Historical Figures Whose Tombs Have Not Been Found

یاد گار لوگ، گم شدہ قبریں

ہماری اس فانی دنیا میں ہر انسان کے لیے موت کا ایک دن تو ضرور معین ہے۔لیکن بعد از مرگ کس انسان کی قبر کہاں بنتی ہے،کدھر مقبرہ تعمیر ہوتا ہے اور کونسی سرزمین پر اُس کا مزار تیا رکیا جائے گا۔ ایک ایسا غیر معین اور پراسرار، راز ہے۔جسے انسان اپنی زندگی میں دریافت کرنا بھی چاہے تو اکثر ناکام و نامراد ہی رہتاہے۔ مرنے کے بعدبھی،زندہ رہنے کی خواہش رکھنے والے بے شمار افراد نے قبل از موت،اپنے شاندار مقبرے بنوائے لیکن جب دستِ اجل نے ان کی جانب ہاتھ بڑھایا تو اُن کے جسد خاکی کو اپنا مقبرہ تو بہت دور کی بات ہے،خاک بھی نصیب نہ ہوسکی۔ نیز تاریخ میں بعض فراعین مصر ایسے بھی گزرے ہیں، جن کے ہمراہ ”اہرام“ نما عظیم الشان مقبروں میں اُن کی بیگمات،کنیزیں،پہرے دار،اور دنیا بھر کا مال و اسباب بھی دفن کیا گیا تھا۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: سکہ رائج الوقت کی بے وقعتی

مگر افسوس صد افسوس! کہ اُن کے بعد آنے والے لالچی انسانوں نے ”اہرام“ میں رکھا قیمتی خزانہ تو اپنے قبضہ میں لے لیا لیکن فرعون ِمصر کے تابوت کو عبرت کے لیئے عجائب گھر کی زینت بنادیا۔ دوسری جانب اسی بے ثبات دنیا میں اللہ کی بے شمار برگزیدہ،مقبول اور محبوب بندے ایسی بھی ہیں،جن کے مزارات کی رونق سینکڑوں برس بعد بھی بدستور سلامت ہے اور اِن خرقہ پوش ہستیوں کے قبریں مرجع خلائق بنی ہوئی ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں اپنے وقت کے اُن چنیدہ، نامور،طاقت ور، صاحب ِ اختیار، خوب صورت اور ہنرمند افراد کا اجمالی سا تذکرہ پیش خدمت ہے،جن کے اچھے یا بُرے نام،کام اور کارناموں سے تو آج ہم سب اچھی طرح سے واقف ہیں لیکن اِن کی قبروں سے کوئی بندہ بشر، پرکاہ جتنی بھی واقفیت نہیں رکھتا۔

چنگیز خان کی بے نام و نشان قبر
عظیم منگول حکمران چنگیز خان 1162ء میں پیدا ہواتھا۔ اس کا اصل نام تیموجن تھا۔چنگیز خان کے حکمران بننے سے پہلے منگول قبائل اپنی غیر معمولی حربی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل میں بے دردی سے ضائع کرتے تھے۔مگر چنگیز خان وہ پہلا منگول سردار ثابت ہوا،جس نے منگولیا کے سینکڑوں قبائل کو اپنی مرکزی قیادت کے تحت متحد و یکجان کرکے،انہیں ساری دنیا کو اپنا زیر نگین بنانے کا سنہر اخواب دکھایا۔یاد رہے کہ 1206 میں منگول سرداروں کے ایک جرگے میں تیموجن کو چنگیز خان کا خطاب دیا گیا۔ جس کے معنی ہیں ”کائناتی شہنشاہ“۔آنے والے حالات نے ثابت کیا یہ لقب تیموجن کی شخصیت پر پوری طرح سے صادق آتا ہے۔

کیونکہ چنگیز خان جنگیں جیتنے اور سلطنت کے استحکام کے لیے بہترین اور بعض دفعہ عجیب و غریب سیاسی حکمت عملیاں اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتاتھا۔مثلاً چنگیز خان اپنے مفتوحہ علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے وہاں کے حکمران خاندانوں میں اپنی بیٹیوں کی شادی کر دیا کرتا تھا۔اس کے بعد وہ اپنے دامادوں کو میدان جنگ میں بھیج دیا کرتا تھا تاکہ ان کی غیر موجودگی میں حکومتی امور اس کی بیٹیاں سنبھال سکیں۔اس کے زیادہ تر داماد عموماً جنگوں میں دشمن کے ہاتھوں قید یا پھر مارے جاتے یوں اس کی بیٹیاں کامیابی کے ساتھ دوسروں کی سلطنت پر حکومت کرتی رہتیں تھیں۔ علاوہ ازیں چنگیز خان اپنی فوجوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر ظاہر کرتا اور کسی بھی علاقے پر حملہ سے قبل وہاں اپنی حملہ آور فوج کی زیادہ تعداد کی جھوٹی افواہیں پھیلاتا اور گھوڑوں پر لکڑی کی ڈمی بٹھا کر اپنے دشمنوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتاتھا۔

کہا جاتا ہے کہ تاریخ انسانی میں چنگیز خان ہی وہ پہلا ظالم حکمران تھا،جس نے سب سے پہلے اپنے حریفوں کے خلاف حیاتیاتی ہتھیار کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔منگول افوج محاصرے کے دوران شہر میں منجنیق کی مدد سے ایسے مردہ فوجیوں کی لاش کو پھینکتی تھی، جو وبائی مرض طاعون سے شدید متاثر ہوتے تھے۔چنگیز خان کا 1227 میں منگولیا میں انتقال ہوا۔ اپنی موت سے کچھ دیر قبل اس نے دو،وصیتیں کی تھیں۔ پہلی یہ کہ اس کے تیسرے بیٹے اوکتائی خان کو اس کا جانشین مقرر کیا جائے۔ دوم،مرنے کے بعد اس کی قبر یعنی جائے مدفن کو دنیا بھر کی نگاہوں سے خفیہ رکھنے کی ہرممکن کوشش کی جائے۔ دوسری وصیت اس لحاظ سے بڑی عجیب و غریب تھی کہ دنیا کا ہر حکمران اور فاتح مرنے کے بعد اپنی آخری آرام گاہ کو،یاد گار بنوا کر دنیا میں باقی رہنا چاہتاہے اور بعض اوقات اپنے اس مقصد کے حصول کے لیئے مرنے سے قبل ہی اپنے عظیم الشان مقبرے تعمیر کرواتا ہے۔ جیسا کہ فراعین مصر نے اہرام تعمیر کروائے۔ مگر چونکہ چنگیز خان اپنی موت کے بعد اپنی قبر کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتا چاہتا تھا۔

چناں چہ وصیت پر من و عن عمل کیا گیا اور چنگیز خان کی تدفین کرنے کے بعد اس کی قبر کے اُوپر کم و بیش ایک ہزار گھوڑے دوڑائے گئے تاکہ زمین کی اُوپری سطح اس قدر ہموار ہوجائے تو کہ کوئی شخص چنگیز خان کی قبر کا سراغ نہ لگاسکے۔ بعد ازاں چنگیز خان کے وفاداروں نے ہر اس شخص کو بے رحمی سے قتل کر دیا، جو چنگیز خان کے تدفین کے موقع پر موجود تھا یا قبر کے درست مقام سے آگاہ تھا۔ جن غلاموں نے قبر بنائی تھیں، انہیں کچھ سپاہیوں نے قتل کیا اور پھر غلاموں کو قتل کرنے والے سپاہیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک دریا کا رخ اس کی قبر کی طرف موڑ کر قبر کو ہمیشہ کے لیے گمنام بنا دیا گیا۔چنگیز خان کی موت کو آٹھ صدیا ں بیت چکی ہیں،لیکن تاحال اُس کی قبر گم شدہ ہے۔

ایک ماہر آثار قدیمہ ماؤرے کراوٹز نے چنگیز خان کی قبر کی تلاش میں اپنی زندگی کے 40 سال صرف کیئے لیکن وہ بھی چنگیز خان کی قبر کا سراغ نہیں پاسکا۔مشہور ومعروف تحقیقاتی ادارے نیشنل جیوگرافک نے سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے چنگیز خان کی قبر تلاش کرنی کی مہم جوئی کا آغاز کیا تھا۔ جس کا نام ”ویلی آف خان پروجیکٹ“ رکھا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چنگیز خان کی قبر تلاش کرنے میں ہمیشہ غیر ملکی افراد کی ہی دلچسپی رہی ہے۔جبکہ منگولیا کے مقامی لوگ چنگیز خان کی قبر کا پتہ لگانے میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ بعض اوقات اس طرح کی مہم جوئی کی مخالفت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔دراصل اس کی بڑی وجہ ایک خوف بھی ہے۔ کہا جاتا رہا ہے کہ اگر چنگیز خان کی قبر کو دریافت کرلیاگیا تو دنیا یک لخت تباہ وبرباد ہو جائے گی۔ کچھ ماہرین ارضیات منگولوں کی اس بے اعتنائی کو چنگیز خان کے لیے منگولیائی لوگوں کا احترام گردانتے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق چونکہ چنگیز خان خود نہیں چاہتے تھے کہ انھیں کوئی یاد رکھے لہٰذا،اُس سے محبت کرنے والے مقامی لوگ آج بھی چنگیز خان کی خواہش کا احترام کر رہے ہیں۔

ملکہ قلوپطرہ کی گم شدہ قبر
قلوپطرہ، مصر کی ایک ایسی حکمران ملکہ جس کا بے مثال حسن، جاذب نظر نسوانیت،غیرمعمولی ذہانت اور بے وفائی کے دل دہلادینے والے قصے آج کے جدید دور میں بھی ضرب المثل سمجھے جاتے ہیں۔ملکہ قلوپطرہ، انسانی تاریخ کی ایک ایسی حکمران خاتون ہے، جس پر اَب تک سب سے زیادہ داستانیں و کہانیاں لکھیں اور اَن گنت ڈرامے اور فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔ قلوپطرہ کو ہم فراعین مصر کے خاندان کی ایک نمائندہ خاتون بھی کہہ سکتے ہیں۔یعنی مصر کے فرماں رواؤں کا ایک ایسا خاندان جہاں نسل در نسل مرد ہی فرعون کہلانے کے حق دار رہے ہوں،وہاں قلوپطرہ جیسی ایک دھان پان،مجسمہ حسن کا اقتدار میں آجانا ثابت کرتا ہے،قلوپطرہ کس قدر غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل خاتون رہی ہوگی۔

ماہرین کے مطابق آ ج سے دو ہزار برس قبل 69 قبل مسیح میں تلومی فرعون،خاندان میں قلوپطرہ کی پیدائش ہوئی۔ اس کے والد ”الیتیس“ عظیم مصری حکم ران،سکندر اعظم کے ایک انتہائی قابل اعتماد جنرل تھے۔اپنے والد کی موت کے بعد اٹھارہ سال کی چھوٹی سے عمر میں قلوپطرہ کو اپنے دس سالہ چھوٹے بھائی کے ساتھ مشترکہ طور پر تخت کا حقدار قرار دیا گیا۔ مگر بھائی کے بالغ ہونے کے بعد قلوپطرہ نے اُسے اپنے اقتدار میں شراکت دار ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں بہن اور بھائی کے درمیان خون ریز خانہ جنگی ہوئی۔ قریب تھا کہ قلوپطرہ کو اپنے بھائی کے مقابلہ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑتا کہ اس نے رومن جنرل جولیس سیزر کی مدد حاصل کرکے اپنے بھائی اور اس کے حمایتیوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کردیا۔

بعد ازاں قلوپطرہ اور جولیس سیزر،ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ جولیس سیزر کی موت کے بعد ان کا بیٹا سیسیریون اپنی ماں کے ساتھ تخت کا وارث بنا۔ قلوپطرہ نے سیزر کی موت کے بعد اُس کے منہ بولے بیٹے اور اپنی فوج کے نائب سپہ سالار، مارک انتھونی کو اپنی زلف کا اسیر بنا کر اُس سے شادی رچالی، جس سے قلوپطرہ کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ واضح رہے کہ مارک انتھونی، شاہ آگسٹس کا بہنوئی بھی تھا لہٰذا قلوپطرہ اور انطونی کا یہی تعلق بعدازاں دونوں کے درمیان جنگ و جدل کے ایک طویل سلسلے کا سبب بھی بنا۔مارک انتھونی کے ساتھ مل کر قلوپطرہ نے کئی لڑائیاں لڑیں اور آخر کار 30 قبل مسیح میں قلوپطرہ کے سابقہ شوہر جولیس سیزر کے بھانجے اکٹوین نے مصر پر حملہ کردیا۔جس میں مارک انتھونی اور قلوپطرہ کے بحری بیڑے کو شکست فاش ہوئی۔ قلوپطرہ اور مارک انتھونی کے تینوں بچے گرفتار کرلئے گئے لیکن قلوپطرہ نے رومن حکومت کی فتح یابی کے جشن کا حصہ بننے سے صاف انکار کرتے ہوئے خود کو اور اپنے تینوں بچوں کو زہریلے کوبرا سانپ سے ڈسوا کر 10 اگست کوخود کشی کرلی۔

مزید پڑھیں: کتنی عجیب عورتیں ۔ ۔ ۔

حیران کن با ت یہ ہے کہ مانچسٹر یونیورسٹی کے ماہرین اس تاریخی دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کہ ملکہ قلوپطرہ کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہوئی تھی۔کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ملکہ اور دو کنیزوں سمیت تین بچوں کو کاٹنے والا سانپ اتنا چھوٹا نہیں ہوگا کہ اسے چھپایا جا سکے۔جبکہ کوبرا سانپ کے کاٹنے کے بعد صرف10 فیصد ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ سانپ کے زہر سے کوئی مر جائے۔نیز اگر سانپ کا زہر انسان کے جسم میں منتقل ہو بھی جائے تو وہ آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک سانپ کو یکے بعد دیگرے کئی افراد کو قتل کرنے کے لیے باری باری استعمال کریں“۔بہرحال ملکہ قلوپطرہ کی وجہ موت ہی نہیں بلکہ اُس کی قبر بھی آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ قدیم مصری تاریخ دان پلوٹارک کے مطابق قلوپطرہ کا مقبرہ الیگزیڈریا شہر کے مضافات میں ہی کہیں ہونا چاہئے۔ ماہرین آثار قدیمہ قلوپطرہ کی گم شدہ قبر تلاش کرنے کے لیئے بے شمار مقامات پر کھدائی کر چکے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے انہیں کبھی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ بعض ماہرین کو اس با ت کا بھی یقین ہے کہ قلوپطرہ اور مارک انتھونی کی قبریں سمندر کی گہرائی میں کہیں موجود ہوسکتی ہیں۔

سکندر اعظم کا بدقسمت مقبرہ
”مقدر کا سکندر“ ہمارے ہاں عام بول چال میں استعمال کیئے جانے والا ایک روایتی سا محاورہ ہے۔ جسے اُس خاص موقع پر بولا جاتاہے،جب کسی شخص کو انتہائی خوش قسمت یا نصیب کا دھنی قرار دینا مقصود ہو۔ اِس محاورہ کی نسبت یونان کے عظیم حکم ران سکندر اعظم کی خوش قسمتی کی جانب کی جاتی ہے۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سکندراعظم نے ساری دنیا فتح کرکے سلطنتِ یونان کو دنیا کی پہلی عالمی سپر طاقت بننے کا مفرد اعزازکا حق دار بنانے میں کلیدی کردار اد اکیا تھا۔

سکندر اعظم356 قبل مسیح میں قدیم یونانی ریاست مقدونیہ میں پیدا ہوا،جسے عین لڑکپن میں ہی ارسطو جیسے عظیم دانش ور اُستاد کی صحبت کاملہ دستیاب ہوگئی تھی۔ سکندر اعظم کو 20 سال کی عمر میں بادشاہت ملی تھی۔جس کے بعد وہ ساری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکل پڑا۔اہم بات یہ ہے کہ وہ دنیا کے متعدد قابل ذکر ممالک فتح کرنے میں کامیاب بھی رہا۔ جن میں مصر، یونان، بھارت کے کچھ حصے اور ایران کے کثیر علاقے شامل تھے۔سکندر اعظم کی موت 323 قبل مسیح میں صرف 32 سال کی عمر میں بابل کے اُس مقام پر ہوئی جو آج عراق میں شامل ہے۔ ایک روایت کے مطابق اُسے اُس وقت زہر دے دیا گیا جب وہ اپنے باپ کے خواب کی تکمیل کے لیے ساری دُنیا فتح کرنے کے لیئے نکلا ہوا تھا اور آدھی سے زیادہ دُنیا فتح بھی کر چُکا تھا۔

موت کے وقت سکندر کی زُبان پر یہ آخری الفاظ تھے کہ ”میں سوچ رہا ہوں کہ آج کے دن تک نجانے میں نے کتنے انسانوں کا خون بہایا کتنے شہر اُجاڑے اور زیروزبر کر دیے اور آج میں اپنے ساتھ کیا لے جارہا ہوں، مُجھے زندگی میں کبھی سکون حاصل نہ ہُوا، اچھا ہُوا میں مکمل دُنیا فتح نہ کر سکا اور اگر کر بھی لیتا تو اپنے گُناہوں میں اضافہ ہی کرتا، مُجھے فوجی لباس میں دفن کیا جائے کیونکہ میں ایک سپاہی ہوں“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ2ہزار سال سے سکندر اعظم کی موت ایک معمہ بنی ہوئی ہے کہ کیا سکندر اعظم کو واقعی زہر دیا گیاتھا؟ یا اس کی موت کی وجہ کثرتِ شراب نوشی کی عادت بنی تھی؟ یا پھر وہ ملیریا یا ٹائیفائیڈ کا شکار ہوکر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا؟۔

چند برس قبل ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے خیال پیش کیا ہے کہ سکندر اعظم، ایک ایسے آٹو امیون مرض کا شکار ہوئے جس میں جسم مفلوج ہوجاتا ہے اور مریض دوسروں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ایسا ہی سکندر کے ساتھ ہوا اور چونکہ قدیم یونان میں یہ عقیدہ پایا جاتاتھا کہ اگر کسی مردہ کا جسم 6 روز تک گلے،سڑے نہ تو وہ دیوتا ہوتاہے۔پس! سکندر اعظم کی سپاہ نے اسے مردہ سمجھ کر 6 دن تک لاش سڑنے کا انتظار کیا اور اس دوران اس کی موت واقع ہوگئی۔ علاوہ ازیں نیوزی لینڈ کی اوٹاگو یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ”سکندر اعظم ایک مرض گیولین بیرے سینڈروم (جی پی ایس) کا شکار ہوئے تھے، جس میں جسمانی مسلز اچانک کمزور ہوجاتے ہیں کیونکہ جسمانی دفاعی نظام نروس سسٹم کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ اس عظیم فاتح کی موت کے حوالے سے طرح،طرح کے نظریات گھڑ لیئے گئے۔

جس طرح آج تک سکندراعظم کی موت کی درست وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا،بلکہ ایسے ہی سکندراعظم کی تدفین کا درست مقام بھی ماہرین کے لیئے ہنوز ایک اُلجھی ہوئی گتھی ہے،جس سلجھا پانا سب کے لیئے دردسر بنا ہوا ہے۔ بعض تاریخ روایات کے مطابق سکندراعظم کو سرزمین مصر کے شہر میمفس میں سونے کے عظیم الشان تابوت ”سرکروفگس“ میں دفن کیا گیا تھا اور کچھ عرصے بعد یعنی 283-293 قبل مسیح کے درمیان سکندر اعظم کے تابوت کو یونان کے شہر الیگزینڈریا منتقل کردیا گیا اور اُس کے مقبرہ کے اردگرد ایک مندر بھی تعمیر کردیا گیاتھا۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ رومن شہنشاہوں جیسے سیسر اور اگسٹس نے سکندر اعظم کے مقبرہ سے سونے کا تابوت حاصل کرنے اسے کئی بار بری طرح سے مسمار بھی کردیا تھا۔کہا جاتاہے کہ بار،بار کی جنگوں، زلزلوں اور سیلاب کی وجہ سے سکندراعظم کی قبر کی باقیات صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ لیکن بعض ماہرین ابھی تک مکمل طور پر نااُمید نہیں ہوئے اور انہیں لگتا ہے کہ سکندر اعظم کی قبر الیگزینڈریا میں ابھی بھی کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوگی۔گزشتہ چند برسوں میں سکندر اعظم کی قبر کی تلاش کے لیئے 140 سے زائد کوشش کی جاچکی ہیں لیکن سب بدترین ناکامی پر منتج ہوئیں۔

لیونارڈو ڈاونچی کی جعلی قبر
لیونارڈو ڈاونچی(Leonardo Da Vinci)، شہرہ آفاق اطالوی مصور، سائنس دان، حساب دان،مہندس،موجد مجسمہ ساز، معمار، موسیقار اور مصنف تھے۔ انہیں آپ صحیح معنوں میں انسانی تاریخ کی ایک موثر ترین جینئس یعنی عبقری شخصیت قرار دے سکتے ہیں۔آج بھی لیونارڈو ڈاونچی کو دنیا کے معروف ترین مصور وں میں سرفہرست شمار کیا جاتاہے۔لیونارڈو ڈاونچی ایک انتہائی غریب اطالوی کسان خاتون، کاترینا، کے ہاں فلورنس کے علاقے”ونچی“میں پیدا ہوئے تھے۔ چونکہ لیونارڈو ڈاونچی اپنی ماں کاترینا کی ناکام محبت کے نتیجہ میں جنم لینے والی ایک ناجائز اولاد تھے۔ اس لیئے انہوں نے اپنے خاندانی نام کے ساتھ والد کا اسمِ گرامی جوڑنے سے احتراز برتا۔

بعد ازاں لوگوں نے انہیں ازخود ہی،مصور ”ڈاونچی“یعنی ونچی سے آنے ولا مصور کے نام سے مخاطب کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے فلورنس کے مشہور مصور اور نقاش”ویروکیو“ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر کے اپنی فطری فنکارانہ صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔ ان کی ابتدائی پیشہ ورانہ زندگی میلان میں لودوویکو اِل مورو کی خدمت میں گذری۔چند تاریخی روایات کے مطابق ایک بار فلورنس کے مقامی کسان نے ایک گول ڈھال بنائی اورلیونارڈو ڈاونچی کے والد پیئرو سے درخواست کی کہ وہ اس پر کہیں سے نقاشی کروا لیں۔لیونارڈو ڈاونچی کے باپ نے جب یہ کام اپنے بیٹے کو کرنے کے لیے کہا تولیونارڈو ڈاونچی نے اس ڈھال پر ایک آگ پھونکتا درندہ بنا ڈالا۔لیونارڈو ڈاونچی کے والد نقاشی ایک آنکھ نہ بھائی۔لہٰذا،اس نے یہ ڈھال فلورنس کے آرٹ ڈیلر کوسستے داموں بیچ ڈالی اور اس کے عوض میں ایک دوسری نئی ڈھال لے لی جس پر ایک دل نقش تھا۔ بعد ازاں، اس آرٹ ڈیلر نے لیونارڈو ڈاونچی کی کندہ کردہ ڈھال کو انتہائی اچھے داموں میلان شہر کے ایک رئیس کو بیچ دیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ لیونارڈو ڈاونچی نے اپنی مشہور زمانہ پینٹنگ ”مونالیزا“ 16 سال کے طویل ترین عرصے میں مکمل کی تھی۔ لیونارڈو ڈاونچی نے مونالیزا 1503 میں شروع کی اور 1519 میں مکمل کی۔ اس 16 سال کے عرصے میں لیونارڈو ڈاونچی نے دن رات فقط مونا لیزا ہی پر ہی کام نہیں کیا، بلکہ وہ دوسرے تخلیقی منصوبوں کو بھی مکمل کرنے میں مصروف رہا۔ دراصل لیونارڈو ڈاونچی مونالیزا پر اسی وقت کام کرتا جب اس کا دل چاہتا، اور جب دل نہیں چاہتا تو دوسری تخلیقات بنانے میں اپنا وقت صرف کرنے لگتا تھا۔ مونالیزا پرکام کا وقفہ کبھی مہینوں تو کبھی برسوں پر مشتمل ہوتا۔ مونا لیزا کے علاوہ اس کی ایک اور پینٹنگ ”لاسٹ سپر“ کو بھی لیونارڈو ڈاونچی کی ایک لازوال تخلیق قرار دیا جاتاہے۔لیونارڈو ڈاونچی نے اس پینٹنگ کی تکمیل بھی تقریباً 15 سال صرف کیے تھے۔ لیکن ان کے تمام فن پاروں میں ”مونا لیزا“ سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے اور یہ ہی وہ پینٹنگ ہے جس کی سب سے زیادہ نقل بنائی گی ہے۔

لیونارڈو ڈاونچی 1519 میں 67 برس کی عمر میں فرانس میں اپنے اُس گھر میں فوت ہوگیا، جو اُسے بادشاہ، فرانسس اول نے بطور انعام عنایت کیا تھا۔لیونارڈو ڈاونچی کے جسد خاکی کو ایک چرچ کے احاطے میں دفن کیا گیا تھا۔لیکن فرانسیسی انقلاب کے دوران یہ چرچ مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگیا تھا۔ 1863 میں اسی چرچ کی زمین میں بڑے پیمانے پر کھدائی کی گئی تو نیچے سے بے شمار انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے برآمد ہوئے۔ جن میں ایک انسانی ڈھانچے یا ہڈیوں کے مجموعہ کو لیونارڈو ڈاونچی کی باقیات کے طور پر محفوظ کرلیاگیا۔جو آج بھی فرانس کے شہر ”چیٹو ڈی امبوز“ میں ایک مقبرہ میں موجود ہیں۔ کہنے کو تو یہ مقبرہ لیونارڈو ڈاونچی کی آخری آرام گاہ کے طو ر پر مرجع خلائق ہے۔لیکن معروف تاریخ دان اور ماہرین کی اکثریت اس جگہ کو لیونارڈو ڈاونچی کی حقیقی قبر تسلیم کرنے سے مکمل طور پر انکاری ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بات کوئی ثبوت یا شہادت موجود نہیں ہے کہ اس مقبرہ میں واقعی لیونارڈو ڈاونچی کی باقیات موجود ہیں۔ اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے2016 میں فرانس کی حکومت نے مقبرہ میں دفن باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے جانچ کروانے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ مگر یہ منصوبہ اس لیئے ناکامی سے دوچار ہوگیا کہ لیونارڈو ڈاونچی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کا سراغ نہیں لگایا جاسکاتھا۔

”وولف گینگ ایماڈیس موزارٹ“ کا تابوت
مغربی موسیقی کا ایک بہت بڑانام،جسے آپ اگر مغرب کا ”تان سین“بھی قرار دے دیں تو کچھ مبالغہ نہ ہوگا۔ وولف گینگ ایماڈیس موزارٹ (Wolfgang Amadeus Mozart) جس نے 600 سے زائد دھنیں ایجاد کیں، جن میں سے بیشتر دھنوں کو مغربی موسیقی کی معراج سمجھا گیا۔وہ دنیا کے قدیم موسیقاروں میں سب سے زیادہ معروف اور صاحبِ اثر موسیقار خیال کیئے جاتے ہیں۔ وولف گینگ ایماڈیس موسیقی کی خداد صلاحیت لے کر 27 جنوری 1756 کو آسٹریا،سالزبرگ میں پیدا ہوئے۔ جیسا کہ کہا جاتاہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں بالکل محاورہ کے مصداق ولف گینگ ایماڈیس نے محض 5 برس کی عمر میں موسیقی کی پہلی دھن ترتیب دی اور صرف 17 سال کی عمر میں اس عظیم موسیقار نے یورپ کے ایک بڑے مجمع عام کے سامنے اپنے فن کا مظاہر ہ کر کے ایک عالم کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُس کا پہلا عوامی مظاہرہ ہی اس قدر شاندار اور مسحور کن تھا کہ سالزبرگ کو راج دربار میں شاہی موسیقار کے خصوصی منصب پر فائز کردیا گیا۔لیکن ولف گینگ ایماڈیس، راج،دربار کی دیواروں میں قید ہوکر بیٹھنے کے بجائے دنیا گھومنے کا مشتاق نکلا اور اپنے اسی دیرینہ شوق کی تکمیل کے لیئے اس نے بے شمار سفر کیئے۔دورانِ سفر اس نے جو بھی مشاہدات اور تجربات حاصل اُنہیں اپنی موسیقی کی دھنوں میں شامل کردیا۔

یہ بھی ضرور پڑھیے: اِک گرم چائے کی پیالی ہو۔۔۔

وولف گینگ ایماڈیس نے شہرت اور ناموری تو بہت کمائی لیکن تمام عمر مالی آسودگی حاصل نہ کرسکا۔ اپنی زندگی کے آخری ایام ویانا میں گزارے اور اپنی مشہور ترین دھنیں بھی انہیں ایام میں ترتیب دیں۔ وولف گینگ ایماڈیس کا انتقال 35 سال کی مختصر کی عمر میں 5 دسمبر1791 کو ہوا تھا۔ وولف کی موت کے بارے بے شمار افسانے اور کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔کسی کا کہنا ہے کہ اس کا انتقال ایک پراسرار بیماری کے سبب ہوا،جبکہ کوئی وجہ موت زہر خورانی بتاتا ہے اور کچھ افراد کا اصرار ہے کہ اس نے گھریلو حالات سے تنگ آکر خودکشی کی تھی۔ وولف گینگ ایماڈیس نے بعد از مرگ لواحقین میں ایک بیوہ اور دو بیٹے چھوڑے۔ اس کا جنازہ بہت بڑا تھا،جس میں لواحقین،رشتہ داروں، دوست احباب اور وولف گینگ ایماڈیس کو چاہنے والوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔ تدفین کے بعد اس کی قبر پر کتبہ نصب کرکے ایک چھوٹا سا مقبرہ بھی تعمیر کیا گیا تھا،لیکن اس سب انتظام کے باوجود ”وولف گینگ ایماڈیس“ کی قبر فقط اس لیئے گم شدہ ہوگئی کہ اُس زمانہ میں ویانامیں قانون نافذ تھا کہ 10 برس بعد قبرستان کی کسی بھی قبر کونئے مردے کے لیئے دوبارہ سے استعمال کی کیا جا سکتاہے۔ یوں 10 برس بعد مغرب کے ایک عظیم موسیقار کو خاموشی کے ساتھ اُس کی قبر سے نکال کر کسی دوسرے مردے کو دفنا دیا گیا۔ وولف گینگ ایماڈیس کا تابوت کہاں گیا، اس بابت کسی کو کچھ خبر نہیں ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 10 اکتوبر 2021 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

یاد گار لوگ، گم شدہ قبریں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں