Followers

عمران خان کے پیروکار اور اُن کے مغالطے

معروف یونانی فلسفی سقراط نے دورانِ مکالمہ کریٹون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”پیارے کریٹون!ایک بات تم بہت اچھی طرح سے جان لو کہ گفتگو میں غلط استدلال،نا صرف تمہارے گناہ بڑھاتا ہے، بلکہ تمہاری روح کو بھی سیاہ کر دیتا ہے“۔دراصل ایک غلط دلیل بہت سے مغالطوں کو جنم دیتی ہے اور مغالطوں کی گھمن گھیریوں میں بُری طرح سے اُلجھا ہوا کوئی شخص ہو یا پھر کوئی قوم وہ بحث کی گتھی کو مزید اُلجھا تو سکتی ہے مگر چاہ کر بھی اُسے کبھی سلجھا نہیں سکتی۔ یعنی جس سماج میں لایعنی اور طعن و تشنیع پر مبنی بے سروپا گفتگو کرنے کا چلن عام ہوجائے،وہاں مغالطے ہی ناقابلِ تردید دلیل کا روپ دھار لیتے ہیں اور دلیل بے چاری اپنا منہ چھپائے پھرتی ہے۔ زیادہ عام فہم الفاظ میں سمجھیں تو“مغالطہ”اور“غلط فہمی“ ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر وقت مغالطوں کی دنیا میں خوش و خرم رہنے والا کوئی شخص ہو یا پھر قوم اُس کے لیئے دلیل سننا اُتنا ہی ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، جس قدر ایک صاحب ِ فہم شخص یا سماج کے لیئے مغالطے سوہانِ روح ہواکرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر صاحبِ دلیل اور صاحبِ مغالطہ کی پہچان کیسے کی جاسکتی ہے؟۔ تو عرض یہ ہے کہ صاحبِ دلیل شخص اپنی بات یا رائے کو درست ثابت کرنے کے لیئے دلیل تو ضرور پیش کرتا ہے مگر اُسے اِس بات پر قطعی اصرار،غصہ یا ضد نہیں ہوتی کہ سامنے والا شخص لازماً اُس کی پیش کردہ رائے یا دلیل سے اتفاق بھی کرے۔ جبکہ صاحبِ مغالطہ کی سب سے بڑی نشانی ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی بات کو سامنے والے شخص سے منوانے کے لیئے گالی سے لے کر گولی تک کسی بھی آخری حد تک جاسکتاہے۔

ویسے تو پاکستانی معاشرہ ہمیشہ سے ہی مغالطوں کی تخلیق کے لیئے بڑا زرخیز رہا ہے مگر جتنے کثرت کے ساتھ مغالطوں کی افزائش حالیہ ڈیڑ ھ دو برس کے دوران ہوئی ہے، شاید اتنے مغالطے تو گزشتہ 75 برس میں بھی پیدا نہیں ہوئے ہوں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ آج کل سارے مغالطے انتہائی منظم انداز میں تخلیق کیئے جارہے اور اِن سب مغالطوں کی جڑ فقط یہ ایک مغالطہ ہے کہ”عمران خان مسیحا ہے اور پاکستان کے لیے ناگزیر ہے“۔یاد رہے کہ ہماری قومی و سیاسی تاریخ کا یہ اتنا فضول اور بھیانک مغالطہ ہے کہ جس کی وجہ سے وطن ِ عزیز کی سالمیت پرسانحہ 9 مئی جیسا کاری زخم لگا،جو شاید اَب تاقیامت نہ مندمل ہوسکے۔ گو کہ ریاست ِ پاکستان نے سانحہ 9 مئی کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کرکے ملکی سیاست میں مغالطوں کی بچھی ہوئی بساط کو ایک ہی ہلے میں اُلٹا دیا ہے کہ مگر اِس کا یہ مطلب ہر گزنہیں ہے کہ مغالطے تخلیق کرنے والوں یا اُسے پھیلانے والوں نے ہار مان لی ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ ابھی تک پوری طرح سے متحرک ہیں اور ہر محاذ خاص طور پر سوشل میڈیا پر نت نئے مغالطے پھیلاکر بھرپور کاوش کر رہے ہیں کہ کسی بھی طرح اُن کی اُلٹی ہوئی بساط ایک بار پھر سے سج جائے۔

مثال کے طور پر پہلے عمران خان اور اُس کے چند حواریوں نے یہ کوشش کی کہ کسی طرح پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ نہ طے پاسکے۔ تاکہ ملک کے دیوالیہ ہونے کی راہ ہموار ہوسکے اور عمران خان کے اقتدار میں واپس آنے کے لیئے کہیں کوئی ایک چھوٹاہی سہی چور دروازہ کھل سکے۔ مگر جب بیرون ِ ملک درجن بھر لابنگ فرمز ہائر کرنے کے باوجود بھی یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا اور آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ اپنی ڈیل فائنل کرلی تو پھر تحریک انصاف کے شکست خورہ کارکنان نے حکومت ِ وقت کے خلاف سوشل میڈیا پر یہ غلیظ مہم چلانا شروع کردی کہ آئی ایم ایف ایک سامراج ہے، موجودہ حکمران بھکاری ہیں تو جو تھوڑے سے امریکی ڈالرز حاصل کرنے کے لیئے اُس کے تلوے چاٹ رہے ہیں۔

لیکن جب اُسی آئی ایم ایف کے ایک وفد نے عمران خان سے زمان پارک میں بالمشافہ ملاقات کا عندیہ دیا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے چند گھنٹوں قبل سامراج کہلانے والا آئی ایم ایف،جمہوریت اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار بن گیا اور عمران خان کے”کی بورڈ وارئیرز“ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آئی ایم ایف کی شان اور ستائش میں یہ پروپیگنڈا شروع ہوگیا ہے کہ ”آئی ایم ایف عمران خان کا اتنا بڑا فین اور فالور ہے کہ وہ ملک کو امریکی ڈالرز قرضہ دینے سے قبل عمران خان کی آشیر بادلینا لازمی سمجھتاہے“۔مگر جب بعد میں خبر ہوئی کہ آئی ایم ایف نے عمران خان کو کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی یقین دہانی کروانے سے صاف انکار کردیا ہے اور وہ اپنی اگلی ملاقات کے لیئے مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام ف،عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان سے ملنے کے لیئے رخت سفر باندھ لیا ہے توپھر انکشاف ہوا کہ یہ بھی بس! ایک مغالطہ ہی تھا، جس میں عمران خان نے اپنے پیروکاروں کو وقتی طور پر اُلجھایا تھا۔

لطیفہ ملاحظہ ہو کہ آئی ایم ایف اور عمران خان کے عشق ِ ممنوع کی غلط فہمی دور ہوجانے کے بعد اَب سوشل میڈیا کہ سستے بازار میں ایک نیا مغالطہ پیش کیا جارہاہے کہ چونکہ یورپی یونین میں پاکستان کے جی ایس پی اسٹیٹس کی ماہِ دسمبر میں تجدید ہونی ہے اور جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ جی ایس پی اسٹیٹس ملکی برآمدات اور معیشت کے لیئے انتہائی ناگزیر ہے۔ لہٰذا، عمران خان کے پیروکار یہ دعویٰ کررہے ہیں، مذکورہ جی ایس پی اسٹیٹس کی تجدید یورپی یونین اُس وقت تک پاکستان کے ساتھ نہیں کرے گا۔جب تک عمران خان پاکستان میں انسانی حقو ق، نظام حکمرانی اور آزادی اظہار رائے پر اپنے دلی اطمینان کا ایک تصدیقی سرٹیفکیٹ یورپی یونین کو پیش نہیں کردیں گے۔یعنی سوشل میڈیا پر یہ مغالطہ پورے شد و مد کے ساتھ پھیلایا جارہاہے کہ یورپی یونین عمران خان کی تائید، ایما اور مرضی کے بغیر کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ جی ایس پی اسٹیٹس کی تجدید نہیں کرے گا۔

مگر افسوس! کہ عمران خان کی جانب سے ازخود تخلیق کیا جانے والا یہ مغالطہ بھی بن کھلے ہی مرجھاگیا اور پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا نے عمران خان کے پیروکاروں کی جانب سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا ٹرینڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ”پاکستانی برآمدات کے لیے یورپی منڈیوں میں ترجیحی رسائی برقرار رہے گی اور پاکستان کا جی ایس پی اسٹیٹس بھی برقرار رہے گا۔ جب جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع کا وقت آئے گا تو اس وقت جی ایس پی پلس والے دیگر سات ملکوں کے لیے بھی توسیع کا وقت ہوگا“۔مذکورہ مغالطہ کے رَد ہونے کے بعد یقینا بہت جلد ایک نیا مغالطہ سوشل میڈیا کے اُفق پھیلایا جائے گا اور ہمارا تو ماننا ہے کہ مغالطے در مغالطے تخلیق کرکے پھیلانے کا یہ مذموم سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک سانحہ 9 مئی کا ماسٹر مائنڈ قانون کی گرفت میں نہیں آجاتا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 10 جولائی 2023 کو شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں