HESCO Nawabshah Corruption Bribery Over Billing Stories

حیسکو نواب شاہ میں عجب کرپشن کی غضب کہانی

بلاشک و شبہ یقین سے کہا جاسکتاہے کہ پاکستان میں عوام جس سرکاری وزارت کے ماتحت اداروں میں ہونے والی کرپشن کا سب سے زیادہ اور براہ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ اُس اکلوتی وزارت کا نام ِ ”وزارت پانی و بجلی“ ہی ہے۔واضح رہے کہ ”وزارت پانی و بجلی“ کے زیر انتظام پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی یعنی پیپکو کے علاوہ ملک بھر میں 11 دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں کام کررہی ہیں اور کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ان سب میں جاری بدترین کرپشن کا اصل ہدف براہ راست پاکستانی عوام بنی ہوئی ہیں۔ویسے تو خیبر سے لے کر کراچی تک بجلی کی ہر چھوٹی،بڑی تقسیم کار کمپنی میں کرپشن کاکاروبار اپنے پورے جوبن پر جاری و ساری ہے لیکن اگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ہونے والی بدانتظامی، اقربا پروری اور کرپشن کے لحاظ سے ایک جامع فہرست مرتب کی جائے تو غالب امکان یہ ہی ہے کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی جسے عرف عام میں ”حیسکو“ بھی کہا جاتاہے، سرفہرست رہے گی۔ واضح رہے حیسکو حیدرآباد،لاڑ، میرپور خاص اور شہید بے نظیر آباد جیسے سندھ کے بڑے اضلاع میں بجلی کی منصفانہ تقسیم کی براہ راست ذمہ دار ہے۔لیکن عجب کرپشن کی جو غضب داستانیں اور ظالمانہ کہانیاں حیسکو شہید بے نظیر آباد،خاص طور پر نواب شاہ II کے سب ڈویژنل کے دفتر میں رقم کی جارہی ہیں۔اُنہیں سننے اور پڑھنے کے لیئے کسی بھی شخص کا بڑے دل گردے کا ہونا ازحد ضروری ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: انسداد کرپشن کے چینی نسخے

قصہ مختصر یہ ہے کہ خاکسار نے گزشتہ برس دسمبر 2020 کی آخری عشرے میں بجلی کے گھریلو کنکشن کی ایک درخواست مقامی حیسکو کے دفتر میں جمع کروائی تھی،جس کے بعد 30 جنوری کو حیسکو ملازمین بجلی کامیٹر مع کنکشن گھر پر لگا کر چلے گئے۔ حیسکو کے اپنے قانون کے رو سے ہونا تو چاہیے تھا کہ ایک یا دو ماہ کے بعد بجلی کا بل موصول ہوجاتا۔مگر جب تین ماہ کے کٹھن انتظار کے بعد بھی بجلی کا بل موصول نہیں ہوا تو کچھ تشویش لاحق ہوئی اور اس بابت حیسکو کے مقامی دفتر سے رابطہ کرکے بجلی کا بل 90 روز گزرنے کے بعد بھی نہ موصول ہونے کی وجہ دریافت کی۔جس پر حیسکو دفتر میں موجود ایک ذمہ دار شخص نے بڑے ہی پریقین لہجے میں تسلی دیتے ہوئے جواب دیا کہ ”جناب! بلاوجہ کیوں پریشان ہوتے ہیں، اگلے ماہ آپ کو بل موصول ہوجائے گا“۔مگر افسوس جب وہ اگلا ماہ، مزید دو،چار مہینے گزرنے کے بعد بھی نہیں آیا تو ایک بار پھر مقامی حیسکو دفتر پر یاددہانی کے لیئے دستک دی تو وہاں سے ملنے والا جواب من و عن سابقہ لن ترانی کی مانند ہی برآمد ہوا کہ ”فکر مت کریں،اگلے ماہ بل آپ کے گھر کی دہلیز پر پہنچا دیا جائے گا“۔

یادش بخیر! کہ 7 ماہ کے صبر آزما انتظار کے بعد بالآخر حیسکو کی جانب سے مبلغ 74,686 روپے سکہ رائج الوقت کا بل یکمشت بھیج دیاگیا۔ بجلی کے بل کے اتنے بڑے اور بھاری بھرکم پلندے کو دیکھ کر گو یا اہل خانہ کے سر سے آسمان اور پاؤں کے نیچے سے زمین بیک وقت کھسک گئی۔ کیونکہ معمولی تنخواہ پر گزر اوقات کرنے والے گھرانے کے لیئے 74,686 روپے بل کی ادائیگی کرنا پانا بہر صورت ناممکن تھا۔ پس! چارونا چار نواب شاہ II سب ڈویژن کے دفتر میں ایس ڈی او،جناب ارشاد میمن کی خدمت میں بجلی کا بل پیش کر کے اُن سے دست بستہ التجا کی کہ ”حضور والا! بجلی کے اضافی بل پر نظر ثانی فرما کر میرٹ کے مطابق استعمال شدہ یونٹس کا فقط وہ بل بنا کر دے دیں جو بجلی کا بل ماہوار وصول ہونے کی صورت میں بنتا ہے“۔میری عرض داشت کو لاپروائی کے ساتھ میز کی ایک جانب رکھتے ہوئے ایس ڈی او،ارشاد میمن نے تنبیہی انداز میں ارشاد فرمایا کہ”تم خدا کا شکر ادا کرو کہ تمہیں نئے میٹر کا بل 7 ماہ بعد موصول ہوگیا ہے، میرے پاس ایسے لوگ بھی چکر لگارہے ہیں کہ جنہیں 9،10 ماہ سے بل نہیں موصول ہوا،اور ہاں! یہ بل تمہیں آخری تاریخ سے قبل ہر صورت میں جمع کروانا ہوگا،اگر ایک لمحہ کی بھی تاخیر ہوئی تو بجلی کا کنکشن فور ی طور پر کاٹ دیا جائے گا“۔

جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ عقل مند کے لیئے اشارہ کافی ہوتا ہے، بالکل اُسی مصداق حیسکو کے مجبور صارف کے لیئے ایک صاحبِ جاہ و اختیار،ایس ڈی او،ارشاد میمن کی تنبیہ حرف آخر ثابت ہوئی اور ہم اُلٹے پاؤں،حیسکو نواب شاہ II کے دفتر سے نکل کر بجلی کے بل کی ادائیگی کی خاطر دوست احباب سے قرض کی بھیک مانگنے کے لیئے نکل پڑے۔ کیونکہ سخت حبس زدہ گرمی کے موسم میں بغیر بجلی کے اہل خانہ کو ”دوزخ“ کا مزہ چکھانے کا سوچ کر بھی دل دہلنے لگتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے تیسے قرض لے کر جب بجلی کا غیرمنصفانہ بل جمع کروادیا گیا تو اگلے ہی روز،حیسکو کے ایک ملازم بہ نفس نفیس رابطہ کرکے شکوہ فرمانے لگے کہ ”صاحب! ناجائز بل جمع کروانے کی،اس قدر بھی کیا عجلت تھی،ہم سے ایک بار ملتے تو سہی،کچھ لے دے کر جہاں ہماری جیب کا بوجھ کچھ بھاری ہوجاتا، وہیں آپ کے بجلی کے بل کا وزن بھی تو ہلکا ہوجاناتھا“۔میں نے انہیں انتہائی لجاجت سے کہاکہ ”اپنے صاحبِ اختیار،آقا کو کہنا کہ تم لوگوں کو رشوت کی مد میں ہزاروں روپے دینے سے بہتر ہے کہ ناجائز اور اضافی رقم پر مشتمل بل ادائیگی کرکے ملک کے خزانے میں جمع کروادیا جائے۔ کیونکہ وہاں پھر بھی اس بات کا موہوم سا امکان بہر حال موجود ہے کہ اگر وزیراعظم پاکستان کے سٹیزن پورٹل،روشن پاکستان ایپ یاپھر وفاقی محتسب کے ادارے میں مذکورہ ناانصافی کے متعلق شکایت درج کروادی جائے تو حیسکو کی جانب سے ناجائز وصول کی جانے والی رقم واپس بھی مل سکتی ہے“۔

المیہ ملاحظہ ہو کہ اگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا احتساب کرنے کے ذمہ دار ادارے،جیسے پیپکو یا وفاقی محتسب کے اہلکار حیسکونواب شاہ کے مختلف دفاتر پر چھاپہ ماریں تو انہیں کم و بیش چار، یا پانچ سو قریب ایسے بجلی کے نئے کنکشن کا ریکارڈ ابھی بھی دستیاب ہوسکتاہے،جن کے میٹر نصب ہوئے آٹھ یا نو ماہ سے بھی زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر اُن کے صارفین کو بل نہیں بھیجے جارہے۔ یقینا حیسکو انتظامیہ نے روشن پاکستان کے نام سے آن لائن شکایت درج کروانے کے لیئے ایک موبائل اپلی کیشن بھی متعارف کروائی ہوئی ہے،جہاں نئے میٹر کا بل بروقت نہ ملنے کی آن لائن شکایت درج کروانے کا آپشن موجود ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کوئی صارف اگر چاہے بھی تو اس سہولت سے استفادہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ حیسکو دفاتر میں تعینات ایس ڈی او ز نے ملی بھگت سے ایک ایسا خود ساختہ بدعنوان نظام تشکیل دیا ہوا ہے،جس میں بجلی کا کنکشن لگوانے والے صارف کو مخصوص کسٹمر حوالہ نمبر سرے سے فراہم ہی نہیں کیا جاتا۔ یاد رہے کہ 14 ہندسوں پر مشتمل کسٹمر نمبر کے بغیر آن لائن شکایت درج ہی نہیں کروائی جاسکتی اور مخصوص حوالہ جاتی نمبر سے صارف اُس وقت ہی آشنا ہوسکتاہے،جب اُسے حیسکو کی جانب سے بجلی کا پہلا بل وصول ہوتاہے۔ لیکن اُس وقت تک بجلی کے بل کی رقم اتنی زیادہ ہوچکی ہوتی ہے کہ بحالت مجبوری صارف کے پاس حیسکو دفاتر میں تعینات عملہ کوبھاری رشوت کی ادا ئیگی کرکے اپنے بل کی رقم کم کروانے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں بچتا۔

دراصل اگر بجلی کا بل ہرمہینے، قاعدے اور معمول کے مطابق موصول ہو تو 300 یونٹس یا اس سے کم خرچ کرنے پر ریٹ 8 روپے فی یونٹ پڑتا ہے،لیکن جب 7 ماہ کا یہ ہی بل یکمشت بھیجا جاتاہے تو جہاں یونٹس 2000 تک پہنچ جاتے ہیں وہیں فی یونٹ قیمت بھی 22.65 روپے ہوجاتی ہے،جبکہ بل کی کل رقم پر ہزاروں روپے کے مختلف ٹیکس الگ سے لگادیئے جاتے ہیں۔یوں، کمال تیکنیکی مہارت سے صارف کے استعمال شدہ یونٹس کا بل 25000 ہزار کے بجائے 75000 بناکر بھیج دیا جاتاہے۔ اَیسی صورت حال میں بے چارے صارف کے پاس فقط دو آپشن ہی باقی بچتے ہیں کہ اوّل یا تو وہ حیسکو اہلکاروں کو بھاری رشوت کی دائیگی کرکے اپنا ناجائز بجلی کا بل کم کروا کروالے یا دوسری صورت میں خطیر رقم کا بل جمع کروانے کا کڑوا گھونٹ اپنے حلق سے نیچے اُتار لے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں فائدہ میں بہر کیف حیسکو افسران ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ اگر صارف پہلا آپشن اختیار کرلے تو حیسکو افسران کی جیب خوب گرم ہوجاتی ہے اور دوسرے آپشن پر عمل کرنے کا صارف مشکل فیصلہ کرگزرے تو ایس ڈی او کو ریکوری ٹارگٹ پورا کرنے پر اعلی حکام کی جانب سے تعریفی سند اور نقد انعام مل جاتاہے۔ کتنا بڑا لطیفہ ہے کہ حیسکو حکام لائن لائسز کنٹرول کرنے اور برس ہا برس سے ڈیفالڑ ز یعنی نادہندہ صارفین سے لاکھوں روپے کی بقایا جات کی ریکوری کرنے کے بجائے نئے صارفین کو بجلی کے جھٹکے لگانا زیادہ پسند کرتے ہیں اور اس ”انتظامی بہادری“ پر اپنے اعلیٰ حکام کی جانب سے شاباش، ترقی اور نقد انعام کے مستحق بھی قرار پاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سیاست کی لاٹھی اور کرپشن کا سانپ

یادش بخیر! کہ مذکورہ غیر منصفانہ بجلی کے بل کے حوالے سے شکایتی درخواستیں ”روشن پاکستان ایپ“ اور ”وفاقی محتسب“ کی ویب سائٹ پر آن لائن درج کروائی جا چکی ہے۔نیز وزیراعظم پاکستان کے سٹیزن پورٹل کے منتظمین کو بھی اِس زیادتی سے متعلق تفصیل سے مطلع کردیا گیا ہے۔ کیونکہ وطن عزیز پاکستان میں قانون کی بالادستی پر کامل ایمان رکھنے والے چند ایسے گنے چنے دیوانے اَب بھی باقی ہیں،جنہیں یہ موہوم سا گمان ہے کہ سرکاری اداروں میں ہونے والی زیادتی اور ظلم پر اگر احتسابی اداروں کے سامنے آئینی و قانون حدود و قیود میں رہ کر آواز بلند کی جائے تو کسی نہ کسی درجے پر اُنہیں ”سرکاری انصاف“ یا ”انتظامی ریلیف“ مل سکتا ہے۔حالانکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں خاص طور پر حیسکو میں تعینات طاقت ور افسران،صارفین کے ساتھ روا، رکھی جانے والی زیادتیوں کا بھرپور انداز میں دفاع کرنے کے ایک ہزار ایک تیکنیکی دلائل،سیاسی بہانے اور قانونی وضاحتیں ہر وقت اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ جن کا سہارا لے کر یہ ہر بار، احتساب کے دام سے باآسانی بچ نکلنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ دیکھئے اس بار حیسکو صارفین احتسابی اداروں سے کیا فیض پاتے ہیں۔ کیونکہ بہت سُنا ہے کہ سٹیزن پورٹل کا”احتسابی نظام“ اچھا ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 23 اگست 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں