہید کی کتابیں پڑھ کر جوان ہونے والے بچے بھی اُن کی نصیحت اور تنبیہ کو یاد نہ رکھ سکے اور آج ملک کے ہزاروں نوجوان عمران خان کے جھوٹے سیاسی بیانیہ کا شکار ہوکر قید و بند کی ناقابل بیان اذیتیں برداشت کررہے ہیں۔

جبکہ عمران خان کی سفاکی اور بے حسی ملاحظہ ہو کہ وہ آج بھی زمان پارک میں بیٹھ کر یہ بیان دے رہا ہے کہ ”9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کرنے والے ایجنسیوں کے ایجنٹ تھے“۔ یعنی عمران خان اپنی جان بچانے کے لیے اُن سادہ لوح نوجوانوں کے عمل کی ذمہ داری قبول کرنے سے بھی یکسر انکاری ہے، جنہوں نے عمران خان کے جھوٹے بیانیہ پر ایمان لاکر اپنے وطن کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی تھی۔کاش! جو پاکستانی نوجوان اب بھی عمران خان کے خواب ِ غفلت میں مستغرق ہیں،وہ کچھ عبرت پکڑلیں اورنام نہاد حقیقی آزادی اور عمرانی انقلاب کی بھینٹ چڑھنے والوں کا حشر نشر دیکھ کر بیدار ہوجائیں۔ وگرنہ عین ممکن ہے اگلی بار عمران خان ہوسِ اقتدار میں اُنہیں بھی کہیں تاریک راہوں میں قربان نہ کردے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 29 مئی 2023 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں